غیر معمولی زمانہ

ہم ایک غیر معمولی زمانے میں رہتے ہیں۔ ہمارے ملک میں  100 کے قریب ٹی ـ وی چینلز ہیں اور 5000 اخبارات ، میگزین، اور خبروں کی ویب سائیٹس ہیں۔ پھر بھی پریس کی آذادی کے دن  جمعرات3مئی کو  ان زنجیروں کو جنہوں نے ہمیں باندھے رکھا اور وہ حکام جنہوں نے ہمیں خاموش کروائے رکھا کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا جاتا ہے۔

ہم فوج کی اسٹیبلشمنٹ پر غائب ہوئے یا مشکل میں پڑے بغیر  کچھ نہیں لکھ سکتے۔ ہم ججوں کے بولے گئے فیصلہ کن الفاظ پر بھی جیل جانے کاخطرہ مول لیے بغیر  کچھ نہیں بول سکتے ۔ ہم پشتون تحفظ تحریک کے مقاصد پر بھی برابھلا سنے بغیر اور غیر ملکی کہلائے بغیر  کچھ نہیں لکھ سکتے۔ اور غیر مسلم کہلائے بغیر اور موت کی دھمکیوں کے بغیر ان مذہبی پارٹیوں اور گروہوں کے احتجاجوں اور دھرنوں پر بھی کچھ نہیں بول سکتے۔

آزادی کی قیمت بہت ذیادہ ہے ۔ اس سال  تقریبا 150 حملے صحافیوں پر ہو چکے ہیں،اور ان میں سے ایک تہائی اسلام آباد میں ، جمہوری الیکشنز کے طور پر الیکٹڈ  سیٹ پر اور پرو گورنمنٹ میڈیا پر ہوئے ہیں۔

ہم غیر معمولی زمانے میں رہ رہے ہیں۔ موجودہ گورنمنٹ کو اقتدار میں ایک ماہ رہ گیا  ہے اور ہمیں ابھی بھی نہیں پتہ کہ پرائم منسٹر اور چیف منسٹر کون ہو گا۔   کیا جنرل الیکشنز ہوں گے اور کیا وہ ایمانداری سے ہوں گے یا جبرا ؟

ہم غیر معمولی زمانے میں رہ رہے ہیں۔ ہر جگہ خفیہ ہاتھ ہیں اور اپنے مخالفین کی ٹانگ کھینچنے میں لگے ہیں۔  چار سال ہو ئے بلوچستان میں  PMLN کی گورنمنٹ بڑی کامیابی سے حکومت کر رہی تھی۔ ایک دن سگرٹ کے دھویں کی طرح پل میں مٹ گئی اور پرو ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے جگہ  لے لی۔ تین دہائیوں میں MQM نے حکومت کی  ایک دن تین گروہوں میں بدل گئی  اور تینوں گروہ فوجیوں کی محبت میں مبتلا تھیں۔  دو دہایوں میں نواز شریف PMLN   کے پریزیڈنٹ تھے اور  تین بار پاکستان کے پرائم منسٹر منتخب ہوئے۔ ایک دن ہمیشہ کے لیے وہ چلے گئے اور ایسا ہی ان کے ساتھیوں کے ساتھ بھی ہوتا جا رہا ہے۔

ہم غیر معمولی زمانے میں رہ رہے ہیں۔  5 دہایوں میں ملک کی واحد بھٹو کی پیپلز پارٹی  ایک آزاداور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی مخالف پارٹی تھی۔ اب زرداری کی صدارت میں وہ شدت سے فوج کے ساتھ ہے۔ اور سات دہایوں میں مسلم لیگ ملک کی فوجی حمایت میں مبتلا پارٹی تھی۔ اب نوازشریف کی صدارت میں وہ اینٹی ملٹری اسٹیبلشمنٹ بن گئی۔ بہت لمبے عرصے تک نوازشریف فوج کی آنکھوں کا تارا تھے اور اب اتنے ہی مخالف ہیں۔

ہم غیر معمولی زمانے میں رہتے ہیں۔ بڑی سیاسی جماعتیں  آج کچھ پارٹیوں اور  سیاست دانوں کو نکالنے اور کچھ کو اقتدار دلانے میں مصروف ہیں۔ایسا سب ماضی میں بھی ہوا لیکن  مارشل لا اور PCO ججز کی صدارت میں ہوتا آیا ہے۔ اب جو مختلف اور بے مثال بات ہے وہ یہ ہے کہ مارشل لا لگانے کے لیے دوسرے ذرائع استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس بار عدلیہ کا سہارا لیا جا رہا ہے لیکن فرق یہ ہے کہ نہ ہی کوئی پی سی او جاری ہوا اور نہ ججز کو حلف اٹھانا پڑا۔

ہم غیر معمولی دور میں رہ رہے ہیں۔ PPP کے لبرل اور سیکیولز حمایتی الجھنون کا شکار ہیں۔ کچھ لوگوں نے تو خاموشی اختیار کر لی ہے۔ بہت سے لوگوں نے دل ٹھنڈے فریزر میں رکھ کر نواز شریف کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ وہ واحد اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاستدان ہیں۔ ایک ایسا گروپ بھی ہے جو ریاست کے جبر کے خلاف آواز اٹھانے کو تیار ہے بلکہ پی ٹی ایم کی طرز پر تحریک چلانے کا خواہاں ہے۔ اب ایسا دائرہ مکمل ہونے کو ہے جو لیفٹ ونگ سے شروع ہوا جس میں ذوالفقار علی بھٹو نے اسٹیبلشمنٹ کا مقابلہ کرنے کی ٹھانی تھی اور اب یہ دائرہ عمران خان کی پارٹی کی پرو اسٹیبلشمنٹ سیاست پر مکمل ہوتا نظر آتا ہے۔ پیپلز پارٹی کی 70 کی خیر خواہانہ سوشلسٹ فاشزم اب  پی ٹی آئی کی کیپٹلسٹ فاشزم میں بدل چکی ہے۔ خوش رہنے والی پر امید مڈل کلاس  کو آج کی غصیلی مڈل کلاس نے ملیامیٹ کر دیا ہے۔

ہم غیر معمولی زمانے سے گزر رہے ہیں۔ پاکستان کی پہلی دو دہائیوں کے دوران ہم کسی الیکشن کے بغیر ایک سول ملٹری بیوروکریٹ سے دوسرے پر منتقل ہو گئے۔ تیسری دہائی میں ہم آدھا  ملک  پچھلی دو دہائیوں کی سیاسی جوڑ توڑ کی وجہ سے کھو بیٹھے اور پھر کسی طرح ایک جمہوری آئین تیار کرنے میں کامیاب ہوئے۔ مسئلہ تب پیش آیا جب ہم نے جمہوریت سے  متعلق آئین کی خلاف ورزی شروع کی دی اور چوتھی دہائی میں اس کا خمیازہ مارشل لا کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ 5ویں دہائی میں ہم ایک انجینئرڈ الیکشن سے دوسرے میں منتقل ہوئے اور یہ سلسلہ اگلے مارشل لا تک چلتا رہا جو چھٹی دھائی کے شروع میں ہی لگایا گیا۔ ساتویں دھائی میں ہم نے چارٹر آف ڈیموکریسی کے ذریعے ملٹری اور اسٹیبلشمنٹ کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اب دو منتخب وزرائے اعظموں کو انصاف کے نام پر قربان کرنے کے بعد ہم نئ دہائی میں سیاسی جوڑ توڑ کی گیم کی طرف  واپس  لوٹ آئے ہیں۔ آج پاکستان جس قدر اندرونی تقسیم کا شکار ہے پہلے کبھی نہ تھا ۔ اس کے بیرونی دشمن بھی پہلے سے زیادہ ہیں۔ اس کے  معاشی، جغرافیائی اور ماحولیاتی چیلنجز پہلے سے کہیں زیادہ ہیں۔ یہاں جتنی زیادہ انجینئرڈ سیاسی تبیدیلیوں کے تجربے کیے جاتے ہیں اتنی ہی صورت حال خراب ہوتی جا رہی ہے۔ واقعی، ہم ایک غیر معمولی دور سے گزر رہے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *