اسامہ کی موت اور علی مرتضیٰ کا قاتل

آج اسامہ کی بہادری پر قصیدے نما پوسٹس نظر آءی ۔ دل خون کے آنسو رویا۔ سیدنا عثمان غنی یاد آءے ۔ دو ہزار کے قریب باغیوں نے مدینہ پر عملا قبضہ کر رکھا تھا۔ وہ چاہتےتو امیر معاویہ کو بلا سکتے تھے۔ وہ ان سب کو سیدھا کر دیتے ۔ علی مرتضیِ بھی ان کا ساتھ دیتے لیکن ان کا ایک ہی کہنا تھا ۔ اپنی جان کی خاطر مدینۃالنبی میں خون نہیں بہا سکتا ۔ اور اپنا خون دینا پسند کر لیا۔ اور ایک اسامہ بن لادن تھا۔ کیا ان سے برتر تھا ؟ ناءن الیون کی اسلامی دنیا کو دیکھیں اور آج لہو لہو عالم اسلام کو دیکھیں ، سعودی عرب میں امریکیوں کو نکالنا چاہتے تھے ٫ اب سعودی عرب کو دیکھیں ۔ پورا سعودی عرب امریکا بن رہا ہے ۔ افغانستان کو دیکھیں ۔ امریکا جا چکا تھا مگر اب وہاں امریکہ بھی ہے ، انڈیا بھی ہے اوربم بھی ہیں اور آگ بھی۔ محض چند دھماکے کر کے ، عمارتیں گرا کر دنیا کو فتح کرنا چاہتا تھا۔ دھماکے ہو بھی گءے ، عمارتیں گر بھی گءیں لیکن پھر خود ساری زندگی چوہوں کی طرح بھاگتا پھرا، چھپتا پھرا۔ اور اپنے پیثھے تباہی و بربادی کی داستانیں چھوڑتا گیا۔ اس کی مثال اس دھوان اگلتے بمبار کی سی تھی جس کے پیچھے سٹنگر لگا ہو۔ اور آخر یہ سٹنگر ایبٹ آباد میں اسے ذلت کی موت مار گیا۔ اس کی وجہ سے نہ جانے مسلمان کب تک ذلیل وخوار ہوتے پھریں گے۔ اس کا زہرآلود فلسفہ کبھی داعش کی شکل اختیار کرتا ہے ، کبھی بوکو حرام کی ، کبھی طالبان کی، کبھی لشکر جھنگوی کی تو کبھی لشکر طیبہ کی۔ لیکن وہ ایسا ولد حرام ہے کہ کوءی اس کو کھل کر اختیار کرنے کو تیار نہیں۔ عجیب بیگانگی اورغیریت ہے اس فلسفے کی ۔ اس کے فلسفے پر ایک بہت بڑی اکثریت یقین رکھتی ہے لیکن کسی کو ہمت نہیں اب کھل کر اسے بیان کر سکے ۔ اسامہ بن لادن مجھے مصر کے آمر جمال عبدالناصر کی یاد دلاتا ہے ۔ موصوف نے بڑی رقم اکٹھا کی اور چینیوں کے پاس سفارت بھیجی کہ ہمیں کچھ ایٹم بم دے دیں ۔ انھوں نے معذرت کی کہ بندر کے ہاتھ استرا نہیں پکڑاتے ۔۔ ایٹم بم ایک درخت کے پھل کی طرح ہے ،جوٹکنالوجی کے پیڑ پر لگتا ہے ۔ ہم تمہیں یہ بیج تو دے سکتے ہیں لیکن پیڑ نہیں ۔ اسامہ بن لادن مجھے علی مرتضی کے قاتل کی یاد دلاتا ہے ۔ ابن ملجم خارجی تھا۔ جب پکڑا گیا تو سیدنا حسن بن علی کے سامنے پیش کیا گیا ۔آپ اس وقت امیر المومنین بن چکےتھے۔ طبقات ابن سعد میں ہے کہ آپ کی عدالت میں وہ جب تک رہا ، قرآن کی تلاوت کرتا رہا ۔۔ قتل سے پہلے آخری خواہش کے طور دو رکعت نماز پڑھی ۔ اس کے بعد بھی تلاوت کرتا رہا۔ سیدنا حسین نے کہا کہ اس مردود کی موت قرآن کی تلاوت کرتے نہیں ہونی چاہیے ، سو اس کے دانت اکھڑوا دیے یا زبان کٹوا دی گءی ۔ پھر سر تن سے جدا کیا گیا ۔ لاش کو گدھے کی گیلی کھال میں ڈال دیا گیا ۔کھال کو چوراہے میں لٹکا دیا گیا۔ وہ کءی دن اسی کھال مین رہی۔ کھال سوکھتی تو ہڈیاں ٹوٹتیں ۔آخرت کا تو اللہ جانتا ہے لیکن دنیا میں اسامہ بن لادن خلیفہ وقت حسن بن علی کی عدالت میں پیش ہوتا تو اس کا یہی انجام ہوتا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *