تم پہلے کیا ہو، مسلمان یا ہندوستانی؟

 

کسی ادارے کو مالی تعاون کرنے والے شخص کی عزت افزائی میں کیا برائی ہے۔ اور اس لیے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی دیوار پر محمد علی جناح کی تصویر منطقی نظر آتی ہے۔

اس یونیورسٹی کے قیام کے بعد سے اپنی جائیداد کا ایک بڑا حصہ عطیہ کرنے والے جناح شاید اپنے وقت کے واحد عوامی لیڈر تھے۔

اے ایم یو کو اپنی جائیداد وقف کی

آزادی سے قبل ہندوستان کے امیر لوگوں اور بدقسمتی سے کنجوس شمار ہونے والے جناح نے اپنی تقریباً پوری جائیداد اے ایم یو اور دو دیگر تعلیمی اداروں پشاور کے اسلامیہ کالج اور کراچی کے سندھ مدرسے کو وقف کر دی تھی۔

سکول کے زمانے میں بہت مختصر وقت کے لیے انھوں نے سندھ کے مدرسۃ العلوم میں تعلیم حاصل کی تھی لیکن باقی دونوں سے ان کا کوئی تعلیمی تعلق نہیں رہا۔

اس سے بھی زیادہ ان اداروں کو اپنی جائیداد وقف کرنے کا فیصلہ 30 مئی، 1939 کو پاکستان کے قیام سے آٹھ سال پہلے کیا گیا تھا۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی

بعد کے سالوں میں جب پاکستان کا ان کا مطالبہ شدت اختیار کرنے لگا اور اس حقیقت کے باوجود کہ وہ اے ایم یو کو اپنے ملک میں شامل نہیں کروا سکتے یہاں تک کہ جب وہ موت کے قریب تھے انھوں نے ایک بار بھی اپنی وصیت کو تبدیل کرنے کے بارے میں نہیں سوچا۔

برٹش راج کے سخت مخالف

اپنی جائیداد انڈیا کو دینا ان کا واحد تحفہ نہیں تھا۔ انڈین رہنما سروجنی نائیڈو نے ان کے بارے میں کہا تھا کہ وہ ایک شرمیلے اور اور بااصول شخص تھے اور اپنی منفرد ڈیل ڈول کے ساتھ بیرسٹر کے طور پر بمبئی آنے کے بعد وہ ایک متاثر کن لیڈر بنے۔

انھوں نے اپنی محنت اور صلاحیت سے اپنے پیشے میں اعلیٰ ترین مقام حاصل کیا۔ وہ عوامی زندگی کے بجائے اپنی زندگی کو شراب خانے تک محدود نہیں کرنا چاہتے تھے۔

جب وہ اسمبلی یا اس کے باہر 'برطانوی راج کے کٹر دشمن' کے طور پر مصروف نہیں ہوتے تو ایک آئيڈیل کے طور پر اپنے چیمبر کے باہرجمع سینکڑوں نوجوان طالب علموں کو سیاست میں سرگرمی سے حصہ لینے کا مشورہ دیتے۔ اور شاید اسی لیے قانونی ماہر ایم سی چاگلا انھیں 'بمبئی کا بے تاج بادشاہ' کہا کرتے تھے۔

محمد علی جناح

 

بہت سوں کو اپنی شاندار دنیا چھوڑ کر سیاست میں اپنی زندگی وقف کرنے کے لیے تحریک دینے والے اعتدال پسند مصلح گوپال کرشن گوکھلے کو یقین تھا کہ جناح میں سچائي ہے اور وہ فرقوں کے تعصبات سے پاک ہیں اور یہ انھیں ہندو مسلم اتحاد کا بہترین سفیر بناتا ہے۔

گوکھلے کے مشورے پر ہی وہ مسلم لیگ میں اس شرط پر شامل ہوئے تھے کہ 'مسلم لیگ اور مسلمانوں کی سرکار سے وفاداری کا مطلب کسی بھی طرح سے یہ نہیں ہوگا کہ وہ قوم پرست اور محب وطن نہیں ہیں۔' ان کا خواب مسلمانوں کا گوکھلے بننا تھا۔

اور سنہ 1916 میں جب وہ کانگریس اور مسلم لیگ کو سیلف رول کے لیے ایک ساتھ لانے میں کامیاب ہوئے تو ان کا خواب تقریباً پورا ہو گيا۔ بہر حال وہ چار سال بعد اس وقت ٹوٹ گیا جب اتاولے پن میں مہاتما گاندھی اور ان کی عدم تعاون کی سیاست، جسے وہ افراتفری اور تشدد پھیلانے والی کہتے تھے، کی مخالفت کرنے پر انھیں کانگریس سے نکال دیا گیا۔

ہندو - مسلم اتحاد کے حامی

جناح اور گاندھی

 

لیکن کانگریس چھوڑنے پر مجبور ہونے کے بعد بھی ہندو - مسلم اتحاد کی جناح کی امید ختم نہیں ہوئی۔ انھوں نے مسلم فرقہ وارانہ قوتوں سے ہاتھ ملانے سے انکار کر دیا۔

کانگریس سے علیحدہ ہونے کے طویل عرصے بعد بھی ان کا ایک قومی لیڈر کے طور پر احترام کیا جاتا تھا اور وہ اپنی کمیونٹی کو ملک کے مفاد سے پہلے رکھنے سے انکار کرتے تھے۔

محمود آباد کے راجہ کہتے ہیں کہ سنہ 1926 میں جب وہ صرف 12 سال کے تھے تو جناح نے ان سے پوچھا تھا کہ 'تم پہلے کیا ہو، ایک مسلمان یا ایک ہندوستانی؟ اور جب سکول کے اس طالب علم نے جواب دیا کہ پہلے مسلمان اور پھر ہندوستانی، تو جناح نے ڈانتے ہوئے کہا: میرے بچے، نہیں، سب سے پہلے آپ ایک ہندوستانی ہو اور پھر مسلمان۔'

اپنی بہن فاطمہ جناح کے ساتھ محمد علی جناح
اپنی بہن فاطمہ جناح کے ساتھ محمد علی جناح

کانگریس سے نکالے جانے کے بعد جناح نے اپنی پوری توانائی اسمبلی کے اندر ہی برطانوی سلطنت کے خلاف لڑنے میں لگا دی۔ انھوں نے کسی جماعت سے تعلق نہ رکھنے والوں کی ایک پارٹی بنائی اور ان کانگریسیوں سے تعاون کیا جنھوں نے مہاتما گاندھی کی خواہش کی نافرمانی کرنے کی ٹھانی تھی اور اسمبلی میں سوراج پارٹی کی شکل میں داخل ہوئے۔ اس دوران وہ دوبارہ کانگریس میں شامل ہونے کے مواقع کی تلاش میں رہے۔

رولٹ ایکٹ کے خلاف لڑنے والوں میں پیش پیش

جتنے سال وہ اسمبلی میں رہے جناح کی حکومت کے شدید مخالف کے طور پر شناخت رہی۔ وہ مسلسل ایسے مسئلے اٹھاتے رہے جس نے مستقبل کے ہندوستان کے خط و خال بنانے میں مدد کی جیسے بنیادی تعلیم، فوج کو ہندوستانی بنانا اور سول سروس اور اقتصادی آزادی کے مسائل۔

وہ بدنام زمانہ رولٹ ایکٹ کے خلاف آخر تک لڑنے والوں میں سب سے آگے رہے۔ جب یہ منظور ہو گیا تو اس کی مخالفت میں انھوں نے استعفیٰ دے دیا۔ وہ سائمن کمیشن کی مخالفت کرنے والے پہلے شخص تھے جس کے پینل میں کوئی ہندوستان شامل نہیں تھا اور جسے حکومت میں اصلاح کے لیے ہندوستان بھیجا گیا تھا۔ انھوں نے اس کی مخالفت میں عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے انتھک کوششیں کیں خواہ مسلم لیگ میں تقسیم کے طور پر انھیں اس کی قیمت ہی کیوں نہ چکانی پڑی۔

محمد علی جناح

محمد شفیع کی قیادت میں مسلم لیگ کے ایک دھڑے نے لیگ چھوڑ دی اور سائمن کمیشن کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے ہندو مہاسبھا کے ساتھ ہاتھ ملا کر اپنی ایک الگ پارٹی بنا لی۔

ہندو مسلم اتحاد کو جھٹکا

ہندو، مسلم اتحاد کی ان کی امید کو آخری جھٹکا اس وقت لگا جب کل جماعتی کانفرنس میں ہندو مہاسبھا کے ارکان نے جناح کی مسلم لیگ اور کانگریس کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی کوششوں کو ناکام کر دیا۔

کانفرنس کو چھوڑ کر جانے کے دوران وہ رو پڑے اور اسے انھوں نے کانگریس سے علیحدہ ہونا کہا جبکہ آٹھ سال پہلے ہی انھیں حقیقی طور پر کانگریس سے نکال دیا گیا تھا۔

لیکن اس کے باوجود وہ دل سے ایک قوم پرست رہے۔ انھوں نے اقبال کے 'پاکستان' کے خیال کو ایک شاعر کا خواب قرار دیا۔ در اصل سنہ 1936 تک انگلینڈ میں خود ساختہ جلاوطنی سے لوٹنے کے بعد اور اسمبلی کے لیے دوبارہ منتخب ہونے کے بعد بھی جناح ایسے محب وطن اور اعتدال پسند قوم پرست مسلم دھڑے کو کھڑا کرنے کے متعلق پرامید تھے جو سماج کی دیگر برادریوں کے ترقی پسند لوگوں کے ساتھ چلنے کے قابل ہو۔

کیا ملک کی تقسیم کے لیے جناح ذمہ دار تھے؟

جناح کے ساتھ ماؤنٹ بیٹن اور لیڈی ماؤنٹ بیٹن
محمد علی جناح کے ساتھ ماؤنٹ بیٹن اور لیڈی ماؤنٹ بیٹن

ایسے معاصروں کی کمی نہیں جو کانگریس کو ملک کے تقسیم کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں، نہ کہ جناح کو۔ جناح کے قریبی دوست کانجی دوارکا داس نے اپنی کتاب 'ٹین اييرز ٹو فریڈم' میں 28 اگست 1942 کو جناح کے ساتھ 90 منٹ کی اپنی بات چیت کا ذکر کیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ جناح نے کبھی یہ تصور بھی نہیں کیا تھا کہ پاکستان وجود میں آ جائے گا۔

جب کانجی نے جناح سے ان کے پاکستان کے بارے میں پوچھا تو جناح نے کہا: 'میرے پیارے کانجی، صرف ایک اشارہ، میں صرف ایک دوستانہ اشارہ چاہتا تھا اور یہ کانگریس کی طرف سے نہیں مل رہا ہے۔ اگر کانگریس یہ اشارہ کرتی ہے تو پورے مسئلے کو حل کرنے میں زیادہ مشکل نہیں آئے گی۔' لیکن اس کے برعکس کانگریس نے ان کے نام کو اپنی طرح سے اچھالنے کا فیصلہ کیا۔

٭ یہ مضمون 'مسٹر اینڈ مسز جناح' کتاب کی مصنفہ شیلا ریڈی نے لکھا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *