کتے کی زندگی

انسان  کے جسمانی اعضا آہستہ آہستہ جواب دے جاتے ہیں ۔ اسی طرح تمام مخلوقات اپنے خاتمہ کی طرف بڑھتی ہیں  اور موت واقع ہو جاتی ہے ۔ فطرت نے ہمیں  اس قابل بنایا کہ اپنی نسل کو جاری رکھیں اور پھر اس دنیا سے رخصت ہوں۔ یہی صورتحال میرے  کتے پفن کے ساتھ بھی ہوئی۔ وہ ایک خوبصورت، چست اور بہت ہی پیارا بلٹیریر تھا ۔ ہمیں وہ بچوں کی طرح بہت ہی پیارا تھا۔ اگرچہ مجھ پر سارے الزام لگاتے کہ میں نے اسے خراب کر دیا ہے لیکن  پفن کو یقین تھا کہ اسے میرے سکون کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔  جب میں بیٹھ کر مطالعہ کرتا یا ٹی وی دیکھ رہا ہوتا وہ میرے گود میں آ جاتا ۔ جب میں ڈیسک پر کام کر رہا ہوتا تو وہ  تو میرے گھٹنون پر بیٹھ جاتا ۔ کار چلاتے وقت بھی وہ میری گودی میں کھڑا رہتا  اور کھڑکی سے اپنا سر باہر نکال لیتا۔ جب وہ کچھ مانگنا چاہتا تو  ایک خاص طریقے سے بھونکتا تھا ۔ اس کی ضروریات صرف پانی  ، دروازہ کھلوانا، یا والک پر لے جانا ہوتا تھا۔  کئی بار وہ ضد کرتا کہ میں اس کے ساتھ ٹینس بال کھیلوں۔  جب وہ ابھی چھوٹا تھا کہ گلہریوں کے پیچھے بھاگتا تھا  اور خرگوش کی بھی تاک میں رہتا تھا۔ ایک بار اس نے ہائیڈ پارک میں ایک گلہری پکڑی تھی  جو اتنی تیز نہ بھاگ پائی کہ درخت پر چھلانگ لگا کر جان بچا سکے۔ جب وہ مر گئی تب بھی پفن انتظار کرتا رہا کہ ہی اٹھ کر بھاگے گی۔ اپنے ملک میں وہ   کسی بھی پانی کےتالاب میں گھنٹوں گزارتا تھا۔ وہ بیجر لاائیر وغیرہ جیسے جانورون کا بھی پیچھا کرتا اور ہمیں ڈر لگتا کہ کہیں اسے نقصان نہ پہنچ جائے۔ ہم اس خطرہ سے بچنے کے لیے اسے پکڑ کر والک کرواتے جس سے اس کی آزادی پر رکاوٹ آ جاتی ۔ جب وہ بیجر کی تلاش میں زمین میں گھس جاتا تو ہماری آوازوں کو نظر انداز کرتا۔ اچھی بات یہ ہے کہ کتوں کو وقت کی فکر نہیں ہوتی۔ ان کے لیے ایک دن ایک ماہ جتنا بھی ہو سکتا ہے۔ جب ہم اسے اپنے ایک دوست کے گھر چھوڑ کر آئے جو اسے اتنا ہی پیار کرتا تھا جتنا ہم تو سری لنکا میں اکیلے چھٹیاں گزارتے ہوئے مجھے اس کی یاد آتی اور احساس جرم بھی ہوتا۔ جب ہم واپس آئے تو وہ ہمیں دیکھ کر اتنا خوش ہوا جیسے اسے احسا س ہی نہ ہو کہ ہم اتنا عرصہ دور رہے ہیں۔ مجھے ان لوگوں پر ترس آتا ہے جنہیں ایک اچھے کتے کا ساتھ نہیں مل سکا۔  بہت سے لوگ اپنے پالتو کتوں کو اپنے اختیارات اور طاقت کے مظاہرے کے لیے رکھتے ہیں  اور انہیں ان جانوروں کی پسندیدہ حرکتوں سے کوئی لگاو نہیں ہوتا۔ دوسرے لوگ یا تو کتوں سے ڈرتے ہیں یا انہیں ناپاک سمجھتے ہیں۔ مسلم ممالک میں شاذ و ناذر ہی کوئی شخص کتے پالنے کی ہمت کرتا ہے کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ کتے والے گھر میں فرشتے  نہیں آتے۔ میں تو فرشتوں کی بجائے پفن کو ہی گھر میں دیکھنا بہتر سمجھتا ہوں۔  میرے خیال میں شاید گاندھی وہ شخص تھے جنہوں نے کہا تھا کہ ایک سوسائٹی کو اس بات سے جج کیا جا سکتا ہے کہ وہ جانوروں کی کس قدر دیکھ بھال کرتے ہیں۔ جب بھی میں جانوروں کے حقوق کے لیے لکھتا ہوں  تو کچھ ریڈرز مجھے ڈانٹ پلا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہاں انسانوں سے اتنا برا سلوک ہوتا ہے اور آپ کو جانوروں کی فکر لگی ہے۔ میرا جواب یہ ہوتا ہے کہ انسان کو اللہ نے زبان دی ہے کہ وہ
احتجاج کر کے حقوق حاصل کرے لیکن کتوں کے پاس بولنے کی طاقت نہیں ہے۔ 16 سال کے ساتھ کے بعد ہمیں احساس ہوا کہ پفن بہت بوڑھا ہو گیا ہے وہ نہ دیکھ سکتا تھا اور نہ سن سکتا تھا اور اسے والک کرنے کا بھی اب کوئی شوق نہیں تھا۔ اب وہ اتنا کمزور تھا کہ جمپ کر کے بیڈ پر بھی نہیں چڑھ سکتا تھا۔ ایک بلڈ ٹیسٹ کروانے سے معلوم ہوا کہ اس گردہ فیل ہو چکا تھا ۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ اسے دنیا کی اس تکلیف میں مزید رکھنے کی بجائے اسے ابدی نیند سلا دیں۔ کئی سال پہلے جب میرے والد صاحب ہمارے درمیان موجود تھے  تب ایک پی ٹی وی پروڈیوسر جو ان کا انٹرویو لینے آئے تھے کہنے لگے  انہیں لگتا ہے میرے والد اپنے کتے سندل سے بے حد پیار کرتے ہیں۔ میرے والد نے جواب دیا کہ جی ہاں ایسا ہی ہے۔ یہ بہت سے انسانوں سے کہیں بہتر ہے۔ میں اب پفن کے بارے میں یہی سمجھتا ہوں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *