میری والدہ، انار کلی اور تشدد

صوفیہ ناز

پچاس کی دہائی کے شرو ع میں  ان کے بمبئی آنے کے کچھ ہی عرصے بعد ایک نئی نویلی دلہن  ، میری والدہ نے  تھیٹر  پروڈکشن میں انار کلی  کا رول ادا کیا۔  ڈائیریکٹر  آصف  نے وہ ڈرامہ دیکھا اور انہیں مغل اعظم میں انارکلی کے طور پر کاسٹ کرنا چاہا۔  مووی سیٹ پر 200 تصاویر لیں گئی  جن میں سے ایک تصویر دلیپ کمار کے ساتھ بھی تھی جس میں وہ انہیں ٹکٹکی باندھے  دیکھ رہے تھے۔  بلآخر نہیں اپنی فیملی کے  دباؤ میں آکر  اس رول کے لئے منع کرنا پڑا  کیوں کہ اس وقت عزت دار گھرانوں کی خواتین فلموں میں کام نہیں کیا کرتی تھیں۔ لیکن وہ تصویر البم میں لگی رہ گئی جسے وہ دیکھ کر اس وقت کی یاد کرتیں اور سوچتیں کہ  پاکستان ہجرت کرنے سے پہلے  ان کی زندگی کیسی تھی۔ ان کے پاس بہت صاف یادیں تھیں لیکن  میری والدہ نے ماضی کو کبھی  لال چشموں سے نہیں دیکھا۔  انہوں نے لوگوں کے سامنے کبھی اس کا تذکرہ نہیں کیا لیکن انہیں  پوری زندگی بے حد تکلیف  سے گزرنا پڑا۔  جب انہیں لگا کہ میں بڑی ہو گئی ہوں تو انہوں نے اپنی زندگی کی تکالیف میرے ساتھ بانٹنا  شروع کر دیں جیسے کوئی ماں اپنی بیٹی کے ساتھ دوستانہ انداز میں کرتی ہے۔ ان کی بمبئی  کی زندگی گلیمر سے بھر پور تھی۔  فلموں کے پریمئیرز دلیپ کمار
جیسے فلمی ستاروں کے ساتھ  ، مدھوبالا اور کامنی کوشال کے ساتھ فنکشنز میں تصاویر اور پرائیم منسٹر نہرو  اور تاریخ بنانے والے  افراد جیسے تنزنگ نارگے کے ساتھ ملاقاتیں  وغیرہ۔

گلیمرس شادی کے نقاب کے پیچھے ایک خوفناک سچ تھا۔  میری والدہ کو  اس وقت شدید تشدد اور جسمانی تشدد سے گزرنا پڑ رہا تھا۔ ان کے شوہر ان پر ظلم کیا کرتے تھے۔  ایسا روز ہوتا اور سات سال   تک وہ ان کے ساتھ رہیں وہ سیاسی کارکن تھے تو ان کے ساتھ ریلیز میں بھی شرکت کی  اور  بڑے بڑے لوگوں کے ساتھ شام کی پارٹیوں میں ساڑھی  کا پلو ایسے رکھا کہ ان کے جسم پر مار کے نشان نظر نہ آئیں۔ انہوں نے اپنی فیملی   کے آگے ہاتھ جوڑے کہ وہ  اس بارے میں کچھ کریں۔ ایک  ایسے ہی پر تشدد واقعہ کے بعد میرے انکل آئے اور انہیں واپس بھوپال لے گئے۔  لیکن ان کے شوہر نے انہیں تحریری  معافی کے ساتھ واپس آنے  پر مجبور کیا  اور کہا کہ وہ انہیں دوبارہ نہیں ماریں گے۔  یہ کہنا فضول ہے کہ مار پیٹ جاری ہی رہی اور  ایک دن ان کی گائینا کولوجسٹ  ڈاکٹر شیرودکر نے بتایا  کہ  اگر انہوں نے اپنے شوہر سے طلاق نہ لی تو وہ چھ ماہ  ہی زندہ رہیں گی۔ میری والدہ نے ان کے مشورے پر عمل کیا لیکن ایسے اثرو رسوخ والے بندے سے طلاق لینے کے لیے انہیں بہت بڑی قیمت چکانی پڑی۔  وہ بیرسٹر تھے  اور سیاست دان بھی لیکن میری والدہ ایک معمولی تعلیم کی حامل  اور کسی مضبوط تحفظ  کے بغیر مقابلہ کر رہیں تھیں۔ انہوں نے اپنے دونوں   چھوٹے بچوں کی کسٹوڈی   لے لی اور وہ میرے سوتیلے بہن بھائی تھے۔  انہوں نے اگلے 20 ،سال انہیں بہت ڈھونڈا۔ جب بلآخر وہ انہیں تلاش کر چکیں اور ان سے ان کی جوانی میں ملیں  تو انہوں نے دیکھا کہ ان کے والد نے ان کو پوری طرح میری والدہ کے خلاف کر دیا تھا۔ اور ایک دھمکی  انہیں ملی  تھی کہ  اگر وہ اپنی والدہ سے ملے تو  وہ انہیں اپنی جائیداد سے عاق کر دیں گے۔اس دھمکی کا اثر ہوا۔  ایک تفصیلی ملاقات کے بعد میری والدہ کے بچوں نے انہیں ہمیشہ کے لئے چھوڑ دیا۔میری والدہ  ہر روز روتے روتے سوتیں اور  ہر رات ایسی ہی گزرتی۔  کوئی بھی خوشی اس غم کو نہیں بھلا سکتی جو اپنے بچوں سے علیحدہ ہونے پر ملتا ہے۔  یہ  بات قابل تعریف ہے کہ اپنی اس تکلیف کے ساتھ بھی وہ  ہمت نہ ہاریں ۔  ممبئی کی پولیس کے مسلسل ہراساں کرنے  پر انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ  کراچی ایک شادی پر  چلی جائیں  ۔ وہاں وہ میرے والد سے ملیں اور  ان سے شادی کر لی۔  ایک شیعہ  اور سنی کے بیچ محبت کی شادی کی یہ انوکھی داستان تھی۔

بیا نے پاکستان میں  ان کی زندگی میں خوب زہر گھولنے کی کوشش کی ۔ لیکن وہ ہر سال ہندوستان آنے سے نہ رکیں  اور اپنے بچوں کی تلاش اگلے20 سال تک کرتی رہیں۔  ہر دفعہ وہ ٹوٹے دل کے ساتھ واپس آجاتیں ۔  بیا کو موسیقی اور  گنگنانا پسند تھا۔  ان کے لئے موسیقی  سحر میں ڈبو دینے کا کام کیا کرتی تھی۔  ان کی بہت سریلی آواز تھی اور انہوں نے بمبئی میں ایک استاد سے ریاز بھی سیکھا تھا اور وہ غزل بہت خوب کہا کرتی تھیں۔ مجھے اپنے بچپن کی باتیں یاد آتیں، اپنی چھ  سے نو سال کی عمر جو میں نے کراچی میں گزاری جب میری والدہ گھر کی سر براہ تھیں اور میرے والد جنگ کے قیدی۔  انہوں نے ہمیں والد کی کمی محسوس نہ ہونے دی۔  سروس کلب میں ہمارے پاس ایک کمرہ تھا جہاں کوئی کچن نہیں تھا  اس لیے ہر شام ایک نئے ہوٹل کی تلاش ہوتی اور ایک نیا  مزے کا کھانا کھایا جاتا۔   ہم ایک شوخ لال ڈاج میں سوار ہو جاتے  جو وہ ریس کے جتنی تیزی سے چلاتیں   اوپر سے نیچے جب ان کے بال ہوا میں لہراتے تھے۔  ہم بہت کہانیاں سنتے ساحل سمندر پر جاتے خوب پکنکس مناتے۔  میں نے اس سے ذیادہ  اچھا بچپن نہیں چاہا۔

 میں نے حال ہی میں ایک ناول میں  اپنے بچپن کے لمحات  بھی لکھے جو میں نے 70 میں کراچی میں گزار ے۔  مجھے  یاد ہے کہ جب میں سات آٹھ سال کی تھی تو مجھے فریدہ خانم، اقبال بانو، مہدی حسن اور حبیب ولی محمد کے شو میں جانے کو بہت بار موقع ملا جہاں میں نے انہیں لائیو سنا اور دیکھا۔  بچپن میں مجھے یہ سب بہت بور لگتا  لیکن میرے لاشعور میں وہ جیسے گھس گیا تھا کیوں کہ اب وہ میری زندگی کا اہم حصہ ہے۔  مجھے یاد آتا ہے جب بیا  ہر رات سونے سے پہلے گانا گاتی وہ مجھے گا کر سلاتیں مجھے وہ لوری بھی سناتی لیکن جب انہیں لگتا میں سو گئی تو وہ گانا گاتیں جو مین اپنے بیڈ روم سے اپنے پیروں کی انگلیوں پر کھڑے ہو کر سنتی۔  کبھی یہ نور جہان کی غزل ہوتی تو  کبھی فلم کا گانا جیسے " مجھے اس رفت کی تنہائی میں آواز نہ دو" اور اب مجھے پتہ چلا کے ان  کو کس چیز کا خوف تھا۔ میں نے بھی اس  کا ذکر کبھی لوگوں کے سامنے نہیں کیا۔  لیکن مجھے لگتا ہے کہ اب وقت آگیا ہے ایسا کرنے کا۔  میری والدہ 2012 میں وفات پا گئیں اور ہیش ٹیگ می ٹو اور ہیش ٹیگ ٹائیمز اپ میں  وہ اور ان جیسئ انگنت خواتین  کے ساتھ ظلم اور جبرن بچوں کو چھیننے کا عمل ہوا اور  ان کو اپنی آزادی کا  خمیازہ بھگتنا پڑا۔  مجھے لگتا ہے کہ میری والدہ نے  پورے پیج کا ایک اردو اخبار میں انٹرویو دیا تھا جس کی ہیڈ لائین تھی " بیگم علی  کو مردوں سے  سخت شکایت ہے" اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ میری ماں کو آج کے دور کی سوشل میڈیا پر بولنے کی جرآت کرنے والی خواتین بہت پسند ہوتیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ساوتھ ایشیا میں اب بھی ماضی اور مستقبل کے بیچ پدرانہ معاشرے کی وجہ سے کچھ تعلق باقی ہے۔  اس کا مطلب دوسرے الفاظ میں یہ ہے کہ میری ماں کے پہلے خاوند کئی سال پہلے دنیا سے رخصت ہونے کے باوجود ان کے دماغ میں میں موجود ہیں۔ بھارت میں وہ ایک اسلامی سکالر اور مصنف کے طور پر بہت عزت سے جانے جاتے ہیں ۔ ان کے دو بچے اور میرے سوتیلے بھائی اور بہن ان کو اس قدر پیار سے یاد کرتے ہیں اور میری ماں کی  یہ بات ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ کبھی انہوں نے میری ماں پر جسمانی یا جذباتی تشدد کیا ہو ۔اگر میں ان کی بات مان کر اپنی ماں کو بد کردار مان لیتی جس نے بچوں کو اتنی کم عمری میں اکیلا چھوڑ دیا تو وہ مجھے فیملی کا حصہ مان لیتے لیکن میں اپنی ماں کے وجود کو مٹانے کا حصہ نہیں بن سکتی تھی۔

بیا اردو شاعری چھوٹے چھوٹے پیپرز کے حصوں پر لکھتی تھیں  اور غزل کا مجموعہ سنبھال کر رکھتی تھیں۔ میں فیض یا ناصر کاظمی کی کتابیں ڈھونڈتی تو کہیں نہ کہیں مجھے ان کی شاعری کی نظم کا ٹکڑا مل جاتا۔  میں ان کی موت کے بعد جب ان کی کتابیں کھنگالنے لگی تو ان کی کوئی نظم نہ ملی سوائے ایک کے جس میں لکھا تھا: *

*شانی ، *

*تو پانی ہے*

*چاہے جس بر تن میں بھر لو*

*شانی ان کا نک نیم تھا۔ انہوں نے برتن کو علیحدہ علیحدہ کر کے بہت بہترین طرز سے اظہار خیا ل کیا ہے کیونکہ بر ہندوی میں خاوند کو کہتے ہیں اور تن جسم کو۔ اس چھوٹی سی نظم میں انہوں نے بہت  خوبصورت انداز میں خواتین کی زندگی کی مشکلات پر روشنی ڈالی ہے۔  اگر میری ماں کو موقع ملتا تو وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کی بنا پر بہت شہرت اور عزت کما سکتی تھیں۔ تحاریر کے ذریعے ہم اپنے وجود کی بقا یقینی بنا سکتے
ہیں۔ ماں کی وفات کے بعد میں نے اپنا پدرانہ نام ترک کر کے ناز نام کو اپنی کنیت اور تخلص کے طور پر اپنا لیا۔  ناز نام مجھے ماں کی وجہ سے ملا تھا جو کہ ان کے اپنے نام یعنی شہناز کا حصہ تھا۔ انہوں نے یہ نام پانچ سال کی عمر میں خاندانی نام کو مسترد کر کے اپنے لیے منتخب کیا تھا۔ اب یہ زندگی بھر میرے نام کا حصہ رہے گا جس سے میں اپنی ماں کی بیٹی ہونے پر فخر محسوس کرتی رہوں گی

source : https://www.dawn.com/news/1407632/my-mother-was-almost-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *