ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونق

بحث کے بارے میں بہترین خیال تو یہ ہے کہ اس سے بچنا چاہیے اور اگر بحث خواتین سے ہو تو واحد آپشن ہی یہی ہونا چاہیے۔ ہمارے ایک دوست کہتے ہیں کہ خواتین کے ساتھ بغیر تیاری کے بحث کرنا نِری بے وقوفی ہے اور اگر تیاری کے ساتھ کی جائے تو یہ پاگل پن ہے ۔ دوسری طرف بحث اگر خاتونِ خانہ یعنی بیگم سے ہو تو ہمارے خیال میں سارے آپشن ختم !! بندے کو ایسے مو قعے سے دو چار گھنٹے پہلے ہی ہار مان لینی چاہیے۔ ہمارے ایک بڑے تجربہ کار بلکہ گھاگ دوست کا کہنا ہے کہ بیگم سے بحث یا لڑائی وغیرہ کا کامیاب طریقہ یہ ہے کہ یہ اس وقت کی جائے جب بیگم آس پاس کہیں موجود نہ ہو ۔ بحث میں شدت آجائے تو فریقین میں سے کسی کی خفگی کا باعث بنتی ہے ۔ عام طور پر یہ فریق بیگم ہی ہوتی ہیں ۔ بیگم ناراض ہو تو یہ ناراضی کئی روز تک چلتی ہے ۔ ان حالات کے بارے میں کچھ لوگوں کی تحقیق اور رائے یہ ہے کہ اگر ایسا موقع آئے توبیگم کو کچھ عرصے کے لیے ناراض ہی رہنے دینا چاہیے ۔اُن کی رائے میں بیوی کی ناراضی کا نقصان بھی ہو سکتا ہے لیکن اس کے فائدے نسبتاً زیادہ ہیں ۔ ذاتی طور پر ہمیں بھی یہ رائے کافی صائب معلوم ہوتی ہے ۔آئیے دیکھتے ہیں کہ ان احباب کی رائے میں اس عمل میں کیا فائدے ہو سکتے ہیں !!
یہ دوست کہتے ہیں کہ بیگم ناراض ہو تو اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس دوران اس کے ساتھ بالواسطہ گفتگو ہوتی ہے اور یار لوگ جانتے ہیں کہ بیگم کے ساتھ indirect گفتگو کا کتنا بڑا فائدہ ہے۔ خاص طور پر ایسی بیگمات جو زرا منہ پھٹ اور زبان کی تیز ہوں تو ان کے ساتھ ایسی گفتگو غنیمت سے کم نہیں ۔ بس یوں سمجھئے کہ اس طرح بات کرنے سے جُملے کی سختی کافی حد تک کم ہو جاتی ہے اور گفتگو کی تلخی کا دَف مر جاتا ہے ۔مثال کے طور ایسی ناراض بیگم اپنے میاں کے ساتھ بھلے ایک ہی صوفے پر بیٹھی ہو لیکن کوئی بات کہنی ہو تو بجائے پاس بیٹھے میاں کو مخاطب کرنے کے وہ چھت پر کھڑے بچے کو مخاطب کرتے ہوئے کہتی ہے کہ’’ مُنّے ! کل کے لیے انڈے بریڈ وغیرہ گھر میں نہیں ہیں ۔۔تم لوگ کل بھوکے سکول جاؤ گے کیا ۔؟ ‘‘ اب مُنّا بھی کمال استاد ہو تا ہے وہ اوپر سے چیخ کر کہتا ہے کہ ’’ امّی جی ابّو نے سُن لیا ہے ابھی منگوا دیتے ہیں ۔ ‘‘
انہی احباب کی تحقیق بتاتی ہے کہ بیگم ناراض ہو تو بندہ کام کے اعتبار سے کافی حد تک خودکفیل ہو جاتا ہے ۔ اسے چھوٹے بڑے کئی کام خود کرنے پڑتے ہیں جس سے اس میں کام کرنے کی عادت بڑھتی ہے اور دوسروں کی محتاجی ختم ہو جاتی ہے ۔ مثلاً وہ اپنا’ کھانا خود گرم کرتا ہے‘ ۔ فریج سے پانی خود نکال کر پیتا ہے ۔ اپنی جرابیں خود تلاش کرتا ہے ۔ غسل کے لیے جاتے ہوئے تولیہ ، شیمپو وغیرہ لے جانا نہیں بھولتا۔ ایک اور فائدہ یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ جن دنوں بیگم ناخوش ہو تو اس دوران میاں کے سر میں جوئیں وغیرہ بھی نہیں پڑتیں۔
بیگم کی ناراضی کے متعلق ایک اور تسکین آمیز بات یہ ہے کہ اس دوران گھر میں سسرالی رشتے داروں کی آمدورفت کا سلسہ بھی کم بلکہ ختم ہو جاتا ہے ۔اور اہلِ دل احباب جانتے ہیں کہ یہ واحد incentive ہی اس قدر سکون آور اور راحت افزا ء ہے کہ بندہ اس کے لیے بیگم کی ناراضی کا خطرہ آسانی سے مول لے سکتا ہے ۔ دودھو میاں ہمارے عزیز دوست ہیں ۔ اُن کی شادی ہوئی تو وہ گویا سسرال کو پیارے ہو گئے ۔ ان کے گھر میں سسرالی رشتے داروں کا ہمہ وقت تانتا سا بندھا رہتا ہے ۔ سسرال والے ٹولیوں کی شکل میں ’’ ٹڈی دل ‘‘ کی طرح’’ حملہ آور ‘‘ ہوتے ہیں ۔اس طرح کے حالات میں یعنی شدید سسرالی حملے کے دنوں میں ہم نے کئی ایک مرتبہ دیکھا کہ دودھو میاں بے چارے کو سونے کے لیے اپنے گیراج میں جگہ ملتی ہے ۔ سب سے زیادہ آزردگی کا باعث اُن کے سسر محترم کی آمد ہوتی ہے۔ وہ جب بھی آتے ہیں کشتیاں جلا کے آتے ہیں ۔سُسر محترم گھر کی ہر چیز’’ مالکانہ حقوق‘‘ کی بنیاد پر استعمال کرتے ہیں ۔ وہ آ جائیں تو گھر میں مکمل حکم صرف انہی کا چلتا ہے ۔ ان کے سسر گھر کی ہر چیز میں نقطہ چینی اور ہر معاملے میں دخل اندازی کے شوقین ہیں۔ افراد خانہ کے کھانے سے لے کر لباس تک ، اور گھر کے فرنیچر کی سیٹنگ سے لے کر محلّے داروں سے ڈیلنگ تک ۔۔تمام معاملات وہ اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں اور بے چارے دودھو میاں صرف جی حضوری کو حاضر رہتے ہیں ۔ کچھ عرصہ قبل سسر صاحب کوئی دو اڈھائی ہفتے رہنے کے بعد واپس سدھارے تو دودھو میاں کے صبر کا پیمانہ بھرا اور انہوں نے کمال ہمت کے ساتھ اپنی بیگم سے ایک جُملہ کہا ، کہنے لگے ،’’ بیگم صاحبہ !! بہت ہو گیا ! اب میرے گھر میں مذید ، نعوذباللہ ، کُفر کا نظام تو چل سکتا ہے لیکن سُسر کا نہیں چلے گا ‘‘۔ اس بات پر کیا ہنگامہ کھڑا ہوا ۔۔ بیگم کتنی ناراض ہوئیں اور دودھو میاں پراب تک اس کے کیسے " Aftter Fffects ‘‘ پڑ رہے ہیں ۔۔یہ ایک الگ کہانی ہے ۔۔۔ لیکن ہمارے دوست کے بقول اس ساری صورتِ حال کا لاجواب فائدہ یہ ہو ا ہے کہ اس دن سے ان کے گھر سسرال کی آمدو رفت کا سلسہ بند ہے ۔
بیگم کی ناراضی اور اس کے فائدوں کے متعلق کچھ احباب کی رائے اور ان کے تجربات ہم نے آپ تک پہنچا دئیے ہیں۔ اس پر آپ نے عمل کرنا ہے تو ذاتی رسک پر کرنا ہے ۔ اس عمل کے دوران بے حد نازک مقامات آتے ہیں ۔چنانچہ بے حد احتیاط کی ضرورت ہے ۔ اس بات پر عمل کرتے ہوئے خیال رہے کہ Dose زیادہ نہ ہو جائے ورنہ سارا پلان چوپٹ ہو جائے گا۔ بس یوں سمجھئے کہ اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کسی مریض کو بے ہوشی کے لیے ’’ انستھیزیا ‘‘ دیا جاتا ہے ۔۔ انستھیزئیے کی مقدار کم ہو تو مریض سوتا نہیں ہے اور اگر زیادہ ہو تو وہ اُٹھتا نہیں ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *