نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کا جھگڑا کیا ھے

دیکھیں اگر میں یہ کہوں کہ نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کا بنیادی جھگڑا ملک و قوم کی ترقی و سالمیت کے حوالے سے ھے۔ یہ کہ یہ ایک فلاحی
ریاست اور سیکیورٹی ریاست کا جھگڑا ھے۔ یہ کہ یہ ایک ترقیاتی معیشت اور جنگی معیشت کا جھگڑا ھے۔ یہ کہ یہ ترجیحات کا تنازعہ ھے۔  یہ کہ یہ ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کا تنازعہ ھے۔ تو کچھ لوگوں کو اس کی سمجھ نہیں آئے گی۔  اگر میں یہ کہوں کہ نواز شریف اس ملک کی ترقی و خوشحالی اور  یکجہتی و سالمیت چاھتا ھے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ایسا نہیں چاھتی تو کچھ لوگ اسے تسلیم نہیں کریں گے۔ اور جواب میں کرپشن اور غداری کے فتوے لانا شروع کر دیں گے۔ اور سیاستدانوں کی نااھلیت اور حماقتوں کے قصے بیان کریں گے۔ اچھا ستر اور اسی کی دھائیوں میں میں بھی اپنی اسٹیبلشمنٹ کو لے کر کچھ ایسا ھی جذباتی اور حساس تھا۔ تب  میں کہتا تھا۔ ھماری فوج ھمارے ملک کی واحد بائنڈنگ فورس ھے۔ اور فوج کے ھوتے ھوئے ھمیں سیاستدانوں کی ضرورت نہیں۔
چناچہ میں یہ نہیں کہتا ۔ کہ اسٹیبلشمنٹ اس ملک کی معاشی ترقی اور تعلیمی سدھار نہیں چاھتی۔ اگر میں یہ کہوں گا۔  تو کچھ لوگ کہیں گے۔ میں فوج کے خلاف ھوں ۔ مزے کی بات یہ ھے۔ ان کچھ لوگوں نے اسٹیبلشمنٹ اور فوج کو ایک ھی چیز سمجھ رکھا ھے۔ حالانکہ یہ حقیقت نہیں ۔ ھم جب اسٹیبلشمنٹ کو لے کر بات کرتے ہیں۔ تو اس کا مطلب یہ نہیں ھم فوج کے خلاف ھیں ۔ دراصل ھم ان مقتدر حلقوں کی بات کرتے ھیں جنہوں نے اس ملک کی سول بالا دستی کو غضب کر رکھا ھے۔ سول حکومتوں کے اختیارات سلب کر رکھے ہیں۔ اور اس ملک کی سیکیورٹی اور معیشت اور معاشرت کا بیانیہ یہی قابض حلقے ترتیب دیتے ہیں۔ اور منتخب وزیراعظم کی عزت کرنے کو تیار نہیں ۔ اور یہی وہ جھگڑا ھے جو منتخب وزرائے اعظم اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ستر سالوں سے چل رھا ھے۔ بلکہ یوں کہہ لیں۔ یہ کسی  شخص اور اسٹیبلشمنٹ کا جھگڑا نہیں ھے۔ یہ منتخب وزیراعظم اور اسٹیبلشمنٹ کا تنازعہ ھے۔ جب ایک شخص منتخب ھو کر وزیراعظم کی سیٹ پر بیٹھتا ھے۔ تو اسے پتہ چلتا ھے۔ وہ ایک ایسا وزیراعظم ھے۔ جسے اپنا آئینی اختیار استعمال کرتے ھوے اس ملک کی پالیسیاں بنانے کا اختیار نہیں۔ اچھا کچھ کمزور وزیراعظم اختیارات کے بغیر بھی گزارہ کر لیتے ہیں۔ مسلہ تب پیدا ھوتا ھے۔ جب اسٹیبلشمنٹ ان وزرائے اعظم کو اپنا ذاتی ملازم سمجھ کر ان سے توھین آمیز سلوک کرتی ھے اور درشت رویہ استعمال کرتی ھے۔ تب ظفراللہ جمالی جیسا مسکین وزیراعظم بھی قبول نہیں رھتا۔ اگر آپ نے اسٹیبلشمنٹ کی حاکمانہ اور سرپرستانہ سائیکی سمجھنا ھو۔ تو آپ شوکت عزیز کو یاد کریں ۔ جو ببانگ دھل کہتا رھا۔ جنرل مشرف اس کا باس ھے۔ پچاس کی دھائ میں بھی ایک وزیر اعظم ایسا آیا تھا۔ محمد علی بوگرا جو امریکہ میں پاکستان کے سفیر تھے۔ سیدھے آ کر وزیراعظم بن گئے۔ امریکہ کے ساتھ سیٹو اور سینٹو جیسے معاہدے کیے۔ اسٹیبلشمنٹ سے چھیڑ خانی کی۔ برطرف ھوے اور سیدھے واپس جا کر دوبارا امریکہ میں سفیر بن گئے۔ اور امریکہ میں پاکستانی سفیر امجد علی یہاں آ کر وزیر خزانہ بن گئے۔ ھے نہ مزے کی بات
اچھا کچھ لوگ کہتے ہیں۔ وزرائے اعظم بھیگی بلی کیوں بنتے ہیں۔ مقابلہ کیوں نہیں کرتے۔ اور پھر خود ھی جواب دیتے ھیں۔ چونکے کرپٹ ھوتے ھیں۔ اس لیے مقابلہ کیا خاک کریں گے۔ یہ بات ٹھیک ھے۔ جو کرپٹ ھو گا۔ وہ مقابلہ تو نہیں کرے گا۔ جو کمزور ھو گا وہ بھی مقابلہ نہیں کرے گا۔ اور جو مقابلہ کرے گا وہ کرپٹ نہیں ھو گا۔ اور نہ ھی کمزور ھو گا۔ تو اس کا مطلب ھوا۔ نواز شریف کرپٹ نہیں اور کمزور بھی نہیں ۔ انہیں تو آفر تھی۔ اور اب بھی ھے۔ ملک چھوڑ کر چلے جائیں ۔ لیکن وہ ڈٹ کر کھڑے ھیں۔ جیل جانے کو تیار ھیں ۔ یہ کیسا عجیب آدمی ھے۔ اسے آرام و آسائش کی زندگی میسر ھے۔ لیکن وہ اپنے آرام اور اپنی  زندگی کی پرواہ نہیں کر رھا۔ کیا اس سے پہلے لیاقت علی خان کو قتل نہیں کیا گیا۔ بے نظیر بھٹو کو قتل نہیں کیا گیا۔ بگٹی کو ھلاک نہیں کیا گیا۔ بھٹو کا عدالتی قتل نہیں ھوا۔ تو پھر یہ کیسا شخص ھے جو بے خوف ھو گیا ھے۔ اچھا کہتے ھیں ۔ کبھی کہتے ھیں۔ تولے گئے تو ھلکے نکلے۔ بھئی تولنے والے آپ کون ھیں۔ کبھی خود کو تولا۔ کبھی کہتے ہیں جب حکومت چھن گئی تو ملک دشمنی پر اتر آیا۔ عجیب شخص ھے۔ کرپشن الزامات سے بچنے کے لیے اس سے بڑا جرم کر رھا ھے۔ سیدھا آرٹیکل سکس ھے۔ یہ بھی کہتے ہیں۔ بطور سابق وزیراعظم راز افشاء نہ کرتا۔ پہلی بات تو یہ ھے۔ راز افشاء ھوا نہیں ۔ محض پراپیگنڈا ھے۔ ورنہ لگا دیں آرٹیکل سکس۔ وہ تو خود کہہ رھا ھے۔ ایک قومی کمیشن بناو۔ اور یہ سابق وزیراعظم والی بھی خوب ھے۔ آپ وزیر اعظم کو توھین آمیز طریقے سے نکالو۔ اسے رسوا کرو۔ اسے غدار اور ملک دشمن ڈکلیر کرو۔ اس کے خلاف بدترین پراپیگنڈا کرواو۔ اسے دیوار سے لگا دو۔ اگر وہ سانس لینے کو جگہ مانگے۔ اسے موت کے حوالے کر دو۔ اور جب وہ آپ کے سامنے کھڑا ھو جائے ۔ یہ اعلان کر دے۔ وہ آپ کا ستر سال سے چلایا یہ تماشہ مزید نہیں چلنے دے گا۔ تو آپ اسے یاد کروانے بیٹھ جائیں ۔ آپ تو سابق وزیراعظم ھو۔ جب آپ سب کچھ کریں تب آپ کو یاد نہیں وہ سابق وزیراعظم ھے۔ یہ بھی فرماتے ھیں ۔ آپ کی مزاحمت سے ملک اور جمہوریت کو نقصان ھو سکتا ھے۔ یہ بھی تو ممکن ھے۔ یہ مزاحمت ھی ملک اور قوم کو سدھار دے۔ اور پھر آپ خود کیوں نہیں یہ سوچتے۔  آپ کو عادت پڑی ھے۔ کوئی آپ کے سامنے اف نہ کرے۔ آپ کا رسوا کن اور توھین آمیز رویہ خاموشی سے برداشت کرتا رھے۔ شائد وہ ایسا کر بھی لے۔ اگر آپ کی پالیسیوں سے ملک کو فائدہ ھو رھا ھو۔ ملک تو برباد ھو گیا۔ برباد ھو رھا ھے۔ اور ستم ظریفی یہ ھے آپ اس بربادی کا ذمہ دار بھی سیاستدانوں کو ٹھہراتے ھیں۔ یعنی اختیار آپ کا۔ ذمہ داری ان کی۔ کیا غیر ریاستی عناصر اتنے ھی اھم  ھیں  ؟
صرف ایک سال پہلے یہ ملک ایک معاشی ترقی کی راہ پر چل پڑا تھا۔ ھر طرف سے اچھی خبریں آ رھی تھیں۔ اور آج کیا حال ھے۔ یار کچھ تو سوچو۔ اس ملک کا غریب تو روکھی سوکھی کھا کر جی لے گا۔ آپ جو زندگی گزار رھے ھیں۔ اس کا کیا بنے گا۔ کم ازکم اگلا الیکشن ھی صاف شفاف اور غیر جانبدارنہ کروا دیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *