منصوراحمدکی جان بچ سکتی تھی

عامر جعفری

ہفتہ کے روز ہاکی کے نامورکھلاڑی منصور احمد دل کے کام بند کر دینے کی وجہ سے دنیائے فانی سے کوچ کر گئے۔ اگرچہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آ ف کارڈیو ویسکیولر ڈزیز  جو کہ کراچی کاہسپتال ہے کی انتظامیہ نے ایک ٹویٹ کے ذریعے امید دلوائی تھی کہ پاکستان میں پہلی بار ایک شخص کے دل کا ٹرانسپلانٹ مکمل ہو گا، اس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ برقرار رہی کہ پاکستان میں آرگن ڈونیشن پروگرام  کے قیام کے بغیر دل کا ٹرانسپلانٹ کبھی ممکن نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کے مشہور گول کیپر جن کی موجودگی میں پاکستان ہاکی ولڈ کپ جیتا تھا  نے اپنی زندگی کی خاطر بھارت سے
علاج کے لیے بھی اپیل کی تھی۔ پاکستان میں روزانہ بہت سے احمد ایسے ہی جسمانی اعضا کے ٹرانسپلانٹ کا انتظار کرتے کرتے رخصت ہو جاتے ہیں۔ اس اہم ہیرو کو خراج تحسین پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہو گا کہ اپنے ہیلتھ سسٹم میں ایک اہم تبدیلی کی جائے اور آرگن ڈونیشن پروگرام کا آغاز کیا جائے ۔ اس سے ہزاروں مریضوں کی زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں جو جسمانی اعضا کے کام بند کرنے کی وجہ سے خطرات سے دوچارہیں۔
کئی سال سے پاکستان محض زندہ ڈونرز کے ٹرانسپلانٹ  پر انحصار کر رہا تھا جس کے مطابق بہت محدود حد تک مریضوں کو زیادہ تر گردے اور کبھی کبھار لیور کے ٹرانسپلانٹ کی سہولت مل پاتی تھی۔ چونکہ گردے 2 ہوتے ہیں اس لیے انہین ڈونیٹ کرنا بھی آسان ہوتا ہے اور ڈونر کو کوئی بڑا رسک اٹھانا بھی نہیں پڑتا۔ زیادہ تر کڈنی ٹرانسپلانٹ پروگرام جیسا کہ سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورالوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن میں دیکھنے کو ملتے ہیں ان کا انحصار زندہ ڈونرز کی طرف سے عطیہ کردہ گردوں کے ٹرانسپلانٹ پر ہے ۔ 1994 سے اب تک ایسے ٹرانسپلانٹ کی تعداد 5400 ہے۔ لیور کے جو حصے ڈونیٹ کیے جاسکتے ہیں ان کے اندر بھی ڈونر کےلیے بہت بڑا رسک ہوتا ہے ایک تحقیق کے مطابق 37 فیصد سے زیادہ ڈونرز طبی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ دنیا میں زیادہ تر لیور ڈونیشن مردہ افراد کی طرف سے کیے گئے عطیات پر مشتمل ہوتی ہے۔ مردہ افراد کے جسمانی اعضا نکالنے سے ان کے لیے طبی مسائل کا خطرہ نہیں ہوتا جو کہ زندہ  لوگوں کو  برداشت کرنا پڑسکتا ہے۔ چونکہ پاکستان میں صرف زندہ لوگ ہی جسمانی اعضا عطیہ کر سکتے ہیں لہذا یہاں ابھی تک ہارٹرانسپلانٹ کی کوئی گنجائش دور دور تک نظر نہیں آتی۔ صرف زندہ لوگون کی طرف سے عطیہ کردہ ٹرانسپلانٹ سہولیات کو بہت سی مشکلات اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک بات تو یہ ہے کہ محدود آرگن سپلائی کی وجہ سے اتنی بڑی ڈیمانڈ  پورا کرنا ناممکن ہے۔ اس وجہ سے آرگن ٹریڈ میں بہت زیادہ اضافہ کی ضرورت  کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ کچھ عرصہ قبل تک غیر ملکی امراء پاکستان سے بہت سے لوگوں سے گردے خرید لیتے تھے ۔ مافیا کی مدد سے اس ٹریڈ کو بڑھانے میں ان امرا کو کافی  آسانیاں
میسر تھیں۔ اس وجہ سے پاکستان کو دنیا بھر میں رسوائی کا سامنا کرنا پڑا اور اسے عالمی سطح پر کڈنی بازار کا نام بھی دیا گیا۔ 2012 میں کی جانے والی ایک تحقیق جو سینٹر آف بایومیڈیکل ایتھکس اینڈ کلچر میں مکمل کی گئی  کے مطابق گردے بیچنے والوں میں زیادہ تعداد جنوبی پنجاب کے کسانوں کی تھی جو اپنے قرضے ادا کرنے کے لیے گردے بیچ رہے تھے۔ لیکن افسوس کہ ان ڈونرز کی تکالیف میں صرف اضافہ ہی ہوتا رہا۔ خوف اور شکو ک و شبہات پاکستان نے ٹرانسپلانٹیشن آف ہیومن آرگنز اینڈ ٹشوز ایکٹ 2010 کے تحت ملک میں آرگن فروخت پر پابندی لگا دی۔ اگرچہ اس قانون سے ملک میں غیر قانونی استحصالی نظام کو محدود کرنے میں مدد ملی اور آرگن ٹریڈ میں کمی آئی اور پاکستان کی ریپوٹیشن بھی بہتر ہوئی لیکن اس سے آرگن سپلائی کے معاملہ پر بہت منفی اثر پڑا ۔ اس معاملے سے نمٹنے کا واحد طریقہ آرگن ڈونر پروگرام  متعارف کروانا ہے۔ یہ میڈیکل کمیونٹی کی ذمہ داری ہے کہ وہ ڈیسیزڈ ڈونیشن پروگرام کے لیے راستہ ہموار کریں اور عوام کو اس پروگرام کے لیے رضامند بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ پاکستانیوں کو کڈنی اور دل کے ٹرانسپلانٹ کے لیے دوسرے ممالک سےتوقعات نہیں باندھنی چاہیے آج تک پاکستان میں صرف  8 ایسے لوگ گزرے ہیں جن کے جسمانی اعضا ٹرانسپلانٹ کیے گئے ہیں۔ ان میں سے تین ایسے تھے جو صرف کارنیاز ہی ڈونیٹ کر سکتے تھے کیونکہ ان کے باقی اعضا کسی بیماری کی وجہ سے اس قابل نہ تھے۔ عبد الستار ایدھی بھی ان میں سے ایک تھے۔ ان 8  میں سے زیادہ تر 2010 میں متعارف کیے گئے قانون  سے قبل ڈونر بنے تھے ۔ اس قانون کے مطابق برین ڈیتھ کو زندگی کے خاتمہ کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ 2014 میں ایک ریسرچ کے ذریعے معلوم ہوا کہ اس مسئلہ کی بنیادی وجہ لوگوں کے ذہنوں میں موجود کچھ غلط  فہمیاں ہیں۔ ان میں سے چند کا ذکر کیا جاتا ہے اور ان کا حل بھی پیش خدمت ہے۔ عوامی اعتماد جیتنا کسی بھی پروگرام کے آغاز سے قبل یہ لازمی ہے کہ اس سے متعلق عوام کے ذہنوں سے غلط خدشات اور غلط فہمیاں ختم کی جائیں۔ میڈیکل کمیونٹی کو چاہییے کہ وہ عوام میں جا کر ان کے خدشات اور خوف جن کا تعلق جسمانی اعضا کی ڈونیشن سے ہے انہیں ختم کریں اور لوگوں کو معاملہ کی مکمل آگاہی فراہم کریں۔ حیرت کی بات ہے کہ جو لوگ صدقہ خیرات میں یقین رکھتے ہیں وہ یہ نہیں سمجھتے کہ وہ زندگی کے بعد بھی 17 مختلف طریقوں سے صدقہ و خیرات کا کام جاری رکھ سکتے ہیں اور باقاعدہ ثواب کمانے کا راستہ قائم رکھ سکتے ہیں۔ کئی بار ایسے لوگ بھی تبدیلی کا باعث بن جاتے ہیں جن سے کسی قسم کی امید نہیں ۔ ایک عام سا واقعہ بھی معاشرے میں بڑی تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔ امید ہے کہ منصور احمد کی دل کے انتظار میں موت ہمارے معاشرے میں تبدیلی کی راہ ہموار کرے گی

source : https://www.dawn.com/news/1408044/hockey-hero-mansoor-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *