ترجیحات کا مسئلہ

اچھا بنیادی ایشو یہ ھے۔ بھارت کے ساتھ پہلے دوستی ، امن اور تجارت بحال کی جائے اور پھر کشمیر کا مسئلہ حل کیا جائے یا پھر پہلے کشمیر اور پھر
دوستی اور تجارت کی جائے۔  دیکھیں اس میں اسٹیبلشمنٹ کا موقف بڑا واضح ھے۔ وہ کہتے ہیں۔ جب تک بھارت کشمیر کا تنازعہ طے نہیں کرتا۔ تب تک وہ ھمارا دشمن ھے اور ھم اپنے دشمن سے دوستی نہیں کر سکتے نہ ھی تجارت کر سکتے ہیں۔ امن اسی صورت قائم ھو گا ۔ جب کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق انجام پذیر ھو گا۔ عسکری قیادت یہ بھی کہتی ھے۔ یہ کیسے ممکن ھے۔ بھارت کشمیر میں بے گناہ لوگوں کا خون بہا رھا ھو۔ ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رھا ھو۔ آے دن وھاں ھلاکتیں ھو رھی ھوں۔ کنٹرول آف لائین پر گولہ باری جاری ھو۔ معصوم شہری شہید ھو رھے ھوں۔ اور ھم بھارت کے ساتھ دوستی اور امن کی پینگیں ڈال رھے ھوں۔ تجارت کر رھے ھوں ۔ یہ کشمیریوں کے خون کا سودا کرنے کے مترادف ھے۔
دوسری جانب  سول حکومت کا موقف یہ ھے۔ کشمیر پر بات چیت جاری رھے۔ کوئی پرامن حل نکالا جائے جو کشمیر کے لوگوں اور بھارت اور پاکستان کے عوام کو قابل قبول ھو۔ اور اس دوران امن ، دوستی اور تجارتی سرگرمیاں بھی جاری رھنی چاہیں ۔ سول حکومت اور سیاستدانوں کا یہ بھی موقف ھے۔ کہ حالت  جنگ کی وجہ سے معیشت پر منفی اثرات پڑتے ھیں۔ دفاعی اخراجات میں اضافہ ھوتا ھے۔ اور پاکستان کی معیشت یہ اضافی بوجھ اٹھانے کی استعداد نہیں رکھتی۔ بجٹ کا بیشتر حصہ دفاع اور فوجی اخراجات اور دفاعی سازوسامان پر خرچ ھو جاتا ھے۔ اس سے زیادہ رقم قرضے اتارنے میں نکل جاتی ھے۔ ترقیاتی منصوبوں اور تعلیم اور صحت کے لیے مناسب پیسے نہیں بچتے چناچہ ملک میں غربت ، بے روزگاری اور عدم سہولیات میں اضافہ ھوتا ھے۔ انفراسٹرکچر ، ھسپتالوں اور تعلیم اداروں اور صاف پانی جیسے منصوبوں پر خرچ کرنے کے لیے ریاست کے پاس مناسب رقم نہیں بچتی۔ حالیہ بجٹ میں دفاعی رقم بڑھا کر 1200 ارب کر دی گئی ھے۔ تقریبا اڑھائی سو ارب فوجی پنشن میں صرف ھو رھے ھیں۔ اس بجٹ میں ابھی دفاعی سامان حرب خریدنے کی مد کے پیسے شامل نہیں ۔ اور نہ ھی دھشتگردی کے خلاف جاری جنگ کے خرچے شامل ھیں ۔ نجانے وہ کہاں سے پورے ھوں گے۔ 1600 ارب قرض کی قسطوں میں جا رھے ھیں۔ 1890 پلس ارب کا خسارہ ھے۔ جسے پورا کرنے کے لیے مزید قرض لینا پڑے گا۔ یوں یہ شیطانی چکر ستر سالوں سے چل رھا ھے۔
سول حکومتوں کا یہ کہنا بھی ھے۔ کہ مسلسل حالت جنگ اور جنگی معیشت کی وجہ سے ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری نہیں آتی۔ غیر ملکی سیاح نہیں آتے۔ یوں ریاست کے پاس پیسہ نہیں آتا۔ جسے وہ دفاع اور تعلیم اور صحت اور ھاوسنگ پر خرچ کر سکے۔
سول حکومتوں کا یہ بھی کہنا ھے۔ بھارت کے ساتھ اس مسلسل دشمنی کی وجہ سے پاکستان میں غیر ریاستی عناصر کا کردار بہت بڑھ گیا ھے۔ افغان پالیسی نے مستقل طور پر پاکستان کو بد امنی اور دھشتگردی کی لپیٹ میں جکڑ رکھا ھے۔ ھمارے ستر ھزار لوگ مارے جا چکے ہیں۔ ایک سو ارب ڈالر سے اوپر معیشت کو نقصان ھو چکا ھے۔ ھر وقت سرحد پر ٹھوں ٹھاں ھوتی رھتی ھے۔ معصوم شہری شہید ھوتے ھیں۔ ھمارے اپنے سرمایہ کار دوسرے ملکوں کا رخ کر رھے ھیں۔ سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے سرمایہ باھر ٹرانسفر ھو رھا ھے۔ اور پوری دنیا میں بدنامی الگ سے ھو رھی ھے۔ اگر ھم معاشی ترقی چاہتے ھیں ۔ بہتر دفاع چاہتے ھیں۔  اپنے لوگوں کو تعلیم ، صحت اور ھاوسنگ کی سہولیات دینا چاہتے ھیں ۔ اپنے لوگوں کو ایک بہتر محفوظ  زندگی دینا چاہتے ھیں ۔ تو ھمیں یہ دشمنی اور انتہا پسندی ختم کرنا ھو گی۔ کیونکہ معاشی ترقی اور سرمایہ کاری اور امن اور دوستی ساتھ ساتھ چلتے ھیں۔ ریاست کے پاس زیادہ پیسہ آے گا تو وہ اپنے دفاع اور اپنے لوگوں پر زیادہ خرچ کرے گی۔
اور دلچسپی کی بات یہ ھے۔ سویلین حکمران تو یہ سوچتا ھی ھے۔ جونہی کوئی فوجی ڈکٹیٹر حکمران بنتا ھے۔ وہ بھی یہی سوچنے لگتا ھے۔ یعنی جس تن لاگے وہ تن جانے۔ جنرل مشرف نے نواز شریف اور واجپائ کی امن کوششوں کو کارگل سے سبوتاژ کیا تھا اور حکمران بن کر خود امن کے داعی بن گئے تھے۔ اور اسی لیے جنرل کیانی کے ھاتھوں نکالے گئے۔ ھماری اسٹیبلشمنٹ کا مائنڈ سیٹ ھی کچھ ایسا ھے۔
ھماری اسٹیبلشمنٹ سول حکومتوں کے  موقف کو تسلیم نہیں کرتی۔ اس موقف کو یہ کہہ کر مسترد کیا جاتا ھے۔ سویلین حکمران نااھل ھیں ۔ کرپٹ ھیں۔ بھارت کے یار ھیں ۔ سیکیورٹی رسک ھیں۔ ریاست کے ریونیو میں اضافہ نہیں کر سکتے۔ لوٹ مار کرکے ساری رقم باھر لے جاتے ھیں ۔ غدار ھیں  وغیرہ وغیرہ اور یہ کہ ھم روکھی سوکھی کھا کر ملک کا دفاع کریں گے۔ اب یہ روکھی سوکھی کون کھا رھا ھے۔ اور چپڑی ھوی کون کھا رھا ھے۔ ڈیفینس کی آرام دہ اور با سہولت آبادیوں میں کون رھ رھا ھے۔ اور کون ھنجروال اور کانے کاچھے کی خاک چھان رھا ھے۔ سب کو معلوم ھے۔
        ترجیحات کے اس اختلاف پر حکومتیں الٹا دی جاتی ھیں۔ جس سے مزید سیاسی عدم استحکام پیدا ھوتا ھے۔ مزید معاشی ابتری پیدا ھوتی ھے۔ جیسا آجکل ھو رھا ھے۔  حالانکہ دونوں یعنی عسکری اور سیاسی قوتیں مسئلہ کشمیر حل کرنا چاھتی ھیں۔  مسلہ صرف اتنا ھے۔ سول حکومتیں یہ چاھتی ھیں۔  پہلے خطے میں امن قائم کر لیا جائے۔ معیشت مضبوط کر لی جائے۔ ریاست کے پاس پیسہ آ جاے۔ جسے دفاع اور لوگوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے ۔ بھارت کے ساتھ امن اور تجارت کا رشتہ بنا لیا جائے اور پھر اس مضبوط معاشی پوزیشن سے دباؤ ڈال کر کشمیر کا مسئلہ حل کروا لیا جائے۔ جبکہ متحارب نقطہ نگاہ بھارت پر اعتماد اور اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں ۔
ایک سویلین نقطہ نظر یہ بھی ھے۔ کہ ھم دونوں ملکوں نے چار جنگیں لڑ کر دیکھ لیں۔ ایک دوسرے کے ملک میں پراکسی وارز بھی کروا لیں۔ اس جنگ و جدل میں پاکستان دولخت بھی ھو گیا۔ پورا خطہ غربت اور عسرت کا شکار ھے۔ دھشتگردی جاری ھے۔ اب کیوں نہ ایک بار دوستی اور امن کرکے دیکھ لیا جائے۔ آخر یورپ بھی دو عظیم جنگوں اور کروڑوں افراد مروانے کے بعد یورپی یونین کی شکل اختیار کر چکا ھے۔ ایک مثال چین کی ھے۔ چین اور بھارت کے سرحدی تنازعات ھیں ۔ تین جنگیں لڑ چکے ہیں۔ لیکن آج یہ دونوں ممالک بہترین تجارتی پارٹنرز ھیں۔ چین کا تائیوان کے ساتھ تنازعہ ھے۔ لیکن چین کی سب سے زیادہ تجارت تائیوان کے ساتھ ھے۔ چین کی پر امن پالیسی کے تحت ھانگ کانگ چین کا حصہ بن چکا ھے۔ مشرقی اور مغربی جرمنی ایک ھو گئے ھیں۔ یعنی دنیا کے ممالک معاشی ترقی اور جمہوری و تجارتی کامیابیوں سے مضبوط ھو رھے ھیں۔ اکھٹے ھو رھے ھیں۔  اپنے تنازعات کو حل کر رھے ھیں۔ اور ایک ھم ھیں۔ ستر سال کی پالیسی سے آدھا ملک گنوا چکے ہیں۔ انتہاپسندی اور دھشتگردی کا مرکز بنے بیٹھے ھیں۔ اپروچ اور ترجیحات میں اختلاف کی وجہ سے اپنی ھی حکومتوں کو اکھاڑ پھینکتے ھیں۔ ملک دن بدن عدم استحکام کا شکار ہو رھا ھے۔ لیکن ھم اپنی اپروچ اور اپنی ترجیحات بدلنے کو تیار نہیں۔ یہ یاد رھے۔ ھماری بھارت کے ساتھ جتنی بھی جنگیں ھوئ ھیں۔ بقول ایر مارشل اصغر خان وہ ھم نے ھی شروع کی تھیں۔ کوئ ھمارے وجود کو مٹانے نہیں آیا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *