فیشن انڈسٹری میں مرد ماڈلز کے ساتھ کیا ہوتا ہے

ہمنا زبیر
ماڈل مجاہد رسول انسٹا گرام کے ذریعے سامنے آئے  اور انہوں نے فیشن انڈسٹری میں جنسی ہراسگی کے کلچر پر آواز اٹھائی،  اور بتایا خاص طور پر مرد  چوکیدار وں کے ہاتھوں  مرد  فن کار  استحصال کا شکار ہوتے ہیں۔  ہیش ٹیگ می ٹو  کی پوسٹ کی فہرست میں  اس ماڈل نے کہا:" میں اس کام میں 7 ، 8 سال  سے محنت کر رہا ہوں اور میں نے ان سالوں میں صرف جنسی ہراسگی کا ہی سامنا کیا ہے۔ " انہوں نے وضاحت کی کہ:"  میرے اپنی شرائط ہیں! کیا ہم اکیلے مل سکتے ہیں؟ ''مجھے اپنی عریاں  تصاویر دیکھاؤ!۔۔۔ " اس طرح کے اور بھی جملے ہیں جن کا  سامنا مجھے شروع دن سے ہی کرنا پڑ رہا ہے۔ اور مجھے 100٪ یقین ہے کہ  میں اکیلا نہیں یہ سب برداشت کر رہا بہت سارے ہوں گے جن کو اس اذیت سے گزرنا پڑ رہا ہو گا۔ "
مجاہد رسول نے  بغیر نام ظاہر کیے کچھ اشخاص  کی تصویریں بھی  شئیر کئں جو ان کے ساتھ رابطہ  کر رہے تھے  کہ ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملے،  اور کہیں کہیں  ان کہ شرائط   بھی ساتھ  تھیں۔  سکرین شاٹ نیچے بھی دیکھی جا سکتی ہیں اور انسٹا گرام پر بھی۔  اور ایک الگ پوسٹ میں انہوں نے اس تصویر کش اور پروموٹر عظیم سانی  کی بھی تصویر پوسٹ کی ہے جو مشکوک ہیں اور کام دلانے کے عوظ میں  ان سے جنسی فائدہ اٹھانے کے خواہش مند ہیں۔ بات چیت کے دوران مجاہد رسول  نے واضح کیا کہ  جو تصویر عظیم سانی کے ساتھ انسٹا گروم سے شئیر کی گئی ہے  وہ  ان کے ساتھ بات چیت کے دوران کے اقتباسات نہیں۔وہ دو اور آدمیوں کے ساتھ  کی گئی بات چیت ہے جو اس ہی انڈسٹری سے تعلق رکھتے ہیں۔  وہ ان دو لوگوں کے نام اس لمحے تو عیاں نہیں کرنا چاہتے۔ " جن لوگوں کے سکرین شارٹ میں نے شئیر کئے ہیں وہ مشہور ڈزائینر  سے ہیں اور  کنٹنٹ
ہیڈ سے وصول کردہ ہیں  جو کراچی کے  بڑے پروڈکشن ہاؤس سے ہیں۔" رسول نے کہا۔ میں سالوں سے اس مسئلہ کا سامنا کر رہا ہوں۔ ہر کسی کو اس شعبہ کے اس کلچر کا پتہ ہے  لیکن کوئی اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا۔ مجھے معلوم ہے کہ میرا کیریر اب خطرے میں ہے  اور ممکن ہے مجھے اس کے بعد کام نہ ملے۔ لیکن یہ مسئلہ غور طلب ہے۔ شاید ابھی تبدیلی فوری طور پر نہیں آئے گی لیکن اگلے دس بیس سال میں تبدیلی ضرور واقع ہو گی  اور میں امید رکھتا ہوں کہ میری پوسٹ اس سلسلے میں ایک اہم ستون کا کام کرے گی۔ اب جنسی حملے کرنے والوں کو معلوم ہو جانا چاہیے کہ اب لوگ بولنے کی جرات رکھتے ہیں اور خاموشی سے زیادتیاں سہنے والے نہیں ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ایسا کرنے پر ساتھیوں نے انہیں تنقید کا نشانہ تو نہیں بنایا تو وہ بولے: مجھے سخت رد عمل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بہت سے لوگوں نے مجھے میسج کیا اور پوچھا کہ اس معاملے کو پبلک میں لانے کی کیا ضرورت تھی؟ بس انکار کر دیتے اور بات ختم کرتے۔لیکن ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ذہنی طور پر میں اس طرح کی تنقید سہنے کے لیے تیار تھا۔ بہت سے لوگوں کی سپورٹ سے بھی مجھے بہت اچھا محسوس ہوا ہے۔  پورے معاملے کو صرف ناقدین کی بات دیکھ کر نہیں جانچنا چاہیے۔ بہت سے اچھے لوگ بھی ہو تے ہیں۔ اسی لیے میں نے یہ شعبہ ترک نہیں کیا۔ رسول نے یہ بھی بتایا کہ وہ ایک پڑھے لکھے طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے انہون نے آواز بلند کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے بتایا: میں بایو لوجیکل سائنس میں پنجاب یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رہا ہوں ارو ایچیسن کالج میں لیکچرر بھی ہوں ۔ میں پروفیشنل آدمی ہوں اور پروفیشنل رویہ کی امید رکھتا ہوں۔ کیونکہ میں خود ایک ٹیچر ہوں اسلیے میں اس طرح کا رویہ برداشت نہیں کر سکتا۔ رسول کا واقعہ میشا شفیع کے علی ظفر پر جنسی حملے کے الزامات کے کچھ دن بعد ہی سامنے آیا ہے۔  اس کے بعد ساتھی ماڈلز اور ایکٹرز نےرسول کی پوسٹ شیئر کی اور سر عام ا س پر تبصرے بھی کیے۔ ماڈل رحمت اجمل نے مجاہد سے درخواست کی کہ وہ ان لوگون کا نام پبلک کے سامنے لائیں تا کہ انہیں شرمندگی کا احساس ہو۔ میشا شفیع نے اپنی سپورٹ پیش کرنے کےلیے ٹویٹر کا رخ کیا۔ امیجز نے جب عظیم ثانی سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے تبصرہ نہ کرنے کی ٹھانی  اور گفتگو سے معذرت کر لی۔

source : https://images.dawn.com/news/1180100

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *