”ملامتی صوفی“

شاہ حسین نے کہا تھا: ”بڈھا ہویوں شاہ حسیناں دندیں جیراں پیاں“۔ اُردو میں اسے یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ شاعر خود سے مخاطب ہوئے کہہ رہا ہے کہ وہ بوڑھا ہوگیا ہے کیونکہ اس کے دانتوں میں دراڑیں آگئی ہیں۔یہ لکھتے ہوئے مجھے خدشہ ہے کہ ”دراڑیں“ شاید ”جیراں“ کا معقول ترجمہ نہیں۔ ”جیراں“ کا اُردو متبادل ڈھونڈنے کے برعکس اگرچہ توجہ مجھے آپ کی اس جانب دلانا ہے کہ صوتی اعتبار سے ”جیراں“ دراڑوں سے کہیں زیادہ پر اثر ہے۔ بڑھاپے کی ایک ٹھوس حقیقت کو ڈرامائی انداز میں بیان کرتا ہے۔
طبعی عمر کے اعتبار سے میں بھی تیزی سے بوڑھا ہو رہا ہوں۔ احساس مگر ہو نہیں رہا تھا اور اب چند مہینوں سے میرے دانتوں نے بہت شدت سے اعلان کرنا شروع کر دیا ہے۔ صحافت کے شعبے میں آنے کے بعد اکثر بے روزگاری سے واسطہ رہا۔ رزق کی تلاش میں کئی مہینوں تک مختلف ادوار میں کراچی بھی رہنا پڑا۔ وہاں پان کھانے کی لت لگ گئی۔
شادی ہوئی تو اپنی مرحومہ ساس کے بہت نفاست سے چنے پان اور چاندی کے مسلسل چمکتے ہوئے پاندان میں موجود بہت ذوق سے کتری چھالیہ اور بڑی محنت سے تیار ہوئے کتھے اور چونے نے اس طلب کو برقراررکھا۔ ان کے دانت جھڑگئے تو پان کھانے سے گھبراگئیں۔ میری خاطر مگر پاندان کا اہتمام برقرار رکھا۔ میں نے بالآخر شرم کے مارے پان کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔ اس بائیکاٹ کے باوجود اب بھگتنا پڑ رہا ہے۔
جبڑوں کی گرفت ختم ہوچکی ہے۔ دانت بہت تکلیف دینے کے بعد جھڑنا شروع ہوگئے ہیں۔ خود کو منہ کی سنگین بیماریوں سے محفوظ رکھنے کی خاطر تقریباََ ہر دوسرے مہینے ڈینٹسٹ کے ہاں جانا ضروری ہوچکا ہے۔
میڈیکل سائنس بہت ترقی کر چکی ہے۔ اب علاجِ دنداں خراج دنداں نہیں رہا۔ دانت نکالنے کے بعد اسے گرفت میں رکھے جبڑے کو آپریشن کے ذریعے کھول کر ایک سفوف ڈالا جاتا ہے۔ چند ہفتوں کے انتظار کے بعد یہ سفوف ہڈی کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔اس ہڈی میں پھر Implantکی گنجائش نکل آتی ہے۔ علاج موجود ہے مگر طویل اور کافی تکلیف دہ بھی اور میری استطاعت کے حوالے سے کافی مہنگا بھی شوق دا مگر کوئی مل نہیں۔ قطعاًََ اصل نظر آتے مصنوعی دانتوں سے جی خوش رہے اور کوئلہ پر بھنی چانپ کو چبانے کی لذت بھی میسر رہے تو کوئی حرج نہیں۔ تقریباََ ہر دو ماہ بعد لہذا ڈینٹسٹ کے ہاں جاتا ہوں۔ جبڑا کھلواتا اور اسے ٹانکوں سے سلواتا ہوں اور پھر تین سے چار دنوں تک اینٹی بائیوٹیک اور درد کو قابلِ برداشت رکھنے والی گولیوں سے جڑی الجھنیں بھگتتا ہوں۔
انگریزی میں ایک ترکیب ہوتی ہے Gallow Humor۔ یہ مسخرے پن کی وہ کیفیت ہے جو پھانسی کے منتظر افراد جی کو خوش رکھنے کو اختیار کرتے ہیں۔مجھے دانتوں کے علاج کے مراحل سے گزرتے ہوئے کچھ اسی نوعیت کے خیالات آتے ہیں۔ ان کے اظہار سے مگر خوف آتا ہے۔ ہمہ وقت یہ خدشہ ذہن پہ طاری رہتا ہے کہ میرے ذہن میں بے ساختگی سے آئے کلمات کہیں Hybrid War کے اس موسم میں دشمن کی مسلط کردہ 5th Generation Warکے لئے اپنائی میڈیا حکمت علمی کا اظہار نہ تصور کرلیے جائیں۔
غالب فریاد کرتے رہے کہ وہ فرشتوں کے لکھے جانے کی وجہ سے ناحق پکڑے جاتے ہیں۔فرشتے جب اپنی رپورٹ مرتب کر رہے تھے تو ”آدمی کوئی ہمارا“ دم تحریر موجود نہیں تھا۔ فرشتوں کی لکھی FIR میں لہذا غالب کے ناکردہ گناہ بھی ڈال دئیے جاتے تھے۔ ”عقوبت“ میں غالب ”حد“ کا طلب گار بھی تھا۔ خوش نصیب تھا کہ ہمارے آئین میں آرٹیکل62-F درج ہونے سے ایک صدی قبل ہی اس دنیا سے رخصت ہوگیا وگرنہ آخرت میں اس کے ساتھ جو ہونا تھا وہ اپنی جگہ اس دنیا میں تاحیات نااہل ہوجاتا۔ عمومی زندگی میں صادق اور امین ہونے کے باوجود۔ صرف اس جرم میں کہ زہدکے فوائد کو خوب جانتے ہوئے بھی وہ اس طرف مائل نہ ہوپایا تھا۔
”فرشتوں“ کے لکھے کی وجہ سے پکڑے جانے کے ذکر سے یاد آیاکہ اس کالم کا آغاز میں نے شاہ حسین سے کیا ہے۔ میرے لاہور کے ٹیکسالی دروازے کا یہ شاعر نومسلم جلاہوں کے خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ سمرقند، بلخ یا بخارا سے آیا کوئی صوفی نہیں تھا جسے کسی مرشد نے خرقہ دے کر لاہور بھیجا تھا۔ آدمی لیکن بہت دین دار تھا۔ ساری رات راوی کے پانی میں کھڑا عبادت میں مصروف رہتا۔ روایت ہے کہ ایک مرتبہ نماز کے دوران اس نے امام سے ”یہ دنیا کیا ہے الالہولعب“سنا تو دیوانہ ہوگیا۔ سر اور داڑھی منڈوادی اور سرخ کپڑے پہنے لاہور کی گلیوں میں رقص کرنا شروع ہوگیا۔ ظاہری وضع اور کرتوت اس کے ”کافروں“ والے ہوگئے۔
میری ماں لیکن اسے ”کافر“ نہیں صوفی شمار کرتی تھی۔ بعد ازاں لاہور کے چند سیانوں سے پتہ یہ بھی چلا کہ وہ صوفیاءکے اس سکول آف تھاٹ سے تعلق رکھتا تھا جسے ”ملامتی“ کہا جاتا ہے۔ ”ملامتی“ اپنے ربّ کی رحم اور معاف کر دینے والی خاصیت کو بھی ابدی شمار کرتے ہیں۔ اصرار ان کا یہ بھی رہا کہ عمومی زندگی میں ”شکل مومنا“ والے حاجی نمازی اپنی عبادات کی بنا پر خود کو انسانی خطاﺅں سے مبرا سمجھتے ہوئے مغرور ہوجاتے ہیں۔ خود کو متقی شمار کرتے افراد کا گھمنڈ انگریزی میں Self Righteousness کہلاتا ہے اور ملامتی اس گھمنڈ کو مسلسل اشتعال دلاتا رہتا ہے۔
یہاں تک لکھنے کے بعد میرا ملامتی سکول آف تھاٹ کے بارے میں علم ختم ہوا۔ ویسے بھی ذکر ”فرشتوں“ کا ہورہا تھا۔ لاہور کے حکمرانوں کو شدید شک تھا کہ شاہ حسین صوفی کے بھیس میں درحقیقت کوئی ”غدار“ یا ”تخریب کار“ ہے۔ اس پر 24 گھنٹے نگاہ رکھنے کے لئے لہذا ایک ”فرشتہ“ تعینات ہوا۔ غالباًََ ایسے فرشتے کو ان دنوں”مخبر“ کہا جاتا تھا۔ شاہ حسین کے روزمرہ معمولات پر کڑی نگاہ رکھتے ہوئے جو رپورٹس دلی کے بادشاہ کو بھیجی گئیں انہیں انگریز کے دور میں کسی صاحبِ علم نے کتاب کی صورت دے دی تھی۔ پنجابی زبان کے ایک عاشق محقق شفت تنویر مرزا صاحب نے اس کتاب کا ترجمہ کیا تھا۔ غالباًََ اس کتاب سے یہ بھی اخذ ہوا کہ شاہ حسین کسی نہ کسی صورت اکبر اعظم کے خلاف بغاوت کرنے والے دُلہ بھٹی کا ”سہولت کار“ بھی تھا۔ شاہ حسین لیکن مجھے اپنے دانتوں میں آئی ”جیراں“ کی وجہ سے یاد آیا تھا۔ بات سے بات نکلتی ہوئی غالب کے فرشتوں سے دُلہ بھٹی کی پھانسی تک آگئی۔ اس تناظر میں مجھے یہ بھی یاد آگیا کہ گزشتہ چند دنوں سے ہمارے کئی نامور، معتبر اور بااثر کالم نگار اصرار کررہے ہیں کہ پنجاب میں ”باغی“ پیدا نہیں ہوا کرتے۔ ٹیکسالی دروازہ مگر لاہور ہی میں ہے اور آخری خبریں آنے تک لاہور پنجاب ہی کا ایک شہر شمار ہوتا تھا۔ شاہ حسین کی کہانی ثابت کرتی ہے کہ پنجاب اور وہ بھی لاہور میں کم از کم ایک ”باغی“ ضرور پیدا ہوا تھا۔ نام جس کا شاہ حسین تھا۔ لاہور کے ٹیکسالی درروازے سے تعلق رکھتا تھا۔ سمرقند وبخارا کے کسی نامی گرامی تورانی خاندان سے تعلق نہیں رکھتا تھا۔ ذات کا جلاہا تھا مگر دربار کو اس کے ”ملامتی“ ہونے پر شبہ تھا۔ اس پر کڑی نگاہ رکھنے کو ”فرشتے“ تعینات کرنا پڑے۔ دُلہ بھٹی کی پھیلائی بغاوت کا وہ شاید ”سہولت کار بھی تھا۔
جدید سیاست کی زبان میں بات کریں تو ہم شاہ حسین کو محض لفظی نہیں بلکہ عملی جدوجہد کا پرچارک بھی شمار کرسکتے ہیں۔ حوالے کے لئے اس کا ”تخت نہ ملدے منگے“ کافی ہونا چاہیے۔ ان دنوں ”عدلیہ“ اور جنرلوں“ سے ”سب کے لئے یکساں انصاف“ مانگتے شہباز شریف خوش نصیب ہیں۔ ”تخت لہور“ پر کئی برسوں سے مسلط ہوئے بھی شاہ حسین کو دریافت نہیں کر پائے۔ ڈائس سے مائیک گرانے کے لئے حبیب جالب کے اشعار ہی استعمال کرتے رہے۔ ان دنوں اگرچہ ان کے اور عمران خان کے درمیان ”اقبال شناسی“ کا مقابلہ بھی چل رہا ہے۔ اگرچہ شاعر ِمشرق فرماگئے ہیں کہ ”مردِناداں پر کلامِ نرم ونازک....“

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *