’قطری شہزادے نے جے آئی ٹی کی کارروائی میں شامل ہونے سے انکار ‘

اسلام آباد: سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف نے احتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کے دوران عدالت کی جانب سے پوچھے گئے 128 سوالات میں سے 123 کے جوابات ریکارڈ کرا دیئے۔

وفاقی دارالحکومت کی احتساب عدالت میں جج محمد بشیر نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کی، اس دوران سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر پیش ہوئے، جہاں سماعت کے آغاز پر نواز شریف نے سوالات کے جوابات دینے کا سلسلہ جاری رکھا۔

سماعت کے دوران نواز شریف نے بتایا کہ واجد ضیاء نے قانون کو روندتے ہوئے مذموم مقاصد کیلئے جفزا اتھارٹی کا سرٹیفکیٹ پیش کیا جبکہ اس کیس میں جفزا اتھارٹی کا خط غیر متعلقہ ہے۔

نواز شریف کی جانب سے کہا گیا کہ کیپیٹل ایف زیڈ ای میں ملازمت سے متعلق سرٹیفکیٹ کو کسی قانون کے تحت شواہد کا حصہ نہیں بنایا جاسکتا، اس طرح کیپیٹل ایف زیڈ ای کی تنخواہ ادائیگی سے متعلق اسکرین شاٹس کو بھی شواہد کا حصہ نہیں بنایا جاسکتا۔

دوران سماعت اپنے سوالات کا جواب دیتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ گلف اسٹیل کے 25 فیصد شیئرز کی فروخت کے معاہدے سے میرا کوئی تعلق نہیں جبکہ اس شیئرز سے حاصل رقم کی قطری خاندان کے کاروبار میں سرمایہ کاری سے بھی میرا تعلق نہیں رہا۔

سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ 22جون 2012کے ایف آئی اے بی وی آئی اے کے خط کے ساتھ پرائمری دستاویزات منسلک نہیں، لہٰذا اس خط کو شواہد کا حصہ نہیں بنایا جاسکتا، اسی طرح 3جولائی 2017کا ایف آئی اے بی وی آئی کا خط شواہد کا حصہ نہیں بنایا جاسکتا کیونکہ جس خط کے جواب میں 3جولائی کا خط موصول ہوا اسے عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ کیپیٹل ایف زیڈ ای کا کبھی مالک، بینیفشل آنر، ڈائریکٹر یا شیئر ہولڈرز نہیں رہا اور کیپیٹل ایف زیڈ ای کی کسی لین دین سے میرا تعلق نہیں۔

عدالت مین سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ قطر سے متعلق کسی ٹرانزیکشن کا حصہ نہیں رہا جبکہ سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی ورک شیٹ کی تیاری میں بھی شامل نہیں تھا۔

قطری شہزادے کے خط سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ 22 دسمبر 2016 کا قطری شہزادے کا خط اور ورک شیٹ تسلیم شدہ ہے، اس کیس سے متعلق قطری شہزادے سے کسی خط و کتابت میں شامل نہیں رہا۔

انہوں نے کہا کہ قطری شہزادے نے کبھی جے آئی ٹی کی کارروائی میں شامل ہونے سے انکار نہیں کیا، جے آئی ٹی سے خط و کتابت میں قطری شہزادے نے سپریم کورٹ میں پیش کیے گئے خطوط کی تصدیق کی، قطری شہزادے کے آمادہ ہونے کے باوجود بیان قلمبند کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔

دوران سماعت نیب پراسیکیوٹر نے ملزم کے بیان قلمبند کیے جانے کے طریقہ کار پر اعتراض کیا، نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ 342 کے بیان کی منشاء یہ ہے کہ ملزم بیان قلمبند کرائے۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ بیان کے دوران قانونی نکات پر وکیل سے مدد لی جاسکتی ہے، یہ کوئی طریقہ نہیں ہے کہ 6 دن کی لکھی ہوئی کہانی پڑھ کر سناتے رہیں۔

اس پر جج محمد بشیر نے کہا کہ آپ کہنا کیا چاہتے ہیں وہ بتائیں، جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ میرا اعتراض عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنا لیا جائے۔

اس پر نواز شریف نے کہا کہ میں اس بیان کو اون کرتا ہوں، یہ بیان میں نے خود خواجہ حارث کی مشاورت سے تیار کیا ہے، میں زیادہ دیر تک پڑھتا رہوں تو گلے میں مسئلہ ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ میں نے خواجہ حارث کو پڑھنے کا کہا تھا، نیب کو اس پر اعتراض کرنا تھا تو گزشتہ روز ہی کرلیتے۔

نیب پراسیکیٹور نے کہا کہ اگر ایسا ہی کرنا ہے تو سوالات وکیل صفائی کو یو ایس بی میں دے دیں، ایسا کرنے سے عدالت کا وقت بھی بچ جائے گا۔

نیب پراسیکیٹور کے اعتراض پر نواز شریف نے خود بیان پڑھنا شروع کیا اور بتایا کہ پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء میرے حوالے سے متعصب انسان ہیں اور وہ قابل اعتبار گواہ نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ واجد ضیاء ملزمان کو کیس میں ملوث کرنے کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں، واجد ضیاء نے جان بوجھ کر قطری شہزادے کا بیان قلمبند کرنے کیلئے ٹال مٹول سے کام لیا، واجد ضیاء نے غلط بیانی کی کہ جے آئی ٹی نے متفقہ طور پر گواہوں کو سوالنامہ نہ بھجوانے کا فیصلہ کیا۔

اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ حسن اور حسین نواز اپنے قول و فعل کے خود ذمہ دار ہیں، یہ بات درست ہے کہ عدالت نے حسن اور حسین نواز کو مفرور قرار دے رکھا ہے لیکن ان کے مفرور ہونے کو میرے خلاف استعمال نہیں کیا جاسکتا۔

بعد ازاں عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت بدھ 23 مئی تک ملتوی کردی، جہاں نواز شریف بقیہ سوالات کے جوابات دینے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

خیال رہے کہ گزشتہ سماعت میں احتساب عدالت کی جانب سے پوچھے گئے 128 سوالات میں سے نواز شریف نے 55 کے جوابات دیے تھے۔

یاد رہے کہ عدالت نے کرمنل پروسیجر کوڈ (سی ای آر پی سی) کی دفعہ 342 کے تحت یہ فیصلہ کیا تھا کہ ملزمان کو حتمی فیصلہ سنائے جانے سے قبل اپنی صفائی پیش کرنے کا موقع دیا تھا، اس ضمن میں احتساب عدالت کے جج محمد بشیر، نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن محمد صفدر کے بیانات حاصل کرنے کے لیے مذکورہ دفعہ کے تحت سوال نامہ ترتیب دیا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *