جب ایک ڈکٹیٹرکتاب لکھتا ہے

آصف فرخی

ظالم ڈکٹیٹرز کا رعب و دبدبہ زندگی کے تمام شعبوں پر حاوی ہوتا ہے ۔ لیکن جب یہی ڈکٹیٹر اپنے آپ کو ایک رائٹر کے طور پر پیش کرنےکی کوشش میں کوئی بھی کتاب لکھ کر اپنی کے بل بوتے پر سکول لائبریریوں میں رکھواتے ہیں تو صورتحال اور بھی تکلیف دہ ہو جاتی ہے۔ ڈکٹیٹرز کی زندگی کا مقصد ہی اقتدار پر قبضہ کرنا ہوتا ہے اور اقتدار کے نشے میں وہ راستے میں آنے والے ہر شخص کو قتل کر دینے سے گریز نہیں کرتے۔ لیکن ڈینئل کالڈر کے مضمون : Dictator Literature: A History of Despots Through Their Writingمیں ان کے کارنامے ذکر ہیں ۔ اس کتاب میں کارلڈر ولادی میر لینن، جوزف سٹالن، اڈولف ہٹلر، مسولینی، ماو زیڈونگ، معمر قذافی، صدام حسین،  اور کوریا کن 2 سنگ کا ذکر کرتے ہیں۔ کالڈر لکھتے ہیں کہ یہ ڈکٹیٹر لٹریچر ہے جس میں ڈکٹیٹروں کی توپوں سے تیار کیا گیا کام شامل ہے ۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ یہ دنیا کی بد ترین کتابوں میں سے ہیں۔ اس عنوان  کی وجہ سے کلاڈر کی کتاب بہت حیران کن لگتی ہے۔ لینن اور سٹالن کے عزائم کا تو سب کو معلوم ہے لیکن حسین کو کون بھول سکتا ہے  جو اپنے دور حکومت کے آخری سالوں میں بہت بے پرواہ ہو چکے تھے ۔ صدام کی کتاب کی بے تکی تحاریر
سے سب کچھ واضح ہو جاتا ہے اور کتاب کا اختتام تو پہلے ہی معلوم ہو جاتا ہے کہ ریڈر کو پھانسی دی جانے والی ہے۔ اگرچہ وہ کچھ کتابوں کی تعریف بھی کرتے ہیں لیکن 20ویں صدی کے ڈکٹیٹرز کے بارے میں تفصیلات لکھتے ہوے  وہ زیادہ عقلمندی کا مظاہرہ کرتے دکھائی دیتے ہیں اور
ان کی  سیاسی خامیوں کو سامنے لاتے  ہیں۔  ایک موقع پر وہ لینن کو کنگ آف فلیم وار بھی قرار دے ڈالتے ہیٰں۔ کیوبا کے بارے میں لکھا گیا باب تو بہت ہیی حیران کن  ہے جس کو پڑھنے کے بعد ریڈر خواہش کرتا ہے کہ افریقہ اس سے بھی زیادہ  بڑا ملک ہوتا لیکن  یہ اچھی بات ہے کہ کالڈر نے ہمیں ان لوگوں مں شامل کرنے سے بچا لیا ہے جن کے پاس ڈکٹیٹر کی کتابوں کے سوا کچھ پڑھنے کے لیے نہیں تھا۔ آخر میں کالڈر جنرلائزیشنن کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ پچھلی صدی کی تبدیلیوں کا خلاصہ کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں: جمہوریت نادر تھی اور ڈکٹیٹر شپ اور قتل عام کے واقعات بے شمار دیکھنے کو ملتے تھے ۔ بہت برا دور تھا ۔ اب بھی ہم متحد نہیں ہیں لیکن کسی حد تک جمہوریت جڑ پکڑ رہی ہے۔ اگرچہ اس کی تھیوریٹکل بیس موجود نہیں ہے اور اس میں کسی قسم کی نفسیاتی نوعیت بھی شامل نہیں ہے لیکن کتاب کا زیادہ تر حصہ جو ڈکٹیٹرز کی زندگی اور نسلوں کے
بارے میں ہے بہت مفید ہے  کیونکہ مجھے اندازہ ہے کہ اس طرح کی کتابیں کوئی ادب کے مطالعہ کے لیے کسی صورت پڑھنا نہیں چاہے گا۔ ماو کو ےان لیانکی اور ایلین چینگ جیسے لوگوں کی تحاریر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ لیانکی ایک ہم عصر کلاسک رائٹر تھے لیکن چینگ کے ناول امریکہ کے پروپیگنڈہ سے بھر پور تھے۔ اس میں شاندار ناول 'نیکڈ ایرتھ'  50 سال کے وقفہ کے بعد دوبارہ شائع کیا گیا ہے۔ البانیا کے ایک ڈکٹیٹر نے بھی ایک مشہور ناول لکھ کر ادبی خدمات  پیش کرنے کا فرض ادا کیا ۔ انور ہوکشا نامی اس ڈکٹیٹر نے ناول کا نام 'پیلیس آف ڈریمز' رکھا۔ ان ڈکٹیٹرز کو لافانی وہی رائٹرز بناتے ہیں جن پر ان لوگوں نے تسلط جمایا ہوتا ہے۔ آج تک ڈکٹیٹرز نے اگر نام کمایا ہے تو صرف خیالی ناولز کے
ذریعے۔ انہوں نے ایک ایسا چیپٹر مس کر دیا ہے جس میں پاکستان کے ڈکٹیٹرز کی خدمات کو پرویا جا سکتا تھا جنہوں نے ملک کی تاریخ کے زیادہ تر دور میں اقتدار پر قبضہ کیے رکھا۔ ہمارے ملک میں کوئی ایسا ڈکٹیٹر نہیں تھا جس کی ادب میں دلچسپی  کے لیے عوام کو اس پر فخر ہو  لیکن پھر بھی انہوں نے مذکورہ ڈکٹیٹرز کے مقابلے میں پیچھے نہ رہنے کا فیصلہ کرتے ہوئے انٹرنیشنل لٹریری ڈکٹیٹر ز کی فہرست میں نام شامل کرنے کی کوشش کی۔ ایسا کیوں ہے کہ دوسرے ملک تو اپنے ملک کے ڈکٹیٹرز کے ادبی خدمات پر فخر کرے ہووں اور ہمارے ڈکٹیٹر ہال آف شیم میں جگہ نہ بنا سکیں۔ اگر یہ کوئی تلافی ہے تو ہمارے پاس بھی ایوب خان، پرویز مشرف جیسے حکمران  موجود ہیں جنہون نے اپنے غلط اقدامات کو جواز دینے کے لیے پین کا استعمال کیا۔ کبھی کبھار مجھے حیرانی ہوتی ہے کہ ان لوگوں کی کتابیں کہاں سٹور کی جاتی ہیں ۔ تاریخ کے ریکارڈ روم میں تو نہیں رکھی جاتی ہوں گی۔ اس لسٹ میں جنرل ضیا کے نام کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ کیا ان کے پاس کوئی سٹوری نہیں تھی؟ اگرچہ ان کی یادداشتیں لکھنے میں دلچسپی نہیں تھی لیکن ادبی لحاظ سے وہ بھی پیچھے نہ تھے۔ پاکستان کے حکمران اور ڈکٹیٹرز  کی تاریخ نے کچھ اہم
مصنفین کو استعمال کیا اور نواز ا۔ یہ ایسے لوگ تھے جو  حکم ملتے ہی کتاب تیار کر لیتے تھے۔ مجھے ایسے لوگوں کی اس لسٹ میں شمولیت دیکھ کر شرم سے سر جھکانے کا دل کرتا ہے۔ جنرل ضیا کی یہ قابلیت تھی کہ انہوں نے اس کو ایک ادبی موقع بنا لیا جب انہوں نے اکیڈمی آف لیٹرز  کو بلا کر رائٹرز کانفرنس منعقد کی  ااور اس تقریب میں اپنے آپ کو بحیثیت سے ادبی ناقد متعارف کروایا۔ انہوں نے دھمکی آمیز لہجے میں کچھ شاعروں کے نمونے پیش کیے اور ان پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے احمد ندیم قاسمی کی تحاریر کا حوالہ دیا اور اختر حسین جعفری کی  فنون میں
شائع ہونے والی نظم پڑھی ۔ یہ پاکستان کے مصنفین کی چیکرڈ کیریر کا سب سےاہم واقعہ تھا۔ جنرل ضیا کی باقیات اب بھی اسلام آباد میں موجود ہیں جہاں ہر سال لٹریری کانفرنسز میں رائٹرز کو نوازا جاتا ہے۔

source : https://www.dawn.com/news/1407266/column-dictators-as-writers

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *