پاکستان ایک مرتبہ پھر بیرونی قرضے لینے کیلئے تیار

دبئی: حکومتِ پاکستان نے زرِ مبادلہ کے ذخائر میں کمی اور مالی خسارے کے پیشِ نظر ایک بار پھر غیر ملکی قرضہ لینے کا فیصلہ کرلیا۔

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے 3 بینکوں سے لیا جائے گا، اس سلسلے میں بینکنگ معاملات سے وابستہ ذرائع کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان نے 20 کروڑ ڈالر کا غیر ملکی قرض لینے کا قدم ادائیگیوں کے توازن پہ پڑنے والے دباؤ کو کم کرنے کے لیے اٹھایا ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ ایک سال کی ضمانت پر دیا جانے والا یہ قرضہ کمرشل بینک آف دبئی، ایمریٹس این بی ڈی اور نور بینک فراہم کریں گے۔

واضح رہے کہ زرِ مبادلہ کے ذخائر کی کمی کو متوازن کرنے اور مالی خسارے کو کم کرنے کے لیے پاکستان کو فنڈنگ کی ضرورت ہے، اسی تناظر میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے مطابق پاکستان کا مالی خسارہ مجموعی ملکی پیداوار کا 5.5 فیصد ہے۔

اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل کا کہنا تھا کہ 20 کروڑ ڈالر کا یہ قرض پاکستان کے پہلے سے لیے گئے قرضوں کی دوبارہ ادائیگی میں مدد فراہم کرے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم یہ رقم خزانے میں اضافے کے لیے حاصل کررہے ہیں، جیسا کہ ہم نے مختلف اداروں کو ادائیگیاں کی ہیں اس لیے ہمیں اپنے خزانے میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔

مفتاح اسمٰعیل کا مزید کہنا تھا کہ آئندہ ہفتوں میں یہ قرض 35 کروڑ ڈالر تک جاسکتا ہے، اور اس کے بعد حکومت اتنی ہی مالیت کی پاکستانی کرنسی متروک کردے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سے لیے گئے قرضے کی نوعیت تبدیل ہوگی لیکن مجموعی طور پرقرض میں اضافہ نہیں ہوگا، تینوں اماراتی بینکوں کی جانب سے دیگ قرض دہندگان کو بھی تجارتی قرضے کی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کی اقتصادی ترقی میں 5 فیصد اضافہ ہوا ہے، تاہم غیر ملکی زرِمبادلہ کے ذخائر میں واضح کمی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافے کے پیش نظر بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ اس سال پاکستان کو انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے نیا بیل آؤٹ پیکج لینا پڑے گا۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال کے اختتام پر پاکستان نے ایک ارب سکوک بانڈ اور ڈیڑھ ارب کنوینشنل بانڈ کی مد میں حاصل کیے۔

یہ بات بھی مدِ نظر رہے کہ ادائیگیوں کے توازن میں آنے والے دباؤ کے سبب پاکستان قرض کے حصول کے لیے خاصہ متحرک ہے۔

اس ضمن میں عالمی بینک کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل بینک فار ریکنسٹرکشن اینڈ ڈیولپمنٹ کی جزوی ضمانت پر گزشتہ برس ہی پاکستان نے 10 سال کے لیے 70 کروڑ ڈالر کا قرض لیا تھا، جبکہ رواں سال کے آغاز میں بھی کریڈٹ سویز اینڈ انڈسٹریل اینڈ کمرشل بینک آف چائنا سے ایک سال کی مدت کے لیے 45 کروڑ ڈالر کا قرض لیا گیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *