کیاکریں ،کیا نہ کریں

جب سے ہم نے یہ شگفتہ کالم لکھنے شروع کئے ہیں ایک عجیب مصیبت میں پھنس کر رہ گئے ہیں ۔ ہم کالم میں یار دوستوں کا ٹھٹھا لگاتے ہیں ۔ یا ر دوست ہمارے کالم کے حوالے سے ہمارا ٹھٹھا لگاتے ہیں ۔اب بند ہ اور وہ بھی کوئی رانا صاحب جیسا ہی ان سے پوچھے ’’تسیں کوئی بڑی توپ چیز ہو ؟ ہمارے تو یہ بس کی بات نہیں رہی ۔ ٹھیک ہے خدا نے آپ کو تو فیق دی ، صراطِ مستقیم دکھایا ، آپ نے ہمارا انوارو فیوض و برکات سے بھرپور کالم پڑھ لیا ۔آپ کو پسند آگیا تو مصنف کی خدمت میں اور کچھ نہیں تو ہدیہ تبریک ہی پیش کیجئے ۔مٹھائی نہیں منگوا سکتے تو مچلز کی ایک ٹافی ہی پیش کردیجئے ۔ لیکن صاحب یہ استطاعت انہیں کہاں ، یہ تو کسی تھیٹر گروپ کے سابق فنکار لوگ ہیں۔ڈاکٹر صاحب نے از راہِ ترحم انہیں ’’شوگر‘‘میں رکھ لیا ہے کہ شوگر پڑھو ، شوگر پیو ، شوگر کھاؤ ، شوگریت سے بولو ۔ یہاں ہر کوئی اپنے آپ کو امان اللہ سے کم نہیں سمجھتا ۔ ( ویسے یہ امان اللہ کیلئے بھی لمحہ فکریہ ہے ) اب آپ کو زیادہ تفصیل کیا بتائیں جستہ جستہ باتیں آپ کی نذر کرتے ہیں ۔
ایک دن ہم نے جناب حسین صاحب کی زیر قیادت کینٹین سے کھان منگوایا ۔ کھانا نہ آنا تھا نہ آیا۔آدھے گھنٹے کی تاخیر کے بعد جب ہم نے دوبارہ دریافت کیا تو حضر ت کمال بھولپن سے بولے ’’وہ تو میں بھول گیا تھا ‘‘ہمارے اعزازی پرسنل سٹاف آفیسر ارشد نے فوراََہمیں مشورہ دیا کہ ہم ان کے خلاف کالم لکھ دیں ۔ اسی طرح ایک دن ایم ندیم صاحب ہمارے قابو نہ آئے تو شہزاد صاحب جھٹ سے بولے آپ ان کے خلاف کالم لکھیں ۔ لیجئے کالم نہ ہوا ، پستول ہوگیا۔جہاں کام نہ ہوا ، وہیں کالم لکھنے کا مشور بن مانگے ہی آجاتا ہے ۔ ایک بار تو ہم نے چپکے سے سنا پاشاجی ویٹر کو ڈرا رہے تھے ’’میرا کھانا جلد از جلد لے آنا اور ہاں اس میں سلا د کی پلیٹ شامل ہو ورنہ ............‘‘ویٹر نے پوچھا ’’ورنہ کیا ‘‘ نہا یت رسان سے کہنے لگے ’ ’ورنہ شاہ جی سے آپ کے خلاف کا لم لکھوادیں گے ‘‘اور تو اور حضرت جان کی مخبوط الحواسیوں سے تنگ آکر ایک دن ڈاکٹر صداقت صاحب بھی ہم سے کہنے لگے ’’یہ حضرت جان بھی ایک پورے کالم کے مستحق ہیں ۔میں کہنا چاہتا تھا کہ آپ کی شگفتہ بیانیاں بھی ایک کتاب کی مستحق ہیں مگر میں سوچاکہہ دیا تو کہیں ڈاکٹر صاحب شو گر کا ایک با ر پھر Reviewہی نہ کرنے لگیں !
تو صاحبو !اس وقت ہمارے پاس اللہ کے ٖفضل سے کالم کے لئے بہت سے موضوعات میسر ہیں مثلاََتوصیف کی حد درجہ کنجوسی ، عثمان جوئیہ صاحب میں ’’شیخ‘‘ بننے کے آثار، ایم ندیم صاحب کی مثالی خریداریاں ، کنٹین کے جملہ عیب و نقائص ، حضرت جان کی مخبوط الحواسیاں ، را شد صاحب کی مردانہ کھرج دار آواز اور اس کا صوتی آلودگی میں کردار ، شہزاد صاحب کا عورتوں کی طرح رونا پیٹنا ، بلال حفیظ صاحب کی سمندری سائنس ، پاشا جی کے مہمان گروہ ، رانا صا حب کی توپ ، مس عاتکہ کی تیزیاں اور تند بیانیاں ، شفیق صاحب کی پس اندازیاں ، غرضیکہ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے ہر کوئی ہمارے براہ راست نشانے پر ہے اور ہر ایک کے بار ے میں دوسرے کی فرمائش بھی الحمداللہ موجود ہے ۔مشکل صرف ہمارے لئے ہے کہ ہم کیا کریں ، ہمار اکالم ، کالم نہیں رہا اس وقت حکیم لقمان کی پھکی بن چکاہے جس میں ہر ’’ شر پسند ی ‘‘کا علاج ڈھونڈا جا رہا ہے ۔
لہذاآج کل ہم یہ پریکٹس کر نے کی کوشش کررہے ہیں کہ آرڈر پر کالم کیسے لکھا جاتا ہے اور اگر آرڈر دینے والے کو پسند نہ آئے تو حسب منشاء تبدیلیاں کیسے کی جاتی ہیں ۔ ہمیں اس میں کوئی خاص دشواری بھی پیش نہیں آرہی کیونکہ ہمارے اخبارات میں بیشتر کالم پہلے کون سا اپنی مرضی سے لکھے جاتے ہیں ۔سر کا ر کی مدح سرائیوں سے لوگ اپنے محل سرا بنانے میں یدِ طولی رکھتے ہیں ۔ ویسے کالموں کی اثر پذیری کے حوالے سے استادِ محترم عطاء الحق قاسمی کا ایک سچا واقعہ یا د آرہا ہے ۔ یہ بہت عرصہ پہلے کی بات ہے جب قاسمی صاحب کا سرمایہ حیات ایک لمبریٹا سکوٹر ہوا کرتا تھا جسے کوئی ضرورت مند نوائے وقت کے دفتر کے باہر سے چراکر لے گیا ۔ اگلے دن قاسمی صاحب نے اس پر کالم لکھا اور چور سے گزارش کی یہ سکوٹر ہی ان کی کل پونجی تھا لہذا مہربانی کرکے وہ اسے واپس کر جائے ۔اس کالم لکھنے کے بعد بہت سے کالم نگاروں نے کالم لکھے اور چور سے قاسمی صاحب کی سفارش کی ۔ایک کالم سہیل ظفر نے بھی ’’مساوات ‘‘ میں لکھا ۔ چور صاحبِ دل تھا اتنے کالم پڑھ کر اس سے رہا نہ گیا اور وہ سکوٹر واپس چھوڑ گیا ۔اگلے دن قاسمی صاحب نے چور کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ چور صاحب پر دوسرے کالموں کا تو اثر نہیں ہوا لیکن جب اس نے سہیل ظفر کا کالم پڑھا تو اس نے سمجھا کہ یہ پارٹی کا حکم ہے لہذا واپس کرگیا ۔
راشد صاحب سے گزارش ہے کہ یہ واقعہ پڑھ کر اپنے موٹر سائیکل کے بارے میں یہ خطرہ مول نہ لیں ، آج کل کے چور صاحب دل نہیں ہوتے !صاحب دل ہوں بھی تو غرض کے پابند ہوتے ہیں پارٹی کے نہیں !
خیر آمدم بر سرِ مطلب کہنا ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہم آج کل اس مسئلے سے دوچار ہیں کہ کالم آزادی اظہار کی علامت سمجھیں یا مطلب بر آری کا ہتھیار ۔ توصیف کے خلاف لکھیں تو فوراََ بھائی کے عہدے سے استعفیٰ دے دیتا ہے ۔ مس عاتکہ کے بارے میں لکھیں تو فوراََجوابی گولہ باری پر تیا ر ہوجاتی ہیں، ان سے بھی ڈرنا پڑتا ہے، سچ سے گریز کرنا پڑتا ہے ، لیکن کچھ لوگوں کی کچھ ’’جھوٹ بیانیوں ‘‘ سے ہم بھی بہت تنگ ہیں ۔ مثلاََ رانا صاحب کی ’’توپ ‘‘ جہاں انہیں موقع ملے وہ کہتے ہیں ’’ بھائی جان ، تسیں توپ او‘‘ بہت کہا آپ کے اسلحہ خانے میں کوئی اور اسلحہ نہیں لیکن وہ رانا ہی کیا جو مان جائے !
ہم نے سوچاکہ جن سے ہم تنگ ہیں ان کے بارے میں تو ضرور لکھیں خواہ ان کی طرف سے جتنی مرضی توپیں چلیں !
یہ کالم27جنوری2005 کو شائع ہوا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *