کیا عوام کی پسند کوئی اہمیت رکھتی ہے؟

عارفہ نور

جب نواز کے بیان پر رد عمل کا سلسلہ رکا  تو الیکشن کے بارے میں پشین گوئیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ نجومیوں کو یقین ہے کہ اب ن لیگ نہیں جیت پائے گی کیونکہ ملٹری کسی صورت اپنے مخالف بیان دینے والی پارٹی کو اقتدار میں آنے نہیں دے گی۔ ایک سے زیادہ گرو نے کہا ہے کہ اب یہ پارٹی تقریبا ختم ہو چکی ہے۔ لوگوں کو اس کے بر عکس کوئی بھی چیز قابل قبول نہیں ہے۔  افسوس کی بات ہے کہ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی الیکشن پر سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والی پارٹی کوئی سیاسی پارٹی نہین بلکہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ ہے۔ اگر باخبر ذرائع کی بات امان لی جائے یہ کہا جا سکتا ہے کہ پنڈی والون کی مرضی سے ہی پاکستان میں کوئی سیاسی پارٹی حکومت بنا سکتی ہے۔ اسی لیے 2008 میں چوہدری شجاعت نے بتایا کہ کاونٹنگ شروع ہونے سے قبل ہی مشرف نے پوچھ لیا تھا کہ کتنی سیٹیں ق  لیگ نے جیتی ہیں۔ عمران خان نے حال ہی میں 2013 الیکشن میں دھاندلی کا الزام جنرل کیانی اور اسٹیبلشمنٹ پر لگا دیا۔ کیا ملٹری سنگل پوائنٹ ایجنڈا پر الیکشن کا پانسا پلٹ سکتی ہے؟ کیا ایک ادارہ چاہے وہ جتنا بھی مضبوط ہو پورے الیکشن کو بدل کر رکھ سکتا ہے؟ اصغر خان کیس اور 90 کی دہائی کے الیکشن کے نتائج سے تو یہی لگتا ہے۔ لیکن اب پاکستانی سیاست میں بہت تبدیلیاں آ چکی ہیں  اور اسٹیبلشمنٹ کی الیکشن پر حاوی ہونے کی صلاحیت بھی بدل چکی ہے۔ اس کی بہترین مثال 2002 کے الیکشن ہیں۔ چونکہ تب فوج حکومت پر قابض تھی اس لیے قانونی طور پر دھاندلی کرنا آسان تھا ۔ ماہرین کے مطابق  دھاندلی کا زیادہ تر حصہ الیکشن سے قبل مکمل کر لیا جاتا ہے۔ 2002 میں بھی یہی ہوا۔ پی پی اور ن لیگ کے رہنماوں کو پارٹی کی قیادت سے روکے رکھا گیا  اور انہیں ملک سے باہر رہنے پر مجبور کیا گیا ۔ تعلیم یافتہ لیڈرز کے نام سے گریجویشن کلاز آئین میں شامل کیا گیا  اور بہت سے ن لیگی رہنماوں کو مجبور کر کے ق لیگ میں شامل کیا گیا تا کہ ق لیگ کو دو تہائی اکثریت دلوائی جا سکے۔ 2002 کا یہ سب سے بڑا الیکشن ڈرامہ ہمارے ملک کی سیاسی تاریخ کا مستقل  حصہ بن چکا ہے ۔  2002 کے الیکشن سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کس طرح سیاسی انجئینرنگ میں حصہ لیتی اور الیکشن پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اگر دوسرے زاویے سے دیکھیں تو بھی گلاس آدھا بھرا ہوا ہی نظر آتا ہے۔ اگرچہ مشرف اور فوج نے اپنا پورا زور لگایا لیکن وہ ق لیگ کو واضح اکثریت نہ دلا سکے۔ اس پارٹی کو سب سے زیادہ سیٹیں تو ملی لیکن اکثریت حاصل نہ کر سکی۔ ق لیگ کو 118 جب کہ پیپلز پارٹی کو 81 سیٹیں ملیں۔ پھر 10 پی پی امیدواروں کو پی پی پیٹریٹ کے نام سے فاورورڈ بلاک بنانے پر مجبور کیا گیا  تا کہ  ایم کیو ایم کی مدد سے  ق لیگ کو حکومت بنانے کے قابل بنایا جا سکے۔ اس سب کے باوجود وزاررت عظمی کے امیدوار کو ایک ووٹ کی کمی کا سامنا کرنا پڑا ۔ پھر اعظم طارق کو جیل سے رہا کروا کر  ووٹ دلوایا گیا اور جمالی وزیر اعظم بننے میں کامیاب ہوئے۔ اس کے بدلے اعظم طارق نے بہت سے سپاہ صحابہ کے گرفتار افراد کو رہا کروایا۔ ابھی کچھ سال پہلے ہونے والے اس واقعہ کےبعد بھی لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ الیکشن کے پس پردہ اسٹیبلمشنٹ ملوث ہے اور وہ جیسے چاہے گی الیکشن کے نتائج حاصل کر لے گی ۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا رہا ہے کہ ن لیگ کی شکست پکی ہے کیونکہ  بڑے میاں صاحب خلائی مخلوق کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور اس طرح پنجاب کے ووٹر اپنی اہمیت کھو چکے ہیں۔ یہ کہنا غلط ہو گا کہ آرمی ایک مضبوط ادارہ نہیں ہے یا یہ سیاست میں مداخلت نہیں کرتی  لیکن اس کے سیاسی کردار سے الیکشن کا مکمل نتیجہ نہیں بدل جاتا۔ سیاستدان، امیدوار اور ووٹر سب اپنے طور پر الیکشن پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو 2002 کے الیکشن میں پی پی دوسرے نمبر پر کبھی نہ آتی  کیونکہ الیکشن پر اثر انداز ہونے کی مشرف کی کوششوں نے پی پی کو نہیں بخشا تھا۔ اگر 2002 میں متحدہ مجلس عمل  کے پی کے میں جیتی تو اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ
اس وقت امریکہ جنگ کی وجہ سے علاقہ کے لوگوں کے امریکہ کے مخالف جذبات تھے جس کا فائدہ مذہبی جماعتوں نے اٹھایا۔ موجودہ الیکشن میں بھی ووٹر اپنا کردار ضرور ادا کریں گے۔  خلائی مخلوق کی مداخلت کے علاوہ عوام انفلیشن، بجلی ، ترقیاتی پروگرام ، ذرعی  صورتحال، پانامہ ایشو  اور کرپشن جیسے معاملات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ووٹ دیں گے۔ الیکٹیبلز بھی حسب عادت اپنا کردار ادا کریں گے۔  نتیجہ جو بھی ہو الیکشن پوسٹ مارٹم کسی ایک ادارے کو کریڈٹ یا الزام نہ دیا جائے۔  ایسا کرنا پاکستانی عوام کے ساتھ نا انصافی ہی نہیں بلکہ ملٹری کو حد سے زیادہ کریڈٹ دینے کا بھی باعث بنتا ہے۔ اس سے یہ تاثر پھیلتا ہے کہ ناقابل تسخیر اسٹیبلشمنٹ ہی الیکشن کے نتائج تیار کرتی ہے ، پارٹیوں کو آگے کرتی ہے اور عوام سیاستدانوں کی بجائے پنڈی کی طرف اپنی نظریں پھیر لیتے ہیں اورا پھر ہوا کا رخ دیکھ کر ووٹ دینے لگتے ہیں۔ اور اس کا حتمی نتیجہ ان کی اپنی جاہلیت ثابت کرنے کی صورت میں نکلتا ہے

source : https://www.dawn.com/news/1409233/peoples-right-to-choose

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *