پاک سیاسی کلچر اور انسانی تاریخ

اچھا اگر آپ غور کریں تو آپ کو پاکستان کے سیاسی کلچر میں ایک خاص ترتیب نظر آے گی۔ پاکستان بنا تو نوزائیدہ مملکت کو چلانے کے لیے سیاستدانوں نے بوجہ سول بیوروکریسی کی مدد حاصل کی۔ جسے سمجھنا مشکل نہیں۔ چناچہ ملک غلام محمد اور اسکندر مرزا جیسے سول بیروکریٹس کاروبار حکومت میں شامل ھو گئے۔ پچاس کی دھائ میں جنرل ایوب خان کی شکل میں خاکی بیوروکریسی کا تیسرا عنصر اس سیاسی کلچر میں داخل ھوا۔ اور سیاسی اشرافیہ کو زمینداری اشرافیہ میں تبدیل کر دیا گیا۔ پچاس کی دھائ میں وزیراعظم محمد علی بوگرا ، گورنر جنرل ملک غلام محمد ، صدر اسکندر مرزا اور صدر ایوب خان تمام سول و خاکی بیوروکریسی کے نمائندے تھے۔ جنہوں نے پاکستان پر عدلیہ اور اشرافیہ کی مدد سے اپنا اقتدار اور اختیار مسلط کر دیا۔ انہوں نے امریکہ کے ساتھ دفاعی معاہدے کیے اور کولڈ وار کا حصہ بن گئے۔ اور سیاسی سرگرمیوں کو کنٹرول کیا۔ اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی بنیاد رکھی۔ ستر کی دھائ میں بھٹو کی شکل میں لبرل اور اشتراکی عناصر کو سیاست میں اھم مقام حاصل ھوا۔ اسی کی دھائ میں ملا اور صنعتکار اس سیاسی کلچر کا حصہ بن گئے۔ اور نئ صدی کے آغاز پر ایک کھلاڑی نے اپنی اننگ کا آغاز کیا۔ اور میڈیا بھی اس کلچر میں شامل ھو گیا۔ گویا پاک سیاسی کلچر میں اس وقت سول و خاکی بیوروکریسی ، زمینداری اشرافیہ ، ملا ، عدلیہ ، میڈیا ، صنعتکار اور کھلاڑی اھم کردار ادا کر رھے ھیں۔
کبھی آپ نے سوچا۔ ان سب میں فرق کیا ھے۔ اور کس طرح ایک معاشرہ ترقی کی جانب سفر کرتا ھے۔ چلیں اس فرق کو سمجھنے کی کوشش کرتے ھیں۔
فوجی آمریت لوگوں کو ایک خاص مائنڈ سیٹ میں رکھنا چاھتی ھے۔ تاکہ ان کا کنٹرول قائم رھے۔ پاکستان کا ایک مخمصہ یہی آمریت ھے۔ جس نے لوگوں کو اپنے ترتیب دیے مائنڈ سیٹ میں مقید کر رکھا ھے۔ اور دولے شاہ کے چوھے پیدا کر رھا ھے۔ یہی معاملہ سول بیوروکریسی کے ساتھ ھے۔ جبکہ عدلیہ مفعول اور فائل دونوں کا کردار ادا کر رھی ھے۔ اور میڈیا مکمل کنفیوژن کا شکار ھے۔ اور طے نہیں کر پا رھا۔ وہ اقتدار کے ساتھ ھے یا عوام کے ساتھ۔
وڈیرا اور سردار اپنے مزارعوں اور ھاریوں کو ان پڑھ اور مفلوک الحال رکھنا چاھتا ھے۔ تاکہ اس کی سرداری اور اس کا جبر چلتا رھے۔ پاکستان کی پچھتر فیصد دیہی آبادی کا یہی المیہ ھے۔
پیر اور ملا اپنے پیروکاروں کو ذھنی اور مذھبی اور مالی طور پر اپاھج رکھنا چاھتا ھے۔ تاکہ اس کے ھدیے اور نذرانے چلتے رھیں۔ اور اس کے دربار آباد رھیں۔ اس کا کاروبار چلتا رھے۔ پاکستان کی اکثریت کا یہ مزھبی استحصال صدیوں سے جاری ھے۔
لیکن ایک صنعت کار کا معاملہ دوسرا ھے۔ وہ معاشرے میں تعلیم چاھتا ھے۔ تاکہ اسے اپنے کارخانوں کے لیے ھنر مند لوگ ملتے رھیں۔ لوگوں کی قوت خرید پر فوکس کرتا ھے تاکہ تجارت چلتی رھے۔ سڑکیں بناتا ھے۔ تاکہ اس کے مال کی ترسیل آسان ھو۔ بینکنگ سسٹم ، صحت اور ھاوسنگ پر توجہ دیتا ھے۔ آئ ٹی اور اکاؤنٹینسی جیسے شعبوں کو فروغ دیتا ھے۔ اور معاشرے کی مجموعی طور پر اپ لفٹ چاھتا ھے۔ یہ اپ لفٹ اور جمہوری شعور اور اپنے حقوق سے آگاہی ایک ایسا سوشل کنٹریکٹ وجود میں لاتی ھے۔ جس میں قانون اور آئین کی فرمانروائی ھوتی ھے۔ تاجر اور صنعتکار اور سرمایہ دار معاشرتی ابتری اور سیاسی عدم استحکام برداشت نہیں کرتا۔ کیونکہ اس کا کاروبار ختم ھوتا ھے۔ یورپ نے معاشی اور جمہوری ترقی اور فلاحی ریاست کا تصور اس جدید سوچ پر استوار کیا۔
دوسری جانب فوجی آمریت ، جاگیرداری ، سرداری ، پیری فقیری اور ملا کی خواہش اور ضرورت اور کوشش یہی ھے۔ کہ معاشرہ ترقی نہ کرے۔ ذہنی ، مذھبی ، مالی اور معاشی اور سماجی و معاشرتی طور پر غربت ، مفلوک الحالی ، معزوریت اور محتاجی اور تقسیم اور ابتری اور طوائفالملوکی اور عدم استحکام کا شکار رھے۔ تاکہ ان استحصالی قوتوں کا دال دلیہ اور کنٹرول اور اقتدار چلتا رھے۔ پاکستان میں ستر سالوں سے ملٹری ، ملا اور اشرافیہ کا روائتی گٹھ جوڑ اسی مسلسل استحصال کی وجہ سے ھے۔ جو سیاستدان اس اتحاد کو چیلنج کرتا ھے اسے عبرت کی مثال بنا دیا جاتا ھے۔ ملٹری اور ملا اور اشرافیہ کے اس ظالمانہ اتحاد کو سمجھنا ضروری ھے۔ یہ اتحاد کسی کٹھ پتلی کے سر پر ھاتھ رکھ دیتا ھے۔ اور اشرافیہ کے مہرے اس جانب مراجعت شروع کر دیتے ھیں۔ آج کل ایک ایسی ھی ھجرت جاری ھے۔ اور کھلاڑی کی باری تیار کی جا رھی ھے۔
انسانی تہذیب کے سفر میں زرعی معاشرہ دس ھزار سال تک جاری رھا۔ اور بادشاہ اور جاگیردار اور ملا اور پادری انسان کو غیر ترقی یافتہ رکھنے میں لگے رھے۔ کھبی ارسطو کو زھر پینے پر مجبور کیا گیا۔ تو کبھی گلیلیو کی مٹی خراب کی گئ ۔ اور کبھی وچ ھنٹنگ کی گئ۔ اور کبھی مسلسل جنگیں لڑی گئیں۔ اور ماوں کے کڑیل بیٹے مرواے گئے۔ بادشاہ اور پادری کمتر انسانوں کو بتاتے رھے۔ ان پر حکومت کرنا ان بادشاہوں اور پادریوں کا آسمانی حق ھے۔ یعنی مزھبی حق ھے۔ اور ان کمتر لوگوں کی زمینی بخشش اور آسمانی نجات اسی میں ھے۔ کہ وہ اس آسمانی حق کو تسلیم کریں۔ اور ان کے سامنے جھولی اور ھاتھ پھیلا کر کھڑے رھیں۔ اپنے بادشاہوں اور ملاوں کو مائ باپ کہنے کی روایت اور تاریخ اسی وجہ سے ھے۔ کہ انہیں محتاج رکھا گیا۔ آج بھی پاکستان میں درباروں پر اکھٹے ھونے والے پیسوں کی مسلسل گنتی چلتی ھے۔ ظلم یہ ھے کہ یہ نذرانے ان عسرت زدوں اور غربت کے ماروں سے لیے جاتے ہیں۔ جن کے پاس پہلے سے کھانے کو روٹی نہیں۔ اسی طرح شہر در شہر ڈیفینس کالونیاں بنتی جا رھی ھیں جن میں آج کے بادشاہ لوگ رھتے ھیں۔
یورپ والوں نے دس ھزار سال پرانے اس ذرعی کلچر کو پندرہویں اور سولہویں صدیوں میں چیلنج کیا۔ سائنس اور صنعتی ترقی حاصل کی۔ اور صدیوں سے جاری ایک سوے ھوے زرعی معاشرے کو صنعتی معاشرے میں تبدیل کر دیا۔ اور اسے ایک ترقی یافتہ ، تعلیم یافتہ اور فلاحی معاشرے کی شکل دے دی۔ یورپ کا صنعتی انقلاب 1837 میں مکمل ھو گیا۔ کارل مارکس نے 1848 میں اپنے کمیونسٹ مینیفیسٹو سے جب اس طبقاتی سرمایہ دار معاشرے کو چیلنج کیا۔ تو اھل یورپ نے ایک قدم آگے بڑھ کر جمہوریت اور قانون اور آئین کی بالادستی قائم کر دی۔ یہ وہ سوشل کنٹریکٹ تھا۔ جس کا آغاز پندرہویں صدی میں نشاتہ ثانیہ سے ھوا اور جسے ھم اج ترقی یافتہ دنیا کہتے ہیں۔ ایک وقت تھا جب اھل یورپ کو بادشاہ اور پادری حب الوطنی اور مزھب کے نام پر صدیوں تک لڑواتے رھے۔ اور آج یہی یورپ ایک ملک بن چکا ھے۔
اور اس طرف ھم آج بھی اسی بادشاہ اسی ملا اور اسی اشرافیہ کی تگڑم کا شکار بنے ھوے ھیں۔ ھمیں مزھب اور حب الوطنی کے نام پر لڑوایا جا رھا ھے۔ ھمیں جان بوجھ کر غریب اور ذھنی طور پر مفلوج اور مالی طور پر محتاج رکھا جا رھا ھے۔ تاکہ یہ تگڑم ھم پر حکومت کرتی رھے۔ جو انہیں چیلنج کرتا ھے۔ اسے یہ کافر اور غدار قرار دے دیتے ھیں۔ یا ختم کر دیتے ہیں۔ اور اشرافیہ دوسری جانب مراجعت شروع کر دیتی ھے۔ جہاں ملٹری اور ملا اور اشرافیہ کا ایک نیا کٹھ پتلی سر پر ھما سجاے ان کی نوکری کرنے کو تیار بیٹھا ھوتا ھے۔ کیونکہ پچھلے والے نے یہ نوکری کرنے سے انکار کر دیا ھوتا ھے۔ لیکن سوال یہ ھے۔ ھم کب تک انسانی تہذیب کے تاریخی سفر اور اس کے جمہوری و معاشی فوائد سے الگ رہ پائیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *