ایک امریکی شہری کا سبیکا شیخ کو خط

مائیکل کوگل مین

پیاری سبیکا

سانٹا فی سکول میں فائرنگ کے واقعہ کو بہت دن گزر چکے ہیں جہاں آپ نے ایک پاکستانی طالبہ کی حیثیت سے 17 سال کی عمر میں 10 شہدا میں شامل ہونے کا اعزاز حاصل کیا ۔ اس وقت سے میں نے آپ کے بارے میں بہت کچھ معلوم کیا ہے  جس کا ذریعہ میڈیا رپورٹس اور فیملی اور فرینڈز تھے۔ آپ بہت سی خوبیوں کی مالک تھیں لیکن آپ کی سب سے بڑی خوبی امید پر قائم رہنا تھی۔ آج کی مشکل دنیا میں جہاں ہر روز تکلیف دہ واقعات رونما ہوتے ہیں  ان سب خطرات اور مسائل کے باوجود آپ بہتری کی امید رکھنے والی لڑکی تھی۔ نارتھ کیرولینا میں ایک یونیورسٹی میں تقریر کرتے ہوئے آپ کا کہنا تھا کہ آپ ہر روز دعا کرتی تھی کہ اگلی صبح امن کی دنیا مین اٹھو۔ ایک ایسے وقت میں جب امریکہ کا امیج دنیا بھر میں خراب ہو رہا ہے آپ نے امریکہ کے اندر مثبت چیزیں دیکھنے کا دعوی کیا۔ آپ کے والد کا کہنا تھا کہ آ پ امریکہ آنے سے پہلے امریکہ کی تاریخ پڑھتی رہی ہو تا کہ آپ کو ہم لوگوں کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات مل سکیں۔  آپ یقین رکھتی تھی کہ  امریکہ میں تعلیم کے مواقع اور ماحول سب سے زیادہ بہترین ہے۔ آپ ایک ڈپلومیٹ کی حیثیت سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بہتری لانا چاہتی تھی۔ آپ کا تعلق کراچی سے تھا جہاں اب دہشت گردی اور شدت پسندی پہلے جیسی نہیں رہی۔ آپ پاکستان کے دہشت زدہ علاقوں سے کہیں دور رہتی تھیں۔ لیکن اس کے باوجود آپ نے دیکھا کہ ملک میں شدت پسندی بہت پھیل چکی ہے
اور اس سے نجات کے لیے آپ امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کی خواہش رکھتی تھیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کس قدر تیزی سے بلوغت کی عمر کو پہنچ چکی تھی۔ تشدد، شدت پسندی، عدم برداشت کے کلچر میں رہتے ہوئے بھی آپ نے آپ کو اس کلچر کا نشانہ بننے سے محفوظ رکھا اور امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا  اور مرتے دم تک اچھے وقت ارو حالات کے لیے کوشش کی۔  کتنے افسوس کی بات ہے کہ جس ملک کی آپ تعریف کرتی تھی اور جس پر آپ کی امیدیں ٹکی ہوئی تھیں اسی ملک نے نہ صرف آپ کو مایوس کیا بلکہ آپ کی جان بھی لے لی۔ اب آپ ایک اور امریکی گن کلچر کی مظلوم بن چکی ہو جس کی وجہ سے اس ملک کے بہت سے لوگ زندگیاں قربان کر چکے ہیں۔ آٹھ سال قبل نیوز ویک نے پاکستان کو دنیا کا سب سے خطرناک ترین ملک قرار دیا تھا ۔ آج بھی بہت سے امریکن جو ڈینئیل پرل کی ہلاکت اور اسامہ کی موجودگی کی وجہ سے پاکستان کو  جانتے ہیں وہ اسے سب سے خطرناک ملک قرار دیتے ہیں۔ اور پھر آپ ایک پاکستانی کی حیثیت سے یہاں آئی اور ایک سکول میں امریکی دہشت گردوں نے امریکہ میں ہی آپ کو مار ڈالا۔ ایسا لگتا ہے کہ جس لینز سے امریکہ پاکستان کو دیکھتا ہے و ہ انورٹ ہو گیا ہے  اور اس سے امریکہ کا اپنا گھناونا چہرہ سامنے آ گیا ہے  لیکن کچھ لوگ ابھی تک اس حقیقت کو تسلیم کرنا نہیں چاہتے۔ امریکہ کا یہ گھناونا چہرہ بلکل حقیقی نہیں ہے۔ اس کی وجہ سے امریکہ کی اچھی سمت اور بھی زیادہ خوبصورت لگنے لگی ہے۔ آپ کے والد کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ آپ کی موت انہیں گن کے قوانین پر نظر ثانی کے لیے آمادہ کرے گی۔ لیکن ابھی تک ایسا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ درجنوں سکول شوٹنگ کےواقعات کے باجود ابھی تک بندوق کی ملکیت کے قوانین پر کوئی نظر ثانی نہیں کی گئی ہے۔
یہاں تک کہ گن کنٹرول کے لیے چلائی جانے والی شاندار تحریک جو امریکی تاریخ کا سنہرا باب ہے وہ بھی ان قوانین پر نظر ثانی پر آمادہ نہیں کر پائی ہے۔ . سانٹا فی سکول میں ہونے والے واقعہ کے بعد ہم بہت کچھ دیکھ چکے ہیں سیاستدان ویڈیو گیمز، مذہب سے دوری، ڈرگز کا استعمال  اور یہاں تک کہ سکولوں کے دروازے کم ہونے کو بھی اس واقعہ کا ذمہ دار قرار دے رہےہیں لیکن ایک چیز ان کو نظر نہیں آ رہی  وہ ہے گن۔ حقیقت یہ ہے کہ اب بھی کوئی مثبت چیز نظر نہیں آ رہی۔ لیکن کوشش جاری رہنی چاہے کیونکہ امید کا دامن کبھی بھی چھوڑنا ایک اچھا قدم نہیں ہوتا۔ ایک بات یہ ہے کہ تم نے اس قدر کم عمر میں ایک ڈپلومیٹ ہونے کا اعزااز حاصل کر لیا آپ کی پہلی اوورسیز پوسٹنگ ٹیکساس میں ہوئی تھی جہاں آپ نے کلچرل ایمبیسیڈر کا کردار ادا کیا ۔ کتنی افسوسناک بات ہے کہ آپ نے پاکستان اور امریکہ کو غم کی صورت میں یکجا کیا۔  ایک اور مثبت چیز یہ ہے کہ آپ نے ہمیں ایک احساس دلایا ہے کہ نوجوان پاکستان کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں 2 تہائی آبادی کی عمر 30 سال سے کم ہو، اور جہان میڈین ایج صرف 23 سال ہو، وہاں کتنی زیادہ سبیکا ہوں گی جو نوجوان، سمارٹ ، اور پر امید ہوں گی جن کا مقصد پاکستان اور دنیا بھر کو ایک بہتر جگہ بنانا ہو گا۔
ہم امید رکھتے ہیں کہ ہمیں آپ جیسی پاکستان کی دوسری بہت سی معصوم لڑکیاں یہاں آ کر عزت افزائی سے نوازیں گی  اور انہیں اس طرح کے دردناک واقعہ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا بلکہ وہ ایک کامیاب اور امید سے بھر پور زندگی کے لیے کوشش کر پائیں گی۔ میں ہر لمحہ یہی سوچتا ہون کہ آپ ہی ان لڑکیوں کے لیے امید کا ایک گہوارہ بن کر اپنا کردار ادا کرو گی

source : https://www.dawn.com/news/1409277/an-americans-letter-to-sabika-sheikh

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *