بشریٰ عمران اور ناصر کھوسہ کے نام کی واپسی !

!
یہ بات تو پی ٹی آئی کی ساری قیادت کہہ چکی ہے اصل میں ناصر کھوسہ کا نام بطور نگران وزیراعلیٰ پنجاب مکمل مشاورت کے بعد فائنل کیا گیا تھا لیکن پھر اعلیٰ قیادت سے یہ حکم آیا کہ جب نواز شریف نے کھوسہ صاحب کے نام پر اطمینان ظاہر کر دیا تو سوشل میڈیا پر اسکا بہت ردعمل ہوا ۔ تب عمران خان کی طرف سے بھی باقاعدہ نام واپس لینے کا حکم آ گیا۔کل شام تک مختلف چینلز پر اپنے پرائے سب اس فیصلے کا دفاع کرنے میں بے بس نظر آئے ۔ کسی کو بھی اصل بات معلوم نہیں ہو رہی تھی یا اس کے اظہار کی جرأت نہیں ہو رہی تھی۔ پھر پی ٹی آئی کے ایک ایسے رہنما نے خاموشی توڑی جو پی پی سے تحریک انصاف میں شامل ہو ئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ محترمہ بشریٰ بی بی نے روحانی طور پر اپنی رائے دی ہے کہ ایسا کرنا ان کی خیال میں درست نہیں ہو گا۔ جس کی ایک وجہ انھوں نے یہ بیان کی’ چونکہ ’ ناصر‘‘ بھی ’ن ‘ شروع ہوتا ہے ، نواز شریف بھی ’ن ‘ سے اور نجم سیٹھی بھی ’ن ‘ سے شرو ع ہو تا ہے، اس لیے یہ نام کسی طرح بھی نیک شگون والا نہیں ۔ (یاد رہے یہ ساری رپورٹنگ روایت بالمعنیٰ کے اصول پر ہوئی ہے لہٰذا لفظ شگون پر ہمارے اوپر لٹھ لے کر چڑھ دوڑنے کی ضرورت نہیں)  ایک دوسری روایت یہ بھی ہے کہ بی بی صاحبہ خان صاحب اور ناصر کھوسہ کے نام کی  جنم پتری نکالی اور کہا کہ عمران کا نام جہاں ختم ہوتا ہے  یعنی {ن } سے وہیں سے ناصر کھوسہ کا نام شروع ہو تا ہے۔اور یہ بھی مناسب نہیں ہے۔  یوں عمران خان نے ان کی بات مان لی ۔ ان کے پاس اس کے سوا چارہ بھی کوئی نہیں تھا۔
یہ بات تو اب کوئی چھپا ہوا راز نہیں رہا عمران خان کی حالیہ شادی کن حالات میں ہوئی ۔ انھوں نے ایک بشارت کے نتیجے میں یہ شادی کی ہے اور یہ بشارت ان کو نہیں بلکہ ان کے لیے محترمہ بشریٰ صاحبہ کو دی گئی تھی۔ اس لیے وہ روحانی طور اپنی بیگم کے کسی ایسے مشورے کو رد نہیں کر سکتے۔ اور اس خبر کی تردید صرف اس وقت ہی ممکن ہے جب خود عمران خان یا ان کی بیگم صاحبہ اس کی تردید نہیں کرتیں ۔ ا س سے پہلے جب دونوں کی شادی کی خبریں گرم تھیں تو ہم جیسوں نے اس کی خبر قدرے پہلے دے دی تھی اور پی ٹی آئی کے لوگ شور مچانے لگے تھے۔ بعد میں اپنے احتجاج پر بدمزہ ہوئے ۔ اب بھی ان سے گزارش ہے کہ اس خبر کو غلط قرار دینے کا ایک ہی طریقہ ہے وہ یہ کہ عمران خاں صاحب اس کی خود تردید کر دیں کہ انھیں ان کی بیگم صاحبہ نے ایسا کوئی مشورہ نہیں دیا۔ یہ نہ ہو کہ واقعی بشریٰ بیگم کا حساب کتاب درست ثابت ہو اور ان کی بات کو وزن نہ دینے والے بھسم ہو جائیں ۔ رہے ہم ، تو ایسی باتیں ماننے کی ہم سے اہلیت ہی سلب کر گئی ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *