رمضان اور ہماری اخلاقیات

رمضان کا انتظار چاند نظر آنے سے پہلے ہی شروع ہو جاتا ہے اور سب اس ماہِ مبارک کی برکتوں اور سعادتوں سے فیض یاب ہونے کے لیے روزے بھی رکھتے ہیں اور عبادتیں بھی کرتے ہیں لیکن ماہِ رمضان سے فیض یاب ہونے کے ساتھ ساتھ فیض پہنچانا بھی سب سے بڑی اور اہم ذمہ داری ہے لیکن ہم اس ذمہ داری کی طرف توجہ یا تو بہت کم دیتے ہیں یا بالکل نہیں دیتے ، ہم اپنے بارے میں سوچتے ہیں کہ رب ہم سے راضی ہو جائے تا کہ ہمارے مستقبل کے معاملات سیدھے ہوں رب ہم سے راضی ہو جائے کہ ہماری آخرت سنور جائے رب ہم سے راضی ہو جائے گا جب ہم اس کی مخلوق کو خوش اور راضی کرنا سیکھ لیں گے رمضان کے آتے ہی پاکستان میں تو مہنگائی کا طوفان بھی ساتھ آ جاتا ہے اور لوگ عید کا خرچ نکالنے کے نام پر ہر بری سے بری چیز بھی کئی گنا زیادہ ریٹ پر دیتے ہوئے خود کو ہر ذمہ داری اور احتساب سے آزاد کر رہے ہوتے ہیں لیکن غیر مسلم ممالک میں ایسا نہیں ہوتا کیونکہ ان کا سسٹم بالکل مختلف ہے، سو میں مہنگائی سے زیادہ مسلمانوں کے اخلاقی رویوں پہ بات کرنا چاہوں گی، روزے کا مطلب صرف بھوک اور پیاس تو نہیں روزہ اگر بھوک اور پیاس کا مطلب ہوتا تو کتنے فاقہ کش اس ایک ماہ کے علاوہ بھی روزے سے ہوتے دکھائی دیں، روزے کا مطلب تو اس بھوک اور پیاس کا احساس ہے جو ہمیں روزے رکھ کر بھی نہیں ہوتا اور شاید کبھی ہو بھی سکے گا یا نہیں، اس بھوک کا احساس ہے کہ جب ہم سیر ہو کر سوتے ہیں اور ہمارا ہمسایہ بھوکا سویا ہو تو اسے کس تکلیف سے گزرنا پڑتا ہو گا لیکن دورانِ روزہ کوئی کبھی یہ بات ہرگز نہیں سوچتا وہ صرف یہ سوچتا ہے کہ مجھے کتنا روزہ تنگ کر رہا ہے وہ یہ نہیں سوچتا کہ بھوک اسے کتنا تنگ کرتی ہو گی جو ہماری مدد کی عدم دستیابی کی وجہ سے شاید روزانہ بھوکا سوتا ہو، ہم اس بات کا احساس بھی نہیں رکھتے کہ یہ روزہ اللہ کی رضا کے لیے ہے اور سب کچھ ہمارے سامنے موجود ہونے کے باوجود بھی ہم کھا پی نہیں رہے تو یہ اس رب کی رضا کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا مالک ہے روزہ رکھ کر ایسا کون سا شخص ہے جو رویا ہو جس نے اس بات کو جان لیا ہو جس کی وجہ سے ہمیں روزہ رکھنے کی ہدایت کی گئی، روزہ رکھ کر عام طور پر سب اپنی اپنی عبادتوں میں مصروف ہو جاتے ہیں اور یہی نیت رکھتے ہیں کہ اس رمضان قرآن مجید کے اتنے ختم کر لوں اتنی نوافل ادا کر لوں اتنی عبادت کرلوں لیکن یہ کس نے سوچا کہ اس رمضان میں اتنے غریبوں کو کھانا کھلاؤں اس رمضان میں اتنے بے سروسامانی کی حالت میں زندگی کاٹتے لوگوں کو لباس مہیا کروں اور یہ کس نے سوچا کہ اس رمضان میں اُن لوگوں کے ساتھ کھانا کھاؤں جو روزوں کے علاوہ بھی فاقوں میں رہتے ہوں لیکن افسوس کہ ہم رمضان کو احساس کا مہینہ کم اور عبادت کا مہینہ زیادہ سمجھتے ہیں اس رمضان میں بتاتی ہوں کہ ہمیں کیا تبدیلی لانی چاہیے؟ اس مہینے کیا آپ ان روٹھے ہوؤں کو منانے کی کوشش کریں گے جو آپ کے اپنے ہوں ؟ جنہوں نے آپ کے لیے کبھی ذرا بھی اچھا سوچا ہو وہ آپ کا اپنا ہوتا ہے اور مرے خیال میں ہم کتنے ہی اپنوں کو اپنی ضد انا اور غلط فہمیوں کی بنیاد پر دور کر دیتے ہیں، کیا اس ماہِ رمضان میں ہم بجائے مہنگی شاپنگ کرنے کے ان لوگوں کے لیے کپڑے خریدیں گے جو سال میں صرف ایک دو بار ہی شاید نئے کپڑے پہن پاتے ہوں، کیا اس مہینے ہم اپنی افطار پارٹیوں اور مہنگے ہوٹلوں میں جا کر افطار کرنے کی بجائے اس سادگی کو اپنائیں گے جو ہمیں حضرت محمد ص نے درس دیا وہ صرف دو کھجور اور دودھ سے روزہ رکھتے اور افطار کرتے تھے اور ہم ہر سحر و افطار پہ کتنا کھانا ضائع کرتے ہیں، کیا ہم اس رمضان احساس کو جگائیں گے؟ کیا ہم اپنے اندر کے ضمیر سے پوچھیں گے کہ صرف اس مہینے میں ہی کیوں ہمیں رب یاد آتا ہے ہم باقی گیارہ مہینے کس دنیاوی خمار میں رہتے ہیں کیا ہم اس ماہ میں ان تمام مہینوں کی تلافی کریں گے جو ہم نے یونہی گزار دیے، کیا ہم خود میں بھی جھانک کر دیکھیں گے کہ ہم کیا کرتے ہیں اور دوسرے کیا کرتے ہیں، کیا خبر دوسروں کو ہمیشہ غلط کہتے کہتے ہم خود ہی غلط راہ پر تو نہیں اس رمضان میں ہم اپنے رب کو یاد کریں لیکن اپنے رب کی مخلوق کے ساتھ بھی فلاح اور بہتری کرنے کی کوشش کریں ورنہ یہ مبارک مہینہ بھی اب فیشن بنتا جا رہا ہے اور خدا نہ کرے دوسری امتوں کے مذہبی تہواروں کی طرح یہ بھی ایک تہوار نہ بن کر رہ جائے، اس مہینے میں رو رو کر صرف رب کو نہیں منانا وہ رب تو سب جانتا ہے دل کی بات جانتا ہے لیکن وہ جو دل کی باتیں نہیں جانتے اس دفعہ ان کو منا کر دیکھیں ان کو کھلا کر دیکھیں ان کو خوش کر کے دیکھیں جو ہماری ذمہ داری ہیں تو کیا خبر ہمیں رونے کی ضرورت ہی نہ پڑے اور رب مان جائے اور اس سے بہتر کوئی شے نہیں ہو گی ، ہم دوسروں کی خوشیاں قربان کر کے اپنے لیے راستے ہموار تو کرتے ہیں لیکن ہمارا ذہنی سکون تباہ ہو جاتا ہے اور پھر ہم رب کو بھی منانے میں ناکام رہتے ہیں ، ہم اس رب کی مخلوق کو منا لیں تو رب خود ہی مان جائے کہ یہ دنیا اور جہان اس رب نے اپنی مخلوق کے لیے ہی تو بنایا اور اس امتحان میں ہمارے لیے یہ ماہ ہی سب سے بڑا موقع ہے کہ ہم اپنے آپ سے نظریں ہٹا کر اوروں پر نظریں ڈالیں کہ رب ہم پہ نظرِ کرم کرتا رہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *