خواب تھا ، جو کچھ کہ دیکھا !

موسم گرما کی ایک سجری سویر کو قمر شریف کی آنکھ اچانک کھلی تو ایک انجانی سی گھبراہٹ کے مارے اس کا سرد پسینہ پھوٹ بہا تھا ۔ اس کی عمر اڑتیس سال تھی ۔ لمبا قد ، مضبوط جسم اور دھوپ سے کسی قدر ماند رنگت ، اکثر کمزور نظر کے لوگ اسے فلم سٹار بابرعلی سمجھ کر آٹو گراف لینے لپکتے اور اس بات پر وہ دل ہی دل میں تاؤ کھا کر رہ جاتا کیونکہ اپنے میدان میں وہ کافی کامیاب تھا ،گذشتہ دس برس میں اس نے چار شاندار سٹیج ڈارمہ لکھے اور ڈائریکٹ کیے تھے جو پاکستان کے مختلف شہروں سے اس کے لیے معقول دولت سمیٹ رہے تھے ۔ اس کی شادی لمبے اور گھنے بالوں والی ایک اٹھائیس سالہ خوبصورت لڑکی سے ہوئی تھی اور اب دس مہینوں سے ایک ننھا سا کھلونا بھی اس محبت میں شریک ہو گیا تھا ۔
دو ماہ پہلے قمر شریف کے ذہن میں اچانک ایک نئے سٹیج ڈرامہ کا خاکہ ابھر ا لیکن کہانی کچھ ایسی پچیدگیوں کی حامل تھی کہ اسے مکمل یکسوئی اور انہماک کی ضرورت تھی ......اور ایک ایسے مقام کی جہاں ٹیلیفون کی گھنٹی کی کھنکھناہٹ ہو اور نہ سماجی تقریبات کی گہما گہمی ۔ چنانچہ جب اس نے اپنی اسمارٹ مستعد سیکرٹری عائشہ امیر کو کسی مناسب مقام کی تلاش پر مامور کیا تو عائشہ امیر نے اسے ’’نشاط کدہ ‘‘ یاد دلایا جو گوادر سے تقریباََدس کلومیٹر دو ر واقع تھا یہ ایک بلوچ سردار کی طویل وعریض کوٹھی تھی جو قمر شریف کا بہت بڑا پرستار تھا ۔ بلوچ سردار اکثر یورپ کے دوروں پر رہتا تھا ،اس نے قمر شریف جیسی معروف شخصیت کو کھلا لائسنس دیا ہوا تھا کہ وہ جب چاہے اپنے تنہائی کے لمحوں کو حسین اور کار آمد بنانے کے لیے یہاں اپنی اہلیہ اور منا کے ساتھ رہ سکتا ہے ۔
نشاط کدہ ہائی وے سے 3کلومیٹر اور ایک الگ تھلگ مقا م پر ریت کے ٹیلوں اور خودرو صحرائی جھاڑیوں کے درمیان واقع تھا اور اس کے بڑے گیٹ سے عمارت تک لمبی پرائیوٹ سڑک بنی ہو ئی تھی ۔ گوشہ تنہائی کے طور پر نشاط کدہ مثالی مقام قرار دیا جا سکتا تھا اور یہ بڑے لونگ روم ، ایک کمرہ طعام ، مطالعہ تین خوابگاہوں ، تین غسل خانوں ، ایک امریکن باورچی خانے اور نہانے کے ایک تا لاب پر مشتمل تھا ۔ چار کاروں کے لیے ایک کھلے گیراج اور ایک ٹینس کورٹ کے علاوہ رہائش گاہ سے تقریباََ دو سو گز دور پانچ کمروں کا ایک چوبی کیبن سٹاف کے لیے بھی بنا ہوا تھا ۔ قمر شریف کو یہ مقام بہت پسند آیا ، اوپر سے یہ مفت بھی تھا ۔ لہٰذا ایک پرانے خادم بیرو کے ساتھ وہ نشاط کدہ منتقل ہو گئے۔ دو چوکیدار ہمیشہ نشاط کدہ کی حفاظت پر مامور رہا کرتے تھے لیکن قمر کی فراخ دلی سے وہ آج کل چھٹی پر تھے۔ دو ماہ کی مسلسل محنت اور لگن کے بعد سٹیج ڈرامہ مکمل ہو چکا تھا اورقمر شریف اب مکالمات کو سنوارنے اور دوسرے ایکٹ کی تصحیح میں مصروف تھا ۔
نشاط کدہ کی وحشت ناک تنہائی کے باوجود یہ مقام انہیں محبوب ہو گیاتھا کیونکہ ہنی مون کے بعد ازدواجی زندگی کی سرور آفریں خلوتیں اب نصیب ہوئی تھیں ورنہ شہر میں تو کوئی نہ کوئی چیز رنگ میں بھنگ ڈالنے کا باعث بنی ہی رہتی تھی ۔
اگرچہ میاں بیو ی کو یہ جگہ راس آگئی تھی لیکن بیرویہاں کی وحشت انگیز تنہائی سے غمزدہ رہنے لگا اور روز بروز اپنے کام سے لاپرواہی برتنے لگا ۔اسے عام خادموں سے تگنی تنخواہ ملتی پھر بھی نشاط کدہ کی سنسان اور خاموش فضائیں اسے راس نہ آسکیں ۔ اس کہانی کا آغاز 11ستمبر 2001ء کو صبح ساڑھے پانچ بجے کے قریب ہو تا ہے جب آنکھ کھلنے کے بعد کسی انجانے خوف سے قمر شریف نے اپنے دل کو غیر معمولی انداز سے دھڑکتے اور جسم کو پسینے سے نم آلو پایا ۔حواس بیدار ہونے کے بعد وہ کچھ دیر تک بے حس وحرکت لیٹا رہا ۔ چونکہ اسے گذشتہ دس سال سے ٹائپ 1ذیا بیطس تھی اس لئے وہ یہ سمجھا کہ شاید اسے ہائیپو ہوا ہے جو اسے عموماََ دوتین ماہ کے بعد ہی ہوا کرتا تھا ۔ اس نے بستر پر لیٹے لیٹے فوراََ اپنی شوگر چیک کی لیکن یہ نارمل تھی ، تب اس نے بیڈ سائیڈ ٹیبل سے نکالی وہ گولی بھی واپس رکھ دی حالات کے لیے وہ اپنے پاس رکھتا تھا ۔
کسی ڈراؤ نے خواب کے خیال کو بھی کورد کرتے ہوئے اس نے ہولے سے سر اٹھا کر جڑواں بستر پر نظر ڈالی جہاں صبیحہ اور منا پر سکون نیند کے مزے لوٹ رہے تھے ۔ یہ دیکھ کر اسے کچھ اطمینان ہوا اور رومال سے چہرے کا پسینہ پونچھتے ہوئے وہ آہستگی سے اٹھا ،تا کہ صبیحہ کی نیند خراب نہ ہو اور ڈریسنگ گاؤن پہنے کمرے سے باہر لابی میں پہنچ گیا ۔
اگر چہ دل کی دھڑکن استوار ہو چکی تھی تاہم غیر مانوس سی کیفیت وجہ اضطراب بنی ہوئی تھی ۔متفکر سے انداز میں اس نے ادھر ادھر نظر دوڑائی ۔پھر وہ اپنے کام کرنے کے کمرے میں گیا اور کھڑکی سے دوسو گز دور واقع سٹاف کیبن پر نظر ڈالی ۔ہر طرف خاموشی اور سکوت کا راج تھا ، اسے ذرا بھی تعجب نہ ہوا کیونکہ بیرو ساڑھے سات بجے اُٹھا کرتا تھا۔
اپنے اضطراب کی کوئی وجہ جانے بغیر وہ کندھے جھٹکتا ہو ا کچن میں چلا گیا ۔وہ سوچ رہا تھا ،اب نیند تو آنے سے رہی لہٰذا کافی بنا کر اپنا کام شروع کردے ۔کچن میں جاکر اس نے اس دوسرے آنگن کا دروازہ کھولا ، جس کی دوسری طرف کا گیٹ ہمیشہ کھلا رہتا تھا تا کہ ان کابوھلی کتا ٹائیگر اپنی مرضی کے مطابق رات کو گھر کی نگہداشت بھی کرسکے اور جب چاہے ، تازی خانے میں آکر سو بھی سکے ، کافی میکر کا بٹن دبانے کے بعد اُس نے ٹائیگر کے ناشتے کا برتن دروازے کے پاس فرش پر رکھا اور کتے کے بلاوے کی سیٹی بجا کر باتھ روم میں چلا گیا۔
شیو، غسل اور لباس تبدیل کرنے کے بعد وہ دوبارہ کچن میں گیا اور کافی میکر کا بٹن بند کر دیا کتے کے ناشتے کا برتن ویسے ہی پڑا تھا اور آس پا س کہیں کتے کا نام و نشان تک نہ تھا ۔وہ حیران رہ گیا ۔یہ واقعہ پہلی مرتبہ پیش آیا تھا ورنہ ایک ہی تیز سیٹی پر ٹائیگر چھلانگیں لگاتا ہو اتازی خانے پہنچ جایا کرتا تھا ۔ایک اور سیٹی بجا کر چند لمحو ں تک وہ انتظار کرتا رہا مگر بے سود ۔اب باہر جا کر اس نے ریتلی زمین پر اور خو درو جھاڑیوں کا جائزہ لیا مگر کتے کا دور دور تک کہیں نام و نشان بھی نظر نہ آیا ۔ الجھن کے عالم میں وہ دوبارہ کچن میں گیا اور پیالے میں کافی اور سُسلی کی دو گولیاں ڈال کر کام کرنے کے کمرے میں اپنی میز کے پیچھے جا بیٹھا ۔کافی کی چسکیاں لگاتے ہوئے اسے احساس ہوا کہ سُسلی کا ذائقہ تو بالکل چینی جیسا ہے ۔ اس نے سٹیج ڈرامہ کا مسودہ اُٹھایا اورپڑھنے لگا مگر چند صفحات اُلٹنے کے بعد احساس ہوا کہ ذہن تو ٹائیگر کے خیال میں الجھا ہوا ہے اور وہ کچھ نہیں پڑھ سکا۔آخر کتا گیا کہاں ؟ مسودہ ایک طرف رکھ کر اس نے کافی ختم کی اور دوبارہ کچن میں گیا ۔دروازے پر کتے کا برتن ان چھوا پڑاتھا ۔
باہر ریت کے ٹیلوں کے پیچھے سورج کا سُرخ گولا نمودار ہو کر صحرا کی وسعتوں کو خوبصورت گلابی رنگت عطا کر رہا تھا لیکن آج یہ منظر اسے ذرا بھی دلکش محسوس نہ ہوا بلکہ آج تو صحرا میں اپنے اکیلے پن اور علیحدگی کا احسا س بُری طرح ڈسنے لگا تھا ۔
بچے کے رونے کی آواز نے اسے خیالات سے چونکا یا اور وہ جلدی سے خواب گا ہ میں پہنچااتنے میں صبیحہ بھی جاگ اُٹھی تھی ۔ منا کو آغوش میں لیتے ہوئے اس نے مسکرا کر قمر شریف کی طرف دیکھا ۔آج جلدی اٹھ بیٹھے ہو، کیا وقت ہوا ہے ؟
’’ساڑھے چھ بجے ہیں ۔‘‘وہ صبیحہ کے پاس جا بیٹھا اور منا کو اپنی آغوش میں لے لیا ۔
’’ کیا نیند نہیں آئی ؟‘‘صبیحہ نے بستر سے اتر کر باتھ روم کی طرف جاتے ہوئے پوچھا ۔
سردست ٹائیگر کے غائب ہونے کا ذکر قمر نے مناسب نہ جانا اور کہا‘‘ہاں کچھ بے چینی سی ہے ۔‘‘
بچے کو لٹا کر قمر نے انسولین کا ٹیکہ لگایا ۔روزانہ صبح ناشتے سے 45منٹ قبل وہ ریگولر اور اپن پی ایچ انسولین ملا کر لگایا کرتا تھا۔آج اس کا موڈ کچھ ہلکا ناشتہ کرنے کا تھا ۔اس نے 8یونٹ ریگولر کے لگانے کی بجائے 6کر دےئے اور این پی ایچ بدستور معمول کے مطابق 24یونٹ لگائے ۔
پندرہ منٹ بعد صبیحہ منا کو ناشتہ کرارہی تھی تو اچانک وہ بولی ۔’’رات موٹر سائیکل کی آواز سنی تھی .....‘‘
بچے کے ناشتہ کرنے کے منظر میں کھوکر قمر شریف اپنی الجھن کافی حد تک فراموش کر چکا تھا اچانک چونک کر بولا ’’موٹر سائیکل کی آواز ؟نہیں تو ۔‘‘
’’رات دو بجے کے قریب کوئی موٹر سائیکل پر آیا تھا مگر واپس جانے کی آواز نہیں سنائی دی ۔‘‘
قمر نے فکر مند انداز سے بالوں میں انگلیاں پھیریں ۔’’میں کچھ سمجھا نہیں جانم ۔ممکن ہے کوئی گشتی سپاہی ہو ۔ وہ اکثر آیا کرتا ہے ۔‘‘
’’مگر وہ واپس نہیں گیا ۔‘‘
’’چلاگیا ہو گا اور سو جانے کی وجہ سے تم اسے جاتے ہوئے نہ سن سکیں ۔‘‘
قمر شریف بولا ’’اگر کوئی رکا ہوتا تو ٹائیگر ضرور .......ہاں یاد آیا پتہ نہیں آج ٹائیگر کہاں ہے ؟سیٹی پر بھی نہیں آیا ۔‘‘وہ اٹھا اور کچن میں پہنچا ۔ ٹائیگر بد ستور غائب تھا ، دروازے پر جا کر اس نے ایک اور سیٹی بجائی اور پھر مایوس ہوکر صبیحہ کے پاس چلا آیا ۔ صبیحہ نے پوچھا ’’آخر وہ کہاں ہوسکتا ہے ؟‘‘
منا پھر منہ بسورنے لگا تھا چنانچہ صبیحہ اسے بہلانے لگی اور قمر شریف نے گھر سے نکل کر پاپیادہ ہی گیٹ کا رخ کیا ۔گاہے بگاہے رک کر وہ تیز لمبی سیٹی بجاتا اور ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے آگے چل دیتا ۔
آخر گیٹ پر پہنچ کر اس نے کچی سڑک پر دور تک نگاہیں دوڑائیں مگر دور دور تک کوئی ذی حیات شے نظر نہ آئی ۔ پھر غور سے سڑک کامعائنہ کرنے پر اپنی کار کے ٹائروں کے نشانات کے ساتھ ساتھ موٹر سائیکل کے دو پہیوں کے واضح نشانات دکھائی دےئے ، یہ نشا نات گیٹ پرآکر معدوم ہوگئے تھے ۔
متفکر انداز سے چند سیکنڈ تک نشانات کوگھورنے کے بعد وہ واپس آیا ۔سٹاف کیبن کے قریب سے گذرتے وقت صبیحہ دکھائی دی جو عمارت کے دروازے پر کھڑی ہاتھ کے اشاروں سے اسے بلا رہی تھی ۔
شوہر کے قریب پہنچنے پر گھبرائی ہوئی آواز میں بولی ۔‘‘جلدی آؤ سارا اسلحہ غائب ہے ۔‘‘
ہاں میں تمہارے کمرے میں گئی تھی ۔وہاں الماری سے سارے ہتھیار غائب ہیں ‘‘تیز قدموں سے چلتا ہوا وہ اپنے کام کے کمرے میں پہنچا ۔
خالی الماری پر نظر پڑتے ہی قمر شریف کو گدی کے ہال سرسراتے ہوئے اچانک پیچھے سے صبیحہ کی خوفزدہ آواز سنائی دی ۔’’رات کو تو ہتھیار یہیں تھے ۔‘‘
’’ہاں‘‘یہ کہہ کر مڑا اور جا کر میز کی سب سے نچلی دراز کھولی اس دراز میں اس کا اپناریوالور بھی غائب تھا ۔ دل و دماغ سے دھواں سا اٹھتے محسوس کر کے وہ صبیحہ کی طرف مڑا اور لبوں پر جبری مسکراہٹ لاتے ہوئے بولا ’’ گھبراؤ نہیں یہ کسی چور کی کارستانی ہے ، میں پولیس کو فون کرتا ہوں ۔‘‘’’وہ موٹر سائیکل کی آواز جومیں .....‘‘
’’ہو سکتا ہے وہی ہو ‘‘ریسیور کان سے لگا کر وہ ڈائل کرنے لگا لیکن ٹیلیفون بے جان پڑا تھا ’’لو .....اس کمبخت کو بھی اسی وقت خراب ہو نا تھا ‘‘قمر شریف بولا ’’ گھبراؤ نہیں حوصلہ رکھو ، بات صرف اتنی ہے کہ رات کو کسی چور نے آکر ٹیلیفون کی لائن کاٹی اور ہتھیار لے گیا ،ممکن ہے اسی نے ٹائیگر کو بھی ضائع کر دیا ہو .....اُف ، یہاں تو موبائل بھی کام نہیں کر تا۔‘‘صبیحہ سکٹر سی گئی ’’ تمہارا مطلب ہے ٹائیگر مر چکا ہے ؟‘‘
کیا کہہ سکتا ہوں جانو ، اسے کوئی نشہ آو ر دوا دی گئی ہو ، یہ کہہ کر اس نے صبیحہ کوسینے سے لگا یااور کمر پر پیار سے تھپکی دی ، جاؤ تم منا کو دیکھو میں جا کر دیکھتا ہوں ، بیرو بیدار ہو چکا ہو گا ۔‘‘
’’نہیں ‘‘ صبیحہ ترساں و لرزاں بولی ’’میں تمہارے ساتھ جاؤں گی ، ٹھہر و منا کو لے آؤ ں ۔‘‘
وہ کچھ سوچ کر انکار کرتے کرتے رہ گیا ۔ صبیحہ منا کو اٹھا لائی اور وہ دونوں گھر سے نکل کر کیبن کی طرف چل دےئے ۔ سو رج کی کرنیں چھبنے لگی تھیں اور منا آنکھیں جھپک جھپک کر ادھر ادھر دیکھ رہا تھا پھر اس نے اپنے ہاتھ کی مٹی بنا کر صبیحہ کی آنکھوں میں جھو نکنا چاہی صبیحہ حسبِ معمول سر جھٹک کر اس کا وار بچا گئی ۔
کیبن پر سکوت طاری تھا، دستک کے جواب نہ پا کر قمر بولا ’’ تم یہیں ٹھہرو، میں اندر جا کر دیکھتا ہوں ۔‘‘
ہینڈل گھمانے پر دروازہ غیر مقفل ملا قمر نے زور سے پکار ا ’’ بیرو..... بیرو! ‘‘
جواب میں بوند بوند پانی گرنے کی ٹپ ٹپ کے سوا کوئی آواز سنائی نہ دی ۔وہ اگلا کمر ہ پار کر کے بیڈروم میں گیا ، وہ بھی خالی تھا ، البتہ بستر پر پڑی شکنوں سے ظاہر ہو رہا تھا کہ بیرو یہا ں سوتا رہا ہے ۔
نا کام تلاش کے بعد وہ صبیحہ کے پاس چلا آیا ’’ شاید وہ بھاگ گیا ہے ۔‘‘
’’تمہار مطلب ہے کہ ہتھیار چرا کر لیکن ٹائیگر ؟ٹائیگر کہاں گیاِ ؟ صبیحہ نے منا کو بھینچتے ہوئے کہا ۔
’’ بھئی وہ یہاں خوش نہیں تھا اور ٹائیگر اسے بڑامحبوب تھا ، چنا نچہ اسے لے کر رفوچکر ہو گیا ، موٹر سائیکل پر شاید اس نے کسی ساتھی کو بلوایا ہوگا ۔‘‘
’’ لیکن ہتھیار ‘‘
’’ ہاں ایک لمحہ تک بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہو ئے وہ سوچا کیا ’’بھئی ان بنگالیوں کا کیا بھروسہ ؟ ممکن ہے وہ ہتھیاروں کی کسی انجمن کا ممبر ہو ، یوں لگتا ہے فون بھی اسی نے کاٹا تاکہ بھاگنے کی مہلت مل جائے ۔‘‘
’’ لیکن اتنے ہتھیار اور ٹائیگر کو وہ ایک موٹر سائیکل پر کیسے لے گئے ہوں گے ؟ صبیحہ نے سوا ل کیا ۔
ممکن ہے گیراج میں سے ایک آدھ کار لے گئے ہوں ۔دیکھو ہمیں گوادر جا کر پولیس کو اطلاع دینا ہو گی یہ اب پولیس کا معاملہ ہے ۔‘‘
’’اچھا تو تم کار لے آؤ ،میں اتنے میں منا کی ضرورت کا سامان اکٹھا کرتی ہوں ۔‘‘
صبیحہ گھر کی طرف چلی گئی ۔ کیبن کی خواب گاہ میں گیا ۔ بیرو کے کپڑوں اور دوسری چیزوں کے علاوہ الماری بسترکے ساتھ ہی لگی تھی ۔ قمر شریف نے الماری کا پٹ کھولا۔ الماری میں بیرو کے کپڑوں کے ساتھ برقی استرا اور کوڈک کیمرا بھی موجود تھا ۔آخر الذکر دونوں چیزیں موجود پا کر قمر شریف کا دل دھک سا رہ گیا ۔دونوں چیزیں بیرو کو جان سے زیادہ عزیز تھیں ،وہ انھیں چھوڑ کر نہیں جا سکتا تھا ۔بھوکلاہٹ اور الجھن کے عالم میں قمر شریف تیزتیز چلتا ہوا گیراج کی طرف گیا اور دروازہ کھول کر دیکھا ۔سفید کرولا کار کے ساتھ بلوچ سردار کی مرکری لینڈ کروزر کو بھی موجود پا کر اسے کچھ تسکین ہو ئی ۔ اگنیشن کی چابی اس میں پہلے سے لگی ہوئی تھی ۔ قمر شریف نے چابی لگاکر انجن روا کرنے کے لیے ایکسیلیٹر پر دباؤ دیا ۔ گھرر گھررسی ہوئی مگر انجن رواں نہ ہو سکا ۔ تین چار مرتبہ کی ناکام کوشش کے بعد وہ اسٹیٹ ویگن کی طرف گیا اور چلانے کی کوشش کی مگر یہاں بھی وہی صورت حال پیش آئی سعی بسیار کے باوجود اسٹیٹ ویگن کا انجن گھر گھرانے کے بعد پھنس ہو جاتا رہا ۔
پسینہ آلود ہاتھوں کو پتلون سے پونچھتے ہو ئے اب اس نے جا کر کرولا کا ہڈ اٹھایا ۔کاروں کے متعلق اس کا علم بڑا محدود تھا تاہم ایک ہی نظرمیں اتنا جان گیا کہ انجن کے سارے سپارکنگ پلگ نکال لئے گئے تھے ۔ اسٹیٹ ویگن کا انجن بھی یہی کہانی دہرا رہا تھا ۔
دونوں بیکار گاڑیوں کے درمیان ایستادہ قمر شریف کو پسینے آنے لگے ۔ان حالات میں اگر وہ تنہا ہوتا تو تردو یا پریشانی کی ایسی بات نہ تھی لیکن اب صبیحہ اور منا کی موجودگی اسے خوفزدہ کئے جارہی تھی ۔ بیرو غائب ،ہتھیار غائب، ٹیلیفون بیکار اور اب کاریں بھی ناکارہ ۔ انہی نا قابل فہم باتوں پر مغز پچی کرتے ہوئے تیز قدموں سے وہ گھر لوٹ آیا۔
خواب گا ہ میں صبیحہ ضرورت کی اشیاء ایک چھوٹے سوٹ کیس میں پیک کر رہی تھی ۔شوہر کے لٹکے ہوئے چہرے پر نظر ڈالتے ہی وہ گم سم ہو کر رہ گئی ۔ یہ دیکھ کر قمر شریف کو اپنی وگرگوں حالت کا احساس ہوا اور سنبھلنے کی کوشش کرتے ہوئے وہ بولا ’’ کچھ گڑ بڑ ہے کسی نے کاروں کو بیکار بنا دیا ہے اور ہم یہاں محبوس ہو کررہ گئے ہیں ۔‘‘
صبیحہ یوں دھم سے بستر پر بیٹھ گئی جیسے ٹانگوں میں جان نکل گئی ہو ‘‘
’’کاروں کو کیاہوا؟‘‘
وہ صبیحہ کے پاس آبیٹھا ۔’’میں تمہیں ڈرانا نہیں چاہتا لیکن معاملے کی سنجیدگی مجھے خود پریشان کر رہی ہے ۔ رات کوئی ضرور آیا تھا جو ......‘‘
’’تو یہ بیرو کا کام نہیں ؟‘‘
’’نہیں ۔پتہ نہیں اسے اور ٹائیگر کو کیا حادثہ پیش آیا ہے ۔ میر ی تو عقل کام نہیں کر رہی ۔‘‘
صبیحہ اچانک اٹھ کھڑی ہوئی ’’ چلو قمر یہاں سے نکل چلیں ، میں اب یہاں نہیں رک سکتی ۔‘‘
’’ کیا کہہ رہی ہو ہائی وے یہاں سے 3کلومیٹر دور ہے اور سخت دھوپ میں منا کو ہاتھ میں لئے وہاں تک پہنچنا کوئی آسا ن کام نہیں ۔‘‘
’’ کچھ بھی ہو ، میں ایک لمحہ بھی نہیں رک سکتی یہاں ۔‘‘
بیوی کی ضد کے سامنے بالاخر قمر شریف کو گھٹنے ٹیکنے پڑے اور صبیحہ ضروری سامان پیک کرنے لگی اگر چہ ناشتہ کر نے کا بلکل دل نہیں چاہ رہا تھا لیکن قمر جانتا تھا یہ دل چاہنے کا معاملہ نہ تھا کیونکہ وہ انسولین لگا چکاتھا اور اگر وہ کھانانہیں کھاتا تو شوگر کی سطح گرنے کی وجہ سے ہائیپو ہو سکتا تھا لہٰذا اس نے جلدی جلدی فریج میں سے 3سلائس ڈبل روٹی کے لیے اور شوگر فری جام کے ساتھ نگلنے لگا ، ساتھ میں اپنی من چاہی کافی کا گرم گرم کپ بنایا ۔صبح سے یہ اس کا دوسرا کپ تھا ۔پھر وہ کمپیوٹر پر رکھی ڈسک اٹھانے لگا اور اسی دوران صبیحہ کی گھٹی گھٹی چیخ پر قمر شریف نے گھبرا کر اس کی طرف دیکھا صبیحہ کی نگاہیں اس کے جوتوں پر مرکوز تھیں جن کے کناروں پرتازہ خون لگا ہوا تھا ۔(باقی آئندہ )

5نومبر2004کو شائع ہوا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *