نکمّوں کی بارات

خدا خدا کرکے اِن سے جان چھوٹی اور چھوٹنی بھی چاہیے تھی کیونکہ نون لیگ اَب بور کرنے لگ پڑی تھی ۔ گناہ اور بھی ہوں گے لیکن سب سے زیادہ اذیت دینے والا گناہ بوریت طاری کرنا ہے ۔ اِن کی فنکاری اور ڈراموں میں کوئی نئی بات نہیں رہی تھی ۔ وہی پرانا مسخرہ پَن، اُنگلی ہلا ہلا کے طرح طرح کے دعوے اور دروغ گوئی بھی ایسی کہ سُن سُن کے کان پک چکے تھے۔
ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے ۔ نیکی اور پارسائی بھی زیادہ مقدار میں ہو تو وہ بوریت پھیلاتی ہے۔ میں احتیاط کرتا ہوں‘ نیکی کی تلقین کرنے والا کوئی گروہ گلی سے گزر رہا ہو تو کوشش ہوتی ہے کہ اُن کی یلغار سے بچ جاؤں ۔ میں کئی بار آزما چکا ہوں ۔ ان نیک لوگوں کی باتیں بہت اچھی ہوتی ہیں لیکن جنت کا نقشہ کھینچتے کھینچتے اُکتاہٹ پیدا کر دیتے ہیں ۔ ایک بات تو کبھی سمجھ میں نہیں آئی کہ اکثر یہ نیک لوگ کسی مسجد میں خاص بیٹھک کی دعوت دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ نشست عامیوں کیلئے نہیں بلکہ خاص لوگوں کیلئے ہے۔ ہم گناہگاروں کی سمجھِ اسلام کے بارے میں ناقص ہی ہو گی لیکن ہم سمجھتے آئے ہیں کہ اسلام میں خاص اور عام کا فرق نہیں۔ ان نیک لوگوں کا تصورِ اسلام مختلف لگتا ہے۔
بوریت کی بات دراصل نون لیگ کے حوالے سے ہو رہی تھی ۔ اِن فلسفیوں کو کب سے ہم سُنتے آ رہے ہیں۔ ایک ہی گفتگو ، ایک ہی قسم کے دعوے اور کمبخت وہی ایک آدھ فلائی اوور ، ایک آدھ پُل اور سڑکوں کی کہانیاں ۔ پتہ نہیں کس درسگاہ میں اِن لوگوں نے پڑھا ہے ۔ لگتا یُوں ہے کہ اِن دو تین چیزوں کے علاوہ اِن کے ذہنوں میں اور کوئی چیز بیٹھی ہی نہیں ۔ البتہ ایک سبق کبھی نہ بھولے‘ گو اقتدار پہ قبضہ جمانا ضروری ہے اُس سے کہیں ضروری مال بنانا ہے۔ مال بنانے کے عمل میں کبھی کوئی رکاوٹ نہیں آنے دی ۔ بڑے تو اس کام میں مہارت رکھتے تھے ہی‘ لیکن نہایت خوبصورت انداز میں آنے والوں نے بھی بڑوں کی تقلید کی ۔ شوگر ملیں اور لوہے کا کاروبار تو پہلے ہی تھا ، آنے والوں نے نئی راہیں تلاش کیں ، کوئی پولٹری میں گھس گیا کسی نے دودھ کی فروخت میں نام پیدا کیا۔ جہاں نظریں کسی اچھی جائیداد پہ پڑیں تو موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ گزرے ہوئے خادمِ اعلیٰ کے داماد کی بات تو اور ہی ہے ۔کیا ہاتھ دکھایا، ایم ایم عالم روڈ پہ اپنے پلازے میں صاف پانی والے مسخروں کو اُس دام پہ ایک فلور کرائے پہ دیا کہ مہارت پہ رَشک آتا ہے۔ نیب میں پیشیاں تھیں وہ بھی گول کر گئے۔ اَب پتہ نہیں کہاں ہیں۔
بہرحال پیشیوں سے فرق نہیں پڑتا۔ مال محفوظ ہونا چاہیے اور اگر محفوظ رہے تو بڑے سے بڑا طوفان بھی آئے تو آدمی سہہ لیتا ہے ۔ احد چیمہ کو ہی لیجئیے۔ نیب کے زندان کے پیچھے ہے تو کیا ہوا۔ مقدمہ گزر ہی جائے گا ۔ جیل روڈ کے شوروم سے ایک بڑی گاڑی پکڑی گئی اور نوٹوں کا ایک اَنبار جو ایک کروڑ سے کچھ زیادہ بنتا ہے ۔ کتنی ہی اور گاڑیاں اور کتنے ہی اور نوٹوں کے انبار ہوں گے۔ مبینہ طور پہ جائیدادیں اتنی بنائی ہیں کہ پورا نیب اور کام چھوڑ کے احد چیمہ کے پیچھے پڑ جائے‘ پھر بھی تمام پلاٹوں کا حساب یا کھوج نہ لگا سکے گا۔ تگڑے لوگوں کیلئے تفتیشیں آنی جانی چیزیں ہوتی ہیں ۔ فواد حسن فواد کو بھی نیب نے بلایا ہوا ہے ۔ لیکن جب تک راولپنڈی کے صدر ایریا میں اُن کی نئی تعمیر شدہ کئی منزلہ عمارت قائم ہے (یہ اُس جگہ پہ ہے جہاں بھلے وَقتوں میں پرانا شیزان ریستوران ہوا کرتا تھا) تو عارضی تفتیشوں اور پیشیوں سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔
یہ اِنقلابِ فرانس یا رُوس کا اِنقلاب تھوڑا ہی ہے۔ بس وَقتی طور پہ چند لوگوں کیلئے جن پہ بُرے دن آئے ہیں کے لئے خرابیٔ موسم ہے ۔ خراب موسم ہمیشہ نہیں رہتا ۔ خوشگوار ہوائیں چلیں گی تو سب ٹھیک ہو جائے گا ۔ سیف الرحمان نے احتساب الرحمان کے نام سے شہرت کمائی اُس پہ بھی مشرف دور میں بُرا وقت آیا تھا۔ روایت ہے کہ آصف زرداری کے پاؤں پڑ گیا اور سابقہ کیے پہ معافی مانگی۔ لیکن وہ وقت گزر گیا اور پَکا قطر میں مقیم ہو گیا اور پہلے سے کہیں زیادہ مال کمانے لگا۔ شریفوں پہ اَب بُرے دن آئے ہیں ۔ سابقہ وزیر اعظم اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھے لیکن الحمدللہ لندن کی جائیدادیں قائم ہیں اور جو مال باہر پڑا ہوا ہے ، محفوظ ہے۔ مال اُن کا سلامت رہے ، ہماری شکایت تو بوریت پہ مبنی ہے۔ اِن کو دیکھ دیکھ کے آنکھیں تھک چکی تھیں اور اِن کی باتیں مزید سُننے کی گنجائش نہیں رہی تھی ۔ پی ٹی آئی کی تبدیلی کے نعرے کا مطلب جو بھی ہو ہمارا تصورِ تبدیلی یہ ہے کہ جھوٹ اور مبالغہ ہی سُننا ہو تو کم از کم راگ اور دُھن تو مختلف ہو۔ سٹیج پہ اور اداکار آئیں ۔ اُن کی حرکتیں قدرے مختلف ہوں ۔ دل بہل جائے گا، نئی چیزیں دیکھنے کو ملیں گی اور جب اُن سے جی بیزار ہو جائے تو کسی اور تبدیلی کی تمنا کرنے لگ پڑیں گے۔
اب دیکھیے، نون لیگی جا چکے ۔ قائم مقام تو ایسے ہیں کہ اِن کے چہرے دیکھ کے آدھی نیند آ جاتی ہے۔ دو ماہ یا اُس سے کچھ زیادہ رہیں گے تو کیا کر پائیں گے ۔ کوئی ڈرامائی چیز کرنے کی صلاحیت سرے سے نہیں۔ فائلوں پہ دستخط کرتے جائیں گے ، شاید کچھ فیتے کاٹیں اور وَقت کٹ جائے گا ۔ کسی کو وزیر اعلیٰ ہونا ہوتا تو مرحوم جام صادق علی جیسا ہوتا۔ 1990ء میں سندھ کے وزیر اعلیٰ بنے تو کئی ڈرامائی چیزیں کر ڈالیں ۔ جیسے ہمیں پتہ ہے سندھ کی آبادی میں غیر مسلموں کی اچھی خاصی تعداد ہے ۔ اُن کی سہولت کیلئے ڈھیر سارے پرمٹ اُن مخصوص دُکانوںکو دئیے گئے جہاں راہ راست پہ چلنے والوں کیلئے سامانِ شب مہیا ہوتا ہے۔ ایسی آسانیاں پیدا ہوئیں تو اوروں نے بھی فائدہ اُٹھایا ۔ جام صادق کے پاس سندھ اسمبلی میں اکثریت نہ تھی۔ لیکن اُنہوں نے فوری بندوبست یہ کیا کہ پیپلز پارٹی کے مطلوبہ تعداد میں ارکان کو پُرآسائش ریسٹ ہاؤسوں میں زیر حراست رکھا۔ اُن کمین گاہوں میں زندگی کی ہر سہولت فراہم ہوتی ۔ آصف زرداری کو لانڈھی جیل میں رکھا گیا لیکن اُنہیں بھی ہر آسائش حاصل تھی اور کون اُنہیں ملنے آتا ہے‘ چاہے نقاب کے پیچھے کوئی بھی چہرہ ہو اِس پہ کوئی قدغن نہ تھی۔
کہنے کا مطلب یہ کہ قوتِ فیصلہ رکھنے والے لوگ تو ہوں۔ شہباز شریف اَب کی بار 2008ء سے پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہے یعنی پورے دس سال۔ اس عرصے میں تو پنجاب کا حلیہ بدل سکتا تھا۔ لیکن ایسا نہ ہوا۔ ایک دو میٹرو بسوں پہ پیسے کا ضیاع ، چند فلائی اوور اور بس یہی ورثہ اکٹھا کر سکے۔ پنجاب کا تعلیمی نظام ، صحت کانظام ، پولیس کا کردار اس عرصے میں بدلا جا سکتا تھا۔ انگریزوں نے پنجاب پہ قبضہ 1849ء میں کیا تھا اور دس سال میں ایک پورے نئے نظام کی بنیاد رکھ ڈالی تھی ۔ یہ ہمارے رہنما ہیں جو زیادہ وقت بس یُونہی گزار گئے ۔
چلیں وقت پورا کیا اور تاریخ کا ایک اور ورق پلٹ چکا ۔ دیکھتے ہیں ہمارے نصیب میں اور کیا لکھا ہے ۔ رونا یہ ہے کہ جو دستیاب لوگ ہیں‘ جن کے بارے میں آپ کہہ سکتے ہیں کہ بڑی پوزیشنوں میں آئیں گے ، جانے والوں سے اتنے مختلف نہیں ۔ اُسی قسم کے چہرے، وہی باتیں اور وہی جائز و ناجائز طریقے سے مال بنانے کا ہنر۔ ایسے آرٹسٹوں سے کیا اُمید رکھی جا سکتی ہے ؟ لیکن پھر بھی زندگی کا کارواں چلنا ہے ۔ اِس ملک کی تاریخ میں ہم بہت ڈرامے دیکھ چکے ۔ ایک اور کھیپ سہی ۔ اِن کو بھی دیکھ لیں گے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *