عوام کو مبارک ہو

پروفیسر صاحب نے مجھ سے پوچھا، تم خوشی نہیں مناو گے کہ مسلسل منتخب اسمبلی نے اپنی آئینی پارلیمانی مدت پوری کی ہے مگر جمہوریت پسندوں کا اتفاق ہے کہ وہ دس اکتوبر 2002 ء کو آمر مطلق پرویز مشرف کی جیب کی گھڑی اور ہاتھ کی چھڑی کوجمہوری اسمبلی تسلیم نہیں کیا جا سکتا جس سے حقیقی سیاسی رہنماوں کوباہر رکھا گیا، اس اسمبلی کے ذریعے میر ظفر اللہ جمالی اور شوکت عزیز جیسی کٹھ پتلیاں نچائی گئیں، یہ وہ اسمبلی تھی جو ایک ڈمی حکومت کے ساتھ ساتھ مولویوں کی ڈمی اپوزیشن کے ذریعے آمر کے دئیے ہوئے لیگل فریم ورک آرڈرکو نام نہاد آئینی جائزیت عطا کرنے تک ایل ایف او نامنظور کے نعروں سے گونجتی رہی، یہ ملک میں ہونے والے دسویں الیکشن تھے، گیارہویں الیکشن اٹھارہ

فروری2008 کوہوئے، یہ انتخابات آٹھ جنوری کو ہونے تھے مگر اس سے پہلے ستائیس دسمبر 2007ء کو بے نظیر بھٹو کی شہادت کی وجہ سے تاریخ تبدیل کرنا پڑی، پیپلزپارٹی ان انتخابات کی فاتح ٹھہری جبکہ ملک میں منعقد ہونے والے بارہویں انتخابات میں مسلم لیگ نون نے گیارہ مئی 2013 کومیدان مارا۔اس دوران اسمبلی کوتاریخ کی بدترین سیاسی سازشوں کا سامنا کرنا پڑا، ایوان کو اپنے منتخب وزیراعظم سے بھی محروم ہونا پڑا جس پر اس کی واضح اکثریت کا اعتماد تھا مگر اپنا سر کٹوانے کے باوجو دیہ اسمبلی آج 31 مئی 2018ء کو اپنی مدت پوری کرنے جا رہی ہے۔ اس سے پہلے پیپلزپارٹی کے منتخب وزیراعظم کو بھی گھر بھیجا گیا تھا، کیا یہ محض اتفاق ہے کہ آئینی اور جمہوری منتخب اسمبلیوں کو یکساں وقت پر یکساں سانحے کا سامنا کرناپڑا۔پروفیسر صاحب رجائیت پسند آدمی ہیں، وہ بدترین حالات میں بھی امید کی لو جلائے رکھتے ہیں، وہ یقین سے بھرے ہوئے تھے کہ اسمبلی کی آئینی اور پارلیمانی مدت کا پورا ہونا ایک بڑی مفید بات ہے۔

پروفیسر صاحب کا خیال ہے کہ اگر مزید دو سے تین اسمبلیاں اپنی مدت پوری کر گئیں تو ملک میں جمہوریت مستحکم ہوجائے گی۔ گلاب کا وہ پودا جسے نوابزادہ نصراللہ خان کے الفاظ میں ہم لگانے کے بعد ہر تھوڑے دنوں کے بعد اکھاڑ کے دیکھتے ہیں کہ اس نے جڑیں پکڑی ہیں یا نہیں، اب وہ حقیقی معنوں میں جڑیں پکڑ لے گا ۔ وہ دیکھتے ہیں کہ اس عرصے میں جمہوریت پسندوں نے اپنے بیانئے کو مضبوط کیا ہے۔ میں نے بتایا کہ وہ رجائیت پسند ہیں اور نواز شریف کی نااہلی کو بھی کبڑے کو لگنے والی وہ لات سمجھتے ہیں جو جمہوریت کا کبڑا پن ختم کر دے گی، وہ کہتے ہیں کہ نواز شریف کے بیانئے نے پچیس جولائی کو ہونے والے انتخابات کو اسٹیبلشمنٹ اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ قوتوں کے درمیان ایک کھلی جنگ بنا دیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کی حامی قوتوں کی سربراہی عمران خان کر رہے ہیں جبکہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ قوتوں کے سرخیل نواز شریف بن چکے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ پیپلزپارٹی حالات کے جبر کا شکار ہے اور اس الیکشن میں زرداری صاحب کی قیادت میں اس کی مجبوری ہے کہ وہ اپنے روایتی کردار سے ہٹ جائے مگر اگلے انتخابات میں قیادت بلاول بھٹو زرداری کے پاس ہوگی تو پیپلزپارٹی کے کامریڈ اس کے ذریعے وہی پرانی پیپلزپارٹی بحال کروا لیں گے جس نے کوڑے بھی کھائے اور جیلیں بھی کاٹیں مگر اصولوں کے ساتھ کھڑی رہی۔ پروفیسر صاحب اپنی آخری عمر میں آئین کی بالادستی اور جمہوریت کی مضبوطی کے حوالے سے شائد کچھ زیادہ رجائیت پسندی کا شکار ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ جب نواز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ نون ایک مرتبہ پھر اکثریت حاصل کر لے گی تو پھر بھی شائد وزیراعظم شہباز شریف نہ ہوں تاہم وہ دوسرے آپشنز کو دیکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر شہباز شریف وزیراعظم بن بھی گئے توبھی وہ اپنے ووٹ بنک کے لیڈر نہیں ہوں گے، ووٹ بنک کا اکاونٹ ہولڈر نواز شریف ہی ہو گا۔

پاکستان کی تاریخ میں پیپلزپارٹی کو ہی یہ اعزاز حاصل رہا ہے کہ اس کی حکومت کے دوران دومرتبہ اسمبلیوں نے مدت پوری کی ۔ اس اعزاز میں ذوالفقار علی بھٹو تو شامل ہیں مگر ان کی وژنری بیٹی پنکی یعنی بے نظیر بھٹو شامل نہیں، پیپلزپارٹی کویہ اعزاز بھٹو صاحب کے داماد آصف علی زرداری نے دوبارہ دلوایا مگر یہاں دو نوں ادوار کا اختتام بہت اہم ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں جب پہلی مرتبہ اسمبلی نے اپنی مدت پوری کی تو اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ ڈھاکے کے پلٹن میدان کی زخم خوردہ تھی مگر اس دور نے اسٹیبلشمنٹ کو ایک مرتبہ پھر اتنا طاقتور کر دیا کہ اس نے اسمبلی کی مدت پوری ہونے اور انتخابات کا انعقاد ہونے کے باوجود ایک اور مارشل لا لگا دیا۔ پیپلزپارٹی نے جب دوسری مرتبہ اسمبلی کی مدت پوری کرنے کا اعزاز حاصل کیا تو اس دوڑ کے اختتام پر وہ اتنی ہلکان اور بے جان ہو چکی تھی کہ چاروں صوبوں کی زنجیر کا نعرہ لگانے والی پی پی پی سندھ تک محدود ہو چکی تھی اور اب تک ہے۔ مسلم لیگ نون کو پہلی مرتبہ یہ اعزاز حاصل ہوا ہے کہ اس کی حکمرانی میں کسی اسمبلی نے اپنی مدت پوری کی ہے اگرچہ ا س دوران اسے اپنے وزیراعظم اور پارٹی سربراہ کی قربانی دینی پڑی۔

نون لیگ نے اس سے پہلے وزراء کی قربانیاں بھی دیں اور آج اکتیس مئی کو یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کی قربانیاں قبول ہو گئیں۔ مسلم لیگ نون کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اس نے نوے کی دہائی کی معروف ترین سازشوں کا پھر مقابلہ کیا۔ اکہتر کے آئین کے نافذ ہونے کے بعد دھرنوں جیسی سازشوں میں جماعت اسلامی نے اپنے سربراہ قاضی حسین احمد کی سربراہی میں ایک کٹھ پتلی کا کردارادا کیا اور یوں نوے کی دہائی میں مسلسل منتخب ایوانوں کو تحلیل کیا جاتا رہا۔اس دہائی کی ڈراموں کا ری میک موجودہ اسمبلی کے دور میں بنا اور ان سازشی دھرنوں میں عمران خان اور ان کی جماعت تحریک انصاف نے کردار ادا کیا۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ نواز شریف اور مسلم لیگ نون ماضی سے سبق نہیں سیکھتے ان کے لئے یہ بڑا اور واضح جواب ہے کہ ماضی کے سیکھے ہوئے سبق کی وجہ سے ہی نواز شریف اور مسلم لیگ نے اس سے پہلے آصف زرداری کی حکومت اور اسمبلی کی مدت پوری کروانے میں بھی اہم ترین کردارادا کیاتھا، کوئی مانے یا نہ مانے ۔

ہمارے سیاسیات کے پروفیسر صاحب سمجھتے ہیں کہ جمع ، تفریق ہوتی رہتی ہے مگر ہمیں نتیجے کی طرف دھیان دینا چاہئے اور نتیجہ یہی ہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی طرف سے کٹھ پتلی کا کردارادا کرتے ہوئے سازشی دھرنے دئیے جانے اور شیخ رشیدوں کی طرف سے ہر چند دن کے بعد اسمبلی کے خاتمے کی بونگی مارے جانے کے باوجود ملک کی بارہویں اسمبلی نے اپنی مدت پوری کی ہے۔ اسی اسمبلی کی مدت کے دوران پاکستان نے تین بڑے چیلنجوں دہشت گردی ، لوڈ شیڈنگ اور اقتصادی بدحالی کا بھی ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔ ہمارے بہت سارے دوست کہتے ہیں کہ لوڈ شیڈنگ کا جن ابھی تک موجود ہے مگر وہ یہ ضرور تسلیم کرتے ہیں کہ اب یہ جن بے قابو نہیں ہے، بوتل میں بند ہے۔ جمہوریت دشمنوں کے تما م تر حملوں کے باوجود اصلی جمہوریت نے ڈیلیور کیا ہے اور حقیقی اسمبلی نے اپنی آئینی مدت پوری کی ہے جس پراسے تشکیل دینے والے پاکستان کے مجبور و بے کس عوام حقیقی معنوں میں مبارکباد کے مستحق ہیں، امید ہے کہ وہ اس سے حوصلہ پائیں گے اور انتخابات میں جمہوریت کے نام پر فساد مچانے والے غیر جمہوری عناصر کو ان کی کارروائیوں کا اپنے ووٹ کی طاقت سے منہ توڑجواب دیں گے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *