یہ بات ذہن سے نکال دیں کہ الیکشن تاخیر کا شکار ہوں گے، چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے واضح کیا ہے کہ عام انتخابات 2018 کسی صورت تاخیر کا شکار نہیں ہوں گے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے انتخابی اصلاحات سے متعلق ورکرز پارٹی کی جانب سے دائر کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ سپریم کورٹ انتخابی اصلاحات پر 2012 میں فیصلہ دے چکی ہے، جس میں الیکشن کمیشن کے اختیارات کا تعین بھی کردیا گیا ہے۔

درخواست گزار کے مطابق فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر ضابطہ اخلاق طے کیا لیکن انہیں خدشہ ہے کہ انتخابی ضابطہ اخلاق میں تبدیلی کی گئی ہے۔

اس موقع پر ڈی جی الیکشن کمیشن نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ الیکشن ایکٹ 2017 کے بعد الیکشن کمیشن نے ضابطہ اخلاق کا جائزہ لیا اور تمام سیاسی جماعتوں نے مل کر نیا ضابطہ اخلاق بنایا۔

ڈی جی الیکشن کمیشن نے بتایا کہ نیا ضابطہ اخلاق 2018 کے انتخابات کے لیے بنایا گیا ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن خود کو بے بس سمجھتا ہے۔

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ الیکشن کو کسی صورت تاخیر کا شکار نہیں ہونے دیں گے، الیکشن کمیشن بے بس ہو جائے تو اور بات ہے، کاغذات نامزدگی کے معاملے پر الیکشن میں تاخیر کا خدشہ تھا۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ 'الیکشن کمیشن ضابطہ اخلاق پر آج ہی جواب داخل کرے، الیکشن کے معاملات جنگی بنیادوں پر چلنے ہیں، نئے اور پرانے ضابطہ اخلاق کا موازنہ کریں گے'۔

اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے مقدمے کی سماعت کل بروز منگل (5 جون) تک کے لیے ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ عام انتخابات 2018 کا انعقاد 25 جولائی کو ہوگا، جس کے لیے الیکشن کمیشن کی جانب سے شیڈول جاری کیا جاچکا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *