ہمارا روزہ رکھنے کا انداز

اگرچہ میں ایک گناہگار سا مسلمان ہوں تاہم نیکیوں کے حصول کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتا ہوں۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ ثواب حاصل کرنے کے لئے اگرمجھے کچھ بھی کرنا پڑے تو اس سے گریز نہیں کرتا۔ رمضان المبارک کی مقدس ساعتوں میں میرا رویہ حصول ثواب کے لئے کسی قدر جارحانہ ہو جاتا ہے۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ اپنے محلے کی مسجد میں اذان کا شرف مجھے ہی حاصل ہو۔ میری اس کوشش میں کچھ اور لوگ بھی حائل ہونے کی کوشش کرتے ہیں تاہم اپنی شاطرانہ چالوں سے ان سب کو ثواب سے محروم رکھنے میں کامیاب رہتا ہوں۔ ایک دو بار ایک اپنے شوخے ہمسائے سے اس معاملے پر میری ماراماری بھی ہو چکی ہے۔ وہ میرے ثواب میں جب زیاد ہ ہی رکاوٹیں کھڑی کرنے لگا تو میں نے مسجد کے مائیک میں کرنٹ چھوڑ دیا، جونہی اس نے اذان سے پہلے مائیک چیک کرنے کے لئے انگلی سے مائیک پر دستک دی، کرنٹ لگنے کی وجہ سے اس کے منہ سے عجیب و غریب الفاظ نکلے جس کی وجہ سے اس کا داخلہ مسجد میں مکمل طور پر بند کر دیا گیا ۔ اب اذان کا شرف اس گناہگار کو حاصل ہے۔ نماز پڑھتے ہوئے اگر کوئی نمازی غلطی سے میرے سامنے سے گزر جائے تو چاہے نماز کیوں نہ توڑنی پڑے میں اسے سبق سکھا کر ہی بقیہ نماز کی ادائیگی کا اہتمام کرتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ اس مقدس مہینے میں دو متحارب فریقین کو قریب لا کر ان کے درمیان صلح کرانے کا بہت زیادہ اجر ہے اس لئے میری پوری کوشش ہوتی ہے کہ لوگوں میں صلح کراتا رہوں۔ اگرچہ میری ان کوششوں کی وجہ سے اب لوگوں نے لڑنا جھگڑنا ترک کر دیا ہے تاہم یہ نیکی اور اس کا ثواب حاصل کرنے کے لئے میں سال کے باقی مہینوں میں لوگوں کو آپس میں لڑانے کے لئے شرپسندانہ سازشوں میں مصروف رہتا ہوں تاکہ رمضان کے مہینے میں ان کے درمیان صلح کا اہتمام کر کے ثواب کما سکوں۔ اپنی ان نیکیوں پر مبنی سرگرمیوں کی وجہ سے اگرچہ میں اتنا مصروف رہتا ہوں کہ روزے کا اکثر اہتمام نہیں کر پاتا تاہم جب بھی کبھی مجھے روزہ رکھنے کا اتفاق ہوتا ہے تو مجھے ان لوگوں سے شدید نفرت ہو جاتی ہے جو بلاوجہ روزہ خوری کی لت میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں۔ روزہ رکھنے کے بعد میری کوشش ہوتی ہے کہ دوپہر تک نیند کے مزے لوٹتا رہوں اور دو گھنٹے تاخیر سے دفتر پہنچوں تاکہ لوگ مجھے شب بیدار، عبادت گزار اور متقی سمجھیں۔ دفتر جانے کے لئے میں خصوصی طور پر گرلز ہاسٹل والی ٹھنڈی سڑک والا راستہ اختیار کرتا ہوں کیونکہ اس سڑک پر بے اختیار طور پر آپ کو قدرت کے مناظر دیکھنے کو مل جاتے ہیں۔ تاخیر سے دفتر پہنچنے کے بعد اپنے دفتر میں موجود سائلوں کا رش دیکھ کر مجھے بہت غصہ آتا ہے۔ لوگوں کو رمضان المبارک میں بھی اپنے کاموں کی پڑی ہوتی ہے۔ ان ناسمجھ لوگوں کو جھانسہ دینے اور ٹرخانے کے لئے مجھے اکثر بدزبانی کا سہارا بھی لینا پڑتا ہے۔ اس مقصد کے لئے جھوٹ بولنا لازم قرار پاتا ہے تاہم میری پوری کوشش ہوتی ہے کہ بدزبانی اور جھوٹ کے باوجود زبان کا روزہ نہ ٹوٹے۔ کچھ جلدباز قسم کے سائل ہر قیمت پر اپنا کام کرانے کے لئے ہمیں لالچ دینے کی کوشش کرتے ہیں جس کی وجہ سے انسانیت کی خدمت کا جذبہ ہمارے اندر جاگ اٹھتا ہے اور ہمارا رویہ رشوت لینے کے حوالے سے تاجرانہ قسم کا ہو جاتا ہے۔ چونکہ ہم نے یہ سن رکھا ہے کہ اس مہینے میں جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں لہٰذا اس بندش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم رشوت کے نرخ اشیاء خوردونوش کی طرح کئی گنا بڑھا دیتے ہیں۔ ہمارے ایک دوست کا خیال ہے کہ رشوت لینے سے ہاتھوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے حالانکہ اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ اس مہینے میں ہم نے کبھی رشوت کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔ سائلین سے ایزی پیسہ اکاؤنٹ میں رقوم منتقل کرنے کا کہا جاتا ہے لہٰذا اس پیسے کو ہاتھ لگانے کی ضرورت تک محسوس نہیں ہوتی۔ دفتر میں کام کرنے والی خواتین کے پاس اس مہینے میں ہمارا آنا جانا کچھ زیادہ ہو جاتا ہے ہم ان کے ساتھ روزہ خوروں کے بارے میں دل کھول کر تبادلہ خیال کرتے ہوئے خود کو متقی اور پرہیزگار ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاہم اسی بہانے ان کی خوبصورتی، ملبوسات، پہناوے، آرائش و زیبائش اور چال ڈھال کی تعریف و توصیف کا موقع بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ قومی سطح پر اگرچہ اس ماہ مقدس میں دفتری اوقات میں نمایاں کمی کر دی جاتی ہے لیکن اپنی اوقات دکھانے کے لئے ہم نے کبھی بخل سے کام نہیں لیا۔ صبح دو گھنٹے تاخیر سے دفتر آتے ہیں اور دو گھنٹے دفتر میں بیٹھ کر اخبارات کا مطالعہ کرنے کے ساتھ ساتھ غیبت ٹائم کا دوستوں کے ساتھ مل کر بھرپور لطف اٹھاتے ہیں اور بقیہ ٹائم ظہر کی نماز کی تیاری کے لئے دفتر سے نکل جاتے ہیں۔ یہ بات ہمیں معلوم ہے کہ غیبت کے بارے میں کہا گیا ہے کہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے آپ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھا رہے ہوں تاہم چونکہ ہم روزے کی حالت میں ہوتے ہیں اس لئے کھانے پینے کی چیزوں سے اجتناب ہم سب پر لازم ہے۔ ہم روزے کی حالت میں خود کو باقی لوگوں سے افضل سمجھنا شروع کر دیتے ہیں اور ہمارا خیال ہوتا ہے کہ لوگ ہمیں تحسین آمیز نظروں سے دیکھیں۔ افطار کے لئے خصوصی دعوت دیں یا پھر ہمارے گھر افطاری کا سامان بھجوا کر ہمارے اس نیک عمل کی پذیرائی کا ثبوت بھی دیں۔ واضح رہے کہ نیکیوں کے معاملے میں ہم دکھاوا کرنے کے سخت خلاف ہیں تاہم کرکٹ میچوں پر جوا کھیل کر زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کی کوشش ضرور کرتے ہیں تاکہ اس رقم میں سے غریبوں کی مدد کی جا سکے۔ اس مقصد کے لئے ہم تمام ٹی وی چینلز کو بلا کر مستحقین میں تحائف تقسیم کرنے کی ویڈیوز ضرور بنوا لیتے ہیں تاکہ یہ نیکی ترغیب کے لئے لوگوں تک پہنچائی جا سکے۔ امید ہے آپ کو ہمارا روزہ رکھنے کا یہ انداز ضرور پسند آیا ہو گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *