الیکشن2018 : چند حقائق

اللہ کا شکر ہے پچیس جولائی کے الیکشن کے انعقاد میں اب بظاہر کوئی شک وشبہ نہیں رہا۔ ان الیکشن کے بعد ملک کی سیاسی صورت حال کیا ہو گی ، اس کا اندازہ لگانے سے پہلے ان حقائق کا جاننا ضروری ہے جن کی صورت گری پچھلے پانچ برسوں میں ہوئی ہے ۔  الیکشن میں ن لیگ کی غیر متوقع مگر واضح برتری کے بعد مقتدر قوتوں نے اسے حکومت بنانے کی اجازت دے دی ۔ اور رکاوٹ ڈالنے کا کوئی منصوبہ نہ بنایا ۔ بہر کیف یہ اجازت انتہائی بادل نخواستہ دی گئی ۔ پرویز مشرف فین کلب نے اسے ٹھنڈے پیٹوں قبول نہ کیا اور تیل دیکھو اور تیل کی دھار دیکھو کے مترادف انتظار کرنے
کا فیصلہ کیا۔  پی پی کو معلوم ہو گیا کہ اسے اب اپنی بقاء کی جنگ لڑنی ہے ۔ اس لیے اس نے نواز شریف سے دوستانہ اپوزیشن کا فیصلہ کیا ۔ دوسری طرف جسمانی اور نفسیاتی دونوں طرح کے زخمیوں سے گھائل عمران خان کے اندر ’فائیٹر‘ کھلاڑی نے حقیقی اپوزیشن کی جگہ خالی دیکھ اس پر قبضہ کر نے کا بہترین فیصلہ کیا ۔  الیکشن میں ہیوی مینڈیٹ ملنے کے بعدنواز شریف ایک دفعہ پھر اس غلط فہمی کا شکار ہوگئے اب ان کا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے ۔ سوچ درست تھی کہ ترقی کرنی ہے تو ہمسایہ انڈیا سے کوئی پھڈا نہیں لینا۔ ورنہ اپنے اندرکی دہشت گردی کوشش کے باوجود ختم نہیں ہوگی۔ اس لیے مودی سے دوستی کا ہاتھ بڑھایا ۔ نفرت کی دکان کا منافع کھانے والوں کے لیے یہی کافی تھا لیکن ا س کے بعد مشرف کیخلاف مقدمہ کر دیا ۔نواز شریف نے دشمنی کے سارے جینز اونٹ سے لیے ہیں ۔اس لیے بہت کچھ اندازہ ہونے کے باوجود ڈٹ گئے۔ یوں اسٹیبلشمنٹ سے سرد جنگ کا آغاز ہو گیا۔ دوسری غلطی انھوں نے گھر آئے چودھریو ں، منظوروٹو اور شیخ رشید کو واپس کر کے کی۔ بعد میں گھر کے ان بھیدیوں نے ان کی لنکا ڈھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ عمران خاں کا سپانسرڈ دھرنا اسی ’’ جرأت ‘‘ کی سزا اور سرد جنگ کی ابتدا تھی۔ یہ دھرنا راحیل شریف کی طرف سے نہیں ’پرو ‘پرویز مشرف گروپ کی طرف سے تھا۔ اس لیے بچ گئے ۔مگر انھیں اس کی بھاری قیمت چکانا پڑی۔عمران خان جزوی طور پردرست کہتے ہیں’۔ کیونکہ ایمپائر‘ پرانا تھا ، نیا نہیں ۔ ماڈل سانحہ کی جتنی مرضی تاویلیں کر لی جائیں ، وہ کم ازکم پنجاب حکومت کی خوفناک غفلت پر منتج ہو تا ہے۔ اس مقدمے کے پنجرے میں ایسا طوطا قید ہے جس میں شہباز شریف اور راناثناء اللہ کی جان ہے۔ دشمنوں کو جب بھی ضرورت پڑی وہ طوطے کی گردن پرمروڑنے میں ذرہ بھر دیر نہیں لگائیں گے۔  ن لیگ کی سب سے بڑی’’ غلطی‘‘ یہ ہے کہ اس نے اپنی کارکردگی کی بنیاد پر الیکشن میں کامیابی کی کنجی حاصل کر لی تھی۔ یہ’ سیاسی خود کفالت ‘‘ کسی طور بھی اسٹیبلشمنٹ کو گوارا نہیں تھی ۔ جب صاف نظر آنے لگا کہ لوڈ شیڈنگ ، دہشت گردی کا خاتمہ ،کراچی کا امن و امان ، سی پیک کا گیم چینجر منصوبہ نواز شریف کے کھاتے میں پڑ رہا ہے تو پانامہ کا پھندا ڈالا گیا۔ ا س کے ذریعے سے وننگ کمبی نیشن توڑنے کی منصوبہ بندی کی گئی ۔اس میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کر لی گئی ہے ، لیکن پلڈاٹ سمیت اعدادو شمار یہی کہہ رہے ہیں کہ معاملہ بالکل ویسا ہی ہے جیسا کہ1976کے الیکشن میں متحدہ قومی اتحاد کے مقابلے میں پیپلز پارٹی کا تھا۔ فضا عمران خاں کی بنا دی گئی ہے لیکن معاملہ الٹا ہو سکتا ہے ۔ دھرنے سے لے کر نااہلی کے یہ سارے انتظامات اس لیے نہیں کیے گئے آخر ی موقع پر میدان پھر خالی چھو ڑ دیا جائے ۔ خلاف آئین اقدام کی بدنامی بھی مول نہیں لی جا سکتی کیونکہ اس کے لئے بین الاقوامی حالات کی وجہ سے کوئی جگہ نہیں بنتی ۔ ورنہ پہلے مواقع ملے تھے، مگر انھیں کسی طور بھی گوارا نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ لوگ ضیاء الحق کی تاریخ دہرانے کی بات کرتے ہیں لیکن بے نظیر بھٹو کی شہادت سے بڑا سانحہ کیا ہو گا ؟ سپہ سالار سے منسوب بیان کہ نواز شریف بڑے چھکے چوکے لگانے آیا تھا لیکن ایک نہ چلنے دی گئی، سے واضح ہے کہ مرکز میں الیکشن2018 : چند حقائق
اللہ کا شکر ہے پچیس جولائی کے الیکشن کے انعقاد میں اب بظاہر کوئی شک وشبہ نہیں رہا۔ ان الیکشن کے بعد ملک کی سیاسی صورت حال کیا ہو گی ، اس کا اندازہ لگانے سے پہلے ان حقائق کا جاننا ضروری ہے جن کی صورت گری پچھلے پانچ برسوں میں ہوئی ہے ۔  الیکشن میں ن لیگ کی غیر متوقع مگر واضح برتری کے بعد مقتدر قوتوں نے اسے حکومت بنانے کی اجازت دے دی ۔ اور رکاوٹ ڈالنے کا کوئی منصوبہ نہ بنایا ۔ بہر کیف یہ اجازت انتہائی بادل نخواستہ دی گئی ۔ پرویز مشرف فین کلب نے اسے ٹھنڈے پیٹوں قبول نہ کیا اور تیل دیکھو اور تیل کی دھار دیکھو کے مترادف انتظار کرنے
کا فیصلہ کیا۔ پی پی کو معلوم ہو گیا کہ اسے اب اپنی بقاء کی جنگ لڑنی ہے ۔ اس لیے اس نے نواز شریف سے دوستانہ اپوزیشن کا فیصلہ کیا ۔ دوسری طرف جسمانی اور نفسیاتی دونوں طرح کے زخمیوں سے گھائل عمران خان کے اندر ’فائیٹر‘ کھلاڑی نے حقیقی اپوزیشن کی جگہ خالی دیکھ اس پر قبضہ کر نے کا بہترین فیصلہ کیا ۔  الیکشن میں ہیوی مینڈیٹ ملنے کے بعدنواز شریف ایک دفعہ پھر اس غلط فہمی کا شکار ہوگئے اب ان کا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے ۔ سوچ درست تھی کہ ترقی کرنی ہے تو ہمسایہ انڈیا سے کوئی پھڈا نہیں لینا۔ ورنہ اپنے اندرکی دہشت گردی کوشش کے باوجود ختم نہیں ہوگی۔ اس لیے مودی سے دوستی کا ہاتھ بڑھایا ۔ نفرت کی دکان کا منافع کھانے والوں کے لیے یہی کافی تھا لیکن ا س کے بعد مشرف کیخلاف مقدمہ کر دیا ۔نواز شریف نے دشمنی کے سارے جینز اونٹ سے لیے ہیں ۔اس لیے بہت کچھ اندازہ ہونے کے باوجود ڈٹ گئے۔ یوں اسٹیبلشمنٹ سے سرد جنگ کا آغاز ہو گیا۔ دوسری غلطی انھوں نے گھر آئے چودھریو ں، منظوروٹو اور شیخ رشید کو واپس کر کے کی۔ بعد میں گھر کے ان بھیدیوں نے ان کی لنکا ڈھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ عمران خاں کا سپانسرڈ دھرنا اسی ’’ جرأت ‘‘ کی سزا اور سرد جنگ کی ابتدا تھی۔ یہ دھرنا راحیل شریف کی طرف سے نہیں ’پرو ‘پرویز مشرف گروپ کی طرف سے تھا۔ اس لیے بچ گئے ۔مگر انھیں اس کی بھاری قیمت چکانا پڑی۔عمران خان جزوی طور پردرست کہتے ہیں’۔ کیونکہ ایمپائر‘ پرانا تھا ، نیا نہیں ۔ ماڈل سانحہ کی جتنی مرضی تاویلیں کر لی جائیں ، وہ کم ازکم پنجاب حکومت کی خوفناک غفلت پر منتج ہو تا ہے۔ اس مقدمے کے پنجرے میں ایسا طوطا قید ہے جس میں شہباز شریف اور راناثناء اللہ کی جان ہے۔ دشمنوں کو جب بھی ضرورت پڑی وہ طوطے کی گردن پرمروڑنے میں ذرہ بھر دیر نہیں لگائیں گے۔  ن لیگ کی سب سے بڑی’’ غلطی‘‘ یہ ہے کہ اس نے اپنی کارکردگی کی بنیاد پر الیکشن میں کامیابی کی کنجی حاصل کر لی تھی۔ یہ’ سیاسی خود کفالت ‘‘ کسی طور بھی اسٹیبلشمنٹ کو گوارا نہیں تھی ۔ جب صاف نظر آنے لگا کہ لوڈ شیڈنگ ، دہشت گردی کا خاتمہ ،کراچی کا امن و امان ، سی پیک کا گیم چینجر منصوبہ نواز شریف کے کھاتے میں پڑ رہا ہے تو پانامہ کا پھندا ڈالا گیا۔ ا س کے ذریعے سے وننگ کمبی نیشن توڑنے کی منصوبہ بندی کی گئی ۔اس میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کر لی گئی ہے ، لیکن پلڈاٹ سمیت اعدادو شمار یہی کہہ رہے ہیں کہ معاملہ بالکل ویسا ہی ہے جیسا کہ1976کے الیکشن میں متحدہ قومی اتحاد کے مقابلے میں پیپلز پارٹی کا تھا۔ فضا عمران خاں کی بنا دی گئی ہے لیکن معاملہ الٹا ہو سکتا ہے ۔ دھرنے سے لے کر نااہلی کے یہ سارے انتظامات اس لیے نہیں کیے گئے آخر ی موقع پر میدان پھر خالی چھو ڑ دیا جائے ۔ خلاف آئین اقدام کی بدنامی بھی مول نہیں لی جا سکتی کیونکہ اس کے لئے بین الاقوامی حالات کی وجہ سے کوئی جگہ نہیں بنتی ۔ ورنہ پہلے مواقع ملے تھے، مگر انھیں کسی طور بھی گوارا نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ لوگ ضیاء الحق کی تاریخ دہرانے کی بات کرتے ہیں لیکن بے نظیر بھٹو کی شہادت سے بڑا سانحہ کیا ہو گا ؟ سپہ سالار سے منسوب بیان کہ نواز شریف بڑے چھکے چوکے لگانے آیا تھا لیکن ایک نہ چلنے دی گئی، سے واضح ہے کہ مرکز میں کسی طور اسٹیبلشمنٹ ن لیگ کی حکومت گوارا نہیں کرے گی۔ اگر تحریک انصاف نتائج کے اعتبار سے بالکل ہی فارغ ہو گئی تو ماڈل ٹاؤن کے مقدمے کے ذریعے سے شہباز شریف کا پتا صاف کیا جا سکتا ہے اور چودھری نثار کو کام میں لایا جا سکتا ہے۔ پلاننگ کے مطابق اگر مطلوبہ نتائج حاصل کر لیے گئے تو پھر کیا ہو گا ؟ کیا
عمران خاں کو بی بی کی بشارت لگ سکے گی ؟ کیا اسٹیبلشمنٹ عمران خان جیسے اڑیل گھوڑے کی سواری برداشت کر سکے گی؟کیا شاہ محمود قریشی کے بھائی شاہ مرید حسین نے اپنے بھائی سے جو خوفناک پلان منسوب کیا تھا ،اس پر عمل ہو گا؟ کچھ کہنا خاصا قبل از وقت ہو گا!!! الیکشن2018 : چند حقائق اللہ کا شکر ہے پچیس جولائی کے الیکشن کے انعقاد میں اب بظاہر کوئی شک وشبہ نہیں رہا۔ ان الیکشن کے بعد ملک کی سیاسی صورت حال کیا ہو گی ، اس کا اندازہ لگانے سے پہلے ان حقائق کا جاننا ضروری ہے جن کی صورت گری پچھلے پانچ برسوں میں ہوئی ہے ۔  الیکشن میں ن لیگ کی غیر متوقع مگر واضح برتری کے بعد مقتدر قوتوں نے اسے حکومت بنانے کی اجازت دے دی ۔ اور رکاوٹ ڈالنے کا کوئی منصوبہ نہ بنایا ۔ بہر کیف یہ اجازت انتہائی بادل نخواستہ دی گئی ۔ پرویز مشرف فین کلب نے اسے ٹھنڈے پیٹوں قبول نہ کیا اور تیل دیکھو اور تیل کی دھار دیکھو کے مترادف انتظار کرنے
کا فیصلہ کیا۔  پی پی کو معلوم ہو گیا کہ اسے اب اپنی بقاء کی جنگ لڑنی ہے ۔ اس لیے اس نے نواز شریف سے دوستانہ اپوزیشن کا فیصلہ کیا ۔ دوسری طرف جسمانی اور نفسیاتی دونوں طرح کے زخمیوں سے گھائل عمران خان کے اندر ’فائیٹر‘ کھلاڑی نے حقیقی اپوزیشن کی جگہ خالی دیکھ اس پر قبضہ کر نے کا بہترین فیصلہ کیا ۔  الیکشن میں ہیوی مینڈیٹ ملنے کے بعدنواز شریف ایک دفعہ پھر اس غلط فہمی کا شکار ہوگئے اب ان کا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے ۔ سوچ درست تھی کہ ترقی کرنی ہے تو ہمسایہ انڈیا سے کوئی پھڈا نہیں لینا۔ ورنہ اپنے اندرکی دہشت گردی کوشش کے باوجود ختم نہیں ہوگی۔ اس لیے مودی سے دوستی کا ہاتھ بڑھایا ۔ نفرت کی دکان کا منافع کھانے والوں کے لیے یہی کافی تھا لیکن ا س کے بعد مشرف کیخلاف مقدمہ کر دیا ۔نواز شریف نے دشمنی کے سارے جینز اونٹ سے لیے ہیں ۔اس لیے بہت کچھ اندازہ ہونے کے باوجود ڈٹ گئے۔ یوں اسٹیبلشمنٹ سے سرد جنگ کا آغاز ہو گیا۔ دوسری غلطی انھوں نے گھر آئے چودھریو ں، منظوروٹو اور شیخ رشید کو واپس کر کے کی۔ بعد میں گھر کے ان بھیدیوں نے ان کی لنکا ڈھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ عمران خاں کا سپانسرڈ دھرنا اسی ’’ جرأت ‘‘ کی سزا اور سرد جنگ کی ابتدا تھی۔ یہ دھرنا راحیل شریف کی طرف سے نہیں ’پرو ‘پرویز مشرف گروپ کی طرف سے تھا۔ اس لیے بچ گئے ۔مگر انھیں اس کی بھاری قیمت چکانا پڑی۔عمران خان جزوی طور پردرست کہتے ہیں’۔ کیونکہ ایمپائر‘ پرانا تھا ، نیا نہیں ۔ ماڈل سانحہ کی جتنی مرضی تاویلیں کر لی جائیں ، وہ کم ازکم پنجاب حکومت کی خوفناک غفلت پر منتج ہو تا ہے۔ اس مقدمے کے پنجرے میں ایسا طوطا قید ہے جس میں شہباز شریف اور راناثناء اللہ کی جان ہے۔ دشمنوں کو جب بھی ضرورت پڑی وہ طوطے کی گردن پرمروڑنے میں ذرہ بھر دیر نہیں لگائیں گے۔  ن لیگ کی سب سے بڑی’’ غلطی‘‘ یہ ہے کہ اس نے اپنی کارکردگی کی بنیاد پر الیکشن میں کامیابی کی کنجی حاصل کر لی تھی۔ یہ’ سیاسی خود کفالت ‘‘ کسی طور بھی اسٹیبلشمنٹ کو گوارا نہیں تھی ۔ جب صاف نظر آنے لگا کہ لوڈ شیڈنگ ، دہشت گردی کا خاتمہ ،کراچی کا امن و امان ، سی پیک کا گیم چینجر منصوبہ نواز شریف کے کھاتے میں پڑ رہا ہے تو پانامہ کا پھندا ڈالا گیا۔ ا س کے ذریعے سے وننگ کمبی نیشن توڑنے کی منصوبہ بندی کی گئی ۔اس میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کر لی گئی ہے ، لیکن پلڈاٹ سمیت اعدادو شمار یہی کہہ رہے ہیں کہ معاملہ بالکل ویسا ہی ہے جیسا کہ1976کے الیکشن میں متحدہ قومی اتحاد کے مقابلے میں پیپلز پارٹی کا تھا۔ فضا عمران خاں کی بنا دی گئی ہے لیکن معاملہ الٹا ہو سکتا ہے ۔  دھرنے سے لے کر نااہلی کے یہ سارے انتظامات اس لیے نہیں کیے گئے آخر ی موقع پر میدان پھر خالی چھو ڑ دیا جائے ۔ خلاف آئین اقدام کی بدنامی بھی مول نہیں لی جا سکتی کیونکہ اس کے لئے بین الاقوامی حالات کی وجہ سے کوئی جگہ نہیں بنتی ۔ ورنہ پہلے مواقع ملے تھے، مگر انھیں کسی طور بھی گوارا نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ لوگ ضیاء الحق کی تاریخ دہرانے کی بات کرتے ہیں لیکن بے نظیر بھٹو کی شہادت سے بڑا سانحہ کیا ہو گا ؟سپہ سالار سے منسوب بیان کہ نواز شریف بڑے چھکے چوکے لگانے آیا تھا لیکن ایک نہ چلنے دی گئی، سے واضح ہے کہ مرکز میں کسی طور اسٹیبلشمنٹ ن لیگ کی حکومت گوارا نہیں کرے گی۔ اگر تحریک انصاف نتائج کے اعتبار سے بالکل ہی فارغ ہو گئی تو ماڈل ٹاؤن کے مقدمے کے ذریعے سے شہباز شریف کا پتا صاف کیا جا سکتا ہے اور چودھری نثار کو کام میں لایا جا سکتا ہے۔ پلاننگ کے مطابق اگر مطلوبہ نتائج حاصل کر لیے گئے تو پھر کیا ہو گا ؟ کیا
عمران خاں کو بی بی کی بشارت لگ سکے گی ؟ کیا اسٹیبلشمنٹ عمران خان جیسے اڑیل گھوڑے کی سواری برداشت کر سکے گی؟کیا شاہ محمود قریشی کے بھائی شاہ مرید حسین نے اپنے بھائی سے جو خوفناک پلان منسوب کیا تھا ،اس پر عمل ہو گا؟ کچھ کہنا خاصا قبل از وقت ہو گا!!! کسی طور اسٹیبلشمنٹ ن لیگ کی حکومت گوارا نہیں کرے گی۔ اگر تحریک انصاف نتائج کے اعتبار سے بالکل ہی فارغ ہو گئی تو ماڈل ٹاؤن کے مقدمے کے ذریعے سے شہباز شریف کا پتا صاف کیا جا سکتا ہے اور چودھری نثار کو کام میں لایا جا سکتا ہے۔ پلاننگ کے مطابق اگر مطلوبہ نتائج حاصل کر لیے گئے تو پھر کیا ہو گا ؟ کیا عمران خاں کو بی بی کی بشارت لگ سکے گی ؟ کیا اسٹیبلشمنٹ عمران خان جیسے اڑیل گھوڑے کی سواری برداشت کر سکے گی؟کیا شاہ محمود قریشی کے بھائی شاہ مرید حسین نے اپنے بھائی سے جو خوفناک پلان منسوب کیا تھا ،اس پر عمل ہو گا؟ کچھ کہنا خاصا قبل از وقت ہو گا!!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *