”دفاع عمران.... رد ریحام“ مہم

پیر کی رات سے سر پکڑے بیٹھا ہوں۔ دانا دشمن اور نادان دوست کے درمیان لیکن فرق سمجھ آنا بھی شروع ہوگیا ہے۔ شدید رنج مگر تحریک انصاف سے دیوانہ وار وابستہ ہونے کے دعوے دار ان سپر سمجھ داروں کی عقل پر ہو رہا ہے جو شاید بہت خلوص مگر احمقانہ اعتماد کے ساتھ ریحام خان کو ”تباہ“ کرنے کے مشن پر مامور ہوگئے تھے۔اپنی بات بڑھانے سے قبل میرے لئے یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ محترمہ ریحام خان صاحبہ نے میرے ساتھ ”آج“ ٹیلی وژن میں کام کیا ہے۔ روزمرہّ دفتری امور کے حوالے سے وہ محض میری ساتھی تھیں۔ سینئر/جونیئر والا قصہ نہیں تھا۔ وہ اور میں اپنے اپنے خودمختار دائروں تک محدود تھے۔اس حقیقت کے باوجود محترمہ نے ہمیشہ میرا بہت احترام کیا۔ میں ان کے مہذب روئیے کی قدر کرتا ہوں۔ دوسرے لوگوں کے ساتھ ان کا رویہ اور تعلق کیسا رہا،مجھے اس سے کوئی غرض نہیں۔ لوگوں کی ذاتی زندگیوں کو جھانکنے کا مجھے ویسے بھی شوق نہیں۔ غیبت بھری کہانیوں سے بھی دلچسپی نہیں۔ دوستوں کے حوالے سے میرا دائرہ بہت ہی محدود ہے۔ خود کو اپنے گھر کے تنہا گوشے میں بٹھائے رکھنے میں بہت آرام محسوس کرتا ہوں۔اکثر اوقات میری بیوی اور بچیوں کو ”میری ”اجنبیت“ پر غصہ آتا ہے۔ مجھے بے خطا ٹھہرا کر مگر معاف کردیتی ہیں۔ ان کی محبت ومہربانی کا شکریہ۔
محترمہ ریحام خان صاحبہ نے لیکن High Profile زندگی گزاری ہے۔عمران خان صاحب جیسے قدآور سیاسی رہنما سے ان کی شادی ہوگئی۔ یہ شادی مگر بدقسمتی سے زیادہ دیر چل نہ پائی۔ اس کا انجام کافی تلخ انداز میں ہوا۔ علیحدگی کے اس عمل کو شاید وہ فراموش کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ مجھے یہ حق ہرگز حاصل نہیں کہ یہ فیصلہ کروں کہ ان کا رویہ مناسب ہے یا نہیں۔ وہ جانیں اور ان کا کام۔ پڑھی لکھی خودمختار اور کافی سمجھ دار خاتون ہیں۔ اپنے برے بھلے کو مجھ سے کہیں زیادہ بہتر سمجھتی ہوں گی۔ مجھے ویسے بھی ”تو کون میں خواہ مخواہ“ والا ناصح/دوست وغیرہ ہونے کا کوئی شوق نہیں ہے۔ عمران خان صاحب سے علیحدگی کے بعد یہ کہانی مشہور ہوئی کہ وہ اپنی زندگی کے بارے میں خود نوشت نما کتاب لکھ رہی ہیں۔ باتوں باتوں میں ایک ملاقات کے دوران ان سے اس ضمن میں تصدیق چاہی تو انہوں نے ”ہاں“ میں جواب دیا۔ اس کے بعد میں نے کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ وہ اپنی کتاب کیوں لکھ رہی ہیں۔اس میں کیا لکھنے کا ارادہ ہے۔ اس کی اشاعت کا بندوبست کیسے ہوگا اور یہ کتاب مارکیٹ میں کب آئے گی۔
تحریک انصاف کے دوستوں نے مگر کئی ماہ قبل یہ بات پھیلانا شروع کردی کہ شہبازشریف صاحب نے مبینہ طور پر بھاری رقم دے کر محترمہ ریحام خان کو مذکورہ کتاب لکھنے کی ترغیب دی ہے۔ یہ کتاب انتخابی مہم کے قریب بازار میں لائی جائے گی۔شاید مسلم لیگ نون کا پبلسٹی سیل اسے کثیر تعداد میں خرید کر لوگوں میں مفت تقسیم کرے گا۔ اس ساری ”مہم“ کا مقصد عمران خان کو ریحام خان کے ہاتھوں ”بدنام“ کرنا بتایا گیا ۔ ایمان داری کی بات یہ بھی ہے کہ میں نے ان کی پھیلائی ان باتوں پر ذرا سی توجہ نہیں دی۔
اپنی عمر کی 3کے قریب دہائیاں میں نے سیاسی اور انتخابی عمل کو کمر توڑ محنت سے دیکھتے ہوئے رپورٹنگ کی نذر کی ہیں۔ اپنے تجربے کی بدولت بہت اعتماد کےساتھ یہ دعویٰ کرسکتا ہوں کہ منفی پراپیگنڈہ پر مبنی مضامین اور کتابیں کسی سیاستدان کو ہرگز نقصان نہیں پہنچاتیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کو بہت شدت ا ور تواتر کےساتھ ”گھانسی رام“ کہہ کر بدنام کیا گیا تھا۔ جنرل ضیاءنے اقتدار پر قابض ہوجانے کے بعد 1977-78میں ”ظلم کی داستانوں“ کے بھاری بھر کم ایڈیشنز شائع کروائے تھے۔ ان کی ادارت انگریزی اور اُردو صحافت کے چند بہت ہی بااثر صحافیوں کے ہاتھوں میں تھی۔
بیگم نصرت بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کے بارے میں بھی غلیظ کہانیوں اور جھوٹی تصاویر کا سیلاب پھیلایا گیا تھا۔ عمران خان صاحب بھی سیاست میں آنے کے بعد سے اکثر چسکہ بھری غیبت کا نشانہ بنے ہیں۔محترمہ ریحام خان صاحبہ کی لکھی کتاب اس ضمن میں شاید کوئی نیا طوفان کھڑا نہ کرپاتی۔
محترمہ ریحام خان صاحبہ سے جس کتاب کی توقع کی جارہی تھی وہ ابھی مارکیٹ میں آئی نہیں تھی کہ عمران کے عشق میں مبتلا ہونے کے دعوے دار ایک اداکار نے جو میری طرح ٹی وی اینکری کے ذریعے سماج سدھارنے کے زعم میں مبتلا بھی نظر آتے ہیں اس کتاب کا مسودہ کسی نہ کسی طریقے سے حاصل کرلینے کا اعلان کردیا۔ اس عہد کے ساتھ کہ وہ مذکورہ کتاب کے ذریعے ”گند پھیلانے“ کی کوششوں کو ناکام بنادیں گے۔ ان کی ”دفاعِ عمران ردِ ریحام“ مہم شروع ہوئی تو ٹی وی چینلوں پر رونق لگ گئی۔ ٹی وی ٹاک شوز کے لئے رمضان کا مقدس مہینہ دھندے کے اعتبار سے Slow تصور ہوتا ہے۔ چند برس قبل ان دنوں ڈاکٹر عامر لیاقت صاحب نے ”رونق“ لگانے کے نئے طریقے دریافت کئے تھے۔ Celebrity”عالم“ ہوگئے۔ ہر سٹار کی ہر فلم مگر ہر بار کھڑکی توڑ رش نہیں لیتی۔ ان کی جگہ لینے کو دوسرے لوگ آگے بڑھے تو عدالت کی جانب سے Stop Itکا حکم آگیا۔ ٹی وی چینل پریشان ہوگئے کہ اب کیا بیچیں۔ ان کے ساتھی اداکار کی جانب سے ”دفاعِ عمران-ردِ ریحام“ کی مہم نے بھاگ جگا دئیے۔ پیر کے دن مگر پنجابی والی حد ”مک گئی“۔اتوار کی رات سے مجھے Whatsappکے ذریعے کئی نامعلوم افراد کی جانب سے ایک ”قانونی نوٹس“ کا مسودہ ملنا شروع ہوگیا۔ یہ نوٹس مبینہ طورپر محترمہ ریحام خان صاحبہ کو برطانیہ کی ایک لافرم نے بھیجا تھا۔ اس نوٹس کے پہلے صفحے پر موٹے موٹے الفاظ میں لکھا گیا تھا کہ اسے صرف ریحام خان صاحبہ بذاتِ خود مہربند لفافہ کھول کرپڑھیں گی۔مجھے بہت حیرت ہوئی کہ وہ”قانونی نوٹس“ جسے ریحام خان صاحبہ نے مہربند لفافہ کھول کر پڑھنا تھا Whatsappکے ذریعے مشتہر کیوں کیا جارہا ہے۔اس نوٹس کے ذریعے ریحام خان صاحبہ کو سخت الفاظ میں متنبہ کیا گیا تھا کہ وہ فلاں فلاں صاحب یا صاحبہ کے بارے میں فلاں فلاں ”غلیظ اور بے بنیاد“ باتیں جو انہوں نے مبینہ طورپر اپنی کتاب کے فلاں فلاں صفحات پر لکھی ہیں ہرگز شائع نہ کریں۔ وہ باتیں شائع ہوگئیں تو....مقصد اگر اس نوٹس کا محترمہ ریحام خان صاحبہ کو فلاں فلاں شخصیات کے بارے میں ”غلیظ اور بے بنیاد“ باتوں کی اشاعت سے روکنا تھا تو وہ اس نوٹس کی Whatsappکے ذریعے تشہیر سے قطعاًََ ناکام ہوگیا، ٹی وی چینلوں نے بلکہ ان باتوں کو جن کی اس ”قانونی نوٹس“ کے ذریعے تشہیر روکنا مقصود تھی بینڈ باجے والی Breaking Newsکے ساتھ اپنے ”خبرناموں“ میں بیان کرناشروع کردیا۔ محترمہ ریحام خان اور ”دفاعِ عمران-ردِ ریحام“ کے مشن پر مامور اداکار کے انٹرویوز بھی ہمارے ملک کے سب سے بااصول اور ریٹنگ کے بادشاہ مشہور ہوئے ایک اینکر نے اپنے شو میں بہت اہتمام سے آنکھیں مٹکاتے ہوئے پیر کی رات کرلئے۔ ”غلیظ اور بے بنیاد“ باتوں کی خوب تشہیر ہوگئی۔ جبکہ ”دفاعِ عمران-ردِ ریحام“ مہم کا بنیادی مقصد ان باتوں کو برسرِ عام آنے سے روکنا تھا۔ ان سب باتوں سے وسیم اکرم کو اپنی مرحومہ بےوی کے حوالے سے اور تحریک انصاف سے وابستہ ایک نیک دل خاتون کو جو تکلیف پہنچی ہوگی اس کے بارے میں کسی نے سوچنے کا تردد ہی نہیں کیا۔ Ratingsکی ہوس نے سب برباد کرکے رکھ دیا اور مزید دُکھ اس بات کا بھی ہے کہ ”مردہ بھائی کے گوشت“ کو جسے غیبت کہا جاتا ہے انتہائی ڈھٹائی سے رمضان کے مقدس مہینے میں مارکیٹ کیا گیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *