پی ٹی آئی کے اندرونی تنازعات

"عارفہ نور"

خدا جسے تباہ کرنا چاہے اسے پہلے پاگل بنا دیتا ہے۔ پی ٹی آئی کو دیکھ کر یہی الفاظ ذہن میں آتے ہیں۔ اور وہ بھی ایسے وقت میں جب یہ پارٹی اپنی پہلی انتخابی جیت سے صرف کچھ ہفتے کی دوری پر ہے۔ پانچ سال قبل پی ٹی آئی ایک شاندار انتخابی پارٹی کی حیثیت حاصل کر چکی تھی۔ بہت سے تجزیہ کاروں کے مطابق، ایسا لگتا ہے کہ کے پی کے میں ایک بار پھر پی ٹی آئی کو ہی اقتدار ملے گا۔ کے پی کے میں  ایم ایم اے، ایے این پی، پی پی  کی سب سے بڑی دشمن پی ٹی آئی ہی ہے۔ اور پنجاب میں ن لیگ کا مقابلہ کرنے والی تنہا جماعت بھی پی ٹی آئی ہیی ہے۔ پی پی کے علاوہ سندھ میں بھی شہری آبادی کی توجہ حاص  کرنے میں یہ پارٹی       کامیاب رہی ہے جس کی وجہ ایم کیو ایم کا ٹوٹنا ہے۔ پانچ سال پہلے جب ایم کیو ایم کے پاس کراچی کا پورا کنٹرول تھا تب بھی کراچی میں زیادہ ووٹ سمیٹنے والوں میں پی ٹی آئی دوسرے نمبر پر تھی۔ یہ سب چیزیں پارٹی کی نظر میں ہوئی ہون گی جب پی ٹی آئی نے حال ہی میں لاہور مینا ر پاکستان پر جلسہ کیا اور 11 نکاتی ایجنڈا بیان کیا اس کے بعد سو روزہ پلان بھی جاری کیا گیا  جس کے جواب میں ن لیگ کو آدھی کابینہ کو دفاعی پوزیشن پر لگانا پڑا۔

اور پھر حالات بدلنے لگے۔

پہلا واقعہ جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی کے بیچ پارٹی میٹنگ کے ددوران جھگڑے کا تھا جس نے میڈیا میں بہت توجہ حاصل کی۔ یہ دونوں جنوبی پنجاب کے لیڈرز کبھی دوست نہیں رہے اور ان کی توتو میں میں ہمیشہ موضوع بحث رہی ہے۔

اس کے بعد کئیر ٹیکر گورنمنٹ کے حوالے سے فیصلہ پر یو ٹرن کا واقعہ پیش آیا۔ اس واقعہ سے پی ٹی آئی کی ساخت کو سخت نقصان پہنچا۔ پارٹی نے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی  کبھی ہان کبھی ناں والا رویہ اپنایا۔ کے پی کے مقابلے میں پنجاب کے نگران وزیر اعلی کے لیے پارٹی نے ناصر کھوسہ کا نام دیا۔

نام پر اتفاق ہو گیا تو اگلے دن صرف سوشل میڈیا ری ایکشن کے نام سے پارٹی نے نام واپس لیا ۔ یا پھر چونکہ شریف برادران اس نام پر متفق ہو گئے تھے یہ بات پی ٹی آئی کو پسند نہ آئی۔  کچھ لوگوں نے اس فیصلے کی وجہ خلائی مخلوق کا حکم قرار دیا ۔ پارٹی کا کوئی بھی رکن اس فیصلے کی تسلی بخش وضاحت دینے میں ناکام رہا۔ ابھی لوگ اسی فیصلے پر مذاق اڑانے سے باز نہیں آئے تھے کہ پارٹی نے پھر سے آگ میں ہاتھ ڈال دیا۔ اس بار پارٹی نے جو نام تجویز کیے ان میں ایک متنازعہ شخصیت  جس کے فرسودہ خیالات اس کی شہرت کی وجہ ہیں کا نام شامل کر لیا گیا۔

اب ایک طرف فواد چوہدری بتار ہے تھے کہ اس شخصیت یعنی اوریا مقبول جان کا نام لسٹ میں شامل نہیں ہے تو دوسری طرف محمود الرشید کا کہنا ہے کہ نام عمران خان نے خود فائنل کیا ہے۔ اس بار پہلی بار فواد چوہدری کو لائیو شو میں اعتراف کرنا پڑا کہ پارٹی میں کمیونیکیشن کی کمی کی وجہ سے ایسا ہوا اور انہیں اس قدر خفت بھی اٹھانی پڑی۔ یہ غلطی نہ تو فواد چوہدری کی تھی اور نہ ہی محمود الرشید کی۔ یہ خان صاحب کی فیصلہ سازی کی صلاحیت کی کمی کی وجہ سے تھی۔ کیونکہ خان صاحب جلدی میں فیصلہ کرتے ہیں ۔ تحریک سول نافرمانی کا اعلان بھی آپ کو یاد ہو گا۔ ایسا لگتا ہے کہ جو سب سے آخر میں خان صاحب سے ملتا ہے وہ اسی کی ہاں میں ہاں ملا دیتے ہیں۔

ہوم ورک کی کمی کی وجہ سے ہاں ناں کا یہ سلسلہ  چلا جس میں پہلے کھوسہ صاحب کے نام پر اتفاق ارو پھر انکار ہوا اور پھر اوریا مقبول کا واقعہ۔ یہ بات بھی قبول کرنا مشکل ہے کہ محمود الرشید صاحب  نے بغیر لیڈر شپ کی مرضی کے خود ہی نام میڈیا کے سامنے پیش کر دیا ہو۔ ابھی کئیر ٹیکر حکومت کا مسئلہ حل نہیں ہوا تھا کہ کراچی میں عامر لیاقت صاحب نے ٹویٹر پر ٹکٹ کے معاملے پر ناراضی کا اظہار کر دیا۔ لیکن عامر لیاقت  کا یہ طریقہ پنجاب میں بھی مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔ چونکہ پی ٹی آئی نے بہت سے الیکٹیبلز جمع کر رکھے ہیں  اس لیے ٹکٹ مانگنے والوں کا بھی بہت سخت مقابلہ ہے۔ فیصل آباد کے ایک حلقہ میں سابقہ ن لیگی رانا نصر اللہ گھمن  کو سابقہ وزیر آصف توصیف سے مقابلہ کرنا ہے  جب کہ سیالکوٹ میں فردوس عاشق اعوان  چوہدری امیر حسین کے مقابلے میں  ٹکٹ حاصل کرنے کی خواہش مند ہوں گی۔ ایک حالیہ نیوز سٹوری میں دعوی کیا گیا ہے کہ ملتان سے سکندر بوسن کو مجبورا ن لیگ چھوڑ کا تبدیلی پارٹی کا حصہ بنایا گیا ہے۔

اس فیصلے کی وجہ سے پی ٹی آئی لیڈرز اور این اے 154 اور پی پی 213 سے ٹکٹ کی توقعات رکھنے والوں میں بھی بے چینی  پیدا ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس شخص نے 2013 میں الیکشن کے لیے پارٹی کی پیٹھ میں چھرا گھونپا تھا پارٹی نے اسے ٹکٹ دیا اور اس نے لوٹا بننے کو ترجیح دی۔ جنوبی صوبہ محاذ کے بہت سے ممبران کو بھی خوف ہے کہ شاید انہیں ٹکٹ نہیں ملے گا اور شاید انہیں آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑنا پڑیں۔

ن لیگ کے بر عکس جسے مخالفین کی آواز کودبانا آتا ہے،  پی ٹی آئی کے کارکنان پارٹی کی جیت کے چانسز کو کم کرنے میں لگے ہیں۔ اسی وجہ سے پارٹی نے  ہر کارکن سے حلف لیا ہے کہ اگر اسے ٹکٹ نہ ملا تو وہ پارٹی چھوڑ کر نہیں جائے گا اور نہ پارٹی قیادت کے فیصلون کے خلاف مزاحمت کرے گا۔ پارٹی کو کچھ حلقوں میں ایسی صورتحال کا سامنا ہے جہاں بہت سے لوگ ٹکٹ کے لیے موزوں نظر آتے ہیں اور کچھ حلقے ایسے ہیں جہاں پارٹی  کے پاس مضبوط امیدوار نہیں ہیں۔ مثال کے طور پرلاہور میں بہت سے موزوں امیدوار نظر آتے ہیں جب کہ باقی شہروں میں موزوں امیدواروں کی کمی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پارٹی کو چاہییے کہ اپنے اندر کے حالات درست رکھے  اور فیصلہ سازی کے لیے ایک ادارہ کی طرح کا نظام بنائے جہاں ایک شخص فیصلے نہ کر رہا ہو بلکہ  ایک ٹیم ہو جو میرٹ پر فیصلہ کرے۔ مشاورت اور جمہوری طرز کی فیصلہ سازی سے پارٹی کے اندرونی مسائل کے حل میں مدد ملے گی۔ ورنہ 2018 کے الیکشن میں پارٹی ایک بار پھر جیت کے پنجوں سے ہار چھین لے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *