فخر ملائیشیا : کوالالمپور (سفرنامہ ۵)

اگلے دن کوالالمپور کے پیٹرو ناس ٹون ٹاور (Petronas Twin Tower) کودیکھنے کے شوق نے میری نیند پھر خراب کیے رکھی۔ صبح گیارہ بجے کے قریب فون کی گھنٹی نے اٹھایا۔یہ حسن الیاس تھے۔ فرمانے لگے آئیے آپ کو آج پہلے شاہ عالم کی ایک خاص چیز دکھاتے ہیں۔ میں پندرہ منٹ میں ہوٹل لابی میں تھا۔ وہ مجھے UITM کلچرل سنٹر لے گئے ۔ یہ پانچ منزلہ انتہائی خوب صورت بلڈنگ تھی۔ بچوں، خواتین، علماء اور طلبہ کے لیے ہر قسم کی لائبریری ، سٹڈی رومز، لیکچر ہالز اور دیگر علمی ثقافتی تقریبات کے لیے یہ سنٹر مقامی حکو مت کی طرف سے قریباً مفت مہیا کیا گیا ہے۔ میں یہاں مزید وقت گزارنا چاہتا تھا لیکن ہمارے پاس وقت بہت محدود تھا۔ طلبہ کے لیے تو یقیناًیہ ایک بہت پر کشش جگہ ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ بچے
بھی یہاں پر گھنٹوں انتہائی دلچسپی سے گزار سکتے ہیں ۔خلاصہ یہ کہ والدین بڑی آسانی سے یہاں اپنے بچوں کو چھوڑ کر اپنا علمی وتعلیمی کام کر سکتے ہیں۔ کھلونوں سے لے کر کتب تک ،یہاں ان کی دلچسپی کے ہزاروں سامان ہیں۔وہ خلا کی سیر سے لے کر سٹیج ڈراما تک میں حصہ لے سکتے ہیں ۔ کلچرل سنٹر سے نکل ہم چند جھیلوں سے ہوتے ہوئے دوبارہ ہوٹل پہنچے۔جا بجا بنائی گئی جھیلوں سے یوں محسوس ہوا کہ شاہ عالم اصل میں جھیلوں کے درمیان بسایا گیا بہت ہی خوب صورت شہر ہے۔ موسم البتہ خاصا گرم تھا۔ گاڑی سے باہر کھلی فضا میں گرمی محسوس ہوتی تھی۔ دن کے وقت یہ26سے 28سینٹی گریڈ تھا۔ حسن کہنے لگے کہ آج تمازت کچھ زیادہ ہے اس لیے بارش ضرور ہو گی۔ اور واقعی یہی ہوا۔ دوپہر کو آرام کرنے کے بعد ہم عصر کے قریب شاہ عالم سے گلین میری اور وہاں سے کوالالمپور کے لیے روانہ ہوئے۔ پروگرام کے مطابق سید منظور الحسن بھی ہمارے ساتھ موجود تھے۔جیسے ہی آپ کوالالمپور کے قریب پہنچتے ہیں تو پہلے دائیں بائیں یونیورسٹیوں کی خوب صورت عمارتیں نظر آتی ہیں۔ ان کی اوٹ سے کوالالمپور کی آسمان کی خبر لیتی بلڈنگز آپ کو بتارہی ہوتی ہیں آپ دنیا کے جدید ترین شہر میں داخل ہونے لگے ہیں۔استاذ محترم نے بتایا کہ 1998سے 2002تک پیٹر وناس ٹون ٹاور زکو دنیا کی سب سے اونچی عمارت کا اعزاز رہا۔ اب یہ دنیا کی پانچویں بلند ترین عمارت میں۔ انھوں نے اس کے ساتھ زیر تعمیر KL16کی عمارت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ 2020ء میں جب یہ مکمل ہو گی تو0 800میٹر سے زیادہ بلند یہ عمارت دبئی کے برج خلیفہ کے بعد دنیا کی دوسری بلند ترین عمارت ہو گی۔ گاڑی ہم نے کوالالمپور (KL)کے انڈر گراؤنڈ ریلوے ا سٹیشن میں پارک کی۔ ہمیں یہاں سے ٹرین کے ذریعے سے کوالالمپور کا چکر لگانا تھا۔ خوب صورت شاپنگ ہالز سے گزرتے ہوئے ہم خودکار ٹکٹنگ سسٹم کے بوتھ پر پہنچے، یہاں سے ہم نے ٹوکن
خریدا۔ واپسی پر جب یہی عمل دہرا یا جانے لگا تواستاد محترم نے مجھے خود ٹوکن لینے کے لیے کہا تاکہ اگلی دفعہ سیاحت میں مجھے کسی مدد کی ضرورت نہ پڑے۔ ٹرین کا سفر بڑا دلچسپ تھا۔ مختلف کلچر اور مذاہب کے لوگ ٹرین میں سفر کر رہے تھے۔ چینی ملائیشین خواتین بہت مختصر لباس میں تھیں، لیکن کوئی ان کانوٹس نہیں لے رہا تھا۔ ان کے چہرے سے بالکل یہ نہیں لگتا تھا کہ وہ لوگوں کو اپنی روغنی ٹانگیں اور بوائے ہیئر کٹ دکھاکر متوجہ کرنا چاہتی ہیں ۔ وہ بالکل نارمل انداز میں سفرکر رہی تھیں ۔چہرے پر کوئی احساس گناہ یا ندامت نہیں تھا۔ اسی لیے کلیوں کی طرح چمکتے مہکتے چہرے تھے۔ وجہ یہ تھی کہ ان کے ہاں فحاشی کی وہ تعریف نہیں جو ہم سمجھتے ہیں ۔ ان کے نزدیک یہ ایک معمول کا لباس ہے۔ ایک سیٹ پر میں نے ایک ملے لڑکی کو، جس نے پورا اسکاف لیا ہوا تھا،مختصرلباس والی ایک چینی لڑکی کے ساتھ دیکھا۔ وہ دونوں ایک کتاب کا مل کر مطالعہ کر رہی تھیں۔ ان دونوں کو اسی طرح شیر وشکر دیکھ کر نہیں لگ رہا تھا کہ انتہائی با پردہ ملیشین لڑکی گھٹنوں سے بھی خاصا اوپر ’’کچھا‘‘ پہنے لڑکی کو ایک فاحشہ اور کافرہ بھی سمجھتی ہو گی اور اس کی گہری دوست بھی ہو گی۔ مجھے بتایا گیا کہ لاہور میں بننے والی اورنج ٹرین بھی ایسی ہی ہو گی۔ اول تو مجھے یقین نہیں آ یا لیکن اگر یہ درست بھی ہوا تو ٹرین سے باہر کے خوب صورت مناظر کیسے اسی طرح کے ہو سکتے ہیں۔ سفر کے دوران حسن صاحب کی وساطت سے کوالالمپور کے مختلف علاقوں کا تعارف بھی ہوتا رہا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ متعدد جگہوں پر تعمیراتی کام جاری ہے لیکن شہری نہ گرد کے طوفان کا شکار ہیں نہ ٹریفک کی بے ہنگم رکاوٹوں کے ۔ شہریوں کو انسان سمجھا گیا ہے اور سفر کا متبادل بندوبست کیا گیا ہے ۔ ہم ٹرین کے ایسے اسٹیشن پر اترے جہاں سے کوالالمپور کا پرانا شہر بھی دیکھ سکیں۔ وہیں پر ہم نے کوالالمپور کی مشہور جامعہ مسجد جسے عثمانی ترکوں نے تعمیر کرایا تھا، دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اس کے تھوڑا آگے چل کر ایک جھنڈے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے استادِ محترم نے بتایا آپ اس جگہ کو لاہور کا مینار
پاکستان سمجھ سکتے ہیں۔ اس کی تاریخی اہمیت یہ ہے یہاں ملک کے پہلے وزیر اعظم تنکو عبدالرحمان نے 1957 میں ملیشیا کا پرچم لہرا کر انگریزوں سے آزادی کا اعلان کیا تھا۔ نماز مغرب سے فارغ ہوئے تھے کہ بارش شروع ہو گئی۔ مجھے حسن کی بات یاد آئی کہ آج بارش ہو گی۔ملیشیا کی سیاحت کے حوالے سے یو ٹیوب پر ایک دلچسپ کلپ ہے ۔ جس کا نام ہے’’ 11چیزیں جو آپ کو ملیشیا میں نہیں کرنی‘‘۔ اس میں ایک یہ ہے کہ چھتری کے بغیر آپ نے سیر کے لیے نہیں نکلنا۔استاد محترم ،حسن صاحب کو یاد دلا رہے تھے وہ یہ بات کیوں بھولے۔ یہ تو بعد میں معلوم ہوا کہ موصوف کا نہانے کا
پروگرام تھا۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ دو چار قدم دوڑنے کے بعد ہمیں نہانے کا مزا آنا شروع ہوا اور پھر خوب نہائے۔ کوالالمپورمیں بارش میں نہانے کا یہ مزا کبھی نہیں بھولے گا۔ پاکستان میں گرمیوں میں نہانے کے بعد جسم ،گرمی سے چپچپاتا ہے لیکن وہاں کی آب و ہوا میں ایسا جادو تھا کہ ایک تو کپڑے جلد ہی سوکھ گئے اور دوسرا بدن میں کوئی چپچپاہٹ نہیں تھی۔ اب ہماری منزل پٹروناس ٹون ٹاور تھی۔ اردگرد کے شاپنگ مال سے گزرتے ہوئے ہم وہاں پہنچے۔ یہ شاپنگ مال اپنی مثال آپ تھے۔ سب انٹرنیشنل برانڈز کے شو رومز تھے۔ان میں شاپنگ کرنا سٹیٹس سمبل کی علامت سمجھا جاتا ہے ۔پاکستان کا کوئی برانڈ یہاں نظر نہ آیا ۔’ کھاڈی‘ والوں کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ یہاں شو روم بنانے میں دلچسپی لے رہے تھے لیکن ان کے پاس جو بجٹ تھا وہ کسی مناسب سائز کی دکان کے لیے بھی ناکافی تھا۔ یاد رہے کھاڈی پاکستان میں کپڑوں کا مشہور برانڈ ہے۔ ایک جگہ پر پوری کی پوری ریسنگ کار دکان کے اوپر سجا دی گئی تھی۔یہ فار مولا ون والوں کی گاڑی تھی۔ معلوم ہوا کہ یہ وہ تاریخی گاڑی ہے جس نے پہلی مرتبہ کار ریس جیتی تھی۔ خیر اسی طرح کی لاتعداد حیرتوں سے ہوتے ہوئے ہم ٹاورز تک پہنچے۔ٹاور اس وقت روشنی کا مینار نظر آرہے تھے۔ ٹاورز کے سامنے پلیٹ فارم
پر مختلف ڈیزائنز کے فوارے نصب ہیں ۔ محرابیں بنی ہیں ۔پودوں سے دلفریب سجاوٹ کی گئی ہے ۔مجھے بتایا گیا کہ دن کو یہاں کا منظر کچھ اور ہی ہوتا ہے۔ وہاں سیاحوں کا جم غفیر تھا۔ حسن صاحب نے ہمارا شوق دیکھتے ہوئے بڑی شان دار فوٹو گرافی کی۔ لوگ لیٹ کر، الٹے ہو کر، معلوم نہیں کیاکیا پوز بنا کر سلفیاں لے رہے تھے۔ کیونکہ قریب سے ٹاورزکی پوری تصویر لینا مشکل تھا۔ ایک دیوانگی تھی جو لوگوں پر طاری تھی۔ اس میں اس وقت مزید اضافہ ہو گیا جب عربی دھنوں پر موسیقی کی تانیں فضا میں بکھر گئیں اور فواروں نے ان پر روشنی کے ہمراہ رقص کرنا شروع کردیا۔ مختلف رنگوں کی بارشیں، پانی کی لچکتی مٹکتی لہریں ہوا میں انتہائی خوب صورتی سے چھلانگیں لگا رہی تھیں، پانی کی یہ اچھلتی کودتی دھاریں وہاں پر موجود سب لوگوں کے ساتھ شرارت کر رہی تھیں۔ آپ چاہیں تو آپ کو بھگو سکتی ہیں لیکن چاہیں تو اس کی حدود سے باہر آکر محفوظ بھی رہ سکتے ہیں ۔ بس
یہی کوالالمپور کی سیاحت کا فلسفہ ہے ۔ حددو میں رہنا یا نہ رہنا آپ کے ذوق پر منحصر ہے۔ غرض ناقابل فراموش منظر تھا۔ ہم خاصی دیر اس منظر سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ اب چونکہ بھوک لگ چکی تھی، اس لیے حسن بھائی نے مکئی کے بھٹے خریدے۔ بچپن میں جو مزہ گاؤں کے بھٹوں کا آتا تھا، بہت برسوں کے بعد آج کوالالمپور میں وہی لطف تازہ ہو رہا تھا۔ پاس ہی پاکستان کے سفارت خانے کی پرشکوہ بلڈنگ تھی۔ استاد محترم نے اس کی
تاریخ سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ملائیشیا کی آزادی کے کچھ برسوں بعد پاکستان نے ملائیشیا کو کچھ قرض دیا تھا۔اس احسان کا بدلہ اس طرح چکایا گیاکہ کوالالمپور میں بادشاہ کا محل بطور تحفہ حکومت پاکستان کی نذر کر دیا گیا ۔اب اس کی مالیت اربوں ڈالرز میں ہے ۔ شروع میں پاکستان کے ملائیشیا کے ساتھ بڑے اچھے تعلقات تھے لیکن جب ذوالفقار علی بھٹو ایوب دور میں وزیر خارجہ تھے تو پاکستان کے ساتھ تعلقات خاصے خراب ہو گئے۔ اس کی کہانی میں بعد میں سناؤں گا۔ یہاں سے نکلتے ہوئے ہم ایک پاکستانی ریسٹورنٹ میں پہنچے ۔بہت عمدہ کھانا تھا۔کسی ریسٹورنٹ میں کھایاگیا یہ سب سے پر تکلف بوفے ڈنر تھا۔راستے میں مجھے ایک بس کا تعارف کرایا گیا کہ یہ ’’ ہاپ آن، ہاپ آف ‘‘ (Hop On Hop Off ) بس ہے ۔ آپ اس کی ایک دفعہ ٹکٹ لیں اور سارا دن اس پر سواری کریں ۔ یہ اٹھارہ کے قریب مقامات پر رکے گی۔ آپ اتر کر سیر کریں اور واپس آکر کسی دوسری بس پر اسی
ٹکٹ میں سفر جاری رکھیں ۔ واپسی پر مجھے بتایا گیا کہ کل ’’گنٹنگ‘‘ جائیں گے جو کہ ملائیشیا کا ’’ مری‘‘ ہے ۔ ہوٹل میں آکر میں ابھی لیٹا ہی تھا کہ فون کی گھنٹی بجی ۔ فون اٹھایا تو احسن تہامی صاحب کی تصویر چمک رہی تھی ۔ اور یادوں کا ایک خوبصورت جہان سامنے آگیا۔محمد احسن تہامی میرے لاہور میں پہلے دوست تھے ۔ ہم گورنمنٹ اسلامیہ کالج ریلوے روڈ میں ایف ایس سی(1977-1979 (میں کلاس فیلوز تھے۔�آپس میں کوئی تعارف نہیں تھا کہ ہمارے اردو کے پروفیسر چودھری نیاز نے ’ میرا نصب العین ‘ کے موضوع مضمون لکھنے کو کہا۔ یہ مضمون نویسی کا ایک مقابلہ بھی تھا۔ میں نے اپنا مضمون کلاس میں تقریر کے انداز میں پڑھ دیا۔ اس کے بعد احسن صاحب مجھے ملے اور کہا کہ میرا بھی یہی نصب العین ہے۔ یہ ہماری دوستی کی ابتدا تھی۔اور سچی بات یہی ہے کہ اس دن سے جاری باتیں آج تک ختم نہیں ہوئیں ۔دین کے درست تصور سے لے کر سیاست تک ، مولانا امین احسن اصلاحی سے لے کر استاد محترم جاوید احمد غامدی صاحب تک ، غم روزگار سے غم جاناں تک ۔۔۔ کتابِ زندگی کے سارے ابواب ایک لمحے میں نظروں کے سامنے سے گزر گئے۔۔۔ ایسے جیسے مصوری کی کوئی کتاب ہوا کے سامنے ہو اور اس کے ورق ایک ، ایک کرکے کھلتے جائیں اور ساری تصویریں قاری کی نظر نواز ہو جائیں ۔ احسن صاحب بھی استاد محترم کی طرح یہاں مہاجر ہیں ۔ پاکستانی معاشرے کی عدم رواداری کا شکار ہو کر وہاں رہنے پر مجبور ہیں ۔ ان کی داستان بہت غم ناک ہے ۔ یہ پھر کبھی سہی۔ وہ میرے ملائیشیا آمد کے پروگرام سے پوری طرح آگاہ تھے۔ کہنے لگے کہ میں پرسوں آؤں گا۔ عرض کی :عرصے سے روکی ’’جپھی ڈالنے‘‘ کو بے تاب ہوں ، بس آجاؤ! ( جاری ہے )

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *