پروفیسر ڈاکٹر سعید اختر کے بیٹے کا خط

میں پچھلے کچھ ہفتے کے واقعات پر خاموش رہا ہوں کیونکہ میرے والدین نے مجھے زندگی میں اعلی منازل پر رہنا سکھایا ہے۔ لیکن انٹرنیٹ پر پھیلائے گئے پروپیگنڈا کو دیکھ کر میرے لیے مجبور بن گئی کہ میں اپنی زبان کھولوں۔ میرے والد ڈاکٹر سعید اختر کے خلاف ایسے لوگ مہم چلا رہے ہیں جنہیں اس حقیقت کا ادراک نہیں کہ میرے والد نے کس طرح پاکستان کے ہارورڈ کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کا عزم کر رکھا ہے۔ یہ ایسے لوگ ہیں جو عوام کو مرتا دیکھ سکتے ہیں لیکن ملک میں کڈنی اور لیور ٹرانسپلانٹ کا قیام برداشت نہیں کر سکتے کیونک اس سے ان کا جعلی علاج معالجے کا کاروبار ٹھپ ہو جائے گا۔ میرے والد نے بہت شاندار کیریر کے ساتھ زندگی گزاری اور کبھی سیاست میں دلچسپی نہیں دکھائی۔ ان کا واحد جرم یہ ہے کہ انہوں نے شاندار کیریر  اور امریکہ میں ایک شہرت یافتہ زندگی چھوڑ کر اپنے ملک کی خدمت کرنے کی ٹھانی۔ اس کے پیچھے ان کا واحد موٹو ملک کی محبت اور پاکستانی عوام کی خدمت کا جذبہ تھا۔ انہیں اب ایک چور ظاہر کیا جا رہا ہے ان کو اپنے پیشہ سے تعلق رکھنے والی برادری ، بیرون ملک بسنے والے پاکستانیوں اور عام عوام سے جو سپورٹ ملی ہے اس پر وہ بہت خوش ہیں ۔ راتوں رات ڈاکٹر سعید کے احترام کی درخواست کا ہیش ٹیگ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا ۔ یہ بہت اچھی بات ہے کہ بے شمار پاکستانی میرے والد کی خدمات کو سراہتے ہیں  اور میرے والد کی 15 سالہ پاکستان کی خدمات کے اعتراف اور ان کی سپورٹ کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔ میں اس معاملے پر زیادہ گفتگو اس لیے کرنے سے گریز کروں گا کیونکہ معاملہ ابھی عدالت میں ہے۔ لیکن سچ یہ ہےکہ ہمارے پاس چھپانے کو کچھ نہیں ہے اور ادارے کا فرینزک آڈٹ پیش کیا جا سکتا ہے۔ اب میں کچھ بڑے جھوٹ سے پردہ اٹھانا چاہوں گا جو انٹرنیٹ پر میرے والد کے بارے میں پھیلائے گئے۔  پہلا جھوٹ یہ ہے کہ اس پراجیکٹ کے لیے کسی غیر ملکی ڈاکٹر کو  نہیں لایا گیا ۔ ڈاکٹر سعید پچھلے تین سال سے دنیا بھر سے بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانیوں سے ملے اور انہیں بڑی سہولیات تر ک کر کے پاکستان آ کر ملکی خدمت پر آمادہ کیا۔ امریکہ، برطانیہ اور مشرق وسطی سے بڑی بڑی تنخواہیں اور سہولیات چھوڑ کر لوگ پاکستان میں کم تنخواہون پر کام کرنے پر رضا مند ہوئے۔ تین سال کی سخت محنت کے بعد انہوں نے 70 ایسے بیرو ن ملک پاکستانی ڈاکٹرز کی ٹیم اکٹھی کی جس نے پاکستان میں رہ کرعوام کی خدمت  کرنے کا فیصلہ کیا۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ سب سے بڑی تعداد میں اس طرح کی تبدیلی دیکھی گئی ہے کہ لوگوں نے اپنے مفاد ٹھکرا کر ملک کو ترجیح دی۔ کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ آپ اکیلے 70 بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو واپس ملک میں لا پائیں گے؟ ایسا کبھی نہ ہوتا اگر ان ڈاکٹروں کے میرے والد کے مشن پر اعتبار نہ ہوتا  جو کہ عوام کو سستے داموں صحت کی سہولیات کی فراہمی  ہے اور خاص طور پر ایسے مریضوں کی سہولت پیدا کرنا ہے جو اس قدر مالی حیثیت نہیں رکھتے کہ بہترین علاج کے لیے ادائیگی کر سکیں۔  پی کے ایل آئی سے کبھی کوئی مریض اس لیے نہیں لوٹا کہ اسے مالی مسائل کا سامنا ہو۔ جو لوگ یہ دعوی کرتے ہیں کہ اس ہسپتال میں پاکستانی ڈاکٹر ز کو نوکری کا موقع نہیں دیا گیا وہ بھی جھوٹ بولتے ہیں۔ بہت سے پاکستانی تربیت یافتہ ڈاکٹر اس ہسپتال کا حصہ ہیں۔ ڈاکٹر سعید نے بہت سے پاکستانی سینئر فزیشن اور سرجن سے ملاقات کر کے انہیں اس ہسپتال میں خدمات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی ۔ ایک بڑے سرکاری ہسپتال کا ڈاکٹر اس وقت مذاق اڑانے لگا جب اسے اس ہسپتال میں نوکری آفر کی گئی یہ کہتے ہوئے کہ وہ  40 لاکھ چھوڑ کرجو وہ غیر قانونی طریقے سے پرائیویٹ پریکٹس کے ذریعے کماتا ہے 12 لاکھ پر کیوں اس ہسپتال کو جائن کرے؟  پاکستان کی میڈیکل کمیونٹی کے لو گ اس واقعہ سے واقف ہیں اسی وجہ سے ہمارا پبلک میڈیکل سسٹم بری طرح متاثر ہوتا ہے اور عوام کو معیار سے گری ہوئی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں  کیونکہ پروفیسر حضرات صبح 10 بجے سرکاری ہسپتال آتے ہیں چائے وائے پی کر دوپہر کے وقت نکل جاتے ہیں اور پرائیویٹ کلنک میں بیٹھ کر پیسے بٹورنے لگتے ہیں۔ یہ نہ صرف غیر قانونی ذریعہ کمائی ہے بلکہ اخلاقیات کے بھی خلاف ہے ۔ لیکن یہ لوگ 50 سال سے اسی روایت پر چلتے آئے ہیں اس لیے اس رویہ کو بدلنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔  اس لیے اگر بیرون ملک سے بہترین ڈاکٹرز کو اس ہسپتال میں اپنی
مہارت کو بروئے کار لانے کا موقع دیا جا رہا ہے  جس سے ہمارے مستقبل کے ڈاکٹر بھی بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں تو اس میں برا کیا ہے، ان ڈاکٹرز کی قدر کی جانی چاہیے   اور انہیں قومی اثاثہ قرار  دینا چاہیے  نہ کہ انہیں اس قدر کم تعلیم یافتہ طبقہ کے ہاتھوں بےعزتی کا سامنا کرنے پر مجبور کرنا چاہیے۔  اگلی چیز جو میں نے پڑھی وہ یہ تھی کہ ڈاکٹر سعید غریب مریضوں کو نہیں دیکھتے اور انہوں نے صرف شفاء میں مفاد کے لئے ہی پریکٹس کی تھی۔ یہ بات بہت طریقوں سے درست نہیں۔ جب میرے والد پاکستان آئے تو انہوں نے شفا اس لئے چنا کیوں کہ وہ ایک ہی ہسپتال تھا  جس میں ٹیکنیکل قابلیتیں موجود تھیں جو ان کو جدید طریقے سے سرجری کرنے کے لئے ٹرین کر سکتی تھیں۔ ان کی پوری پیشہ ورانہ زندگی میں انہوں نے ایک بھی مریض پیسے نہ ہونے کی صورت میں واپس نہیں بھیجا۔ اس سے پہلے کہ وہ ایسئ آرگینائیزیشنز کے ساتھ  بات کرتے ، وہ اپنی جیب سے ایسے
مریضوں کے لئے اخراجات اٹھا لیتے۔ 2004 میں ان کو محسوس ہو گیا کہ مرض کا بہت ذیادہ بوجھ بڑھ گیا ہے اور وہ اکیلے اس کا علاج نہیں کر سکتے ۔ اسی لیے انہوں نے پاکستان کڈنی انسٹیٹیوٹ کا آغاز کیا جو ان کا پرائیویٹ چیریٹی ہسپتال تھا۔ دس سال میں 2014 تک انہوں نے علاج کیا اور آپریشن کیے ۔ 150000 مریضوں میں سے 1000 سرجریاں رینل ٹرانسپلانٹ کی تھیں، پیچیدہ کینسر سرجریاں بھی تھیں اور کئی ایسی ہی مہنگی سرجریاں وہ کرتے رہے اور ایک بھی مریض کو واپس پیسوں کی کمی کی وجہ سے نہیں بھیجا۔ اس کے علاوہ وہ ان سارے تباہ کن امراض اور وباؤں کے علاج
کے لئے پیش پیش رہے جو ملک میں قہر بن کر ٹوٹے ۔ 2008 میں جب غزا میں جنگ ہوئی  تو وہ پہلے میڈیکل ریلیف آفیشل تھے۔ انہوں نے بم باری کے دھماکوں کے بیچ رہ کر علاج کیا اور ان کے ہوٹل کے کمرے میں F-16 والوں کی مشین گن سے تباہی مچ گئی تھی۔ جب سونامی نے انڈونیشیاء پر دھاوا بول دیا تو 2004 میں وہ وہاں لوگوں کے علاج کرنے میں مصروف تھے۔ 2005 میں تباہ کن زلزلے کے دوران جو کچھ انہوں نے کیا اس کی تفصیلات میں یہاں بیان نہیں کر سکتا ۔ وہ دو بار دارفور گئے میڈیکل میشن پر  اس کے علاوہ وہ ہیٹی بھی میڈیکل امداد کے لئے گئے تاکہ زلزلہ زدگان کی صحت اور تندرستی کے اقدامات کر سکیں۔ یہ صرف ان کے فلاحی کاموں کی ایک جھلک تھی۔ بہت سے لوگوں کے لئے وہ واقعی مسیحا سے کم نہیں تھے۔ ان کی اصل جائیداد تو وہ دعائیں ہیں جو انہوں نے ان لوگوں سے بٹوریں جن کی انہوں نے زندگیاں بچائیں۔ ایک اورمضحکہ خیز دعوی جو میں نے پڑھا تھا وہ ان کی ذاتی من گھڑت معاشی جائیداد کے بارے میں تھا۔ میں نے پڑھا کے ان کے پاس لگژری گاڑیوں کا ایک بیڑا ہے۔  اور دو ذاتی جیٹ بھی ہیں! دلچسپ بات ہے لیکن اتنی ہی دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسا کچھ بھی نہیں۔ انہوں نے 1998 ماڈل کی ٹیوٹا پرڈو چلائی ہے اور پچھلے دس سال وہ اسی میں سفر کرتے رہے اور ان کے پاس جیٹ نہیں چار سیٹوں والا سیسنا 182 تھا ۔ جہاز چلانا ان کا مشغلہ ہے اور تین سال پہلے انہوں نے اسے پوری دنیا
بہترین  ڈاکٹروں کی بھرتی کے لئے سفر کی خاطر اسے بیچ دیا تھا تاکہ اس سفر کے پیسے بن سکیں۔ انہوں نے اسے بیچتے وقت ایک بار بھی نہیں سوچا کیوں کہ ان کے لیے وہ ایک چیز ہی تھی۔ وہ لوگ جو ڈاکٹر سعید کو جانتے ہیں انہیں اچھی طرح پتا ہے کہ ڈاکٹر  سعید انسانیت کے لئے جیتے اور سانس لیتے ہیں۔ حتی کہ ان کے پاس صٖرف تین سوٹ ہیں اور دو پسندیدہ ٹائیاں کیوں کہ وہ قناعت پسند ہیں ۔ میری طرح جتنا ممکن ہو سکے عام لباس ہی پہنتے ہیں ۔ میں یہ سب بتا کر آپ کو انہیں سمجھنے میں مدد فراہم کر رہا ہوں تاکہ آپ پہچان سکیں کہ ان پر لگائے  گئے تمام مضحکہ خیز الزامات بہت  غلط ہیں۔ دسمبر 2017 کے آغاز میں انہوں نے PKLI تنخواہ کے طور پر  ایک بھی پیسا لینے سے انکار کر دیا تھا ۔ حتی کے وہ ان کے پروجیکٹ پر 20 گھنٹے ہفتے کے سات دن کام کرتے رہے تاکہ پروجیکٹ جلد از جلد مکمل ہو سکے۔ انہوں نے اپنی زاتی زندگی کو ایسے کئی پروجیکٹ کی خاطر نظر انداز کر دیا ہے۔ جب انہیں تنخواہ ملنا شروع ہوئی تو  انہوں نے ہسپتال کے CEO  ہونے کے باوجود تنخواہ لینے سے انکار کر دیا۔ اور درخواست کی کہ انہیں ایک عام نیورو سرجن کے ڈاکٹر کنسلٹنٹ کے جتنی تنخواہ ہی دی جائے۔ پچھلی دو دہائیوں سے پاکستان کو جسمانی اعضا کی بلیک مارکیٹ کا طعنہ دنیا بھر
سے سننا پڑا ہے۔ دنیا بھر سے لوگ کڈنی ٹرانسپلانٹ کے لے بہت بری صورتحال میں بھی علاج کے لیے  تیار ہو جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے ڈونر اور مریض دونوں کی زندگی خطرات میں پڑ جاتی ہے اور بے شمار اموات بھی واقع ہوئی ہیں۔ 2007 میں ڈاکٹر سعید نے اپنے ساتھی اور رہنما ڈاکٹر ادیب رضوی سے مل کر یہ قانون تیار کیا جس کے مطابق پاکستان میں  غیر قانونی پیوندکاری کے نظام پر پابندی عائد کی گئی ۔ یہ پہلا موقع تھا جب ڈاکٹر سعید کو جان سے مارنے کی دھمکیان دی گئیں ۔ آج وہی دھمکیان دینے والے اور چالیس لاکھ کمانے والے لوگ چاہتے ہیں کہ پی کے ایل آئی کو کام کرنے سے روکا جائے تا کہ ان کا کاروبار چلتا رہے۔ یہ لوگ مریضوں کو بھارت  اور اچین  ریفر کر کے لاکھوں روپے کماتے ہیں۔ اسی لیے ان کی آنکھوں میں
پی کے ایل آئی کھٹکتا ہے کیونکہ یہان پاکستانیوں کو لیور اینڈ ٹرانسپلانٹ کی سہولت مفت دی جاتی ہے۔ دنیا کے اور کونسے ملک میں مفت لیور اور کڈنی
ٹرانسپلانٹ کی سہولت ہے؟  پی کےایل آئی پاکستان میں ہیلتھ کئیر کے نظام کو انقلابی طرز سے بہتر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس طرح کا کوئی بھی ادارہ آج تک پاکستان میں قائم نہیں ہوا۔ اس کا مقصد پاکستان کا ہاوروڈ قائم کرنا ہے۔ چونکہ پچھلے پانچ ماہ میں اس ادارے نے محدود خدمات پیش کرنا شروع کر دیا ہے  اس لیے اب تک 17 ہزار کے لگ بھگ مریضوں کو او پی ڈی کلینک میں دیکھا گیا ہے ۔ پچھلے دو ماہ سے جب او آر سسٹم فنکشنل ہوا اب تک200 کے قریب چھوٹے  آپریشن مکمل کیے گئے ہیں ۔ 10 دن قبل 10 سرجیکل بیڈ سسٹم میں شامل کیے گئے  اور اس کے بعد 3 رینل ٹرانسپلانٹ مکمل کیے گئے۔ پاکستان میں ہیپا ٹائٹس سی دنیا بھر کے ممالک میں دوسرے نمبر پر ہے۔ 8 سے 10 فیصد عوام اس مرض میں مبتلا ہیں۔ یہ پبلک ہیلتھ ایمرجنسی ہے۔ پی کے ایل آئی اس بیماری کے خلاف جنگ میں مصروف ہے جس کے لیے ہیپاٹائٹس پریونشن اینڈ ٹریٹمنٹ پروگرا کا آغاز کیا گیا ہے ۔ ایک سال کے اندر اک لاکھ کے قریب مریضوں کا ہیپاٹائٹس بی اور سی کا علاج اور تین لاکھ مریضوں کی سکریننگ کی گئی ہے۔   اس ہسپتال کا مقصد صرف مریضوں کا علاج نہیں ہے ورنہ اس ہسپتال اور دوسرے ہستپالوں میں کوئی فرق نہ رہ جاتا۔ ہمارا مقصد بہترین درجے کی صحت کی سہولیات
فراہم کرنا ہے  اور وہ بھی بغیر کسی بڑے اخراجات لیے کرنا ہمارا مقصد ہے۔ یہ تجربہ میرے لیے آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی تھا کہ راو انوار جیسا بندہ جس نے 400 سے زیادہ لوگوں کو قتل کیا ہے اس کو تو بہترین درجے کی عزت اور پروٹوکول دیا جائے  جب کہ ڈاکٹر سعید جیسے لوگوں کو جنہوں نے ڈیڑھ لاکھ لوگوں کی جانیں بچائی ہیں ان کے ساتھ ایک مجرم جیسا برتاو کیا جائے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں 14 سالہ لڑکی پر دہشت گرد حملہ کر دے اسے سی آئی اے کا ایجنٹ قرار دیا جائے، نوبل انعام یافتہ عبد السلام کو مذہبی بنیادوں پر ذلیل کیا جائے، عبدالقدیر جیسے محسن پاکستان کو قومی ٹی وی پر آ کر معافی مانگنے پر مجبور کر کے لیڈر شپ کی غلطیون پر پردہ ڈالا جائے  اس ملک کے عوام اور ارباب ا ختیار سے کیا توقع کی جا سکتی ہے۔ میں نے کئی بار اپنے والد کو منت سماجت کی کہ پاکستان چھوڑ کر واپس امریکہ آ جائیں اور پر سکون زندگی جئیں ، اپنے پوتیوں پوتوں کے ساتھ کھیلیں  اور ہر طرح کی سیاست سے الگ ہو جائیں اور یہیں پر پریکٹس کریں۔ انہوں نے ہمیشہ مجھے یہی جواب دیا: بیٹا اگر میں یہ ملک چھوڑ دیتا ہوں تو میرے لوگوں کا خیال کون کرے گا۔ یہ کرپٹ لوگ مجھے بھگانا چاہتے ہیں لیکن ایک معصوم آدمی کبھی اپنا سر نہیں جھکاتا۔ میں بھاگوں گا نہیں۔ میں چھپوح گا بھی نہیں۔ میں تب بھی اپنے مریضوں کو نہیں چھوڑوں گا جب میرے ہاتھ سکیلپل اٹھانے کے قابل بھی نہیں رہیں گے

پروفیسر ڈاکٹر سعید اختر کے بیٹے کا خط” پر ایک تبصرہ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *