عالی مقام چیف جسٹس سے کچھ سوال!

نگار خانے میں طوطی کی کون سنتا ہے لیکن ہم چیف جسٹس عزت مآب جناب ثاقب نثار کے عہد انصاف میں جی رہے ہیں ۔ ایک ایسے منفرد عہدِ زریں میں جہاں وقت کے حکمران کو سر جھکا کر آنا پڑا ، جہاں وقت کے وزیر مشیر سب اپنا اپنی گردن کا سریا کٹہرے کے باہر رکھ کر آنے پر مجبور ہوئے ، جہاں کروڑوں کے ووٹوں کے غرّے میں مبتلا تاحیات نا اہل ہوئے ۔ اس لیے ہمیں یقین ہے کہ محاورے والا سلوک ہم سے نہ ہو گا ۔ بس حضور والا ، آپ کا اقبال مزید بلند ہو ، محض ان چند فریاد نماسوالات کے جوابات عنایت کر دیجیے:
1۔قصور کی زینب پوچھتی ہےمیرا قاتل کب میرے پاس ، میری گرفت میں پہنچے گا  !
2۔مردان کی چار برس کی اسماء ، جس کے قاتل کا سراغ بھی زینب کے قاتل کی طرح لگا لیا گیا کیا اس کو کیفر کردار تک پہنچانا انصاف کے ’’ پیکج ‘‘ میں شامل ہے کہ نہیں ؟
3۔آپ نے نقیب اللہ محسود کے قتل کے حوالے سے اپنا کردار ادا کیا ۔ حضور !راؤ انوا رکا دامن کس قدر آلودہ ہے، آپ سے بہتر کون جانتا ہوگا؟ لیکن ا س کے باوجود اس کے ساتھ  بادی النظر میں ویسا ہی امتیازی سلوک کیا گیا جیسا کہ اشتہاری ملزم پرویز مشرف کے ساتھ ۔۔۔کیا ایسا سچ ہے یا صرف مجھ جیسوں کو لگتا ہے؟
4۔ حضور مان لیا کہ خدیجہ صدیقی کی عزت نفس، اس کی نفسیات میں لگے گھاؤ کو دیکھنے کے لیے کچھ حساس دل ودماغ چاہیے لیکن عزت مآب چیف جسٹس !کیا اس کے بدن میں لگے زخموں کے نشانوں کو دیکھنے( محسوس کرنے کے لیے نہیں) کچھ الگ قسم کی آنکھیں درکار ہیں ؟ کیا یہ کیس منطقی انجام تک پہنچے گا؟
5۔حضور عالی مقام! بڑی سادہ سی حقیقت ہے کہ کرپشن اسپتالوں کی ہو یارفاہ عامہ کے دوسرے اداروں کی ،ان سب کا راستہ قانون کی گرفت ہی سے رک سکتا ہے۔ اور ہمارا عدالتی نظام !عام کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک ، کسی ایک عدالت کا نام لیا جاسکتا ہے جہاں ریڈر سے لے کر ’حاضر ہو ‘‘ کی صدا لگانے والے تک، نذرانے اور رشوت سے پاک ہو ؟ تو پھر دورے ، چھاپے اور معاینے عدالتوں کے ہونے چاہییں یا وہاں کے جہاں آپ قدم رنجہ فرماتے ہیں ؟ حضور کیا فائدہ آپ کے کسی بد دیانت افسر کو پکڑنے کا ، وہ تو رشوت دے کر فیصلہ اپنے حق میں کرا لے گا! رابعہ اور شاہ زیب جیسے ہزاروں نہیں لاکھوں کیس اس کی مثال ہیں ۔
6۔می لارڈ !حب الوطنی انصاف کی جلد اور یقینی فراہمی سے پیدا ہوتی ہے۔آپ یقینااس سے اتفاق کرتے ہوں گے۔ اس لیے ذرا ’ نظر غضب ‘کیجیے۔ سابق چیف جسٹس کے داماد نے متوسط درجے کے مالکان کو جو دھوکا دیا ہے ،ان کی زندگی بھر کی کمائیوں پر جو ڈاکا ڈالا ہے ، اس کا کوئی مداوا؟ جس رفتار سے کیس چل رہا ہے ، لگتا ہے اگر مالکوں کو ان کے پلاٹ یا گھر مل بھی گئے تو وہاں ان کی قبریں بھی بنانی پڑیں گی ، اس بہانے وہ کہہ تو سکیں گے کہ زندگی میں نہ سہی مر کر تو اپنا قطعہ زمین نصیب ہوا!
7۔حضور آپ نے بڑے بڑے کلغی والوں کو دھول چٹائی ہے ۔ کوئی ایک آدھ  ڈکٹیٹر بھی پھڑکائیں تاکہ بدخواہ آپ کی غیر جانب داری کی طرف انگلی نہ اٹھا سکیں ۔ کیا وجہ ہے کہ آئین توڑنے والا ، امریکا کو اپنے لوگ بیچنے والا ، موسٹ وانٹڈ کا سودا کرنے والا ، سر عام ملکی راز افشا کرنے والا کوئی سورما قانون کے لمبے ہاتھوں کی گرفت میں نہیں آیا ؟لیکن آپ نے اس کے بالکل برعکس بعض ثقہ قانون دانوں کی رائے کے مطابق سابق جنرل پرویز مشرف کو ماورائے آئین رعایت دی ہے ۔حضور آپ کو اپنی ان تمام قسموں ، وعدوں اور آدرشوں کا واسطہ ! کوئی ایک ادھر کا ’’ ترین‘‘ بھی تو آپ کے قہر ’ِجلیلہ‘ کا نشانہ بنے !
8 ۔ عدالت عظمیٰ کے وقار کے امین !یہ فرمایے ، اظہار رائے کی کسی قوم کے لیے کتنی ایک اہمیت ہے ؟ خاص طور پر جب وہاں کی جمہوریت ابھی گھٹنوں گھٹنوں چل رہی ہو ! پھر بتائیے کہ آئے روز ملک عزیز میں صحافیوں اور لکھاڑیوں پر جبرو ستم کے جو پہاڑتوڑے جاتے ہیں، ان کو راستوں اور گھروں سے اٹھایا جاتا ہے  ان پر کیوں قہر کم نہیں ہورہا ؟
امید ہے بصد احترام ایک شہری کی حیثیت سے مجھے میرے سوالوں کا جواب ضرور ملے گا- شکریہ!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *