نامِ نامی۔۔۔ اس میں گرامی


قمربخاری

نام میں کیا رکھا ہے، نام آپ کی شخصیت کا وہ پہلو ہے جس پر آپ کا کوئی اختیار نہیں۔ آپ چیزوں کے نام رکھ سکتے ہیں مگر اپنا نام خود نہیں رکھ سکتے۔ اگر آپ کا نام اللہ دتہ، اللہ رکھا یا پیراں دتہ ہے تو آپ ماں باپ کو کوسنے کی بجائے خود کو اے ڈی تبسم، اے آر ناز اور پی ڈی آزاد کے طور پر معاشرے میں متعارف کروا سکتے ہیں۔ ہمارا ایک دوست شرافت خان غصے میں بہت انتہاپسند تھا اس لئے جب بھی کوئی اس سے بات کرتا تو ’’شرافت‘‘ سے بات کیا کرتا تھا۔ ہمارے ایک دوست کی سیکرٹری کا نام نزاکت تھا لہٰذا انہوں نے ہر وقت نزاکت سے بات کرنا شروع کر دی۔ ایک خاتون انٹرویو کے لئے مینیجر کے آفس میں داخل ہونے لگی تو سامنے سے آواز آئی، آئیے آئیے، خاتون نے چونک کر کہا، کہاں ہے آئیے۔ مینیجر نے کہا کہ میں نے تو آپ کو اندر آنے کو کہا ہے جبکہ خاتون یہ سمجھی کہ ان کے شوہر انعام علی (آئی اے) کا نام پکارا گیا ہے۔ انٹرویو کے دوران خاتون نے بتایا کہ میرے شوہر کا نام چونکہ انعام علی ہے اس لئے میں پیار سے انہیں آئی اے کہتی ہوں۔ مزید بتایا کہ ایک بار وہ کنویں میں گر گئے جب ریسکیو والوں نے نکالا تو پورے محلے میں شور مچ گیا ’’انعام نکل آیا، انعام نکل آیا‘‘۔ لہٰذا رات کو ہمارے گھر ڈاکو آ گئے کہنے لگے جو انعام نکلا ہے وہ ہمارے حوالے کرو۔ تاہم آئی اے کو دیکھ کر انہوں نے اپنی لوٹی ہوئی رقم میں سے پانچ سو روپے ہمارے حوالے کئے اور واپس چلے گئے۔ ایک دیہاتی دکاندار سے لکھنو کے کسی آدمی نے گاڑھی اردو میں پوچھا آپ کا اسم گرامی؟ دکاندار شرما کر کہنے لگا ہاں جی ہے۔ موصوف نے دوبارہ کہا میں نے آپ کے نامِ نامی اسم گرامی کا پوچھا ہے؟ دکاندار نے کہا ہاں جی یہی کوئی تین سو گرام ہو گا۔ زمانے کی قدریں بدل گئی ہیں۔ ماضی میں لوگوں کے نام قدرے مختلف ہوا کرتے تھے جبکہ آج کل ہمارے ناموں میں مغربی رنگ نمایاں ہے۔ بھلے وقتوں میں لوگ پیروں فقیروں اور صوفیوں کے آستانوں کے گرد منڈلاتے تھے اور ان کی خواہش ہوتی تھی کہ اپنا کچھ وقت ان کی صحبت میں گزار سکیں۔ آج کا نوجوان صوفیا ء کی بجائے کسی صوفیہ کی تلاش میں سرگرداں نظر آتا ہے۔ اس زمانے میں لوگ تہجد کے وقت اٹھتے تھے مگر آج بھی لوگ اٹھتے تو تہجد کے وقت ہی ہیں مگر اٹھ کر اپنا کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ بند کر کے سو جاتے ہیں۔ پہلے وقتوں میں صبح کی نماز کے بعد ہونٹوں پر یہ دعا ہوا کرتی تھی کہ یااللہ ہمیں سیدھی راہ دکھا۔ آج کل کے نوجوان دوپہر کو بیدار ہوتے ہیں اور اٹھتے ہی دعا کرتے ہیں کہ یااللہ کوئی سیدھی راہ نہ سہی ۔۔۔ کوئی سدرہ ہی دکھا دے۔ ان دنوں لوگ اپنے محبوب کو ان کے ناموں کی بجائے کاموں کی وجہ سے مختلف القابات سے پکارتے ہیں۔ مثلاً کوئی لڑکی اگر اپنے محبوب کو ’’جان‘‘ کہہ کر مخاطب کر رہی ہو تو دراصل وہ ’’جااو نکمے‘‘ کا مخفف استعمال کر رہی ہوتی ہے۔ ایک انور نامی نوجوان نے لالہ رخ کے نام والی حسینہ سے فری ہونے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کیا میں آپ کے نام کا دوسرا حصہ اپنے نام سے پہلے لگا سکتا ہوں؟ لڑکی نے رخ انور اس کی طرف پھیرتے ہوئے بڑی محبت سے کہا ’’لالہ آپ اپنے نام انور سے پہلے صرف ’’ج‘‘ لگا لیں تو آپ کی شخصیت مکمل ہو جائے گی۔ پہلے وقتوں میں لوگ اپنی محبوبہ سے ملنے کے لئے محلے میں گول گپے لگایا کرتے تھے آج کل موبائل فون کی سہولت میسر ہونے پر گھر بیٹھے ہی گول گپیں لگا لیتے ہیں۔ ہمارے ایک دوست مزاح نگاری میں کافی شہرت کے حامل تھے۔ ان کی لائنوں کی بہت تعریف کی جاتی تھی۔ ایک مرتبہ کسی تقریب میں ان کی لائنوں کی تعریف سن کر ایک لڑکی نے انہیں اپنے گھر پر چائے کی دعوت دے ڈالی۔ موصوف ٹوپیس پہن کر شام کو ان کے گھر جا پہنچے۔ لڑکی نے چائے پلانے کے بعد پوچھا آپ لائن مار لیتے ہیں؟ انہوں نے کوٹ سیدھا کرتے ہوئے کہا آپ موقع تو دیں۔ یہ سنتے ہی لڑکی اندر چلی گئی اور واپسی پر اپنے ہاتھوں میں کچھ سفید کاغذ کے دستے، سکیل اور مارکر سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ ان سفید دستوں پر لائنیں مار کر انہیں لکیردار بنا دیں چھوٹے بھائیوں نے چھٹیوں کا کام کرنا ہے۔ موصوف کو اس موقع پر دست بستہ اجازت لینے میں ہی عافیت محسوس ہوئی۔ اچھے وقتوں میں ہماری فلمی ہیروئنیں اپنے نام میں ’’ماں‘‘ کا صیغہ ضرور استعمال کرتی تھیں تاکہ لوگ انہیں احترام کی نگاہ سے دیکھیں۔ مثلاً نج ماں، ری ماں، صائے ماں اور نرماں وغیرہ۔ وہ اپنے لڑائی جھگڑوں میں بھی رشتوں کے تقدس کا بہت خیال رکھتی تھیں۔ جب بھی ان کے مابین لڑائی ہو رہی ہوتی تو لگتا تھا مابین نہیں بلکہ ماں بہن کی لڑائی ہو رہی ہے اور پھر آخر میں ماں بہن ایک ہونے پر بات ختم ہوا کرتی تھی۔ ہمارے ہاں شاعرانہ مزاج کے حامل لوگ ناموں اور چہروں کی مناسبت سے اپنی زندگی کے معمولات کو ترتیب دیتے تھے۔ شاعرانہ اشاروں اور کنائیوں میں اپنی محبوباؤں کے نام شامل کرنے میں راحت محسوس کرتے تھے۔ ان کی گفتگو میں ارشادات عالیہ، ندرت فکر، اوصاف حمیدہ، صبح درخشاں، راحت جاں وغیرہ جیسے الفاظ دراصل اپنی پسندیدہ ہستیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے شامل ہوتے تھے۔ ایک ایسے ہی بزرگ شاعر جو اپنے عہد کی مشہور اداکارہ شبنم اور گلوکارہ افشاں کے یکطرفہ عشق میں مبتلا رہتے تھے انہوں نے آخری عمر میں ایک عاصمہ نامی خاتون سے آخری عشق کرنے کا فیصلہ بھی کر لیا تھا۔ بسترمرگ پر انہوں نے ان شخصیات کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے اپنی قبر کے کتبے پر علامہ اقبال کے ایک مصرعے میں معمولی ردوبدل کر کے یہ لکھانے کی وصیحت کر ڈالی کہ ......’’عاصمہ میری لحد پر شبنم افشانی کرے‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *