پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 26 پیسے اضافہ کردیا گیا

نگراں حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کردیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق ںگراں حکومت نے عوام پر پٹرول بم گراتے ہوئے پٹرول کی قیمت میں4.26 روپے اضافہ کردیا ہے جس کا اطلاق رات سے ہو گیا۔

عوام پر پٹرول بم گرادیا اور پٹرول کی قیمت میں 4روپے 26پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 6روپے 55پیسے فی لیٹرکا اضافہ کردیا ہے، نئی قیمتوں کا اطلاق آج سے ہوگا۔

وزارت خزانہ سے جاری بیان کے مطابق پٹرول کی فی لیٹرقیمت میں 4روپے 26پیسے، ہائی اسپیڈ ڈیزل6روپے 55پیسے فی لیٹر، مٹی کے تیل کی قیمت میں 4روپے 46 پیسے فی لیٹر، لائٹ ڈیزل کی قیمت میں6روپے 14پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا ہے۔

اس اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت91روپے 96پیسے، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 105روپے 31پیسے، مٹی کے تیل کی نئی قیمت 84روپے 34پیسے اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت 74روپے 99پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔

دوسری جانب معاشی ماہرین کے مطابق ڈالر مہنگا ہونے کی وجہ بیرونی ادائیگیاں اور کم ہوتے زرمبادلہ کے ذخائر بنے ہیں، ماہانہ ایک ارب ڈالر کی ادائیگیاں زرمبادلہ ذخائرکو کم کررہی ہیں، جنھیں کم از کم 3ماہ کی درآمدات کے مساوی رکھنا ہے۔ ڈالر مہنگا ہونے سے بیرونی قرضوں میں 350ارب کا اضافہ ہو گیا ہے۔

بی بی سی کے مطابق یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور دیگر مالیاتی اداروں سے کیے گئے وعدے کے مطابق پاکستان کرنسی کی قدر میں بتدریج کمی کر رہا ہے۔

نگران وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اخترماضی میں اسٹیٹ بینک کی گورنر رہی ہیں اور ان کے دور میں بھی ڈالرکی قیمت کو مصنوعی طریقے سے کنٹرول کیے جانے کے بجائے اوپن مارکیٹ میں طلب و رسد کی بنیاد پر قیمت طے کیے جانے پر زیادہ زور دیا گیا۔ ایکسچینج کمپنیز آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری ظفر پراچہ حکومت کی جانب سے اعتماد میں نہ لینے کا شکوہ کیا ہے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کے گورنر اور سینیئر اہلکاروں سے ہونے والے اجلاس میں ہمیں کہا جاتا ہے کہ روپے کی قدر میں مزید کمی نہیں کی جا رہی ہے لیکن پھر اچانک انٹر بینک مارکیٹ میں اچانک قیمت بڑھانے سے اوپن مارکیٹ متاثر ہوتی ہے۔ ہمیں ایک پالیسی اپنانی چاہیے یا تو ڈالر کی قیمت کو اسٹیٹ بینک ریگولیٹ کرے یا پھر اْسے اوپن مارکیٹ پرچھوڑدیا جائے۔

درآمدوبرآمدات کے درمیان نمایاں فرق، زرمبادلہ کے ملکی ذخائر میں بتدریج کمی نے امریکی ڈالر کی نسبت روپے کی قدر کوغیرمستحکم کردیا، ڈالر کی قدر آسمان کوچھونے لگی، اور پیر کو انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدرمیں یکدم نمایاں کمی نے ایک بھونچال کی صورتحال پیدا کردی کیونکہ لمحہ بہ لمحہ ڈالرکی قدر میں اتارچڑھائو کا رحجان برقرار رہا۔

پیر کی صبح ڈالر کی انٹربینک ریٹ 116 سے بڑھ کر122 روپے تا124 روپے کی بلندترین سطح تک پہنچ گئی تھی لیکن چندلمحوں بعد ہی ڈالر کے انٹربینک ریٹ 120.25 روپے اور119.25 روپے پر آگئی تھی تاہم سہ پہرڈالر کے انٹربینک ریٹ دوبارہ119 روپے80 پیسے پر آگئی،انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت علی الصباح یکدم 6 تا 8 روپے بڑھنے کے بعد اختتام میں ریکوری ہوئی اور4روپے25 پیسے کا اضافہ ہوا۔

ڈالر کا انٹربینک ریٹ 122روپے تا124 روپے کی بلندترین سطح تک پہنچنے کے بعد چند لمحوں میں گھٹ کر119 روپے25 پیسے پرآگئی لیکن اختتام پر ڈالر کا انٹربینک ریٹ4 روپے25 پیسے کے اضافے سے 119 روپے90 پیسے کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔یوروکرنسی کی قدر5روپے72 پیسے کے اضافے سے141 روپے87 پیسے جبکہ برطانوی پاونڈ کی قدر6 روپے21 پیسے کے اضافے سے 161 روپے30 پیسے ہوگئی۔

ماہر معاشیات مزمل اسلم نے امریکی ڈالر کی اونچی اڑان کی وجہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ملک کا بے قابو تجارتی خسارہ اسکی اصل وجہ ہے جو36 ارب ڈالرسے تجاوزکرچکا ہے اور اسی وجہ سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائرتیز رفتاری کے ساتھ گرتے جارہے ہیں۔

مزمل اسلم نے بتایا کہ دسمبر2017 سے لیکراب تک مجموعی طور پرروپے کی قدر میں14 فیصد کی کمی آچکی ہے، انھوں نے کہا کہ نگراں حکومت نہ تو قرضہ لے سکتی ہے اور نہ ہی پالیسی سازی جس کے سبب مارکیٹ میں بے یقینی کی صورتحال بڑھتی جارہی ہے اور خطرہ ہے کہ آئندہ دنوں میں مہنگائی میں ہوشربا حد تک مزید اضافہ ہو۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ پیرکی صبح انٹربینک کی سطح پر ڈالر ودیگر اہم غیرملکی کرنسیوں کی قدر میں اچانک اضافے سے اوپن مارکیٹ میں بھی زبردست بحران پیدا ہونے کا خدشہ تھا لیکن فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدرملک محمد بوستان کی فوری طور پراسٹیٹ بینک حکام سے رابطہ کرکے موثر حکمت عملی اختیارکرنے کی بدولت اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 3روپے کے اضافے سے 121.50 روپے تک محدود رہی کیونکہ مارکیٹ میں یہ افواہیں گردش کررہی تھیں کہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر125 روپے سے تجاوزکرجائے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *