شہنشاہِ غزل مہدی حسن کی چھٹی برسی، وہ آواز جو ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی

شہنشاہ غزل مہدی حسن کو دنیا سے گئے 6 برس بیت گئے لیکن اُن کے گائے ہوئے گیتوں اور غزلوں کی تازگی اور مقبولیت آج بھی برقرار ہے۔

مہدی حسن نے راجھستان کے لُونا گاؤں کے موسیقار گھرانے کلاونت میں 18 جولائی 1927 کو آنکھ کھولی۔

6 سال کی عمر میں ہی ان کی موسیقی کی تربیت کا آغاز ہوا، جہاں ان کے استاد ان کے والد مہاراجا جے پور کے درباری گائیک استاد عظیم خان اور چچا استاد اسماعیل خان تھے۔

کم عمری میں ہی مہدی حسن ٹھمری، درپت، خیال اور دادرا سمیت کئی راگوں میں پختہ ہو گئے اور 8 سال کی عمر میں مہاراج گوالیار کے دربار میں فن کا مظاہرہ کیا۔

1947 میں مہدی حسن پاکستان آگئے، ابتدا میں وہ سائیکلوں کے پنکچر لگایا کرتے تھے، کچھ عرصہ موٹر مکینک بھی رہے۔ پھر 50 کی دہائی مہدی حسن پر مہربان ہوئی اور ریڈیو پاکستان پر گائیکی نے انہیں موسیقی کے حلقوں میں پہچان دلائی۔

اس کے بعد تو جیسے مہدی حسن فلم انڈسٹری کی ضرورت بن گئے اور انہوں نے متعدد فلموں میں سیکڑوں سدا بہار گیت گائے۔

ان کی شہرت سرحد پار بھی پہنچی اور بھارتی گلوکارہ لتا منگیشکر یہ کہنے پر مجبور ہوگئیں کہ 'مہدی حسن کے گلے میں بھگوان بولتا ہے'۔

مہدی حسن کے مقبول گانوں میں 'گلوں میں رنگ بھرے'، 'یہ دنیا رہے نہ رہے میرے ہمدم'، 'اب کہ ہم بچھڑے'، 'پیار بھرے دو شرمیلے نین'، 'اِک حسن کی دیوی سے مجھے پیار ہوا تھا' اور دیگر شامل ہیں۔

13 جون 2012 مہدی حسن کی زندگی کا آخری دن تھا، لیکن شہنشاہ غزل کی گائیکی ہماری سماعتوں میں ہمیشہ رس گھولتی رہے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *