پرویز مشرف کو وطن واپسی کیلئے کل دوپہر 2 بجے تک کی مہلت

لاہور: چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کل (بروز جمعرات) 2 بجے تک واپس آنے کی مہلت دیتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ سابق صدر کل تک آجائیں ورنہ قانون کے مطابق فیصلہ کردیں گے۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس عمر عطا بندیال پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے پرویز مشرف کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل پر سماعت کی۔

سماعت کے دوران وکیل کی جانب سے کہا گیا کہ 2013 کے عام انتخابات میں پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی کو سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں مسترد کردیا گیا تھا، عدالت نے ان کے موکل کی غیر موجودگی میں فیصلہ سنایا، لہٰذا پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی بحال کیے جائیں۔

وکیل پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ ان کے موکل بغاوت کے مقدمے کا سامنا کرنے کو تیار ہیں، جان کے تحفظ کی ضمانت دی جائے، جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ سپریم کورٹ سے کیا یقین دہانی چاہتے ہیں کہ ان کے خلاف بغاوت کی کارروائی نہ کی جائے؟

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ پرویز مشرف کی واپسی کے لیے ان کی شرائط کی پابند نہیں ہے، پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ پرویز مشرف وطن واپس آئیں، انہیں تحفظ دیں گے لیکن لکھ کر ضمانت دینے کے پابند نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کمانڈو ہیں تو آ کر دکھائیں، سیاستدانوں کی طرح میں آرہا ہوں کی گردان مت کریں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پرویز مشرف کو کس بات کا تحفظ چاہیے، وہ کس خوف میں مبتلا ہیں، اتنا بڑا کمانڈو خوف کیسے کھا گیا، مشرف تو کہتے تھے کہ وہ کئی مرتبہ موت سے بچے لیکن خوف نہیں کھایا۔

پرویز مشرف کے وکیل نے کہا کہ سابق صدر کو رعشہ کی بیماری ہے میڈیکل بورڈ ہونا ہے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پرویز مشرف ایئر ایمبولینس میں آجائیں ہم میڈیکل بورڈ بنا دیتے ہیں۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ مشرف کو اگر رعشہ کا مسئلہ ہے تو انتحابات میں کیسے کمال دکھائیں گے، سابق صدر واپس آئیں قانون،عوام اورعدلیہ کا سامنا کریں۔

انہوں نے کہا کہ اس بات کا جائزہ عدالت لے گی کہ مشرف کو واپس جانے کی اجازت کب دینی ہے اور ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں نام ڈالنا ہے یہ نہیں، پرویز مشرف آئیں اور غداری کے مقدمے کا سامنا کریں۔

سابق صدر کے بیرون ملک جانے کے معاملے پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کو بیرون ملک جانے کی نہیں دی، یہ اجازت حکومت کی جانب سے دی گئی تھی اور حکومت نے ہی ان کا نام ای سی ایل سے نکالا تھا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ واضح کرتا ہوں کہ یہ اجازت حکومت کی جانب سے دی گئی، سپریم کورٹ کے فیصلے کو غلط انداز میں پیش کیا گیا۔

اس موقع پر عدالت نے پرویز مشرف کو وطن واپس آنے کے لیے کل دوپہر 2 بجے تک کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ وہ کل آجائیں ورنہ قانون کے مطابق فیصلہ کریں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اگر اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھائیں گے تو پرویز مشرف کی درخواست کا فیصلہ کر دیا جائے گا۔

بعد ازاں عدالت نے پرویز مشرف کی درخواست پر سماعت کل تک کے لیے ملتوی کردی۔

خیال رہے کہ سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے ایک فیصلہ دیا گیا تھا، جس کے بعد ریٹرننگ افسر نے 2013 کے عام انتخابات میں پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے تھے، جس کے خلاف انہوں نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *