پانی کی قلت۔ واقعی؟

’’پاکستان میں پانی کم ہے، پانچ برس بعد یہاں پینے کا پانی ختم ہو جائے گا، پاکستان کا شمار اُن بدترین ممالک میں ہوتا ہے جو پانی کی کمی کی وجہ سے دنیا میں فلاں نمبر پر ہیں، بھارت ہمارے دریاؤں پر ڈیم بنا کر ہمارا پانی چوری کر رہا ہے، ہمارے دریا سوکھ چکے ہیں، پاکستان میں اگر ہم نے پینے کا پانی نہ بچایا تو کل کو ہماری فصلوں کے لئے پانی نہیں بچے گا اور اگر فصلیں خشک ہو گئیں تو ملک میں قحط پڑ جائے گا اور اگر قحط پڑ گیا تو ہم سب بھوکے مر جائیں گے، لہٰذا پانی کی بچت ضروری ہے، ہم سب کو چاہئے کہ آج سے ہم اپنی گاڑیاں ایک پانی بالٹی سے دھوئیں اور نہانے کے لئے شاور کا استعمال بند کر دیں۔‘‘ یہ ہے خلاصہ اُس ڈراؤنے خواب کا جو آج کل ہمیں دکھایا جا رہا ہے، اصولاً تو مجھے بھی اِس نیک کام میں اپنا حصہ ڈال کر ریٹنگ سمیٹنی چاہئے اور اعداد و شمار کو اِس بھیانک انداز میں پیش کرنا چاہئے کہ یوں لگے کہ اگر آپ آج پانی کی ٹنکی بھر کر نہ سوئے تو تین دن بعد پانی کی قلت سے فوت ہو جائیں گے، مگر خاطر جمع رکھیں ایسا کچھ نہیں ہے۔ پاکستان میں اور کچھ ہو نہ ہو پانی کی کمی نہیں، مسئلہ تدبیر کا ہے، اور یہ پانی کا نہیں پاکستان کا بنیادی مسئلہ ہے۔
حقائق تلاش کرنے کا ہمیں کوئی شوق ہے اور نہ ضرورت اور نہ ہی ہمیں کسی نے اسکول کالج میں سکھایا کہ حقائق کیسے تلاش کیے جاتے ہیں، سو بہتر ہے کہ پہلے حقائق اکٹھے کر لئے جائیں، انگریزی میں جنہیں factsکہتے ہیں۔ پہلی بات، پاکستان کے کُل پانی میں سے 90فیصد زراعت میں استعمال ہوتا ہے اور باقی 10فیصد شہروں، دیہات اور صنعتوں کی ضرورت پورا کرتا ہے۔ دوسری بات، پاکستان میں سالانہ پانی کا بہاؤ تقریباً 145ملین ایکڑ فٹ ہے، مطلب یہ کہ پاکستان کے گلیشیر، دریا، ندی، نالے، بارشیں سب ملا کر ہمیں سالانہ اتنا پانی دیتی ہیں کہ اگر 14کروڑ ایکڑ پر وہ پانی پھیل جائے تو ایک فٹ کھڑا نظر آئے گا۔ تیسری بات، یورپ اور دیگر ممالک کے برعکس ہمارے ملک میں 60سے 90فیصد بارشیں ایک مخصوص موسم میں ہوتی ہیں لہٰذا باقی سال پانی کی فراہمی کے تسلسل کے لئے ان موسموں میں پانی کا ذخیرہ کرنے کی ضرورت ہے اور یہ ذخیرہ ڈیم بنا کر ہی کیا جا سکتا ہے۔ چوتھی بات، 145ملین ایکڑ فٹ میں سے ہر سال 102ملین ایکڑ فٹ پانی زراعت کے لئے نہری نظام میں چلا جاتا ہے، 12ملین ایکڑ فٹ اس سے پہلے ہی آبی بخارات اور دیگر عوامل کی وجہ سے ضائع ہو جاتا ہے جبکہ 9ملین ایکڑ فٹ پانی ہمیں ماحولیاتی تحفظ اور ساحلی زمین کے کٹاؤ کو روکنے کے لئے چھوڑنا پڑتا ہے جبکہ باقی کا 22ملین ایکڑ فٹ ہم نہایت اطمینان سے سمندر میں پھینک کر ضائع کر دیتے ہیں جسے اصولی طور پر ذخیرہ کرنا چاہئے۔ پانچویں بات، پاکستان زمین کا پانی استعمال کرکے زرعی مصنوعات برآمد کرنے والا دنیا کا نمبر ایک ملک ہے، اس قسم کی مصنوعات میں 29فیصد عالمی تجارت کے ساتھ ہم پہلے نمبر پر ہیں، امریکہ 27فیصد اور بھارت 12فیصد کے ساتھ بالترتیب دوسرے اور تیسرے نشان پر ہے، سو پانی سے زرعی مصنوعات (مثلاً چاول جو سعودی عرب وغیرہ کو بھیجے جاتے ہیں) بنانے کا مطلب یہ ہوا کہ ہم دوسرے ملکوں کو پانی ایکسپورٹ کرتے ہیں اور پھر سینہ کوبی کرتے ہیں کہ ہمارے پاس پانی نہیں۔
یہ درست ہے کہ ہمارے شہروں میں پانی کی قلت ہو رہی ہے، یہ بھی درست ہے کہ ڈیموں میں پانی کم ذخیرہ ہو رہا ہے اور یہ بھی درست ہے کہ پاکستان میں فی کس پانی کی دستیابی کم ہو کر سرخ نشان کے قریب آ چکی ہے۔ مگر کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں پانی دستیاب نہیں؟ جی نہیں، جس ملک کے پاس دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام ہو، سندھ جیسا شیر دریا ہو جس کا 80فیصد پانی ہمالیہ سے آتا ہو اور ہمالیہ دنیا کا تیسرا بڑا برف کا ذخیرہ ہو، جہاں ہر دو چار سال بعد بارشوں سے سیلاب آ جاتا ہو، جہاں 22ملین ایکڑ فٹ پانی ہم سمندر میں پھینک کر ضائع کر دیتے ہوں، اُس ملک میں یہ کہنا کہ پانی کی قلت ہو چکی ہے ایسا ہی ہے جیسے یہ کہنا کہ افریقہ میں صحرا کم ہے۔ سنگاپور میں پینے کا پانی نہیں، وہ ملائشیا سے پانی منگواتا ہے، اسی طرح عرب اسرائیل میں بھی پانی کی بہاریں نہیں، اُن کے پاس ہمارے جتنا پانی ہوتا تو وہ 22ملین ایکڑ فٹ میں سے ایک لٹر پانی بھی ضائع نہ ہونے دیتے۔ ہم یہ بھی سنتے ہیں کہ ملک میں زیر زمین پانی کی سطح کم ہو رہی ہے۔ لاہور کی مثال لیتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق لاہور میں ہر سال زیر زمین پانی کی سطح نصف میٹر نیچے جا رہی ہے، مگر یہ گنجان شہری آبادی کی مثال ہے، اردگرد کے علاقوں میں صورتحال ایسی نہیں، وہاں پانی کے استعمال اور ری چارجنگ کا تناسب تقریباً برابر ہے۔
مسئلہ کیا ہے؟ مسئلہ تدبیر کا ہے۔ ہمارا نہری نظام بے شک دنیا میں سب سے بڑا ہے مگر ’’کفایت شعار‘‘ نہیں ہے، ترقی یافتہ ممالک میں نہری پانی سے استفادہ کرنے کی شرح 90فیصد ہے جبکہ ہمارے ہاں یہ شرح 33فیصد ہے۔ حل یہ ہے کہ اس شرح کو بہتر بنایا جائے۔ پاکستان اپنے بہتے ہوئے پانی کا فقط 10فیصد ہی ذخیرہ کر پاتا ہے جبکہ دنیا میں یہ اوسط 40فیصد کے قریب ہے۔ حل یہ ہے کہ باقی کا 30فیصد ذخیرہ کیا جائے۔ زرعی ضرورتوں کے علاوہ جو 10فیصد پانی شہروں، دیہات اور صنعتوں میں استعمال ہوتا ہے اسے ہم استعمال کے بعد دریا میں پھینک دیتے ہیں، دنیا ایسے نہیں کرتی، ترقی یافتہ ممالک استعمال شدہ پانی کو الگ کرکے قابل استعمال بناتے ہیں، یہی حل ہے، اسرائیل دنیا میں پانی کو ری سائیکل کرنے والا نمبر ایک ملک ہے، اسرائیل کی پانی کو قابل استعمال بنانے کی شرح دنیا کے کسی بھی اور ملک سے چار گنا زیادہ ہے۔
دو باتیں رہ گئیں۔ کالا باغ ڈیم اور بھارت کی آبی جارحیت۔22ملین ایکڑ فٹ پانی کو ذخیرہ کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ڈیم بنایا جائے۔ دیامیر بھاشا کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 8ملین ایکڑ فٹ ہے، کالا باغ ڈیم کی تقریباً 11ملین ایکڑ فٹ اور بنجی ڈیم کی فقط صفر اعشاریہ دو فیصد۔ کالا باغ ڈیم جب تک نہیں بنتا اُس وقت تک پانی کو بچانے کے باقی طریقوں پر عمل کیا جا سکتا ہے یا پھر اس کا متبادل ڈھونڈا جا سکتا ہے۔ اب ہمارا محبوب موضوع کہ بھارت ہمارا پانی چوری کر رہا ہے، اگلی جنگ پانی پر لڑی جائے گی اور ہم اپنا مقدمہ عالمی عدالت میں بہتر طور سے نہیں لڑتے وغیرہ وغیرہ۔ سندھ طاس معاہدہ کے تحت مغربی دریا سندھ، چناب اور جہلم ہمارے حصے میں آئے اور مشرقی دریا راوی، بیاس اور ستلج بھارت کے پاس گئے۔ اگر یہ معاہدہ نہ بھی ہوتا تو پاکستان کے پاس مشرقی دریاؤں کے پانی کو روکنے کا کوئی طریقہ نہیں تھا، یہ دریا بھارت سے آتے ہیں اور وہی اس کا پانی استعمال کرتا ہے۔ رہ گئے سندھ، چناب اور جہلم۔ دنیا میں کوئی ایسا طریقہ ایجاد نہیں ہوا کہ بھارت سندھ کا پانی استعمال کر سکے۔ رہی بات چناب اور جہلم کی تو پاکستان اور بھارت کا نقشہ سامنے رکھیں اور دریاؤں کا بہاؤ دیکھیں اور یہ اندازہ لگائیں کہ بھارت کہاں کہاں سے اور کس قیمت پر ان دریاؤں کا پانی چوری کرکے پاکستان کو خشک کر سکتا ہے۔ جواب سے مجھے ضرور مطلع کیجئے۔ اور جب تک اس سوال کا جواب نہ ملے ہم اطمینان سے اپنے حصے کا 22ملین ایکڑ فٹ پانی سمندر میں پھینک کر ضائع کر سکتے ہیں۔
کالم کی دُم:اس کالم کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہمیں پانی بے دردی سے استعمال کرنے کی کھلی چھٹی ہے، پانی یہ سوچ کر استعمال کریں کہ اس پاکستان میں بلوچستان کے دور افتادہ علاقے ایسے بھی ہیں جہاں ایک بالٹی پانی کے لئے لوگوں کو کوسوں چلنا پڑتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *