ٹرانسمیشن لائنز اور بجلی کی پیداوار

چلیں یہ تو مان لیا۔ ن لیگ حکومت نے پانچ سال میں 11k میگاواٹ بجلی بنائ ۔ اور اس وقت ھم 21/22 ھزار میگاواٹ بجلی پیدا کر رھے ھیں۔ جبکہ گنجائش 28 ھزار میگاواٹ کی ھے۔ اور طلب 23/24 ھزار میگاواٹ کی ھے۔ پہلے تو یہ سمجھ لیں ۔ پانچ سال میں یہ کوئی معمولی کامیابی نہیں ۔ اب اعتراض یہ آیا ھے۔ کہ ڈسٹریبیوشن اور ٹرانسمیشن سسٹم کو بہتر نہیں کیا۔ پہلے تو یہ سن لیں ۔ کہ اس وقت جس 21/22 ھزار میگاواٹ بجلی کی ترسیل جاری ھے۔ وہ تبھی ممکن ھوئ ھے۔ کہ ٹرانسمیشن کا نظام بہتر بنایا گیا ھے۔ اور اس میں پچھلے چند سالوں سے 500kv اور 220kv کی 203 کلومیٹر لائنز کا اضافہ کیا گیا۔ جس کے تحت نئے بننے والے پاور پلانٹس مثلا 1200 میگاواٹ کا بھکی پروجیکٹ ، 1320 میگاواٹ کا ساہیوال کول پروجیکٹ اور نیلم جہلم کا 969 میگاواٹ کا ھائیڈل پروجیکٹ شامل ھیں۔ صرف نیلم جہلم کو روات پر نیشنل گرڈ سے ملانے کے لیے 145 کلومیٹر 500 kv کی لائن تعمیر کی گئ۔ یاد رھے۔ ابھی نیلم جہلم کی تقریبا 500 میگاواٹ کی دو ٹنلز نے فنکشنل ھونا ھے۔ اس کے علاوہ ابھی ایسے پاور پروجیکٹس عنقریب مکمل ھونے والے ھیں ۔ جن کے بعد بجلی کی پیداوار میں دس سے بارہ ھزار میگاواٹ کا مزید اضافہ ھو جائے گا۔ ان میں ھب 1320 میگاواٹ ، اینگرو تھر 660 میگاواٹ ، بلو کی 1223 میگاواٹ ، حویلی بہادر شاہ 1200 میگاواٹ ،قاسم پاور فیز تھری 950 میگاواٹ ، پنجاب پاور پلانٹ 950 میگاواٹ ، مہمند ڈیم 800 میگاواٹ ، سکی کناری 870 میگاواٹ ، کروٹ 720 میگاواٹ ، کے الیکٹرک 700 میگاواٹ ، ایٹمی پلانٹ کینپ 2 ، 1100 میگاواٹ اور ایٹمی پلانٹ کینپ 3، 1100 میگاواٹ جیسے پروجیکٹس شامل ھیں ۔ جو اگلے چند ماہ سے لے کر تین سال میں مکمل ھو جائیں گے۔ تھرمل ، کول ، ھائیڈل میں بےشمار چھوٹے بڑے پروجیکٹس بناے جا رھے ھیں۔ اس کے علاوہ سولر اور ونڈ میں بننے والے پاور پلانٹس الگ سے ھیں۔ ان سب کی تفصیل یہاں لکھنا مشکل ھے۔ ان میں پرائیویٹ اور این ٹی ڈی سی ایل اور چائنہ کی سرمایہ کاری شامل ھے۔ ان پروجیکٹس میں ڈیمز بھی شامل ھیں۔ جن سے پانی کی کمی پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔
آپ کو ان پاور پلانٹس کی تعمیر پر حیران ھونے کی ضرورت نہیں ۔ یاد رھے ۔ ان کا بننا ایک قومی ضرورت تھی۔ ایک اندازے کے مطابق 2025 تک ملک میں بجلی کی طلب 49000 میگاواٹ تک پہنچ جائے گی۔ ابھی سسٹم میں 11 ھزار میگاواٹ نئی بجلی داخل ھو چکی ھے۔ اور 22 ھزار میگاواٹ بجلی پیدا ھو رھی ھے۔ اس کے باوجود یہ بجلی طلب سے دو ھزار میگاواٹ کم ھے۔ ذرا سوچیں ۔ پچھلے چند سالوں میں اٹھارا اٹھارا گھنٹے لوڈشیڈنگ ھوتی رھی تھی۔ اور ھمارے کارخانے اور فیکٹریاں بند ھو رھی تھیں۔ اگر یہ بجلی نہ بنائ جاتی۔ تو اس وقت ملک کا کیا حال ھوتا۔ ابھی ھماری بجلی پیدا کرنے کی گنجائش 28 ھزار میگاواٹ ھے۔ لیکن ٹرانسمیشن لائنز اس کا بوجھ اٹھانے سے قاصر ھیں ۔ آپ کو یاد ھو گا۔ چند ھفتے قبل پنجاب اور کے پی کے میں مکمل بجلی چلی گئی تھی۔ اس کی وجہ یہی تھی۔ جب بجلی زیادہ پیدا کی گئ۔ تو سسٹم ٹرپ کر گیا تھا۔ جیسا میں نے اوپر لکھا۔ نئ ٹرانسمیشن لائنز بچھائی جا رھی ھیں۔
اور ان لائنز میں جو سب سے بڑا پروجیکٹ ھے۔ وہ 660kv کی ھائ وولٹیج ڈائریکٹ کرنٹ لائن ھے۔ جو مٹیاری سندھ سے ننکانہ صاحب لاھور تک تعمیر کی جا رھی ھے۔ اس کی لمبائی 878 کلومیٹر ھے۔ اور یہ ھمارے بجلی ترسیل کے سسٹم پر پڑنے والے بوجھ کو اٹھا لے گی۔ اور پورٹ قاسم ، ھب اور اینگرو تھر کے پاور پلانٹس کی بجلی کو ملک کے بالائی علاقوں تک پہنچانے کے کام آئے گی۔ یاد رھے۔ پاکستان میں پہلی بار 660kv کی ھائ وولٹیج لائن تعمیر ھو رھی ھے۔ اس پروجیکٹ پر کام کرنے والے ایک پاکستانی انجینیر نے بہت فخر اور جذبات میں رندھے لہجے میں یہ بات کہی۔ وہ جب دوسرے ملکوں میں ایسے عظیم منصوبوں پر کام کرتا تھا۔ تو سوچا کرتا تھا ۔ کاش میرے اپنے ملک میں کبھی ایسا ترقی یافتہ منصوبہ لگے۔ خدا کا شکر ھے۔ اس کا خواب مکمل ھوا اور وہ آج اپنے ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ لے رھا ھے۔ ایسے بےشمار ڈاکٹرز اور انجینئرز غیر ملکوں میں اپنی پر کشش نوکریاں چھوڑ کر پاکستان آ چکے ہیں۔ اور ملک کی تعمیر نو میں حصہ لے رھے ھیں۔ وہ تعمیر و ترقی جس کا کریڈٹ مسلم لیگ ن کی حکومت اور نواز شریف کے ویژن کو جاتا ھے۔ اور جسے آج قوم کی اکثریت تسلیم کر رھی ھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *