عمران خان، میڈیا اور سیاسی صورتحال


دیوار کیا گری میرے کچے مکان کی
لوگوں نے میرے صحن میں رستہ بنا لیا
تو کیا عمران خان کے کچے گھر کی دیوار گر گئی ھے۔ جو اب تک کے موافق اور حمایتی میڈیا نے یکایک ان کے صحن میں راستے بنانا شروع کر دیے ھیں۔ اور اس کچے مکان پر شدید تنقیدی نگاہ بھی ڈال رھے ھیں ۔ کہاں سے اس کا پلستر اکھڑا ھوا ھے۔ کس جگہ سے اینٹیں سرکی ھوئ ھیں۔ کہاں سیلن لگی ھوئ ھے۔ اور کہاں سے دیمک کھا رھی ھے۔ اور رنگ و روغن کہاں سے ماند پڑ رھا ھے۔ یاد رھے یہ علامتی طور پر کچا مکان تھا۔ کیونکہ اسے مانگے تانگے کی ریت ، ادھار کے گارے اور ادھر ادھر سے اٹھائ اینٹوں سے بنایا گیا تھا۔ بھان متی کا یہ کنبہ وقت سے پہلے ھی تندی باد مخالف کی ذد میں آ گیا ھے۔ جس میں اپنے ھی دوست بھی شامل ھو گئے ھیں۔ اور عمران خان کے فالوورز اور سپورٹرز اس مخالفت کو خان کی اونچی پرواز سے تشبیہ دے رھے ھیں۔ ان کا خیال ھے۔ اب عمران خان کو اپنوں اور غیروں دونوں سے لڑنا ھے۔ اسی حوالے سے ایک سازشی تھیوری یہ سامنے آئی ھے۔ کہ چونکہ پاکستان کے لوگوں میں نوازشریف کے متعلق اینٹی اسٹیبلشمنٹ ھونے کا تصور پکا بن گیا تھا۔ اور اسی طرح عمران خان پر پرو اسٹیبلشمنٹ کا ٹھپہ لگ چکا تھا۔ اور چونکہ پاکستان کے لوگ بنیادی طور پر ایک اینٹی اسٹیبلشمنٹ اور ایک باغی کو ھیرو سمجھنا شروع کر دیتے ھیں۔ اور اس کی سیاسی مقبولیت اور سیاسی عصبیت میں اضافہ ھو جاتا ھے۔ چناچہ حوالدار میڈیا پر عمران مخالف مہم اسی لیے شروع کی گئی ھے۔ تاکہ نواز شریف اور عمران خان کو بیلینس کیا جا سکے۔ یہ سازشی تھیوری اتنی منطقی نہیں ھے۔ اس لیے کہ عین الیکشن سے قبل اتنی منفی مہم عمران خان کو شدید نقصان پہنچا سکتی ھے۔ عمران خان کو ظفر سپاری سے ملانا بہرحال ڈرامہ نہیں ھو سکتا۔
دوسرا خیال یہ ھے ۔ کہ حوالدار میڈیا کو یہ حکم اوپر سے آیا ھے۔ اور یہ کہ اسٹیبلشمنٹ عمران خان کو حدود میں رھنے کی وارننگ جاری کر رھی ھے۔ وہ حدود جس کے متعلق ھم ھمیشہ لکھتے آے ھیں۔ اسٹیبلشمنٹ کا کوئی بھی پروردہ ان حدود کو کراس کرے گا۔ تو اس کی باگیں کھینچ لی جائیں گی۔ یہ دلچسپ امر ھے۔ کہ عمران خان کو اقتدار ملنے سے قبل ھی کاٹھی ڈالی جا رھی ھے۔ یہ قضیہ 11 جون کو شروع ھوا۔ جب عمرے پر روانہ ھوتے وقت عمران خان نے فون کرکے اپنے دوست ذلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ سے نکلوایا۔ اور اسے اپنے ساتھ عمرے پر لے گئے۔ اس ایکشن کو سوشل میڈیا پر بہت زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اور عمران خان کے مخالف سیاستدانوں نے اسے عمران خان کی بادشاہت اور آمریت سے تعبیر کیا۔ جو اقتدار میں آنے سے قبل ھی ایک وزیراعظم کی مانند عمل کرنا شروع ھو گئے تھے۔ اسٹیبلشمنٹ اس قسم کے اکھڑ رویے کو پسند نہیں کرتی۔ عمران خان پر پہلے ھی ریحام خان کی جانب سے اخلاقی دباؤ تھا۔ یہ اخلاقی دباؤ فاروق بندیال کی شکل میں ڈبل ھوا۔ اور ٹکٹوں کی غلط تقسیم میں ٹرپل۔ اور اب ذلفی بخاری کا ایشو۔ چناچہ اسٹیبلشمنٹ نے اپنا ھاتھ اٹھا لیا ھے۔ میں اس سازشی تھیوری کو بھی تسلیم نہیں کرتا۔ اسٹیبلشمنٹ جس سیاسی لیڈر پر پچھلے کئی سالوں سے سرمایہ کاری کر رھی ھے۔ وہ ایک دم اس کے خلاف کیسے ھو سکتی ھے۔ خاص طور پر جب اسٹیبلشمنٹ کے پاس کوئی نعم البدل بھی نہ ھو۔ یاد رھے۔ اسٹیبلشمنٹ نعم البدل کے طور پر ایک دو سیاستدان فرنٹ فٹ جبکہ ایک دو بی پلان کے طور پر محفوظ رکھتی ھے۔ خیال ھے۔ یہ نعم البدل پیپلزپارٹی اور آزاد امیدواروں کی شکل میں سامنے آے گا۔ اور عمران خان کے ایلیکٹ ایبلز منتخب ھو کر اس ھنگ سیٹ اپ کا حصہ بن جائیں گے۔ اور نواز شریف کی طرح عمران خان بھی سیاست سے آوٹ ھو جائیں گے۔ یہ خیال کافی حد تک درست لگتا ھے۔ اور یا پھر خان صاحب راہ راست پر آ جائیں گے۔
یہ بھی ممکن ھے۔ الیکشن ملتوی کرنے کے بہانے تیار کیے جا رھے ھوں۔
ایک خیال یہ بھی ھے۔ کہ شائد ن لیگ مائنس نواز شریف کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ڈیل ھو گئ ھے۔ کیونکہ اسٹیبلشمنٹ سے آنے والے الیکشن مینج نہیں ھو رھے تھے۔ نواز شریف کی مقبولیت بڑھ رھی تھی۔ منظور پشتین کا دباؤ الگ سے بڑھ رھا تھا۔ علاقائی اور بین الاقوامی دباؤ میں بھی اضافہ ھو رھا ھے۔ ملک کی معاشی حالت گر رھی ھے۔ چناچہ مجبورا یہ ڈیل کی گئ ھے۔ اس تھیوری کو آنے والا وقت ھی ثابت کر سکتا ھے۔ خاص طور پر یہ کہ نوازشریف کو کوئی ریلیف ملتی ھے۔ اور میڈیا اور ادارے ن لیگ کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں ؟
باقی رھی یہ باتیں کہ جہانگیر ترین نے مالی مدد کرنا چھوڑ دی ھے۔ یا ن لیگ نے میڈیا خرید لیا ھے۔ یا یہ کہ میڈیا فئیر ھو کر چل رھا ھے۔ اور اچھے کو اچھا اور برے کو برا کہہ رھا ھے۔ سوشل میڈیا کی گپ شپ سے بڑھ کر اور کچھ نہیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *