بیگم کلثوم نواز، عید اور ’’پہلا پتھر‘‘

برسوں بیت جانے کے بعد بھی ہم اپنے رفتگاں کو یاد رکھتے ہیں۔ کہتے ہیں‘ دل میں مختلف خانے ہوتے ہیں۔ ان میں سے ہر خانہ کسی کی محبت کے لئے مخصوص ہوتا ہے۔ وہ چلا جاتا ہے‘ تو اس کا خانہ اس کی یادوں کا مرقد بن جاتا ہے اور ہم کسی نہ کسی بہانے اسے یاد کرتے رہتے ہیں۔ وہ جو شاعر نے کہا تھا:
تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں
کسی بہانے تمہیں یاد کرنے لگتے ہیں
عید کے دن ہمارے قبرستان خوشبوئوں سے مہک اٹھتے ہیں۔ شہر خموشاں میں میلے کا سماں ہوتا ہے۔ ان میں وہ بھی ہوتے ہیں‘جو نماز عید کے بعد سیدھے ادھر کا رخ کرتے ہیں۔ دور تک پارکنگ کے لئے جگہ نہیں ملتی۔ پانچ‘ پانچ، سات‘ سات سال کے بچے اپنے ابو اور دادا ابو کی انگلی تھامے ہوتے ہیں۔ قبر پر پہنچ کر وہ بھی ہاتھ اٹھا دیتے ہیں۔ انہیں کچھ خبر نہیں ہوتی کہ اس موقع پر کیا پڑھنا ہے‘ لیکن یہ احساس جاگزیں ضرور ہو جاتا ہے کہ بڑے ہو کر انہیں بھی یہ رسم نبھانا ہے۔ چار سال سے واپڈا ٹائون کے قبرستان آنا میرے معمولات کا بھی لازمی حصہ ہے۔ معلوم نہیں‘ اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ لیکن بچے ماں کی 'پائنتی‘ کو ہاتھ لگانا اور پھر انہیں ہونٹوں سے چھونا ضروری سمجھتے ہیں۔ وہ زندہ تھی تو اس وقت بھی ان کا یہی معمول تھا۔ دو‘ تین سال پہلے میں نے دیکھا کہ 45، 50 کے لگ بھگ عمر کی ایک خاتون قبر پر پھول چڑھانے کے بعد دعا مانگ رہی تھی۔ یہاں اکثر قبروں پر کتبے ہیں‘ لیکن اس قبر پر کوئی کتبہ نہ تھا‘ جس سے اندازہ ہو کہ اس گھر کا مکین کون ہے اور اس سوگوار سے اس کا کیا رشتہ تھا؟ اس عید پر بھی وہی خاتون نظر آئی۔ اس بار اسے پارکنگ کے لئے بہت دور جگہ ملی تھی۔ اس نے گاڑی سے نکل کر سلیقے سے سر ڈھانپا۔ اس کے ایک ہاتھ میں خوشبو کی شیشی اور دوسرے میں گلاب کا شاپر تھا۔ اور پھراسی بے نام قبر پر وہی منظر۔ اس بار مجھے یوں لگا کہ دعا کے بعد چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے‘ وہ آنسوئوں کو بھی صاف کر رہی تھی۔ کبھی آئندہ ملاقات ہوئی تو یہ پوچھنے کی جرأت ضرور کروں گا کہ چلے جانے والے سے اس کا رشتہ کیا ہے؟ کیا یہ اس کا شریک حیات تھا؟ اکٹھے جینے مرنے کے وعدے کرنے والا‘ جو سفر کے آغاز ہی میں دور بہت دور چلا گیا۔ اپنی کوئی 'نشانی‘ چھوڑے بغیر، ورنہ وہ اکیلے نہ آتی اور یہ بھی کہ اس نے زندگی کا باقی ماندہ سفر تنہا کاٹنے کا مشکل فیصلہ کیوں کیا؟ یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ جس کی قبر پر وہ پھول چڑھانے‘ دعائوں کے گلاب نچھاور کرنے اور اشکوں کے چراغ روشن کرنے آتی ہے، وہ اس کا لخت ِجگر ہو۔
اس عید پر گھروں میں بیگم کلثوم نواز کا ذکر بھی ہوا۔ اعجاز شفیع گیلانی کا ''گیلپ‘‘ یا احمد بلال محبوب کا ''پلڈاٹ‘‘ سروے کروائے‘ تو معلوم ہو کہ عام گھریلو خواتین اس ''ایپی سوڈ‘‘ سے کتنی متاثر ہو رہی ہیں۔ سیاست سے قطع نظر اس کا ایک انسانی پہلو بھی ہے۔ ہمارے سجاد میر نے تو اسے ایک اور انداز میں لیا۔ میاں صاحب ان دنوں جس ہمت سے کام لے رہے ہیں‘ سجاد میر کے خیال میں‘ یہ ایک سیاستدان کی ہمت نہیں‘ ایک صوفی کا صبر ہے۔ اہلیہ بیمار پڑی ہیں او ریہ بڑے استقلال سے اس بات کا بندوبست کر رہے ہیں کہ پاکستان کی عدالتوں کے آئینی تقاضے پورے کرنے میں کوئی کمی نہ ہو۔ وہ ہر روز عدالت آتے اور لاہور پلٹ جاتے۔ میر صاحب کو اس کا احساس اس طرح کبھی نہ ہوا تھا‘ جس طرح ٹی وی دیکھ کر ہوا۔ جس طرح وہ ہسپتال سے باہر نکل رہے تھے اور ساتھ ان کی بیٹی مریم بھی تھی‘ جو خود والد کے ساتھ ایک بڑے امتحان سے گزر رہی تھی۔ اور خود بیگم صاحبہ کے حوصلے کی داد بھی دینی چاہئے جو زندگی اور موت کے دوراہے پر کھڑی ہیں۔ مریض ضرورت سے زیادہ حساس ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے پیاروں کی زیادہ سے زیادہ توجہ چاہتا ہے۔ ڈاکٹروں کے دوا‘ دارو اپنی جگہ‘ لیکن اس موقع پر مریض کو نفسیاتی سہارے اور جذباتی تسکین کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ انہیں انتظار ہوگا اور امید بھی کہ ان کا جیون ساتھی اور ان کی لخت جگر عید پر تو ضرور آئیں گے اور اسی کیفیت میں وہ ہوش و خرد سے بیگانہ ہوگئیں۔ وطن سے روانہ ہوتے ہوئے شریک ِحیات کا خیال تھا کہ وہ ہسپتال پہنچ کر اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھے گا‘ تو ویران آنکھوں میں روشنی سی لہر آجائے گی۔ بیٹی کا خیال تھا کہ مہینوں بعد اپنی لاڈلی کو سامنے پا کر ماں کے چہرے پر رونق آجائے گی‘ لیکن یہ تو ہیتھرو ایئر پورٹ پہنچ کر باپ بیٹی کو معلوم ہوا کہ ان کی متاع جاں وینٹی لیٹر پر پہنچ چکی۔
شامی صاحب بتایا کرتے ہیں‘ 12 اکتوبر 1999ء کے کچھ روز بعد بڑے میاں صاحب (مرحوم) سے رابطہ ہوا‘ تو وہ کہہ رہے تھے: اللہ تعالیٰ جن پر بڑی نوازشیں کرتا ہے‘ ان کے لئے آزمائشیں بھی اسی حساب سے ہوتی ہیں۔ یہ وہ دن تھے‘ جب معزول وزیراعظم کا کچھ پتہ نہ تھا کہ کس حال میں ہے۔ حسین نواز سے بھی کوئی رابطہ نہ تھا۔ ایک شب بڑے میاں صاحب کو دل کی تکلیف ہوئی تو ان کے معالج نے آنے سے اظہار معذوری کر دیا۔ اور اب شریف خاندان ایک اور طرح کی آزمائش سے دوچار ہے۔ اقتدار آنی جانی چیز ہے جیل اور جلاوطنی بھی بڑی آزمائش ہوتی ہے‘ لیکن بیگم صاحبہ کے حوالے سے آزمائش بڑی سخت اور بہت کٹھن ہے۔
بیگم صاحبہ کی تشویشناک حالت پر عمران خان نے بھی ہمدردی کا پیغام بھجوایا۔ آرمی چیف کے اظہارِ ہمدردی کی خبر بھی آئی۔(گذشتہ ستمبر میں لندن میں بیگم صاحبہ کے کینسر ڈائیگنوز ہونے کی خبر آئی تھی، تو یاد پڑتا ہے کہ آرمی چیف نے میاں صاحب سے فون پر اظہار تشویش کیا تھا) لیکن عمران خان کے ترجمان کی اس پریس کانفرنس کو کیا کہا جائے ‘جس کے لئے اس نے عید کی چھٹیاں ختم ہونے کا بھی انتظار نہ کیا۔ وہ اس پر اظہارِ حیرت کر رہا تھا کہ سپریم کورٹ کے 28 جولائی کے فیصلے کے بعد احتساب عدالت میں ان ریفرنسز کواتنا عرصہ ہوگیا اور ابھی تک کسی ایک ریفرنس کا بھی فیصلہ نہیں آیا (سزا نہیں سنائی گئی) وہ اس کا 'الزام‘ میاں صاحب (اور ان کے وکلائ) کو دے رہا تھا۔ اس کے بقول‘ جو سزا سے بچنے کے لئے تاخیری حربے اختیار کر رہے ہیں؛ حالانکہ میاں صاحب اور ان کی صاحبزادی باقاعدگی سے عدالت میں پیش ہو رہے ہیں۔ کسی ایک موقع پر بھی فاضل عدالت نے ان کے وکلاء سے نہیں کہا کہ آپ غیر ضروری بحث کے ذریعے تاخیری حربے اختیار کر رہے ہیں۔ تو کیا انصاف کے ان علمبرداروں کا تصور انصاف یہ ہے کہ ملزموں کو استغاثہ پر جرح اور اپنی صفائی کا بنیادی انسانی حق دیئے بغیر‘کسی سمری کورٹ کے ذریعے سزا سنا دی جاتی۔
قاسم پیرزادہ یاد آئے:
اک سزا اور اسیروں کو سنا دی جائے
یعنی اب جرمِ اسیری کی سزا دی جائے
گذشتہ دنوں 2 دوستوں میں بحث ہو رہی تھی۔ ان میں ایک نواز شریف کا متوالا ہے اور دوسرا کپتان کا چاہنے والا۔ اس کا کہنا تھا ‘کیا تم قسم اٹھا کر کہہ سکتے ہو کہ نواز شریف نے کرپشن نہیں کی؟ متوالے کا جواب تھا: میں ایمانداری سے ایسا ہی سمجھتا ہوں ‘لیکن کیا تم حلفاً کہہ سکتے ہو کہ نواز شریف کے ساتھ یہ سلوک اس کی 'کرپشن‘ ہی کی وجہ سے ہو رہا ہے؟ اس کے ساتھ بحث کا رخ شیخ رشید کیس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے سات پوائنٹس کی طرف مڑ گیا۔
عید کی چھٹیوں میں نئے گھر میں اپنی لائبریری کو ترتیب دیتے ہوئے مصطفیٰ زیدی کی کلیات میں ''پہلا پتھر‘‘ پر نظر پڑی۔ اس کے آخری 2 بند:
صبا جو راہ میں دشمن ملیں تو فرمانا
کہ یہ تو کچھ نہ کیا‘ ہو سکے تو اور کرے
کہ اپنے دستِ لہو رنگ پر نظر ڈالے
کہ اپنے دعویٰ معصومیت پر غور کرے
حدیث ہے کہ اصولاً گناہ گار نہ ہوں
گناہ گار پہ پتھر سنبھالنے والے
اور اپنی آنکھ کے شہتیر پر نظر رکھیں
ہماری آنکھ سے کانٹے نکالنے والے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *