ایلیکٹ ایبلز اور پاور سٹرکچر

اچھا ایلیکٹ ایبلز کے لغوی معنی بھی یہی ھیں۔ یعنی ایسے انتخابی امیدوار جو خود سے منتخب ھونے کے قابل ھیں یا منتخب ھونے کی صلاحیت رکھتے ھیں ۔ اور ان کے متعلق عمومی تاثر بھی یہی ھے۔ کہ یہ لوگ اپنے اپنے علاقوں میں اپنی برادری ، اپنے قبیلے ، اپنی ذات پات ، مقامی سیاسی جوڑ توڑ ، مقابلہ بازی ، خاندانی و مالی و زمینی اثر و رسوخ اور حسد و رشک اور ذاتی مقبولیت کی بنا پر اس قابل ھوتے ھیں ۔ کہ انتخابات میں میدان مار سکیں۔ لیکن ایلیکٹ ایبلز کے متعلق یہ تصور یا متھ درست نہیں ۔ کیونکہ اگر یہ ایلیکٹ ایبلز اتنے ھی پاپولر ھوں کہ تن تنہا الیکشن جیت سکیں ۔ تو پھر انہیں انتخابات سے قبل سیاسی پارٹیاں جوائن کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔ لیکن دیکھا گیا ھے۔ بہت کم ایلیکٹ ایبلز آزادانہ انتخاب لڑتے ھیں۔ وجہ اس کی یہ ھے۔ ایلیکٹ ایبلز کو یقین نہیں ھوتا وہ اکیلے اتنے ووٹ لے سکتے ھیں جو ان کی جیت کے لیے کافی ھوں۔ آخر میں پندرہ بیس ھزار کا فرق رہ جاتا ھے۔ اس فرق کو دور کرنے کے لیے یہ ایلیکٹ ایبلز اپنے تئیں یا زیر ھدایت کسی پارٹی میں شمولیت اختیار کر لیتے ھیں ۔ اور یوں اپنے ذاتی ووٹ اور پارٹی کے ووٹ مل کر ان کی پوزیشن بظاھرا مضبوط کر دیتے ھیں۔اس مضبوطی یا کامیابی میں انتظامیہ بھی اپنا حصہ ڈالتی ھے ۔ اور سہولت کار بنتی ھے۔
لیکن سوال یہ ھے۔ ایک سیاسی پارٹی ان فصلی بٹیروں کو کیونکر اپنی پارٹی میں شامل کرتی ھے۔ تو اس کی وجہ بھی یہی ھے۔ کہ وہ سیاسی پارٹی یہ سمجھتی ھے۔ کہ چند مخصوص علاقوں اور حلقوں میں اس کی سیاسی پوزیشن یا سیاسی مقبولیت اتنی زیادہ نہیں کہ وہ اپنے پارٹی امیدواروں کو جتوا سکے۔ یہ بھی ممکن ھے۔ ان مخصوص علاقوں میں اس سیاسی پارٹی کی معاشرتی جڑیں اتنی گہری نہ ھوں۔ سیاسی تنظیم کمزور ھو۔ الیکشن ڈے پر وہ ووٹرز کو موبیلائز نہ کر سکے۔ اتنے سیاسی ورکرز ھی نہ ھوں ۔ کہ پولنگ ایجنٹس مقرر کر سکے۔ چناچہ ان تمام بکھیڑوں اور کمزوریوں سے بچنے کی خاطر یہ سیاسی پارٹی ایلیکٹ ایبلز کو لینے پر مجبور ھو جاتی ھے۔ تاکہ کسی بھی طریقے سے اقتدار حاصل کر سکے۔ یوں الیکٹ ایبلز اور سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے کا سہارا بن جاتے ہیں۔ اسی لیے اسے ایلیکٹ ایبلز اور سیاسی پارٹیوں کے درمیان marriage of convenience بھی کہا جاتا ھے۔ لیکن سہولت کی اس شادی میں دونوں فریق نہ صرف اپنی انفرادی شکست کو تسلیم کر رھے ھوتے ھیں بلکہ اپنے اپنے داو اور مفاد کی گیم بھی کر رھے ھوتے ھیں۔ اور وقت آنے پر ایک دوسرے کی پیٹھ میں چھرا بھی گھونپ دیتے ھیں۔
پاکستان کی تاریخ میں 1970 کے الیکشن بہت منفرد تھے۔ نہ صرف یہ پاکستان کی تاریخ کے پہلے عام انتخابات تھے۔ بلکہ انتہائی غیر جانبدار اور صاف شفاف تھے۔ ان انتخابات میں ایلیکٹ ایبلز کو شکست فاش ھوی۔ بھٹو اور مجیب الرحمن نے یہ انتخابات نظریے کی بنیاد پر لڑے۔ جبکہ اسلامی جماعتوں نے اسلام کو اپنا انتخابی نعرہ بنایا ۔ اور سیاسی نظریے کے سامنے اسلامی نظریہ ھار گیا۔ اور ایلیکٹ ایبلز بھی ھار گئے۔ وہ ایلیکٹ ایبلز جو 1920 سے جیتتے چلے آ رھے تھے۔ جب پنجاب کے تمام جاگیردارں اور زمینداروں نے مل کر یونینسٹ پارٹی کی بنیاد رکھی۔ اور سیاسی طور پر اپنے مفادات کا تحفظ شروع کیا۔ 1937 کے الیکشن میں یونینسٹ پارٹی نے 95 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی۔ جبکہ مسلم لیگ صرف ایک سیٹ جیت سکی۔ 1946 کے الیکشن سے قبل یہ جاگیردار ایلیکٹ ایبلز مسلم لیگ میں شامل ھو گئے کیونکہ پاکستان بننے کے امکانات پیدا ھو گئے تھے۔ چناچہ اس الیکشن میں مسلم لیگ 73 جبکہ یونینسٹ پارٹی 20 سیٹوں پر کامیاب ھوئ۔ 1959 میں جنرل ایوب نے ایبڈو کے قانون کے تحت چھ ھزار اٹھتر سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کو نااھل کر دیا۔ لیکن جنوری 1965 کے صدارتی انتخابات میں بی ڈی ممبرز کی شکل میں 82 ھزار ایلیکٹ ایبلز کی کھیپ تیار کر لی۔ ان 82 ھزار ممبران میں سے جنرل ایوب پنجاب کے دیہی علاقوں میں دھاندلی کرکے محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف الیکشن جیت گئے۔ جنرل ایوب نے 49951 اور فاطمہ جناح نے 28691 ووٹ حاصل کیے۔ جبکہ شہری علاقوں اور کراچی اور ڈھاکہ میں ایوب کو شکست ھوئ۔
غالبا انہی دیہی ایلیکٹ ایبلز کے جیتنے کی امید میں 1970 کے فری اور فئیر الیکشن کروائے گئے۔ جن میں شکست فاش کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ۔ کہ اب آئیندہ کبھی صاف شفاف انتخابات نہیں کروانے۔ بھٹو صاحب نے یہ غلطی کی۔ 1970 کے الیکشن میں کامیابی کے بعد واپس ایلیکٹ ایبلز کی طرف چلے گئے۔ جس کا نتیجہ 1977 اور 1979 میں سامنے آیا۔ جب پیپلز پارٹی پر جاگیردار قبضہ کر چکے تھے۔ بھٹو صاحب کو پھانسی ھو گئ۔ اور ان کے کارکن بلکتے رہ گئے اور پارٹی آرام کرتی رھی۔
یہ 1970 کے انتخابات کا نتیجہ ھی تھا۔ کہ جنرل ضیاء الحق نے 1985 میں غیر جماعتی انتخابات کرواے۔ اور ایک پالیسی کے طور پر ایلیکٹ ایبلز کو پاکستانی سیاست میں دوبارہ سے داخل کروایا گیا۔ پاکستان کے پاور سٹرکچر میں خاکی و سول بیوروکریسی ، عدلیہ ، مولوی ، انتہا پسند نان اسٹیٹ ایکٹرز ، میڈیا ، پٹھو سیاستدان اور یہ ایلیکٹ ایبلز باھم مل کر اقتدار پر قبضہ جماے ھوے ھیں۔ جو سیاستدان ان کے کنٹرول اور اقتدار کو چیلنج کرتا ھے۔ پاور سٹرکچر کے یہ عناصر مل کر اس کو عبرت کی مثال بنا دیتے ہیں۔ یہ پاور سٹرکچر کبھی مارشل لاء ، کبھی صدارتی نظام ، کبھی بنیادی جمہوریت ، کبھی پاور شیئرنگ ، کبھی کنٹرولڈ ڈیموکریسی ، کبھی 58ٹوبی اور کبھی غیر جماعتی جمہوریت کے ذریعے اپنا کنٹرول قائم رکھتا ھے۔ اور کبھی ایلیکٹ ایبلز کی ادھر ادھر ترسیل اور مراجعت سے مزاحمتی سیاستدانوں کا راستہ روکتا ھے۔ بھٹو مرحوم نے متفقہ آئین کے ذریعے پارلیمانی نظام کے تحت اس پاور سٹرکچر کو چیلنج کیا۔ انہیں پھانسی لگائی گئ۔ نبے کی دھائ میں اسٹیبلشمنٹ اور ایلیکٹ ایبلز کے ھاتھوں میں کھیلنے کے بعد نواز شریف اور بے نظیر بھٹو نے میثاق جمہوریت کے ذریعے ایک بار پھر اس پاور سٹرکچر کو چیلنج کیا۔ اور اٹھارویں ترمیم لانے میں کامیاب ھوے۔ لیکن بے نظیر بھٹو زندگی کی بازی ھار گئیں اور نواز شریف تا حیات نااھل ھو گئے۔ یہ پاور سٹرکچر آج بھی قائم ھے۔ اور ایلیکٹ ایبلز ، عدلیہ ، میڈیا اور مولوی کے ذریعے سیاست کو کنٹرول کر رھا ھے۔ اب یہ ایلیکٹ ایبلز تحریک انصاف میں شامل ھو چکے ھیں ۔ وہ تحریک انصاف جو تبدیلی کا نعرہ لگاتی ھے۔ اور وہ ایلیکٹ ایبلز جو تبدیلی کی راہ میں سب سے بڑی مزاحمت ھیں۔
آخری بات۔ 1970 کا الیکشن بھٹو نے سیاسی نظریے کی بنیاد یعنی روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے پر جیتا تھا اور ایلیکٹ ایبلز ھار گئے تھے۔ 2018 کا الیکشن نواز شریف ایک بار پھر ایک سیاسی نظریے یعنی ووٹ کو عزت دو اور اپنے ترقیاتی کاموں کے نعرے پر لڑ رھے ھیں ۔ اور پاکستان کا سارا پاور سٹرکچر ، خاکی و سول بیوروکریسی ، عدلیہ ، میڈیا ، مولوی اور ایلیکٹ ایبلز ان کے خلاف کھڑے ھیں۔ دیکھنا یہ ھے۔ یہ پاور سٹرکچر نواز شریف کے ساتھ کیا کرتا ھے۔ یہ پاور سٹرکچر عمران خان کے ساتھ آج یا کل کیا کرتا ھے۔ اور یا پھر پاکستان کے عوام اپنے ووٹ کے ذریعے اس پاور سٹرکچر کے ساتھ کیا کرتے ھیں۔ دلچسپ صورتحال یہ ھے۔ تحریک انصاف خود کہتی ھے۔ وہ 2013 کا الیکشن اس لیے ھار گئے تھے۔ کہ نظریاتی سیاست کر رھے تھے۔ چناچہ اب ایلیکٹ ایبلز پر انحصار کر رھے ھیں۔ جبکہ ن لیگ نظریے کی سیاست پر کھڑی ھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *