حالیہ الیکشن کا ایکس فیکٹر

عاصم سجاد اختر

پاکستانی سٹیٹ اور معاشرے کے بارے میں کوئی تضاد  بتانا شاید اب حیران کن بات نہیں کیوں کہ آنے والے الیکشنز کے بارے میں  دو الگ الگ نظریات گردش کر  رہے ہیں۔

ایک طرف بحث چل رہی ہے کہ  ہماری سیاسی پارٹیاں  موقع پرستوں کے ساتھ سمجھوتا  کرتی ہیں جو طاقت اور پیسوں کے متلاشی ہیں؛  الیکشنز میں ہماری ترقی میں اس غالب سسٹم میں  تھوڑی سی تبدیلی کا موقع نظر آ رہا ہے اور اسے تھوڑا سا جمہوری بھی بنایاجا رہا ہے اور  مشہور طبقوں کی ضرورت کے حساب سے ذمہ دار بھی ۔ دوسرا کیمپ تو اور بھی سرکش ہے؛ وہ زور دیتا ہے کہ  قطع نظر اس کے کہ پہلے سے ہی پول  دھاندلی  جتنی بھی ہو  اور پس منظر خوب فائدہ اٹھایا جا رہا ہو ، ووٹرز کا  پھر بھی ملک کی آگے آنے والی قسمت   طے کرنے میں  ہاتھ ہے۔

دونوں  نظریات بلکل غلط نہیں ہیں، لیکن سمجھ آجانی چایئے کہ انتخابی عمل بڑے مقابل انہیں الیکٹیبلز پر بھروسہ کرنا چاہتے ہیں جو ووٹروز کو اپنے شکنجے میں پکڑے ہوئے ہیں نہ کہ ان لوگوں کو جو ووٹر کو آزادی سے   ووٹ دینے پر آمادہ  کریں گے۔ تو کیا یہ مان لیا جائے کہ اس بار بھی خفیہ ہاتھ ہی ہمارے مقدر کا فیصلہ کریں گے؟

میں خود کو ان الیکشنز کے بارے میں سوچنے سے نہیں روک پارہا  جو ہمارے ملک میں سب سے پہلے ہوئے تھے۔  یحیی خان  کی حکومت نے یہ سوچ رکھا تھا کہ ایک معلق پارلیمنٹ کی مکمل تیاری کر لی گئی ہے  اور اس طرح ایک کمزور حکومت وجود میں آئے گی ۔ "اسلام پسند " پارٹیاں  واضح طور پر ترقی پسند جماعتوں پر کنٹرول رکھنے کےلیے تیار کی گئی تھیں۔ من چاہے نتائج حاصل نہیں ہوئے اور ترقی پسندوں  نے اس ترقی کے پلان کا خوب مزاق اڑایا۔

اس کی وجہ؟  ووٹرز انقلابی نظریات کے لئے  متحرک کر دیے گئے تھے  ،  اور پوری طرح قائل ہو چکے تھے کہ وہ ووٹ کے ذریعے تبدیلی لا سکتے ہیں ۔ پاکستانی معاشرہ  1970 سے بہت مختلف موڑ پر ہے،  اب سیاسی صف بندی کے لیے کسی خاص کلاس کے اوپر بھروسا نہیں  کیاجاسکتا۔ لیکن 1970 کے اور اب کے ایلکشنز میں  ایک  عارضی  مماثلت ہے  اور وہ ہے  نوجوان طبقہ۔

اس وقت پاکستانی  نوجوان تعداد میں اتنے زیادہ نہیں تھے لیکن  جوان لوگ خاص طور پر  سٹوڈنٹس  بہت  منظم تھےاور  سیاست جانتے تھے ۔ آج  اس سے الٹ سب سچ ہے یعنی نوجوان طبقہ  نہ ہی  منظم ہے اور نہ ہی سیاست  سے واقف ہے۔ ۔ لیکن ان صفحات پر  ہم نے  پڑھا ہے کہ  ان ایلیکشنز میں 18 ملین ووٹرز ہوں گے  جن کی عمر 18 سے 25 سال کے بیچ ہو گی، جبکہ44٪ ووٹرز  18 سے 35 سال کی عمر کے لوگوں پر مشتمل ہیں۔نئے ووٹر منتخب حکمرانوں کے بس میں یقینانہیں ہونگے  جبکہ وہ جو  دوسری یا تیسری بارووٹ دے رہے  ہیں وہ بھی جس کو چاہیں ووٹ دے سکتے ہیں۔

کیا ہمارے کسی  مرکزی   مد مقابل نے اس ووٹر سے بات کی ہے؟ کچھ مرکزی پارٹیوں نے یوتھ کارڈ استعمال کیا  ہے لیکن   ان میں سے کسی کو نوجوانوں کی فکر بھی  ہے ایسا کچھ نظر نہیں آتا۔    سب بڑی پارٹیاں جانتی ہیں کہ جوان لوگ سوشل میڈیا پر چھائے ہوئے ہیں اور ان پوٹینشیل وورز تک پہنچنے کے مواقع تلاش کر رہے ہیں لیکن ان کی پہنچ  آلہ کار ہے اور  انہیں نئی پیڑھی کی مشکلات کا بلکل اندازہ نہیں۔  اور اس ملک کا مستقبل کہنے کو آگے بڑھ رہا ہے۔

کچھ لوگوں کو چھوڑ کر کسی مین سٹریم سیاست دان نے طالب علموں کی سیاست پر پابندی کے خلاف آواز نہیں اٹھائی  اور نہ ہی ایسی سیاست کے خلاف آواز بلند کی ہے جس پر ہمارے نوجوانوں کا سیاسی رویہ اور قومی مفاد ٹکا ہے۔ اس لیے یہ ممکن ہے کہ بہت سے نوجوان شہری  جو ووٹ دینے کے اہل ہیں ووٹ کے حق کو استعمال نہیں کریں گے  کیونکہ وہ یہی دیکھتے ہوئے جوان ہوئے ہیں کہ  سیاست سے ہمیشہ دور ہی رہنا چاہیے۔

در حقیقت نوجوان جو اس پاکستان اور اس کے مسائل کو وراثت میں لیں گے انہیں ہی ان بڑے سیاسی سوالوں پر غو ر خوض کرنا ہو گا  کیونکہ ان کا اپنا مستقبل داو پر ہے۔ ہماری معیشت ایسی نہیں کہ نئی نوکریاں پید ا ہوں  اور ہمارا تعلیمی نظا تنقیدی ذہن پیدا نہیں کر سکتا اور ہمارا رشوت اور سفارش پر مبنی  معاشرتی نظام  نوجوانوں کے عزائم پورے کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

اس کے علاوہ ماحول اور استحکام کے سوالات بھی ہیں جن کے بارے میں اس ملک  میں کسی کو کوئی پرواہ نہیں ہے یہاں تک کہ انہیں سیاسی نوعیت کے سوال تسلیم ہی نہیں کیا جاتا۔ ان سوالات سے بھی ہمارے نوجوانوں کو ہی نمٹنا ہو گا کیونکہ نوجوانوں کے بچوں اور ان کے بچوں کے بچوں کو ہی ان مسائل کا سامنا ہو گا جن میں پانی اور بجلی کی کمی جیسے مسائل نمایاں ہیں ۔ گلوبل کیپٹلزم اور ماحول کی تبدیلی بھی ان مسائل میں سے ہیں۔ تو کیا ایک بار پھر اسٹیبلشمنٹ اور ان کے الیکٹیبلز ہی اس ملک پر حکومت کریں گے؟ یا پھر کوئی ایکس فیکٹر بھی ہے جو ملک کی صورتحال بدل سکتا ہے؟ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ تبدیلی آئے گی چاہے یہ بیلٹ باکس  کہ ذریعے آئے یا کسی اور ذریعے سے لیکن اس تبدیلی کے موجد نوجوان ہی ہوں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *