اگر یوسفی صاحب اپنی تعزیت کرتے

آج پچھلے پہر اطلاع ملی کہ ہم فوت ہو گئے ہیں۔ مرزا یہ اطلاع لائے۔ شکل پر یتیمی برس رہی تھی جسے برقرار رکھنے کے لئے انہوں نے سخت گرمی میں ایک شال اوڑھ رکھی تھی۔ ہم نے پوچھا جون کے مہینے میں اس اونی چادر کا کیا کام۔ کہنے لگے جہنم جانے کی پریکٹس کر رہا ہوں۔ کچھ نہ کچھ قنوطی تو ہم بھی ہیں مگر اس وقت مرزا کا تیقن دیکھ کر ہم کانپ اٹھے۔ ارے بھئی تمہیں جہاں جانا ہے جاؤ مجھے ساتھ کیوں گھسیٹتے ہو۔ بری اور جھوٹی خبر دینے میں مرزا اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ ایک بے معنی اعتماد کے ساتھ وہ اکثر یہ جملہ کہتے ہیں کہ جھوٹی خبر ہر شخص نہایت خوشی سے سنتا ہے بشرطیکہ کہ وہ اُس کے اپنے بارے میں نہ ہو۔ مگر اس وقت اُن کی دی ہوئی خبر کا کم از کم ایک حصہ تو بالکل سچ ثابت ہوا جب ہم نے اپنے آپ کو مرزا کے ہمراہ عالم بالا میں پایا۔ جنت اور جہنم کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔ الڈس ہکسلے نے کہا تھا شاید یہ دنیا کسی اور کائنات کی جہنم ہو۔ اس کلیے کی رو سے ہم اپنے حصے کی دوزخ تو کاٹ چکے تاہم حساب کتاب پر مامور فرشتے اگر الڈس ہکسلے کے بیان سے متفق نہ ہوئے (جس کا امکان خاصا قوی ہے) تو پھر ہمیں ان فرشتوں سے کوئی این آر او کرنا پڑے گا۔ اکثر ایسے موقعوں پر مرزا کوئی نہ کوئی بے وزن شعر سناتے ہیں جس کا مقصد مد مقابل کو ذہنی اذیت میں مبتلا کرنے کے علاوہ اپنے ادبی ذوق کی تسکین اور ہمارے صبر کا امتحان مقصود ہوتا ہے۔ شکر ہے اس وقت مرزا کو ایسا کوئی شعر یاد نہیں رہا ورنہ اس کے عوض اُن کی تمام نیکیاں کاٹ لی جاتیں جن کی تعداد ایک ہاتھ کی انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔
جن دنوں ہم صاحبِ فراش تھے (یہ لفظ لکھتے ہوئے ہمیشہ یوں لگتا ہے جیسے کوئی شخص فرش پر لیٹنے سے چکنا چور ہو گیا ہو) اُن دنوں مرزا کا محبوب موضوع جنت میں ملنے والی ممکنہ حوروں کی تعداد اور اُن کے جملہ فضائل بیان کرنا تھا۔ حوروں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے بعض اوقات مرزا پر ایسی رقت طاری ہو جاتی کہ یہ معلوم کرنا مشکل ہو جاتا کہ حوروں سے ملنے کی ممکنہ صورت میں خوشی کے آنسو لڑھکا رہے ہیں یا اپنی نیکیوں کا شمار کرکے پچھتا رہے ہیں۔ ایک روز کہیں سے اس موضوع پر کتاب اٹھا لائے، ٹائٹل پر لکھا تھا ’’جنت کی حور آپ کے قدموں میں‘‘۔ ہم نے ڈرتے ڈرتے کہا مرزا اس سے مراد وہ حور نہیں جو تم سمجھ رہے ہو۔ اس قسم کی باتوں کا آپ عموماً جواب نہیں دیا کرتے مگر اُس روز ترنگ میں تھے سو نہایت برجستہ انداز میں برٹرینڈ رسل کا وہ قول دہرا دیا جس کے معنی انہیں خود بھی معلوم نہیں تھے۔Science is what you know, philosophy is what you dont know۔ اور پھر ساتھ ہی کتاب کھول کر یوں پڑھنا شروع کر دی جیسے بھلے وقتوں میں لوگ بیمار شخص کے سرہانے سورۃ یٰسین پڑھا کرتے تھے۔ دو چار صفحے پڑھنے کے بعد کتاب بند کی اور اٹھ کھڑے ہوئے، میں نے پوچھا کہاں چلے تو کہنے لگے ایسی کتابیں تنہائی میں پڑھی جائیں تو دونا ثواب ملتا ہے۔ بعد میں وہ اسی کتاب کا باتصویر ایڈیشن تلاش کرنے اردو بازار گئے اور ہمیشہ کی طرح ناکام ونامراد لوٹے۔
ہماری معلومات کے مطابق خودکُش بمباروں کی دل جوئی کے علاوہ جنت میں حوروں کا بظاہر کوئی اور کام نہیں۔ چند مولوی صاحبان کی زبانی حوروں کے حسن کا جو بیان اپنی زندگی میں سنا وہ ایسا ہوش اڑا دینے والا تھا کہ اسے تحریر میں لانے سے پہلے وزارت داخلہ سے اجازت نامہ کی شرط لازم قرار دینی چاہئے۔ اپنی جوانی میں ہمیں الزبتھ ٹیلر اور برجی باردوت ہی حور لگا کرتیں تھی، مرزا ہماری اس پسند سے آگاہ تھے سو ہمیشہ کڑک کر کہا کرتے کہ تم جنت میں انہی کی فرمائش کرنا تاکہ تمہارے طفیل یہ نازنینیں جنت کی ہوا کھا سکیں۔ گویا عالم بالا میں مرزا نے ایک ایسا کام ہمارے سپرد کررکھا ہے جس کے لئے پنجابی میں بہت برا لفظ ہے۔
حوروں کے باب میں ایک اور بات جو کبھی ہماری سمجھ میں نہ آسکی وہ دنیاوی بیویوں اور جنت کی حوروں کے مابین کمپیٹیشن ہے۔ ہم نے جب کبھی علمائے کرام کو اس نازک، حساس، اہم اور فسادی موضوع پر گفتگو کرتے سنا تو ہمیشہ یہی محسوس ہوا کہ یہ وہ واحد میدان ہے جہاں اُن کے بھی پر جلتے ہیں۔ ایک مولانا کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ نیک مردوں کو انہی کی نیک بیویاں جنت میں ملیں گی۔ ہماری ایک feministخاتون دوست کو اس بیان میں کچھ شبہ ہے، ان کا خیال ہے کہ نیک بیویوں کو نیکی کے صلے کے طور پر مردوں سے پاک جنت ملے گی جبکہ ان feministخاتون کے بارے میں مرزا کا کہنا کہ ایسی عورتوں کو تنہائی میں بھی وہم ہوتا کہ کوئی مرد انہیں چھیڑ رہا ہے۔
حوروں کی دستیابی اور بعد ازاں اُن کی مدد سے اپنی ناآسودہ خواہشات کی تکمیل کے حوالے سے ہم کچھ ایسے پر امید تو نہیں البتہ یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ دنیا کے تمام بینکر، وکیل، سیاست دان اور مولوی اس قطار میں کھڑے ہیں جہاں سے حوریں برآمد ہونے کا شبہ ہے۔ دنیا میں جب کبھی کوئی عورت ہمیں حور کی مانند خوبصورت لگی وہ شادی شدہ ہی نکلی۔ یہ اور بات ہے کہ غیر شادی شدہ ہونے کی صورت میں بھی ہم اس کے حق میں کلمہ خیر کہنے کے سوا کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔
یہاں عالم ارواح میں ایک میلے کا سا سماں ہے، تمام روحیں ایک دوسرے سے نہایت خوش اخلاقی سے پیش آتی ہیں، خاص طور سے وہ روحیں جنہیں اپنے جنت میں جانے کا یقین ہے جیسے حاجی صاحبان، شاعر حضرات اور رنڈوے۔ ہماری وفات کے بارے میں کچھ لوگوں نے لکھا ہے کہ مرحوم کی موت سے جو خلا پیدا ہوا وہ کبھی پُر نہیں ہو سکے گا۔ شکر ہے ان احباب نے صرف خلا ہی پیدا کیا کوئی خلائی مخلوق نہیں پیدا کردی ورنہ ہم عالم ارواح میں بھی اپنا پتہ ہی تلاش کرتے رہتے۔ ستانوے برس دنیا میں گزارنے کے بعد اب اگلی دنیا کا سفر درپیش ہے، حساب کتاب کے لئے فرشتوں سے سامنا ہو گا، اپنی تو ساری زندگی ہی دوسروں کا حساب کتاب رکھنے میں گزر گئی، خود کا بہی کھاتہ دیکھنے کا تو خیال ہی نہیں گزرا۔ فرشتوں نے زیادہ باز پُرس کی تو آب گم کی ایک کاپی پیش کر کے کہہ دیں گے کہ ’’یہ چھوڑ کر آئے ہیں!‘‘
کالم کی دُم: یہ کالم اِس سوچ کے ساتھ لکھا گیا ہے کہ اگر یوسفی صاحب زندہ ہوتے تو اپنی وفات سے پہلے کچھ اسی قسم کا تعزیتی کالم لکھتے جیسی کوشش میں نے اوپر کی ہے۔ اس کالم سے یوسفی صاحب کی روح اور اُن کے مداحین کو جو تکلیف پہنچی اس پر میں معذرت خواہ ہوں، لیکن مجھ ایسا معمولی قلم کار اتنے بڑے مزاح نگار کو ایسے انداز میں ہی ہدیہ تبریک پیش کر سکتا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *