ہم سا ہے تو سامنے آئے!

میں ایک امیر آدمی ہوں اور اس کا علم پوری دنیا کو ہے کیونکہ میں ان امراء میں سے نہیں ہوں جو اپنی امارت کا اظہار نہیں ہونے دیتے بلکہ میرے ہر فعل سے میری امارت چھلک چھلک پڑتی ہے دولت اور کمینگی دو ایسی چیزیں ہیں جو چھپائے نہیں چھپ سکتیں، چنانچہ میں اپنی ہر کمی کو امارت کے اظہار سے پوری کرنے کی کوشش کرتا ہوں، چنانچہ صبح جب میں اپنے گھر سے نکلتا ہوں تو یہ عہد کرکے نکلتا ہوں کہ قانون شکنی کی کوئی نئی مثال ضرور قائم کروں گا، اگر آپ قانون شکنی نہیں کرتے تو پھر آپ میں اور اس عام آدمی میں کیا فرق ہے جسے ہر وقت کوئی نہ کوئی قانون ٹھڈے مارتا رہتا ہے، تاہم واضح رہے کہ میرا مقصد محض قانون شکنی نہیں ہوتا، قانون شکنی کا اصلی نشہ تو تب آتا ہے جب آپ کو قانون کا ڈر نہ ہو اور قانون کا ڈر صرف اس صورت میں دل سے نکلتا ہے جب قانون بنانے والے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اور افراد آپ کے ہم نوالہ و ہم پیالہ ہوں اور آپ پوری دیانتداری سے ان کا ’’حق‘‘بھی ادا کرتے ہوں۔
امارت کے اظہار کے مختلف طریقے ہیں جو میں موقع محل کی مناسبت سے استعمال کرتا رہتا ہوںمثلاً اپنے سے کم تر میرا مطلب ہے دولت اور اختیار میں کم تر، لوگوں کی برسرعام توہین کرنا بلکہ ان پر تشدد کرنا میرے پسندیدہ کاموں میں سے ایک ہے، کسی ہوٹل کے بیرے کو اس بات پر پھینٹی لگادینا کہ اس نے آرڈر میں تاخیر کیوں کی ہے یا کسی سرکاری ملازم کی پٹائی کرنا کہ اس نے پروٹوکول کیوں نہیں دیا وغیرہ ایسی چیزیں ہیں جن سے دوسروں پر رعب پڑتا ہے، تاہم یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ اس طرح کے کام تو لچے لفنگے بھی کرلیتے ہیں اور پکڑے بھی جاتے ہیں، آپ کے وی آئی پی ہونے کا اندازہ تو صرف اس امر سے ہوگا کہ اگر اس نوع کی کوئی خبر اخبار میں شائع ہوجائے اور لوگوں کی طرف سے لعنت ملامت کا اندیشہ ہو تو اس سے اگلے ہی روز خود وہ بیرا ا ور سرکاری ملازم اخبارمیں بیان دے کہ اس طرح کا کوئی واقعہ اس کے ساتھ نہیں ہوا، اخبار نے بالکل بے بنیاد خبر شائع کی ہے،جس عظیم شخصیت پر یہ بےبنیاد الزام عائد کیا گیا ہے وہ تو انتہائی مہربان اور مشفق ا نسان ہیں۔ ایک شخص سے کسی نے پوچھا کہ آپ کی پہلی تین بیویاں کیسے فوت ہوئیں! اس نے جواب دیا پہلی بیوی نے زہر کھالیا تھا، دوسری نے بھی زہر کھایا اور تیسری بیوی کو میں نے ڈنڈے مار مار کر ہلاک کردیا کیونکہ اس نے زہر کھانے سے انکار کردیا تھا۔اس کے علاوہ بھی کچھ کام محض میں دل لگی کے لئے کرتا ہوں مثلاً کار میں بیٹھے ہوئے چوک میں ڈیوٹی پر کھڑے سپاہی کی ٹوپی اچک لینا اور اس کے ننگے سر پر ٹھاپ لگانا یا شدید بارش میں کھلے آسمان کے تلے بس کے انتظار میں کھڑے لوگوں پر کھڑے پانی کے چھینٹے اڑانا وغیرہ میری بے ضرر تفریح کا حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ لڑکیوں کے اسکولوں کالجوں میں چھٹی کے وقت اپنے دوستوں کے جھرمٹ میں گھر سے نکلنے اور کسی لڑکی کو اٹھا کر کار میں ڈال کر اپنے ڈیرے پر لے جاتے وقت بھی میری امارت اور صاحب اختیار ہونے کے احساس کو بہت تسکین ملتی ہے۔ میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اگر میں یہ سب کچھ نہ کرتا تو میری دولت اور میرا اختیار کس کام کا تھا.....؟
تاہم یہ تو محض دل لگی کی باتیں ہیں جو بہت سے امیروں اور صاحب اختیار لوگوں کے کمی کمین بھی پورے اطمینان سے کرلیتے ہیں کہ انہیں سنبھالنے والے ان کے آقا موجود ہوتے ہیں لیکن میری امارت اور امارت کے ذریعے حاصل ہونے والے اختیارات کا صحیح اظہار تو اس وقت ہوتا ہے جب میں لوگوں کی جائیدادوں پر قبضہ کرتا ہوں اور اس کے بعد ان کی ساری عمر عدالتوں کے پھیرے لگانے میں گزر جاتی ہے جس کے نتیجے میں لوگ انہیں بھائی پھیرو کہنے لگتے ہیں۔ بس یہی ان کی کامیابی ہوتی ہے کہ ایک فرد کا نام ایک قصبے پر پڑجاتا ہے۔
آپ کو شاید علم نہیں کہ میں کس قدر صاحب اختیار شخص ہوں اور مجھے آپ کی اس بے خبری پر رونا آتا ہے کیونکہ میرا نام ہر مالی اسکینڈل میں موجود ہے اور اس کے باوجود میں آج بھی اتنا ہی محترم اور معزز ہوں جتنا کل تھا اور یاد رکھیں میں آنے والے کل میں بھی آپ جیسے ان لوگوں کے سینوں پر مونگ دلتا رہوں گا جو اپنے احساس کمتری کی وجہ سے ہر وقت قانون کی دہائی دیتے رہتے ہیں۔ آپ یاد رکھیں قانون کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو ہر ایک پر نافذ کردی جائے، قانون صرف وہاں نافذ ہوتا ہے جہاں اسے نافذ کرنے کا حکم اوپر سے یا باہر سے آئے۔ میرا یہ کالم لکھنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ آپ اس اصول پر ایمان لے آئیں تاکہ ہر وقت کڑھتے رہنے سے بچ سکیں۔ یہ کالم آپ کو کڑھتے رہنے سے بچانے ہی کے لئے لکھا گیا ہے اس رحمدلی کا اجر آپ نے مجھے کیا دینا ہے۔ اللہ ہی دے گا!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *