مریض کی پرائیویسی اور رازداری

مجھے تحریک انصاف کے بےشمار افراد نے وہ گھٹیا اور واہیات وٹس ایپ میسج بھیجا ھے۔ جس میں بیگم کلثوم کی مبینہ وفات کو بنیاد بنا کر نوازشریف اور ان کے بچوں کے خلاف غلیظ ترین پروپیگنڈہ کیا گیا ھے۔ کہ شریف خاندان ایک مردہ جسم پر سیاست کر رھا ھے۔ یعنی موت کو ڈکلیر نہ کرکے نیب کے مقدمات سے بچنے کی کوشش کی جا رھی ھے۔ اور پھر الیکشن کے قریب اس کا اعلان کرکے ھمدردی کی بنیاد پر ووٹ حاصل کیے جائیں گے۔
یہ میسج اتنا احمقانہ ، ظالمانہ اور انسانیت سے گرا ھوا تھا ۔ کہ جسے پڑھ کر یہ احساس ھوا۔ کچھ لوگ سیاست میں کسقدر گر جاتے ہیں۔ ھمیں یہ میسج بنانے والوں سے شائد اتنا گلہ نہیں ۔ جتنا افسوس ان لوگوں پر ھوا۔ جو اس میسج کو بلا سوچے سمجھے فارورڈ کر رھے تھے۔ خاص طور پر ان میں کچھ ڈاکٹر حضرات بھی شامل تھے۔ جو یہاں این ایچ ایس کے ملازم ھیں ۔ اور کسی مریض کی پرائیویسی اور رازداری کے قوانین سے واقف ھیں۔ اور جانتے ھیں یہ قوانین کسقدر سخت ھیں۔ یہاں تک کہ ایسا میسج فارورڈ کرنے پر بھی ان کی نوکری جا سکتی ھے۔
یہ میسج بنانے والوں نے اپنے اوور سمارٹ ھونے میں اپنی جہالت اور نالائقی کا اظہار اس طرح کیا۔ کہ ڈاکٹر بنگش کا نام اور ٹیلی فون نمبر بھی اس میسج میں ڈال دیا۔ تاکہ میسج کی سچائی پر یقین کر لیا جائے۔ اب برطانیہ میں جاب کرنے والے ڈاکٹرز اور نرسسز کو اچھی طرح معلوم ھے۔ یہاں ایک مریض کی پرائیویسی اور رازداری کو لے کر کسقدر سخت قوانین لاگو ھیں۔ چہ جائیکہ ایک ڈاکٹر کھلے عام اپنا نام اور ٹیلی فون نمبر دے کر کسی مریض کے متعلق اعلانات فرمائے اور یہ بھی بتاے اس نے یہ معلومات متعلقہ ھسپتال کے کس فرد سے حاصل کی ھیں ۔ یہ ایک سیدھا سادہ مجرمانہ فعل ھے۔ اور قابل تعزیر ھے۔ اور ایک احمق ترین شخص بھی یہ حرکت نہیں فرما سکتا۔ یہاں تو یہ معاملہ ھے۔ ایک بیوی کی میڈیکل رپورٹ خاوند کو اور خاوند کی میڈیکل رپورٹ بیوی کو بتانے کی اجازت نہیں ھے۔ یہی رازداری بڑے بچوں اور والدین میں رکھی جاتی ھے۔
میرے دوست جانتے ھیں ۔ میرے حلقہ احباب میں بےشمار ڈاکٹرز شامل ھیں۔ ان میں تجربہ کار جی پی بھی شامل ھیں اور نامور کنسلٹنٹ بھی ھیں ۔ یہ سب بہت پیارے دوست ھیں ۔ پیارے انسان ھیں ۔ خود میرے اپنے بچے ڈاکٹر ھیں ۔ گزشتہ رات ھماری ایک بیٹھک تھی۔ میں نے دوستوں کے سامنے دو سوالات رکھے۔ کیا یہ ممکن ھے۔ ایک مریض مر چکا ھو۔ لیکن ھسپتال کی انتظامیہ اس مریض کے لواحقین سے ساز باز کرکے اس کی موت ڈکلیر نہ کرے۔ تاکہ لواحقین سیاسی فائدہ حاصل کر سکیں۔ دوسرا سوال یہ کہ کوئی ڈاکٹر کھلے عام اس طرح کسی مریض کی پرائیویسی کو بریک کر سکتا ھے۔ تمام ڈاکٹر حضرات نے اس پر شدید ردعمل دیا۔ بقول ان کے اگر مریض واقعتا وفات پا جائے تو یہ ھسپتال کی سرکاری ذمہ داری ھے۔ کہ وہ فوری طور پر اس کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کرے۔ اور موت کا اعلان کرے۔ ساز باز تو بہت دور کی بات ھے۔ یہ سرٹیفکیٹ ایشو نہ کرنے پر بھی متعلقہ عملے کی باز پرس ھو سکتی ھے۔ اور چوبیس گھنٹے کے اندر ڈیڈ باڈی ھسپتال سے فارغ کرنا ھوتی ھے۔ جہاں تک مریض کی پرائیویسی اور رازداری توڑنے کا معاملہ ھے۔ تو یہ ایک مجرمانہ فعل ھے۔ اور جو بھی ڈاکٹر یا نرس یہ جرم کرتا ھے ۔ نہ صرف اس کی نوکری جاتی ھے۔ اس کا لائسنس بھی کینسل ھو جاتا ھے۔ اور سزا بھی ھو سکتی ھے۔ لواحقین سے ساز باز کرنا یا سازش کرنا تو بہت بڑا جرم ھے۔
اگلا سوال یہ پوچھا گیا۔ وینٹیلیٹر کا کیا معاملہ ھے۔ جواب یہ تھا۔ اگر جسم کے اندرونی پارٹس کام کر رھے ھوں اور مریض کومے میں ھو۔ یا دل کمزور ھو۔ تو ایک مخصوص مدت تک وینٹیلیٹر پر رکھا جا سکتا ھے۔ اس کا انحصار لواحقین کی مرضی پر بھی ھے۔ اور یہ کہ وہ کتنا خرچہ افورڈ کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر جسم اندرونی طور پر بھی فیل ھو جائے تو پھر وینٹیلیٹر بھی کام نہیں کرتا۔ اور موت ڈکلیر کرنا پڑتی ھے۔ ان ڈاکٹر حضرات نے یہ بھی بتایا۔ انہیں اس بات کی بھی اجازت نہیں ھے۔ کہ وہ سوشل میڈیا پر اتنا بھی اپ ڈیٹ کر دیں ۔ کہ وہ اپنی سرکاری جاب کے سلسلے میں اس وقت کہاں ہیں۔
ان ٹیکنیکل باتوں کے بعد اس وٹس ایپ میسج کے انسانی پہلوؤں پر بات کی گئ۔ اور سب کا متفقہ خیال تھا۔ اس میسج کو بنانے والے اور بغیر سوچے سمجھے اسے فارورڈ کرنے والے برابر کے اس جرم میں شامل ھیں۔ ھر خاندان میں افراد اپنے پیاروں کے حوالے سے اس دردناک سچویشن سے کبھی نہ کبھی گزرتے ھیں۔ جب ان کا کوئی عزیز موت و حیات کی کشمکش میں ھوتا ھے۔ وینٹیلیٹر پر چلا جاتا ھے۔ وہ تکلیف ، وہ دکھ ، وہ درد اور وہ غم صرف وہ ھی جانتے ھیں۔ جو ھسپتال میں بیٹھے بے بسی کی حالت میں ، بیچارگی کی حالت میں اپنے پیارے کی زندگی سے لڑتے ان لمحات کے عینی شاہد ھوتے ھیں ۔ اللہ نہ کرے کسی پر یہ موقع آئے۔ ھم نے اپنی ماں کو وینٹیلیٹر پر پڑے دیکھا تھا۔ ان کی بلیڈنگ نہیں رک رھی تھی۔ میں اور میرے بھائی اپنے جسموں سے خون کی بوتلیں دے کر پورے لاھور سے خون ڈھونڈتے پھر رھے تھے۔ ان دردناک لمحات کا درد اور دکھ سہا تھا۔ اور آج بھی غم کی ایک کسک دل میں چبھتی ھے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *