خدا سے بڑا درد اور پاکستان؟

بالی وڈ کے معروف اداکار عرفان خاں ایک پر اسرار کینسر میں مبتلا ہیں۔ وہ شدید کرب اور درد کاشکار ہیں۔ تکلیف اس قدر ہے کہ انھوں نے لکھا: اتنا درد
ہے کہ خدا سے بڑا محسوس ہوتا ہے۔‘‘
درد کی کیفیت کو اس سے بڑھ کر کسی نے کیا محسوس کیا ہو گا اور اس سے بڑھ کر اسے لفظوں میں کیوں کر بیان کیا ہوگا!
کچھ اس سے ملتی جلتی کیفیت موجودہ سیاسی حالات کی ہے۔ جمہوریت پسند ہوں یا اس کے ناقد ، میڈیائی بیانات ایک طرف ،اصل میں سبھی ایک عجیب بے یقینی کا شکار ہیں۔ پی ٹی آئی کے ہمدرد پریشان ہیں کہ ان کے پسندیدہ میڈیا ہاؤسز اور محبوب اینکرز کو کیا ہوا؟ سبھی ان کے خلاف ہو گئے ہیں ۔ ن لیگ والوں کا حواس باختہ ہونا تو سمجھ میں آتا تھا لیکن اچھے خاصے سنجیدہ انصافیوں کا یہ کہنا بظاہر بالکل سمجھ میں نہیں آتا عمران خان کا وزیر اعظم بننا بڑا مشکل لگتا ہے ۔ اس کی سب سے بڑی مثال شیخ رشید کا محیر العقول بیان ہے کہ میری کامیابی تو یقینی ہے لیکن الیکشن ہو جائیں گے ، یہ کہنا مشکل ہے ۔ جبکہ عمران خان کو اپنی الیکشن کمپین کا آغاز اپنے ہی لوگوں کے دھرنے کو ختم کرنے سے کرنا پڑا۔ اسی لیے انھوں نے میانوالی کی تقریر میں وہی راگ الاپا ہے جس کو سنا سنا کر انھوں نے اپنے حامیوں کو مست کر رکھا ہے ۔کیونکہ اس جادو کے اثر پر انھیں یقین کامل ہے ۔ ان کی تان اس تقریر میں بھی’’کرپشن کرپشن ‘‘ کی قوالی ہی پر ٹوٹی ہے ۔ورنہ بندہ پوچھے کہ یہ دلائل اس وقت کہاں تھے جب آپ سپریم کورٹ میں مقدمہ لے کرگئے تھے ؟ کیا جے ٹی آئی اب تک جھک مار رہی تھی؟ ایک اخبار کو تو سب کچھ معلوم تھا مگر آپ ہیں کہ عدالت میں جھنجھنا بجاتے رہے !اسی لیے بعض یہ بات کہہ رہے ہیں کہ یہ ریہام خاں کی کتاب کا بدلہ اتارنے کی اپنی سی کوشش ہے ۔
بلا شبہ کرپشن ہمارا مسئلہ ہے لیکن کیا سیاست دونوں ہی کی کرپشن اصل مسئلہ ہے ؟ کیا پاکستان دہشت گردی کی پرائی آگ میں کرپشن کی وجہ سے ملوث ہو اتھا ؟ کیا دو لخت بھی کرپشن کی وجہ سے ہوا تھا؟ کیا لوڈ شیڈنگ کرپشن کی وجہ سے ہوئی تھی؟کیا بار بار کے ماشل لا کرپشن کی وجہ سے لگے تھے ؟ کیا مسئلہ کشمیر کرپشن کی وجہ سے حل نہیں ہوا ؟ کیا افغانستان ، ایران ، بھارت ، امریکہ، سعودی عرب ، اپنے وقت کی سپر پاور روس وغیرہ سے ہمارے تعلقات کرپشن کی وجہ سے خراب ہوئے ہیں؟ ان تلخ حقائق کے باوجود کرپشن کرپشن کی قوالی چہ معنی دارد ؟ اور پھرذرا تضاد ملاحظہ فرمائیے :ن لیگ کی حکومت پر اصل الزام کریشن اور بری طرزِ حکومت کا ہے۔ لیکن بات ناقص کارکردگی اور کرپشن ہی کی ہوتی تو پی ٹی آئی کے لیے الیکٹیبلز کے نام پر ن لیگ کے منحرف لوگ قابل قبول نہ ہوتے۔ یہ کیسے مانا جا سکتا ہے کہ پانچ سال ایک ’’کرپٹ حکومت‘‘ کا حصہ رہنے والا اپنی پارٹی کے دگرگوں حالات دیکھ کر اچانک ایمان دار ہو جائے گا اور ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے پی ٹی آئی کے نئے پاکستان کی تعمیر میں حصے ڈالنے کے لیے مخلص ہو جائے گا؟ اور پھر عمران خاں اس کے گلے میں ٹکٹ کا ہار پہنا دیں گے۔ اس عنایت کی وجہ اس کے سوا کیا ہو سکتی ہے کہ آپ اس امید وار کی ’’ گڈول‘‘ کیش کرانا چاہتے ہیں۔ وہ الیکشن جیتے گا تو اسی ’’ سائنس‘‘ کی بنیاد پر جیتے گا جس کو آپ دھاندلی کہہ چکے ہیں، بے ایمانی اور ضمیر فروشی کہہ چکے ہیں ۔ چوکوں میں اس جیسے اراکین پارلیمنٹ پر لعنتیں بھیج چکے ہیں اور ان کو چور ڈاکو اور فرعون و یزید جیسے القابات سے نواز چکے ہیں۔کوئی مجھے بتائے کہ اس پہیلی کا آخر کیا جواب ہے؟ہاں ایک’ صاحب نظر‘ نے اس الجھن کی ایک سلجھن پیش کی ہے ۔ امید ہے کہ یہ انصافی بھائیوں کو بہت پسند آئے گی ۔
وہ کہتے ہیں کہ عمران خان دل سے اب بھی ان بددیانت اور طوطا چشم منحرفین(جن کو عوامی زبان میں ’لوٹا‘ کہاجاتاہے) کو ڈاکو لٹیرے ہی سمجھتے ہیں۔ وہ ان سے اب بھی اتنی ہی شدید نفرت کرتے ہیں جس کا اظہار وہ پچھلے پانچ برس مسلسل کرتے رہے ہیں ۔ اور یہ بات یہ ’’ لوٹے‘‘ بھی خوب جانتے ہیں۔ ان کے ضمیر ہر گز نہیں جاگے، وہ تو وقتی طور پر منتخب ہونے کی خوشی پر ’’ مرے‘‘ جا رہے ہیں۔ ورنہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ خاں صاحب نے الیکشن جیتنے کے بعد ان کو بے نقط سنانی ہیں اور دھکے دے کر پارٹی سے صرف نکالنا ہی نہیں بلکہ ان کے پیٹ پھاڑ کرکرپشن کی ساری دولت بھی ان سے برآمد کرنی ہے۔ اس لیے پی ٹی آئی سے مایوس ہونے والے لوگ خاطر جمع رکھیں کہ خاں صاحب کا اصولوں پر سمجھوتا محض ایک چال ہے۔ یہ ان بے وقوفوں کو پھانسنے اور ان سے کام نکلوانے کی ایک وقتی تدبیر ہے۔ جیسے ہی وہ ان کے ذریعے سے وزیراعظم کا تاج سر پر رکھیں گے ، ان کو اسمبلیوں سے باہر نکال کر جیل میں بند کر دیں گے ۔ ان کو اسمبلیوں سے فارغ کرادیں گے، پھر ان کی خالی سیٹوں پر ضمنی الیکشن ہوگا۔ اور تب وہ اپنے نظریاتی لوگوں کو ٹکٹ دیں گے۔ یوں اسمبلی صادق اور امین پارلیمنٹیرین سے بھر جائے گی۔ اور اپنی حکومت کے تحت جیتنے میں آسانی بھی ہو گی ۔ ان غریب غربا امیدواروں کا زیادہ پیسہ بھی خرچ نہیں ہو گا۔ بس ایک الجھن ہے کہ خاں صاحب نوے دنوں میں مقرر کردہ ٹارگٹ پورا کریں گے یا یہ کام کریں گے، بالفرض انھوں نے ان لوگوں کو ٹھکانے لگانے کاکام پہلے کر دیا تو یہ ان کی ایک مجبوری ہوگی اور اگر ٹارگٹ پورا کر لیا ،پھر تو بہت ہی اچھی بات ہے۔ وہ اس کے بعد ان ’’بدبخت‘‘ لوٹوں کی خبر لیں گے۔بہر حال جیسے بھی ہو لیڈر اگر لیڈر ہو تو وہ ہر قسم کے محیر العقول کارنانے انجام دے دیتا ہے ۔بس ایک دفعہ اسے موقع ملنے کی دیر ہے !!
اب یہ پہیلی کاجواب ہے، الجھن کی سلجھن ہے یا ایک اور پہیلی ، اور ایک اور گورکھ دھندا ؟اس کا فیصلہ تو قارئین ہی کریں گے۔ ہم تو فی الوقت اتنا ہی جانتے ہیں کہ پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہے جہاں مسائل حل نہیں کیے جاتے،’ بیچے‘ جاتے ہیں۔ کرپشن کا نعرہ فاطمہ جناح سے لے کر نااہلی کی تلوار چلانے تک بلند کیا گیا ۔ کسی سے ایک دھیلا بھی لیا گیا ؟ ہاں صرف کرسی پر قبضہ کیا گیا ۔
اسلامی انقلاب کا نعرہ کس دور میں نہیں لگا ؟فرق یہ پڑا کہ کچھ ملاؤں کی پیٹ بڑے ہو گئے ، اور کچھ کی بندوقیں۔ باقی رہے عوام ؟ ان کی اخلاقی ، مالی ، سماجی حالت ؟ کیا کچھ کہنے کی ضرورت ہے ؟
روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگاَ لیکن کہاں ہے روٹی کپڑا اور مکان ؟ البتہ زرداری،ڈاکٹر عاصم ، شرجیل میمن وغیرہ ضرور دیکھے جا سکتے ہیں ۔
نعرہ لگا یا گیا کہ وطن کی سرحدوں کی حفاظت اور سلامتی اصل میں مقصود ہے، اس لیے نالائق سیاست دانوں پر اعتماد نہیں ، مگر کہاں ہے مشرقی پاکستان ،کشمیر، پرامن بلوچستان ، روشنیوں کا شہر کراچی، شمالی علاقہ جات وغیرہ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔
پھر کون ہے جو لوگوں کو یہ گمان کرنے سے روک سکے کہ پاکستان کا درد بھی خداسے بڑا ہے ؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *