"خالائی" مخلوق

ہمارے معاشرتی نظام میں رشتوں اور سیاست میں فرشتوں کے تقدس پر بہت توجہ دی جاتی ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ رشتے فرشتے نہیں ہو سکتے اور اگر کوئی فرشتہ ہو تو اس سے آپ کا کوئی رشتہ استوار نہیں ہو سکتا ۔ ہماری مائیں اڑوس پڑوس کی سب خواتین کو رشتے کے تقدس کی ڈوری میں پروتے ہوئے تمام خواتین کو ہماری خالائیں قرار دیتی ہیں تاکہ ہم انہیں وہ احترام دے سکیں جو ہم اپنی سگی خالاؤں کو دیتے ہیں۔ حالانکہ منہ بولی خالاؤں کو ہمارے والد اپنی سالیاں قرار نہیں دے سکتے اور نہ ہی ان کے شوہروں کو ہم اپنا خالو کہہ سکتے ہیں یعنی یہ رشتہ ایک لحاظ سے محض یکطرفہ خالائی رشتہ ہے اور ان سے وابستہ تمام مخلوق رشتے کے لحاظ سے خالائی مخلوق قرار دی جاسکتی ہے۔ انسان کو ہوش سنبھالتے ہی گلی محلے میں ایسی خالائی مخلوق سے واسطہ پڑنا شروع ہو جاتا ہے ۔ دیہی علاقوں میں گھر سے نکلتے ہی آپ کے سامنے خالہ یا کوئی کھالا آجانا کوئی اچھنبے کی بات نہیں یوں آپ کی زندگی میں مختلف خالاؤں یا آسمانی بلاؤں سے واسطہ پڑتا ہی رہتا ہے ۔ شروع شروع میں تو احترام کے جذبات کی وجہ سے لوگ خالہ کو خالہ جی ۔۔۔خالہ جی کہہ کر مخاطب کرتے ہیں مگر رفتہ رفتہ انہیں خالہ ای ۔۔۔خالائی کہنا شروع کر دیا جاتا ہے یہاں سے وہ خالائی سفر شروع ہوتا ہے جس میں کئی مقامات اور کئی منزلیں آپ کے راستے میں آتی چلی جاتی ہیں۔ ہمارے گھروں میں خالہ جمیلہ ، خالہ رضیہ ، خالہ حمیدہ اور خالہ رفیقاں جیسے کئی کردار ہمیں نظر آتے ہیں جو اپنی اپنی منفرد خصوصیات کی بنا پر الگ الگ پہچان رکھتی ہیں ۔ نوجوان لڑکے اپنی ماں کو خالہ کے ناموں کی بجائے ان کی بیٹیوں کی ماں کے طور پر ان کی باتیں بتاتے ہیں کہ آج وہ خالہ جو شکیلہ کی امی ہیں آموں کا ٹوکرا لے کر جا رہی تھیں یا وہ خالہ جو مریم کی امی ہیں وہ آپ کو سلام کہہ رہی تھیں ۔ یوں نوجوان اپنے اپنے انداز سے ان خالاؤں کا ذکر کرتے ہیں ۔ خالہ کی اگر بیٹیاں زیادہ خوبصورت ہوں تو نوجوان لڑکوں کے اندر فلاحی کاموں یعنی خالائی کاموں کا جذبہ اچانک جاگ اٹھتا ہے ان نوجوانوں میں اچانک جاگ اٹھنے والے اس جذبے کے بعد ان کے اندر خالائی مشن پر جانے کا بھوت سوار ہو جاتا ہے ۔ گھر میں موجود کوئی بیکار سائیکل یا موٹر سائیکل قابل استعمال بناتے ہوئے اسے خالائی شٹل کے طور پر کام میں لانے کی ترکیبیں کی جانے لگتی ہیں اور اس طرح یہ خالائی مشن آگے بڑھانا شروع کر دیا جاتا ہے ۔ خالہ کے بد ذائقہ کھانوں کو شروع شروع میں اپنی انگلیاں چاٹ چاٹ کر یقین دلایا جاتا ہے کہ اس سے مزیدار کھانا دنیامیں کوئی اور نہیں بناتا ۔ یہ تعریف سن کر خالہ بھی ایک کونے میں لیٹے ہوئے خالوکے آلو جیسے چہرے کو حقارت بھری نظروں سے دیکھ کر کہتی ہیں کہ بس بیٹا میں بے قدروں میں پھنس گئی ہوں ورنہ میرے کھانوں کی خوشبو تو پورے محلے میں پھیلی رہتی تھی اور ہر گھر سے سالن لینے لوگ چلے آتے تھے تاہم خالہ لوہا گرم دیکھ کر فوراً اپنی خوبصورت بیٹی کی طرف اشارہ کر کے کہتی ہیں کہ یہ کھانا تو نصرت نے بنایا ہے اور نصرت بھی اس جھوٹے الزام کو سچ مان کر دوپٹے کا آنچل اپنے ہونٹوں تلے دبا کر شرماتی ہوئی چند سیکنڈ کیلئے دروازے کے پیچھے چھپ کر فوراً واپس آجاتی ہے۔ ان خالاؤں کے گھر قدم قدم پر ان کی بیٹیوں کی تعریفیں سننے کو ملتی ہیں مثلاً جب کوئی خالہ اپنی بیٹی عقیلہ کے سگھڑ پن کی تعریفوں کے پل باندھ رہی ہوتی ہیں تو گھر میں آئے ہوئے نوجوانوں کے دل میں عقیلہ کو اکیلا ملنے کا جذبہ جاگ اٹھتا ہے ۔ خالہ کے ہاں آمد رفت کے دوران ان کی جوان بیٹیوں کے تذکرے سن کر نوجوانوں کی بتیسی اکثر نکلی رہتی ہے اور وہ بات بات پر دانت نکالنا اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں ہمارے ایک کامیاب خالائی مشن کا شکار ہونے والے دوست کا کہنا ہے کہ کسی ڈینٹل سرجن نے اتنے دانت اپنے پورے کیرئر میں نہیں نکالے ہوں گے جتنے دانت نوجوان لڑکے اس خالائی مشن کے دوران نکالتے ہیں اگر کسی خالہ کی بیٹی کا نام غلطی سے ’’ستارہ ‘‘ نکل آئے تو خالائی مشن میں مشغول نوجوانوں کے اندر اقبال کے کلام کی محبت جاگ اٹھتی ہے اور وہ بہانے بہانے سے گھر کی بالائی منزل پر جا کر ’’ ستاروں پر ‘‘ کمندیں ڈالنے کے منصوبے بناتے نظر آتے ہیں ۔ ہماری گلی محلے کی ان خالاؤں اور خالائی مخلوق کا وجود محلے کی جوان لڑکیوں کیلئے بھی غنیمت سے کم نہیں ۔ وہ خالہ کے گھر کا کہہ کر ان کے خوبصورت بیٹوں کے دلوں میں گھر کرنے کی ترکیبیں سوچتی رہتی ہیں اگر خالہ کے بیٹے خوش شکل ہونے کے ساتھ ساتھ کار آمد بھی ہیں تو یہ لڑکیاں خالہ کے ہاں سالن کا تبادلہ کرنے اکثر پہنچی رہتی ہیں اگر سالن کا وقت نہ بھی ہو تب بھی تبادلہ چٹنیات ، مشروبات ، اچارات یا آلو بخارات کے ساتھ ساتھ تبادلہ خیالات کا اہتمام کرنے کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی ۔ الغرض مائیں جب اپنے بیٹوں کے منہ سے یہ لفظ سنتی ہیں کہ ’’ خالہ زاد‘‘ آ رہی ہے تو وہ یہی سمجھتی ہے کہ ’’ خالہ یاد ‘‘ آ رہی ہے ۔ خالائی مخلوق کی وجہ سے محلے میں رونقیں بحال رہتی ہیں اور اگر یہ مخلوق نہ ہو تو محلے میں لڑائی جھگڑے ، فسادات اور زندگی کے تمام رنگ پھیکے پڑ جائیں ۔ ہمیں اپنی اپنی خالائی مخلوق کی قدر کرنی چاہیے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *