خواب تھا، جو کچھ دیکھا ! (قسط نمبر ۲)

چند سیکنڈ خون آلود جوتوں کو دیکھنے کے بعد قمر شریف نے وحشت سے انہیں اتار کر پھینکا ۔ صبیحہ نے کانپتی ہوئی آواز سے پوچھا ’’یہ خون ہے نا ؟‘‘’’ہاں شاید ‘‘وہ دوسرے جوتے پہنتے ہوئے بولا ’’ چلو ، جلدی کرو ، اب ہمیں یہاں سے چل دینا چاہیے ، اگر کسی کھلی جگہ جوتوں پر خون لگا ہوتا تو مجھے فوراََ پتا چل جاتا ، یقیناًیہ خون کیبن کی تا ریکی میں لگا ہو گا ، تو کیا یہ بیرو کا خون ہے ؟‘‘اس نے تشویش سے خود کلامی کی ۔
اچانک ایک آواز سن کر وہ دونوں چونک اٹھے کچن میں سے ریفریجریٹر کا پٹ بند ہو نے کی واضح آواز سنائی دی تھی ۔ صبیحہ نے گھٹی گھٹی آواز میں کہا ۔ ’’یہ آواز ......کچن میں کوئی ہے !‘‘’’گھبراؤ نہیں ، ابھی معلوم کرتا ہوں ۔‘‘
قمرہمیشہ سے اتنا دلیر نہ تھا ، عالم جوانی میں ہونے والی ذیا بیطس نے اسے بہت نڈر بناد یا تھا ۔وہ کہا کرتا تھا جو بندہ صبح شام انسولین کا ٹیکا لگاتا ہو ا سے پھر کس کا ڈر ہاں البتہ اُسے ڈرنا چاہیے ۔ اسی حوصلے کو لے کر وہ ’’ ڈارلنگ پلیز حوصلہ کر و ۔‘‘کہتا ہو ا خواب گا ہ کی طر ف چلا گیا ۔
دبے پاؤں لابی سے ہو کر وہ کچن کی طرف بڑھا ۔ دروازے میں سے ایک ہیبت ناک چہرہ دیکھ کر اس کا دل اچھل کر حلق میں آگیا ۔دیکھا جائے تو نشاط کدہ میں پیش آنے والے ان واقعات کے ڈانڈے تین ماہ پہلے کراچی کے ایک وکیل بنجر بھائی کی خود کشی سے جا ملتے ہیں جب اس نے منہ میں پستول کی نال لے کر اپنی کھوپڑی کے چھیتھڑے اڑادےئے تھے ۔

مزید پڑھنے کیلئیے یہاں کلک کریں"خواب تھا، جو کچھ دیکھا ! (قسط نمبر 1)"

در پردہ بدمعاشوں کی نمائندگی اور سر پرستی کرنے والے بنجر بھائی کو سٹاک مارکیٹ کے معاملات میں نہایت ماہر تصور کیا جاتا تھا ۔پچھلے تیس سال سے وہ ایک مشہور جرائم پیشہ کریم بھا کی طرف سے شےئر خریدتا اور بیچتا رہتا تھا ۔جس نے مجرمانہ زندگی کی ابتداء چھوٹا وکیل کے باڈی گارڈ کے طور پر کی اور آہستہ آہستہ گینگ لیڈر بن گیا ۔ اپنی مجرمانہ سرگرمیوں سے وہ ساٹھ کروڑ کا خطیر سرمایہ اکٹھا کر چکا تھا ۔اگر چہ پولیس کو اچھی طرح علم تھا کہ اکثر بینک ڈکیتیوں میں کریم بھا کا ہاتھ ہو تا ہے لیکن وہ کبھی اس پر ہاتھ نہ ڈال سکے تھے ۔قانون کے ہاتھوں میں گدگدی ہوئی بھی تو بنجر بھائی نے اپنی پیشہ ورانہ ذہانت سے اسے صاف بچا لیا ۔
پچپن سا ل کی عمرکو پہنچ کر کریم بھا نے مجرمانہ سرگرمیاں تیاگ دینے کا فیصلہ کیا۔وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ کسی گینگ لیڈر کے لیے یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں ہو تا، چنانچہ اس نے دانشمندی سے کام لیتے ہوئے 10کروڑ روپے خرچ کر کے اپنا تحفظ اور آئندہ زندگی کے لیے امن و سکون حاصل کر لیا ۔باقی 50کروڑ اس نے سرمایہ کاری کے لیے بنجر بھائی کی تحویل میں رہنے دئیے ۔
اس کی بیوی غزالہ کی مشہور ڈانسر تھی لیکن اس نئی زندگی میں وہ انتہائی اطمینان محسوس کر رہی تھی ۔ دونوں کراچی میں بوٹ بیسن میں رہتے تھے ۔ مجرمانہ سرگرمیوں اور بدقماش لوگوں سے کنارہ کشی کے بعد کریم بھا نے کراچی کے اعلیٰ طبقے میں اپنا مقام بنا لیا ، گالف کھیلنا ، تقریبات میں شریک ہونا ، تھوڑی بہت شراب پینا اور برج کی بازیاں لگانا اس کے پسندیدہ مشاغل تھے ، فارغ لمحات میں اس کا زرخیز دماغ ایسے منصوبے ضرور سوچتا رہتا جیسے کسی بینک کو لوٹنا یا کسی ارب پتی کی بیٹی کو اغواء کر کے تاوان وصول کرنا وغیرہ ۔
بنجر بھائی کی خودکشی کی خبر سن کر وہ رطہ حیرت میں آگیا ۔عورتوں کی طرف بنجر بھائی کے غیر معمولی میلان اور قمار بازی کی لت کے باوجود اس پر اس قدر بھروسہ کریم بھا کو لے ڈوبا ۔یہ اچھا ہی ہو اکہ اس نے خودکشی کر لی ورنہ کریم بھا کو اس کا کام تمام کر نے کی زحمت اٹھانا پڑتی اور یہ موت بنجر بھائی کے لیے بڑی درد ناک ہوتی ۔ یہ خبر ہضم کرنے میں کریم بھا کو کچھ وقت لگا ۔ بوٹ بیسن کے الائیڈ بینک میں 25لاکھ کے سوا باقی سب کچھ بنجر بھائی کی موت کے اڑن چھو ہو چکا تھا ۔پانی ہمیشہ ڈھلوان کی طرگ بہتا ہے چنانچہ کریم بھا نے عملے کو خوب لتاڑا۔
بڑامسئلہ یہ تھا کہ آئندہ زندگی بسرکرنے کا رنگ ڈھنگ کیا ہوگا ؟اس نے نئی مرسیڈیز کے آرڈر دے رکھا تھا ۔ غزالہ کی سالگرہ پر اسے ہیروں کا سیٹ دینے کا وعدہ بھی توڑنا مشکل تھا ۔ اس کے علاوہ کچھ اور ایسے اخراجات تھے جنہیں پورا کرتے ہوئے 25لاکھ یوں اڑ جائیں گے جیسے گدھے کے سر سے سینگ ۔
واپس بوٹ بیسن کی طرف گاڑی ڈرائیو کرنے کے دوران اس کا ذہن تیزی سے سوچتا رہا ۔کچھ نہ کچھ کرنا ہو گا اور فوری ......لیکن کیا؟عمر کا بیشتر بدقماشوں کی سربراہی میں گزرا تھا اور اب جبکہ چور کو مور پڑ گئے تھے تو ہار ماننے کا سوا ل ہی پیدا نہ ہوتا تھا ۔اپنے گھر پہنچنے تک اس کا ذہن دوبارہ دولت بنانے کا منصوبہ بنا چکا تھا ۔غزالہ جو کہ باہر جانے کیلئے تیار ہو رہی تھی ، پوچھنے لگی ’’خود کشی کی وجہ معلوم ہوئی ؟‘‘
’’ہاں جوئے میں چت ہو گیا تھا ، صدمہ برداشت نہ کرسکا اور خودکشی کر بیٹھا ......کہیں باہر جارہی ہو ؟‘‘
’’ہاں‘‘سیلز گرل نے ہیرے کا سیٹ دیکھنے کو کہا تھا یہ سن کر کریم بھا تذ بذب میں پڑگیا ۔غزالہ کے بازو پر تھپکی دے کر بولا ’’ٹھیک ہو ، جاؤ دیکھ آؤ ۔‘‘
غزالہ کے نکلتے ہی اس نے گلاب خان کو کال ملائی ’’ہیلو گلاب خان ‘‘کریم بھا بولا ’’مجھے پہچانا؟‘‘
دوسری طرف سے قدرے توقف کے بعد آواز آئی ’’اوہ ، خدایا ، تم کریم بھا ہو ؟‘‘
مجرمانہ زندگی کے دوران گلاب خان پندرہ سال تک کریم بھا کا دست راست رہا تھا ۔دوسرے بہت سے کاموں کے علاوہ پچیدہ سفید کھولنا ،جیب تراشنا ، تاش میں پتے لگانا ، خطرے کی گھنٹی کو ناکارہ کر نا اور ریوالور سے 50فٹ کے فاصلے سے کامیاب نشانہ لینا اس کی خاص خوبی تھی تاہم ازخود کوئی منصوبہ بنا کر اسے عملی جامہ پہنانا اس کے بس کی بات نہ تھی ، لیڈر شپ کے بغیر وہ زیرو تھا ۔ایسی ہی ایک ڈکیتی میں وہ پکڑا گیا تھا اور اسے اٹک جیل میں 6سال گزارنا پڑے تھے ۔پولیس نے بھی رج رج کے اس بری طرح بدلے نکالے کہ رہائی پر وہ بری طرح ٹوٹ پھوٹ چکا تھا ۔ عمر اڑتالیس سال ، جسم فربہ اور جیل کی صعوبتوں کی وجہ سے ایک گروہ ناکارہ .....یہ تھا گلاب خان ۔
اس نے کافی دولت بنائی تھی لیکن جوئے کی بدولت ساتھ ساتھ سب کچھ غارت کرتا رہا اور اب اس کے پاس پھوٹی کوڑی تک نہ تھی ۔اس کی ماں خانم 72سالہ عورت تھی اور قحبہ خانے چلاتی تھی ۔
اسے بیٹے سے بہت محبت تھی اور یہی حال بیٹے کا تھا ۔جیل سے رہا ہوکر گلاب خان اس کے پا س پہنچا تو بیٹے کی زبوں حالی دیکھ کر ماں کا دل کٹ کر رہ گیا ۔اسے دوبارہ پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے خانم نے پوری توجہ اور ممتا بھری شفقتیں اس پر نچھاورکر دیں ، رہنے کے لیے اسے تین کمروں کا گھر لے دیا اور زندگی کی ساری ممکن آسائشیں فراہم کردیں ۔ وہ کریم بھا کی بہت مداح تھی اور جانتی تھی کہ اس نے کروڑوں سمیٹ کر گوشہ عافیت اپنایا ہے ۔وہ گلاب خان کیلئے بھی نوسوچوہے کھانے کے بعد حج کا منصوبہ رکھتی تھی ۔
اٹھارہ مہنیوں بعد پانسہ پلٹ گیا ایک سخت گیر اور دیانتدار افسر انسپکٹر مظہر شاہ نے اپنے تقرر کے تین ہفتوں کے اندر اندراس کے دونوں قحبہ خانے بند کرادےئے اور بہت سی طوائفوں کر گرفتار کرلیا ۔ خانم کے لیے یہ چوٹ بڑی شدید تھی ، وہ سہہ نہ سکی ۔ خانم کی طرف سے ہفتہ وار آمدنی بند ہو نے کے باعث گلاب خان کو مصیبت پڑ گئی ، پھر فاقوں کی نوبت آئی تو نمک منڈی کے ایک ہوٹل میں ملازم ہو گیا ۔
’’کیسے جارہے ہو گلاب خان ‘‘ کریم بھا نے پوچھا ۔
گلاب خان گول گپا ہوٹل کے مالک کو گھورتے ہوئے بولا ’’ بڑا اچھا جا رہا ہوں ،میں نے اپنا کاروبار شروع کردیا ہے وہ جانتا تھا کریم بھا ناکام لوگوں کو پسند کرتا تھا ۔
’’بہت خوب ‘‘کریم بھا کی آواز آئی ’’دیکھو گلاب خان اگر تمہیں دلچسپی ہو تو وہ کروڑ کماسکتے ہو ۔‘‘
گلاب خان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں’’کیا کہا؟‘‘
’’ایک کام آن پڑا ہے ‘‘کریم بھا نے بے تاب ہو کر پوچھا ’’ہیلو، فون پر ہی ہو ؟‘‘
’’ہاں کریم بھا ، کام کیا ہے ؟‘‘
’’فون پر نہیں بتا سکتا ‘‘کریم بھا نے تیکھی آواز میں کہا
’’یوں کرو گلاب خان ،رات گیارہ چالیس کی فلائٹ سے پہنچ جاؤ، دو کروڑ معمولی رقم نہیں ہے ۔‘‘
دن کا باقی حصہ بڑی سست رفتاری سے گزرا۔دوکروڑ کے طلسمی الفاظ گلاب خان کے ذہن میں قندیلیں روشن کرتے رہے ۔ چار بجے وہ معمر کراتی ہوئی عورتوں کے قریب سے گزرتے ہوئے وہ اپنی ماں کے بستر تک جا پہنچا ۔گلاب خان نے اسے کریم بھا کی فون کال بارے بتایا اور آخر میں کہا ’’پتا نہیں کام کیا ہے ؟بہرحا ل اس نے کبھی مجھے خطرے میں نہیں ڈالااور وہ کروڑ کا وعد ہ کیا ہے ۔‘‘
خبر سن کر خانم اپنا درد وغیرہ سب بھول گئی ’’تو تم اس سے ضرور ملو ، اس نے کبھی غلطی نہیں کی ۔‘‘
’’لیکن ماں ، اس حلیے میں کیسے اس کے پاس جاسکتا ہوں اور پھر وہاں تک جہاز کا کرایہ .......‘‘
’’گھبراؤ نہیں ‘‘ خانم نے کہا اور ہاتھ بڑھا کر ہیڈ سائیڈ لاکر میں سے ایک لفافہ نکالا اور گلاب خان دیتے ہوئے بولی ’’یہ لو ،اس سے ٹکٹ کپڑے اور اور اچھا سا سوٹ کیس خرید لو ‘‘کریم بھا رکھ رکھاؤکا خاص خیال رکھتا ہے اور خانم ہرجگہ کرنسی چھاپنے میں مہارت رکھتی تھی ۔
گلاب خان نے لفافے میں جھانک کر دیکھا ’’اوخدایا !یہ کہاں سے آئے؟‘‘
کسی سحر زدہ شخص کی طرح نوٹوں کو گھورتے ہوئے گلاب خان نے حیرت سے پو چھا اور پھر کہا ’’لیکن ماں ، تمہیں ان کی ضرورت ہے ، یہ اپنے پاس رکھو۔‘‘
سینے میں درد کی ٹیسیں دوبارہ پید اہونے پر خانم نے چھاتی پر ہاتھ رکھا ’’پگلے دو کروڑ کمانے جارہے ہو ، پھر میری ساری ضرورتیں پوری ہوجائیں گی ضدنہ کرو، رکھ لو ۔‘‘
’’گلاب خان آج یہاں آرہا ہے ،ڈنر ہمارے ساتھ کرے گا ۔‘‘ کریم بھا نے غزالی سے کہا ۔
کافی کا کپ غزالہ کے ہاتھ میں لرز گیا ، کون ؟‘‘’’ تمہارا مطلب ہے وہ بدمعاش جیل سے رہا ہو گیا ہے ؟‘‘
’’جیل سے رہا ہوئے تو اسے دوسال ہوچکے ہیں ۔‘‘
’’دیکھو بھا تم نے وعدہ کیا تھا آئندہ ایسے بدقماشوں سے واسطہ نہیں رکھو گے ،اگر کسی کو معلوم ہوگیا تو.....‘‘
’’اوہ غزالہ ! وہ ایک پرانا دوست ہے اور مجرمانہ زندگی چھوڑ کر اب وہ اپنا کاروبار کررہا ہے ۔‘‘
’’کچھ بھی ہو اس کا یہاں آنا مجھے گوارا نہیں ، دیکھو بھا ،تمہیں اس زندگی سے الگ ہوئے پانچ سا ل ہوگئے ہیں ، اب چین سے رہو ۔‘‘سگریٹ سلگا کر کریم بھانے قدرے تیکھی آواز میں کہا ’’ غزالہ ! مجھے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں ، تمہیں یہ بتا نے کی ضرورت نہیں .....
شوہرکے بدلے ہوئے تیور دیکھ کر غزالہ نے پسپائی اختیار کی اور مسکراکر بولی ’’ میں ڈنر تیار رکھو نگی ۔‘‘
سی آئی اے انسپکٹر عمر خان اور سب انسپکٹر بشیر خان ائیر پورٹ پر کھڑے اسلام آباد سے آنے والی پرواز کا اعلان سننے کے لیے بے تاب تھے ۔مضبوط جسم کے اڑتالیس سالہ عمر خان کا ہیڈ کوارٹر صدر کراچی میں تھا بشیر عمر میں اس سے بیس سال چھوٹا تھا لیکن اپنی محنت اور لگن کی بدولت عمر خان کو اتنا عزیز ہو گیا تھا کہ وہ اسے اپنا دامادبنا نے کا فیصلہ کر چکا تھا ۔
عمر خان نے اچانک بشیر کے بازو کو چھو کر کہا ’’اوہ یہ کون ٹپک پڑا ۔‘‘
اس کی نظرو ں کے تعاقب میں بشیر نے پستہ قد موٹے اور کالے بالوں والے شخص پر نظر ڈالی ۔
عمر خان اٹھ کھڑا ہوا ’’ کراچی میں اس شخص کی آ مدعلت سے خالی نہیں ، آؤ پتا کرتے ہیں ۔‘‘
وہ دونوں تعاقب کرتے ہوئے باہر پارکنگ لاٹ تک پہنچے ’’یہ گلاب خان ہے تم اسے نہیں جانتے مگر .....‘‘
’’ اچھا تو یہ ہے گلاب خان .....‘‘
’’ہاں‘‘عمر خان نے سر ہلایا ’’میں حیران ہوں کہ یہاں کیا کرنے آیا ہے ؟وہ ادھر بائیں طرف دیکھو کریم بھا پہلے سے موجود ہے ۔‘‘یہ نا قابل شکست جوڑا پھر سے اکٹھا ہو گیا ہے ، خد ا خیر کرے !‘‘’’ تمہارا مطلب ہے کریم بھا پھر میدان عمل میں آرہا ہے ......اتنی دولت کے باوجود ؟‘‘
’’ممکن ہے .....اگر ایسا ہو ا تو مجھے نمبر بنانے کا زریں موقع مل جائے گا ، کریم بھا پر ہاتھ ڈالنے کے لیے میں اکیس سال تک تڑپتا رہا ہوں ۔‘‘ادھر گلاب خان کی آن بان دیکھ کر کریم بھا کافی متاثر اور خوش تھا ۔گرم جوشی سے مافحہ کے بعد دونوں چمکتی ہوئی مرسڈیز کی طرف چل دےئے ’’کریم بھا یہ تمہاری ہے ؟‘‘گلاب خان بولا ۔’’ہاں ‘‘کریم بھا لاف زنی کیے بغیر نہ رہا ’’مگر میں نے نئے ماڈل کے لیے آرڈر دے دیا ہے ، چلو بیٹھو غزالہ منتظر ہو گی اور دیر سے پہنچے تو میرے دونوں کان سلامت نہیں رہیں گے ۔‘‘
ماضی کے کچھ قصے دہراتے ہوئے دونوں گھر جا پہنچے ۔
دونوں کو زور کی بھوک لگی تھی ۔ چند منٹ میں ڈنر ٹیبل پر تھا ۔کریم بھا نے حسب عادت ڈھیروں سالن اور چکنائی پلیٹ میں ڈال لی اور ایک ساتھ دو روغنی نا ن اٹھا لئے ۔ غزالہ سے رہا نہ گیا ۔’’بھا ! تمہیں ذرا خیال نہیں ، پرسوں ہی تمہاری رپورٹ آئی ہے کولیسٹرول 321تھا.....اور اُس میں بھی بُرا کولیسٹرول زیادہ ہے ، تمہارے دل کا کیا بنے گا ؟میں تو یہ سوچ کر پریشان ہوں ۔‘‘’’تو کیا کولیسٹرول اچھے بھی ہوتے ہیں ؟‘‘کریم بھا نے پوچھا ۔
’’ تو کیا کریم بھا میں دل بھی ہے ؟‘‘گلاب خا ن نے بات مذاق بات میں اڑانے کی کو شش کی ۔
’’ اچھے کولیسٹرول بھی ہوتے ہیں او ر دل کی حفاظت کرتے ہیں اور گلاب خان سنو! کریم بھا کے سینے میں ایک بہت پیار ادل دھڑکتا ہے اور اسی لیے مجھے اس کی بہت فکر رہتی ہے ۔‘‘
ڈنر بہت نفیس اور مزیدار تھا لیکن غزالہ کے انداز اطوارو سے گلاب خان کچھ بوکھلا گیا ۔
’’تمہارے کراچی آنے کا مقصد ؟‘‘غزالہ نے بمشکل جوش و باکر سوال کیا ۔
گلاب خان کسمسا کر رہ گیا اور کریم بھا نے فوراََ پشت پنا ہی کی ‘‘یہ بوٹ بیسن میں نمک منڈی طرز کا ایک ریسٹورنٹ کھولنا چاہتا ہے ۔‘‘کریم بھا کے شاندار گھر ،باغ ، آرائشی سازو سامان سے گلاب خان مرعوب ہو چکا تھا ۔ سگار نکال کر کریم بھا گلاب خان سے مخاطب ہو ا’’اب کام کی باتیں ہو جائیں ۔‘‘میرے پاس ایک ایڈیا ہے ، ہم دونوں مل کر اب بھی بڑا ہاتھ مار سکتے ہیں ۔‘‘
گلاب خان کو کہنے کے لیے کوئی الفاظ نہ مل سکے ۔
توقف کے بعد کریم بھا نے کہا ’’ اگر یہ کامیاب رہا تو ہم دولت کے ڈھیر پر بیٹھے ہوں گے ۔ڈرنے کی کوئی بات نہیں ، میں جانتا ہوں کہ اٹک جیل میں تم کا فی صعوبتیں جھیل چکے ہو لیکن پھر بھی یہ ایسا منصوبہ ہے ، جس میں ذرا بھی خطرہ نہیں ۔‘‘
کریم بھا کی باتوں پر اسے ایمان کی حد تک یقین تھا ، وہ بولا ’’ منصوبہ کیا ہے ؟‘‘کریم بھا نے ٹانگیں پھیلا کر سگا ر کا دھواں اڑاتے ہو کہا ’’ مجید میمن کے متعلق کچھ سنا ہے کبھی ؟‘‘......’’وہ کراچی سٹاک ایکسچینج کا ممبر ہے ....ارب پتی ہے ۔‘‘
گلا ب خان پلکیں جھپکنے لگا ۔
’’ اس کے والد نے بہت سے شےئر سستے داموں خریدے تھے۔ با پ کی وفات کے بعد یہ دولت مجید میمن کو ملی اور اس نے اس کے بدلے سو روپے بنائے ۔‘‘
گلاب خان کریم بھا کی باتوں کو سن کر اپنے چہرے پر آیا ہوا پسینے کو پونچھنے لگا ۔
’’ مجید میمن کی بیوی کینسر کے مرض میں مرگئی تھی البتہ پیچھے ایک بیٹی چھوڑ گئی ہے جو بلکل اپنی ماں سے ملتی ہے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ مجید میمن کی مرحوم بیوی کی یہ نشانی اپنی جان سے زیادہ عزیز ہے ، اگر ہم اس کی بیٹی اڑا لیں تو وہ برضا ورغبت 10کروڑ روپے دینے پر آمادہ ہو جائے گا ۔‘‘
’’ ایک منٹ کریم بھا ‘‘ گلاب خان نے کسی قدر بھنچی ہوئی آواز میں کہا ’’ یہ اغوا کا جرم ہو گا .....ہمیں پھانسی کے پھندے تک لے جاسکتا ہے ۔‘‘ ’’ میں نے سارے پہلوؤں پرغور کیا ہے ۔‘‘ کریم بھا بولا ’’ رقم ہتھیانے کے بعد اس کی بیٹی صیح سلامت واپس کردی جائے گی لہٰذا کوئی ٹنٹا بھی کھڑا نہیں ہو گا ۔‘‘
کافی دیر سوچنے کے بعد گلاب خان نے سر ہلا دیا ’’ ٹھیک ہے کریم بھا تم کہتے ہو تو ایسا ہی ہو گا لیکن آخر مجھے کرنا کیا ہو گا ؟‘‘
’’ لڑکی کو سنبھالنا ہوگا ۔لڑکی تم اکیلے نہیں اڑاؤ گے ، بلکہ یہ کام دو بندے کریں گے جو تم خود تلاش کرو گے، ان دونوں کو پانچ پانچ لاکھ روپے دیے جائیں گے ۔‘‘
گلاب خان بولا ’’ ایک جوڑا ہے میر ی نظر میں جڑواں بہن بھائی ہیں ، بڑے تیز ، خود سر اور مضبوط اعصاب کے مالک ۔ ان کا باپ اینکاؤنٹر میں مارا گیا تھا ۔ ماں اُچکی تھی اور مختلف سٹوروں سے چیزیں اُڑایا کرتی تھی ۔ یہ دونوں ادھر اُدھر ہاتھ مار کر گزراوقات کرتے ہیں ۔ پولیس کے پاس ان کا کوئی ریکارڈ نہیں ، آج کل وہ ہیجڑوں کی ایک ٹولی کا ’’ حساب کتاب ‘‘ رکھتے ہیں ۔ ذریعہ معاش بلیک میلنگ ہے بہن اپنے جلوے دکھا کرلوگوں کو رجھاتی ہے اور جب قسمت کا مارا کوئی شخص پھنس جاتا ہے تو بھائی نازک لمحات میں پہنچ کر اس شخص سے کوڑی کوڑی ہتھیا لیتا ہے ۔‘‘
ہلکی ہلکی بوندا باندی میں شبانہ بھرے بھرے ہونٹوں میں سگریٹ دبائے ایک کھمبے کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑی تھی اس کی بڑی بڑی آنکھیں سڑک کے اس پار میریٹ کے صدر دروازے پر لگی ہوئی تھیں ۔ صبح کے تین بج چکے تھے اور عیاش طبع لوگ ہوٹل سے برآمد ہونے والے تھے ۔ شبانہ کو توقع تھی کہ ان میں سے ایک آدھ شرابی اس کے تیر نظر کا ضرور شکار ہو گا ۔
پانچ فٹ چھ انچ قد کی شبانہ چوڑے کندھوں اور زبر دست نسوانی حسن کی مالک تھی ۔کوئی بھی مرد اسے گھورے بغیر نہ رہ سکتا تھا ۔اس کی کمر پتلی جبکہ ٹانگیں لمبی اور متناسب تھیں ، وہ جین کی نیلی پتلون اور جیکٹ پہنا کرتی تھی ، اس کا بھائی بھی راجو عموماََایسی ہی وردی میں ملبوس رہتا تھا اور اسی وجہ سے دونوں بہن بھائی جینوں والی جوڑی کے نام سے مشہور تھے ۔ دونوں ہی ظالم ، بے حس اور چالاک تھے ، دونوں ہی خود غرض، کمینہ صفت ، بد دیانت اور عیار تھے البتہ صرف ایک دوسرے سے خالص تھے اور ایک دوسرے سے بے پناہ محبت کرتے تھے ۔ میریٹ سے کچھ دور راجو تاریکی میں نگاہوں سے اوجھل کھڑا تھا ۔ قد میں اپنی بہن سے چند انچ اونچا اور بہن کی طرح ہی بڑی بڑی چمکتی آنکھوں کا مالک تھا ۔ ایک جھگڑے میں ناک ٹوٹ چکی تھی اور چند مہینے قبل کسی نے دائیں آنکھ سے جبڑے تک چاقو سے کاٹ کر چہرہ مسخ کردیا تھا ۔اس کا چہرہ کافی ڈراؤنا ہو گیا تھا لیکن اس جیت پر راجو کو فخر تھا ۔ بعد میں بہن بھائیوں نے مل کر چاقو کی نوک سے اسی ’’ کسی ‘‘کی آنکھیں اسی طرح نکالی تھیں جیسے وہ رہو مچھلی ہو ۔
اچانک جوق در جوق مرد اور عورتیں میریٹ سے بر آمد ہونے لگے ۔ کاروں کے دروازے کھلنے اور بند ہو نے لگے جبکہ اسی دوران شبانہ کسی اسامی کی منتظر کھڑی رہی ۔پھر رین کوٹ میں ملبوس ایک پستہ قد شخص اس کے قریب آکھڑا ہوا ، اسے دیکھتے ہوئے شبانہ نے نیا سگریٹ یوں سلگایا کہ جلتی ہوئی دیا سلائی کی روشنی چند لمحوں تک اس کے چہرے پر مرکوز رہی۔ شبانہ کی تجربہ کار آنکھوں نے ایک ہی نظر میں اس کے قیمتی رین کوٹ ، ہاتھوں سے بنے ہوئے جوتوں اورچمکتی ہوئی سونے کی گھڑی کا جائزہ لے لیا ۔ پستہ قد شخص اس کے قریب آکر مسکراتے ہوئے بولا ’’ ہیلو بے بی ، کسی کا انتظار ہے کیا ؟‘‘
نتھنوں سے دھواں اگل کر پیشہ وارانہ انداز میں مسکراتے ہوئے شبانہ بولی ‘‘ نہیں ......جس کا انتظار تھا غالباََ وہ آچکا ہے ۔‘‘
پستہ قد شخص مسرور ہو کر بولا ’’تو پھر بارش میں بھیگنے کی ضرورت نہیں ، میری کار ادھر کھڑی ہے ، چلو کسی خاموش مقام ہر چل کر باتیں کریں ۔‘‘شبانہ نے ہنس کر نسوانی حسن کو نمایاں کیا اور دعوت دیتی ہوئی نگاہوں کے ساتھ بولی ’’باتیں ؟ اچھا آئیڈیا ہے لیکن کہاں ؟‘‘
’’ کوئی گوشہ تنہائی ہو بے بی ‘‘ وہ بولا ‘‘ رقم کی فکر نہ کر و، وہ میرے پاس کافی مال ہے ۔‘‘
شبانہ نے نمائشی تذبذب کے بعد کہا ’’ تم یہی چاہتے ہو تو یوں ہی سہی ، چلو ایک ایسا مقام میں جانتی ہوں ۔‘‘اور اس نے جلتا ہوا سگریٹ ہوا میں اچھا ل دیا ۔ راجو نے اشارہ دیکھ لیا ۔
پھر وہ مرسڈیز میں جابیٹھی ۔ پانچ منٹ بعد مرسڈیز ساحل سمندر پر واقع ایک بنگلے کے سامنے رُک گئی۔ وہ دونو ں اندر پہنچے اور معمر چوکیدار نے شبانہ کو دیکھ کر آنکھیں چکادیں ۔ تینوں کو معلوم تھا کہ چند منٹ میں راجو آنے کو ہے ۔
کچھ دیر بعد وہ بالائی منزل میں ایک کمرے میں پہنچ گئے جہاں ڈبل بیڈ ، دوکرسیاں ، ٹائیلٹ ، بیسن اور فرش پر خستہ حال غالیچہ موجود تھا ۔شبانہ بستر پر جا بیٹھی اور مسکرا کر بولی’’ پہلے میر تحفہ جانی ؟‘‘
محفوظ ہونے والی مسکراہٹ کے ساتھ پستہ قد شخص کھڑکی کے پاس گیا اور پردہ ہٹا کر بارش میں بھیگتی ہوئی سڑک پر نظر ڈالی ۔ سڑک پر راجو موٹر سائیکل سے اتر کر ہوٹل کی طرف آرہا تھا ۔( باقی آئندہ )

شائع کردہ 18 اکتوبر 2004

مزید پڑھنے کیلئیے یہاں کلک کریں"خواب تھا، جو کچھ دیکھا ! (قسط نمبر 1)"

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *