تین فہرستیں

یاسر پیرزادہYasir Pirzada

 کیا آ پ نے زندگی میں کبھی ان رحمتوں کی فہرست بنائی ہے جو ہمیں میسر ہیں ؟کسی دن کاغذ پینسل ہاتھ میں پکڑ کر ان نعمتوں کی ایک فہرست تو بنائیں جو آپ کی زندگی میں شامل ہیں تاکہ اندازہ تو ہو کہ زندگی کے میزانئے (بیلنس شیٹ )میں ہمارے ’’اثاثہ جات‘‘ کی کیا صورتحال ہے! صحت‘ اولاد‘ والدین‘ خاندان‘تخلیق کا ہنر‘ ذہانت‘ دوست احباب‘ محنت کرنے کی صلاحیت…آپ سوچتے چلے جائیں یہ فہرست طویل ہوتی جائے گی۔میں اس وقت یہ کالم لکھ رہا ہوں ‘ اس کا مطلب ہے کہ میرے ہاتھ کام کرتے ہیں ‘میںاپنی مرضی کے مطابق انگلیوں کو حرکت دے سکتا ہوں‘ میری آنکھیں ان الفاظ کو پڑھ سکتی ہیں اور کچھ نہ کچھ دماغ بھی چلتا ہے جس کی بدولت میں لکھنے میں کامیاب ہوتا ہوں (گو کہ کچھ حضرات دماغ کے بغیر بھی لکھنے کی خداد داد صلاحیت رکھتے ہیں)‘یہ تمام صلاحیتیں ہماری زندگی کی بیلنس شیٹ کا حصہ ہیں مگرہم شاذو نادر ہی انہیں اپنا اثاثہ سمجھتے ہیں ‘ الٹا ہمیں زندگی سے شکوہ ہی رہتا ہے‘ ہم لوگ اپنی گفتگو میں خدا کا شکر تو ادا کرتے ہیں مگر اس کی حیثیت ایک محاورے کی سی ہو کر رہ گئی ہے’’کیا حال ہے …اللہ کا شکر ہے !‘‘کیا ہم واقعی خدا کا شکر ادا کرتے ہیں ؟فی الحال اس سوال کو یہیں چھوڑتے ہیں اور مزید ایک فہرست بناتے ہیں۔
دوسری فہرست میں اس بات کا تعین کریں کہ آج کی تاریخ میں آپ خود کو جسمانی طور پر ‘جذباتیت میں ‘ جاذب نظر لگنے میں‘تعلق نبھانے میں‘کیرئیر کے حوالے سے ‘ معیار زندگی میں ‘مالی اعتبار سے اور روحانیت میں دس میں سے کتنے نمبر دیں گے ؟فرض کریں کہ آپ نے ان تمام درجوں میں خود کو دس میں پانچ نمبر دئیے ہیں ‘اب فہرست کے مزید دو حصے بنا لیں ‘ ایک حصہ اس مقام کا تعین کرے جہاں آپ آج سے پانچ برس پہلے کھڑے تھے اور دوسرے حصے میں اس بات کا تعین کریں کہ آج سے پانچ سال بعد آپ اس فہرست میں سے خود کو کہاں کھڑا دیکھنا چاہتے ہیں۔ اگر آج آپ نے خود کو دس میں سے پانچ نمبر دئیے ہیں تو ہو سکتا ہے پانچ برس پہلے کسی کیٹیگری میں آپ نے خود کو پانچ سے کم نمبر دئیے ہوں یا برابر یا ہوسکتا ہے کہ پانچ برس پہلے کسی درجہ بندی میں آپ اوپر تھے اور آج پانچ سال بعد خود کو اس سے نیچے تصور کرتے ہیں ۔اب آئندہ پانچ برسوں میں آپ خود کو کہاں دیکھنا چاہتے ہیں ‘اس کے بھی خود کو نمبر دیں اور سوچیں کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ آج سے پانچ سال بعد جب آپ دوبارہ اس فہرست کے مطابق خود کو جانچنے کی کوشش کریںتو آپ کے نمبر پانچ سے بڑھ کر آٹھ ہو چکے ہوں !
اب ایک تیسری فہرست بناتے ہیں۔اس فہرست میں دس چیزیں شامل کریں ‘آزادی‘ قربت‘ محبت‘ کامیابی‘ تحفظ‘ مہم جوئی‘طاقت‘جوش و جذبہ‘آسائش اور صحت۔اب اپنی شخصیت کو سامنے رکھیں اور ان چیزوں کو اس ترتیب میں لکھیں جس ترتیب میں آپ کی زندگی میں ان کی اہمیت ہے ‘یعنی اگر آپ کے نزدیک صحت مقدم ہے تو وہ سب سے اوپر آئے گی ‘ اس کے بعد اگر آپ کامیابی کے متمنی ہیں تو اسے دوسرے نمبرپر رکھیں گے‘ اگر آپ ایڈونچر کے قائل نہیں تو مہم جوئی سب سے نیچے آئے گی اور یوں اپنی پسند کے مطابق اس فہرست کو ترتیب دیں ۔اس کے بعد یہی فہرست اپنی /اپنے شریک حیات کو دیں اور اسے کہیں کہ وہ اپنی شخصیت کے مطابق اس فہرست کو ترتیب دے‘ اگر اس کی اور آپ کی فہرست میں اوپر کی دو چار چیزیں مشترک ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کے مزاج میں مطابقت ہے اور اگر فہرست میں فرق کچھ زیادہ ہے تو پھر اللہ ہی حافظ ہے !
ان تینوں فہرستوں میں ایک بات مشترک ہے ‘یہ خود ساختہ بد نصیبی اور ٹینشن کے اثرات کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔پہلی فہرست ان لوگوں کے لئے تیر بہدف نسخہ ہے جو زندگی میں خوش ہونا نہیں جانتے ‘ ان کے خیال میں زندگی نے انہیں کچھ نہیں دیا ‘ ان کی بد نصیبی پر فلم بننی چاہئے لیکن وہ اتنے بدنصیب ہیں کہ اگر سٹیفن سپیلز برگ بھی وہ فلم بنائے گا تو فلاپ ہو جائے گی‘ان کے خیال میں زندگی نے ہمیشہ ان کے ساتھ نا انصافی کی ‘ ان کے بچے کو ایچی سن کالج میں داخلہ نہیں ملا‘ ان کی اے سی آر مکمل نہیں تھی اس لئے انہیں ترقی کے لئے ایک سال انتظار کرنا پڑا‘ان کی بیوی کے ماموں نے کبھی ان کے کام کے لئے سفارش نہیں کی حالانکہ وہ چاہتے تو انہیں ’’اچھی سی‘‘ پوسٹنگ دلوا سکتے تھے…!ایسے لوگوں کو مطمئن کرنا مشکل کام ہے کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہر معاملے میں ٹینشن لے کر اپنی اور گھر والوں کی زندگی اجیرن کی ہوتی ہے ‘ ایسے ہی لوگوں کے لئے نفسیات دانوں نے پہلی فہرست والا گُر بتایا ہے کہ جب ایسے لوگ نا شکری کریں تو انہیں ان نوازشات کی فہرست بنانے کے لئے کہا جائے تاکہ انہیں اندازہ ہو سکے کہ جس زندگی سے وہ اتنا گلہ کرتے ہیں اس زندگی نے انہیں کیا کچھ عطا کیا ہے ۔
دوسری فہرست ایک قدم آگے ہے ‘اس کا فائدہ یہ ہے کہ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل میںہم زندگی میں کہاںکھڑے ہیں اورکیا زندگی سے ہماری شکایات جائز ہیں ؟اس بات کا تعین آسانی سے کیا جا سکتا ہے اگر ہم اپنا تقابل آج سے پانچ برس پہلے کے مقام سے کریں‘اگر آج کی تاریخ میں ہم نے خود کو درجہ بندی میں چھ نمبر دئیے ہیں اور آج سے پانچ سال پہلے یہ نمبر چار تھے تو یقینا ہمیں زندگی سے شکایت نہیں ہونی چاہئے۔اور اگریہ نمبر پہلے زیادہ تھے اور اب کم ہیں تو اس کا ازالہ آئندہ پانچ برس میں کیا جا سکتا ہے۔انہی درجوں میں اپنے اہداف کا تعین کر لیں ‘ اگر ’’تعلق داری نبھانے ‘‘ میں پانچ برس پہلے آپ کے چھ نمبر تھے جو کم ہو کر چار ہو چکے ہیں تو آئندہ پانچ برسوں میں اس کا ٹارگٹ آٹھ کر لیں اور پھر اسے حاصل کرنے کی کوشش کریں جو سراسر ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے ۔یقینا خود کو اس حسابی کتابی انداز میں جانچنے میں کافی لطف آئے گا۔
تیسری فہرست سب سے اہم ہے‘ اس سے ہمیں ان وجوہات کا پتہ چلتا ہے جو دو افراد کے درمیان کسی بھی رشتے یا تعلق کو ختم کرنے کا باعث بنتی ہیں جس کے نتیجے میں ذہنی دبائو جنم لیتا ہے ‘ مثلاً اکثر لوگوں سے ہماری دوستیاں بہت جلد ہوجاتی ہیں ‘ پہلی ملاقات میں ہم آہنگی سی ہو جاتی ہے ‘لیکن ایسا بھی ہوتا ہے کہ پہلی ملاقات میں ہی مد مقابل سے ایسی منفی شعائیں نکلتی ہیں کہ دوسری مرتبہ ملنے کا من ہی نہیں کرتا۔وجہ عموماً لوگوں کی باہم دلچسپیوں اور زندگی میں ترجیحات کا فرق ہوتا ہے ‘ایک شخص کی ترجیح اگر تحفظ ہو اور دوسرے کی مہم جوئی تو ان میں لا محالہ جھگڑا ہی ہوگا‘لیکن اس کا حل اس بات میں ہے کہ فریقین اپنی اپنی ترجیحات پر تھوڑا بہت سمجھوتہ کر لیں تاکہ کچھ مشترک دلچسپیاں تلاش کرکے ٹینشن فری زندگی گزاری جاسکے‘لیکن اگر محبوب کی فہرست میں پہلی ترجیح آزادی ہو اور محبوبہ کی فہرست میں یہ دسویں نمبر پر ہو تو پھر سگمنڈ فرائڈ کی نفسیات دانی بھی کچھ کام نہیں آ سکے گی۔
کالم کی دُم: اگر اس کالم میں دئیے گئے مشوروں سے کسی ایک شخص کا بھی بھلا ہو گیا تو بقول شفیق الرحمن میں سمجھوں کہ میری ساری محنت اکارت گئی کیونکہ جس دن آپ کا ’’بریک اپ‘‘ ہوتا ہے کم از کم اس دن ٹینشن کم کرنے کی کوئی ٹپ کام نہیں کرتی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *