دوسری مسز بھٹو

مشہور سابق وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو بڑی حد تک دو شادیوں کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ ان کی دونوں بیویاں بہت معروف ہیں، خاموش طبع اور مئودب شیریں عامر بیگم اور چمک دمک والی نصرت بھٹو جو کہ پاکستان کی خاتون اول بھی بنیں۔ لیکن ایک اور بھی ہیں، ایک پوشیدہ تیسری زوجہ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں کبھی عوام کے سامنے ظاہر نہیں کیا لیکن وہ جناب کی حکومت کا اہم جزو بنی رہیں۔  ذوالفقار علی بھٹوپاکستان کے پیدا کردہ رنگین ترین سیاستدانوں میں سے ہیں۔ وہ پر اثر، شعلہ بیان، پر کشش، اعلیٰ تعلیم یافتہ، انتہائی ذہین اورناقابل سمجھ
تھے۔ میرے والد مرحوم جو کہ ان کے بہت قریب تھے، نے ایک مرتبہ بتایا کہ ذوالفقار علی بھٹو ہوش و حواس، نفاست، دانشوری اورحقیقت پسندی کا مجموعہ تھے، اور اعلیٰ سطح کے رومانوی انسان تھے۔انہوں نے بتایا کہ ذوالفقار علی بھٹو مارکس، سٹالین، ڈی گوالی اور ڈان جوآن کی خصوصیات اپنے اندر سمائے ہوئے تھے۔ آپ لاڑکانہ کے ایک با اثر خاندان میں پیدا ہوئے اور آپ کے والدمحمد علی جناح کی آل انڈیا مسلم لیگ کے رکن رہے، بھٹو کی شادی ان کی ایک ہم عمر کزن کے  ساتھ ہوئی۔ انہوں نے اپنی زوجہ کے پاس کم ہی وقت گزارا کیوں کہ وہ جلد ہی امریکہ اور یو کے پولیٹیکل سائنس اور قانون کی ڈگریاں حاصل کرنے چلے گئے تھے۔ مختصر وقت کے لیے 1950 میں وہ پاکستان واپس آئے اور ان کی پہلی زوجہ شیریں عامر بیگم کے ایک انٹرویو جو انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے بارے میں بنائی گئی ویب سائٹ (**Bhutto.org**) کو دیا کے مطابق ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں نرمی سے بتایا کہ انہوں نے ایک اورشادی کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ دوسری عورت ایک نفیس کردش ایرانی لیڈی نصرت اسفہانی تھیں۔ نصرت بیگم کی فیملی 1947 میں پاکستان بننے کے بعد ممبئی سے کراچی منتقل ہوئی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو اور
نصرت بیگم نے 1951 میں نکاح کیا۔ اس جوڑے نے چار بچوں کو جنم دیا جن میں 2 لڑکے اور 2 لڑکیاں تھیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی پہلی زوجہ کو اگرچہ طلاق نہیں دی تھی۔وہ لاڑکانہ میں رہیں اور ذوالفقار علی بھٹو کی فیملی کے مکمل تعاون میں رہیں۔ 1958 میں، 32 سال کی عمر میں ذوالفقار علی بھٹو صدر سکندر مرزا کے کیبنٹ کے نوجوان ترین ممبر بنے۔ وہ مرزا کے بعد وزیر بنے رہےجب ملٹری چیف ایوب خان نے ملک میں پہلا مارشل لا نافذ کر دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی جوانی، ذہانت، خداداد صلاحیت اور کام کے جذبے نے ایوب خان کو متاثر کیا اور
اس(ایوب خان) نے ذوالفقار علی بھٹو کو مارشل لا کے نفاذ کے 17 دن بعد مرزا کو باہر کر کے اپنے کیبنٹ میں رکھ لیا۔ سٹینلے وولپرٹ نے ذوالفقار علی بھٹو کے بارے میں اپنی مستند بائیو گرافی میں لکھا کہ بھٹو ایوب خان کی آنکھ کا تارا بن گئے تھے۔ ایوب خان نے ذوالفقار علی بھٹوکی جارحانہ سیاست کی حوصلہ افزائی کی۔ وولپرٹ لکھتے ہیں کہ ایوب خان اکثر ذوالفقار علی بھٹو کو کابینہ کے پرانے منسٹرز کی طرف سے آئی ہوئی پالیسیاں چیک کرنے کے لیے سونپتے تھے ۔ وولپرٹ نے یہ بھی لکھا کہ 1961 کے بعد ایوب خان بھٹو کے لیے ایک باس سے کہیں زیادہ اہمیت کے حامل شخصیت بن چکے تھے۔ وہ ایک رہنما اور پھر باپ جیسی شخصیت کا روپ دھار گئے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو اکثر تقریروں میں ایوب خان کو ڈیڈی کہتے ہوئے سنا گیا۔  تقریبا ہر کوئی جو ذوالفقار علی بھٹو سے ملا یا اس کے بارے میں لکھا، نے اسے اندرونی اور بیرونی طور پر ایک مضوط شخصیت کا حامل قرار دیا ہے۔ وہ روئے زمین پر کسی بھی چیز ، سیاست، تاریخ، کرکٹ، موسیقی اور شاعری کے متعلق گفتگو کرنے کی مہارت کے لیے مشہور تھے اور ہر قسم کے ہجوم میں بولتے چلے جاتے تھے۔ یہاں تک کہ صدر اور پھر1970 کی دھائی میں وزیر اعظم بننے کے بعد بھی وہ باقاعدگی کے ساتھ اپنی لائبریری میں اپنے ساتھ وسکی کا گلاس اور سگار رکھ کر گھنٹوں تک اکیلا بیٹھ کر پڑھتے تھے اور کسی سے ملتے نہیں تھے۔ 1961 میں جب کہ آپ 34 سالہ جوان وزیر تھے اور ایوب خان کی آنکھ کا تارہ تھے، سابقہ مشرقی پاکستان میں ڈھاکہ میں ایک پارٹی میں ایک جوان خاتون سے ٹکرائے۔ خاتون کا نام حسنہ شیخ تھا۔ اس وقت حسنہ 30 سال کی عمر کے قریب عمر کی تھیں اور بنگال کے ایک کامیاب وکیل عبد الاحد سے بیاہی ہوئی تھیں۔ اس جوڑے کی دوجوان بیٹیاں تھیں۔جو کہ روانی سے اردو، بنگالی اور انگلش بول سکتی تھیں۔حسنہ ایک پشتون بنگالی خاندان سے تھیں۔  ذوالفقار علی بھٹو فورا ہی حسنہ کی حسین نگاہوں، عقلمندی اور تیز دماغی سے
متاثر ہو گئے۔ انڈیا ٹوڈے کے 31 دسمبر 1977 کے ایڈیشن (حسنہ کے ذوالفقار علی بھٹوکے ساتھ تعلقات کی کھلی داستان) میں یہ بتایا گیا کہ حسنہ اس وقت اپنے وکیل خاوند کے ساتھ نہیں رہ رہی تھیں۔ حالانکہ ذوالفقار علی بھٹو اپنی لیڈی کلنگ کشش کو بروئے کار لاتے ہوئے حسنہ کا پیچھا کرتے رہے لیکن حسنہ ان کی رسائی سے دور رہی۔ اس بات نے ذوالفقار علی بھٹو کو حد سے زیادہ پریشان کیا، یہاں تک کہ 1965 میں محترمہ نے اپنے خاوند سے علیحدگی اوراپنی 2 بیٹیوں کے ساتھ کراچی منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے وہاں کراچی کے اپارٹمنٹس کے بجائے کلفٹن ایریا میں اپنا مسکن رکھا۔ملیحہ لون نے اپنے 2016 کے آرٹیکل میں اس افیئر کے بارے میں (**Friday Times **میں)لکھا کہ مصطفیٰ کھر نے ذوالفقار علی بھٹو کے حسنہ کے ساتھ افیئر کو سپورٹ کیا جب وہ کراچی میں مکین ہوئیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی رازداروں کی بجائے صرف کھر اس افیئر کے بارے میں جانتے تھے۔ وہ چپکے سے ذوالفقار علی بھٹو کو حسنہ کےگھر باتھ آئلینڈ لے جاتے۔ تاہم جس سال آخر کار یہ افیئر شروع ہوا (1965 میں) وہی سال تھا جب ایوب اپنے استاد ایوب خان سے جھگڑ پڑے۔ 1966 میں ایوب خان نے چپکے سے(ذمہ داریوں سے) بالکل آزاد کر دیا۔1967 میں ذوالفقار علی بھٹو اپنی پارٹی بنانے کے لیے دوبارہ میدان میں اترے اور عوامی اور بائیں طرف جھکاؤرکھنے والی پاکستان پپپلز پارٹی قائم کی۔حسنہ ایک پراعتماد، اچھی پڑھی لکھی اور مضبوط عورت تھیں۔ لون نے تہمینہ درانی کی ایک کتاب(**My Feudal Lord**) سے ایک اقتباس کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ 1960 کی دہائی کے اواخر میں یہ افیئر اس حد تک بگڑ چکا تھا کہ
حسنہ ذوالفقار علی بھٹو کے منہ پر دروازہ زور سے بند کر دیا کرتی تھیں۔ 1967 میں حسنہ نے ابو ظہبی کی شیخ فاطمہ کے گھر کی سجاوٹ کا کنٹریکٹ حاصل کیا اور کراچی میں 2 پراپرٹیز حاصل کرنے کے قابل ہوئیں۔یہی راستہ محترمہ کے خود مختار ہونے میں مدد گار ثابت ہوا۔ انہوں (حسنہ) نے ذوالفقار علی بھٹو کو بتا رکھا تھا کہ وہ جناب سے تب تک نہیں ملیں گی جب تک کہ وہ محترمہ سے شادی نہیں کر لیتے۔ 1968 میں جب ذوالفقار علی بھٹو اور پیپلز پارٹی پر تشدد طلبااور لیبر موومنٹ میں ایوب خان حکومت کے خلاف سب سے آگے تھے ، حسنہ نے کسی طرح ذوالفقار علی بھٹو کو شادی کے لیے آمادہ کر لیا تھا۔ تاہم، 1969 میں جیسے ہی ذوالفقار علی بھٹو حسنہ بیگم کے ساتھ نکاح کا فیصلہ کر لیا تھا انہیں حکومت کے خلاف تشدد پھیلانے کے جرم میں گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے حسنہ بیگم سے التجا کی کہ وہ آسرا رکھیں یہ وعدہ کرتے ہوئے کہ ایوب حکومت گر جانے کے بعد وہ ان سے شادی کر لیں گے تو انہوں نے مان لیا۔ لون لکھتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو1969 میں ایوب خان کے مستعفی ہونے کے بعد حسنہ سے ملے۔ محترمہ نے ان سے پوچھا کہ آپ میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟ آپ میری منزل ہیں۔ لون مزید لکھتے ہیں کہ یہ سنتے ہی ذوالفقار علی بھٹو پھٹ پڑے اور بچوں کی طرح روئے۔ وولپرٹ لکھتے ہیں کہ جس سال ذوالفقار علی بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی(1970 کے الیکشن کے دوران) ملک کے مغربی حصے سے بہت سی سیٹیں جیتی جناب کو کھر حسنہ کے باتھ آئی لینڈ اپارٹمنٹ میں لے گئے۔ تاہم ایک دن ذوالفقار علی بھٹو اور حسنہ کے مابین بڑی جھڑپ ہوئی (کیوں کہ جناب شادی کے بارے میں کیے گئے وعدے سے انحراف کر رہے تھے)۔ پریشانی کے عالم میں ذوالفقار علی بھٹو نے پھر سے شادی کا وعدہ کیا اور اسے قرآن کے نسخے کی جلد کے اندرونی حصے پر تحریر کیا۔ لیکن، وولپرٹ لکھتے ہیں کہ جلد ہی ذوالفقار علی بھٹو ٹھنڈے پڑ گئے اور حسنہ بیگم جب مکان کے کسی اور حصے میں تھیں ذوالفقار علی بھٹو نے اس قرآنی نسخے کو اپنی جیب میں چھپا لیا اور غائب ہو گئے ۔ مسئلہ یہ تھا کہ اس وقت کھر انہیں
اپنے ساتھ نہیں لے جا سکتے تھے ۔ تو ذوالفقار علی بھٹو نے چل کر اپنے گھر 70 کلفٹن جانا تھا جو کہ باتھ آئی لینڈ سے 30 منٹ کی مسافت بنتی تھی۔ تب وہ ایک جانی پہچانی شخصیت بن چکے تھے جن کی پارٹی نے الیکشن میں (پنجاب اور سندھ) میں کامیابی حاصل کی ہوئی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے واپس گھر پہنچنے کے لیے خاموش گلیوں کا راستہ لینے کی بھرپور کوشش کی۔ ذوالفقار علی بھٹو اکثر حسنہ بیگم کو سیاست اور تاریخ سے متعلق کتابیں تحفے میں دیتے تھے جو وہ پوری طرح رٹ لیتیں اور اپنی ڈیٹس پر جناب کے ساتھ ان پر بحث کرتی۔ 1971 میں ایک دن جناب نے محترمہ کو قرآن کا ایک خوبصورت نسخہ گفٹ کیا (وہ والا نہیں جو پہلے سے چھپا چکے تھے)۔ اس پر لپٹے کاغذ پر آپ نے لکھا
ہوا تھا، میری اہلیہ حسنہ کے لیے۔ کچھ ہی دن بعد (20 دسمبر 1971) وہ پاکستان کے صدر بن گئے اور خاموشی کے ساتھ محترمہ سے شادی کر لی۔ نکاح معروف اسلامی سکالر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے ممبر کوثر نیازی نے پڑھایا اور مصطفیٰ کھر کو گواہ بنایا گیا۔ وولپرٹ لکھتے ہیں کہ اگرچہ وہ حسنہ بیگم کے ساتھ شادی کے بندھن میں بندھے ہوئے تھے انہوں نے قرآن کا نسخہ حسنہ بیگم کے گھر سے نکلوا دیا جب وہ 1973 میں وزیر اعظم بنے۔ وہ نسخہ کبھی نہیں ملا، حتیٰ کہ پولیس والوں کو بھی نہیں جب ذوالفقار علی بھٹو کو 1977 میں فوجی بغاوت کے ذریعے حکومت سے ہٹایا گیا اور فوجی دستہ حسنہ بیگم کے اپارٹمنٹ پر چھاپہ مارنے بھیجا گیا۔  ذوالفقار علی بھٹو کی دوسری دلکش اہلیہ نصرت بیگم بھی ایک مضبوط عورت تھیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کے چار بچوں کی والدہ کو کسی نے جناب کی حسنہ کے ساتھ پوشیدہ شادی کے بارے میں بتا دیا۔ کسی کو نہیں پتہ کہ حقیقت میں محترمہ کو کیسے پتہ چلا لیکن ایسا لگتا ہے کہ محترمہ نصرت کو اپنے خاوند کے اس بنگالی خاتون کے ساتھ تعلقات کا علم تھا۔ لون لکھتے ہیں کہ نصرت بیگم نے نیند کی گولیاں کھا کر خود کو ختم کرنے کی کوشش کی تھی۔ وہ بچ گئیں اور راولپنڈی کے ہسپتال میں منتقل کر دی گئیں۔ پریشان صدر محترم نے محترمہ سے معافی کی بھیک مانگی اور انہیں بتایا کہ وہ کبھی اپنے بچوں کی ماں کو چھوڑ نہیں سکتے۔ نصرت بیگم صحت یاب ہو گئیں اور آفیشل طور پر پاکستان کی خاتون اول بنیں۔ نصرت بیگم کی خودکشی کی کوشش کے بعد بھی حسنہ بیگم ذوالفقار علی بھٹو سے توقع رکھتی تھیں کہ وہ ان کی شادی کے بارے میں عوام کو بتائیں، آخر کار انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی پوشیدہ اہلیہ ہونے کو ہی قبول کر لیا۔ لیکن ہر معاملے میں وہ گہرا رسوخ رکھتی تھیں۔ 1990 میں انہوں نے فرائڈے ٹائمز کے ایڈیٹر جگنو محسن کو بتایا کہ ذوالفقار علی بھٹو ان کے پاس آتے رہتے تھے۔ محترمہ کا گھر لگا تار منسٹرز اور خواص سے بھرا رہتا اس آس میں کہ وہ حسنہ کے ذریعے مصروف ترین وزیر اعظم تک اپنے پیغامات پہنچا سکیں۔ محسن لکھتی ہیں کہ وہ اپنے اپارٹمنٹ سے ایک کچن کیبنٹ کے ذریعے ملک کے معاشی اور سماجی معاملات پر اثر انداز ہوتی تھیں۔ محترمہ نے محسن کو بتایا کہ ایک دن انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو سے پوچھا کہ وہ ہر وقت جلدی میں کیوں رہتے تھے تو جناب نے ان کو بتایا کہ وہ جانتے ہیں کہ وہ انہیں کبھی نہ کبھی مار دیں گے۔ محترمہ نے یہ واضح نہیں بتایا کو وہ سے مراد کون لوگ تھے۔ جناب ملٹری یا رائٹ ونگ اپوزیشن کی طرف اشارہ کر رہے ہوں گے جو کہ 1970 کی دہائی کے درمیان سے کافی مضبوط ہو چکے تھے۔ حسنہ بیگم نے محسن کو یہ بھی بتایا کہ جب 1977 کے الیکشن کے نتائج سامنے لائے جا رہے تھے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنان اپنی فتح کے جشن منا رہے تھے حتیٰ کہ ان حصوں میں بھی جہاں پارٹی اتنی مضبوط نہیں تھی ذوالفقار علی بھٹو نے استدعا کی کہ
کوئی چیف منسٹر کو بتائے گا کہ میری محنت کے 20 سال ضائع نہ کیے جائیں۔ اپوزیشن پارٹیز نے شدید احتجاج شروع کر دیا جو کہ 1977 کے مارشل لا اور ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت کے اختتام کی بنیاد بنی۔ تحقیق کرنے والوں کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی مزید 5 سال کے لیے آسانی سے جیت سکتی تھی لیکن پاکستان پیپلز پارٹی کے کچھ سینیر منسٹرزپنجاب کے کچھ حساس علاقوں میں دھاندلی میں ملوث ہو گئے تھے۔ جب ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت گری تو حسنہ بیگم لندن میں تھیں۔ محترمہ نے محسن کو بتایا کہ ذوالفقار علی بھٹو کی سب سے بڑی بیٹی
(اور مستقبل کی وزیر اعظم) انہیں بہت ناپسند کرتی تھیں اور ذوالفقار علی بھٹو کا بیٹا مرتضیٰ محترمہ کے ساتھ بہت شفقت برتتا تھا اور محترمہ کو اپنے ابو کے حالات سے خبردار رکھتا تھا۔ جب ذوالفقار علی بھٹو کو انتہائی گھناؤنے انداز میں ایک قتل کیس میں پھنسایا جا رہا تھا تو حسنہ بیگم نے یو کے کے ایک مشہور وکیل جان میتھیوز کی خدمات حاصل کی تھیں۔لیکن ضیا کی آمریت نے اسے پاکستانی عدالت میں کیس لڑنے کی اجازت نہیں دی۔ یہ مرتضیٰ تھے جس نے حسنہ بیگم کو ذوالفقار علی بھٹو کی اپریل 1979 میں پھانسی کی اطلاع دی۔ حسنہ بیگم ڈپریشن کا شکار ہو گئی اور خودکشی کرنے کی کوشش کی۔ تب محترمہ نے ایک بچے (شمیم) کو جنم دیا جو کہ محترمہ اور ذوالفقار علی بھٹو کا اکلوتا بچا تھا۔ تب محترمہ کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ اپنے اندر سے ڈپریشن کو نکال باہر پھینکیں۔ وہ لندن میں قیام پذیر رہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کو1979میں پھانسی دی گئی۔ شیریں عامر بیگم کی وفات 2003 میں ہوئی۔ نصرت بیگم کا انتقال 2011 میں ہوا۔ حسنہ بیگم ابھی زندہ ہیں اور 80 کی دہائی میں ہیں۔ وہ لندن میں رہتی ہیں۔

source : https://www.nayadaur.tv/2018/03/the-other-mrs-bhutto/?epc_purge_all=1

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *