غلامی کے خلاف ایک خاتون کی تحریک

ٹریرو مزیزوا

امریتہ شیر گل جو ہندوستان کے جدید ارٹ کی راہنما تھیں وہ 1930 کی خواتین کی روز مرہ کی زندگیوں کو اپنے پینٹ برش کی مدد سے دکھاتیں جس میں ان کی تنہائی اور نا امیدی جھلکتی تھی۔ انہوں نے خواتین کو مارکیٹ میں، شادیوں پر اور گھر پر دکھایا ہے۔ اس وقت ان کا کام ایسے لگتا تھا جیسے کوئی مسئلہ خاموشی سے حل کرنے کی کوشش کی ہو۔ **اس وقت ایسا بہت کم دیکھنے کو ملتا تھا کیوں کی اس وقت تصاویر خوش حال اور فرمابردار خواتین کی ہی دکھائی جاتی تھیں۔ مثال کے طور پر تین دل شکستہ خواتین کی تصویر خواتین پر چھائی اداسی کے آثار  اور ان کے اداس مرجھائے چہرے دکھائے گئے ہیں جیسے وہ کسی ایسی ان ہونی کا انتظار کر رہی ہیں جو کسی صورت ممکن ہی نہیں ہے۔ ان کے انداز اور خواتین پر منحصرکام کرنے کی وجہ سے وہ ہندوستانی فریدہ کاہلو کے نام سے جانی جاتی تھیں۔ انہیں اپنے  سبجیکٹ کی اداسی سے بخوبی واقفیت تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ ان کے موڈ در اصل امریتہ کے موڈ کی عکاسی کر رہے ہوں۔ ان کی پرورش کی وجہ سے  وہ دو دنیاؤں کی رہنے والی باشندہ تھیں، جو اکثر اس بات کی کھوج میں لگی رہیں کہ وہ کہاں سے جڑی ہیں۔ شیر گل بدھا پیسٹ میں 30 جنوری 1913 میں ہنگریان یہودی گلوکارہ میری انٹوینا گوتسمین اور امراؤ سنگھ شیر گل مجیتھیا جو ایک فارسی اور سنسکرت کے ایک سکالر اورسکھ مذہب کے پجاری تھے کے ہاں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے 8 سال کی عمر سے فارمل آرٹ کا سبق لینا شروع کیا،  پھر ان کی فیملی گرمیوں میں نارتھ ہندوستان کی طرف  شملہ  شفٹ ہو گئی ۔16 سال کی عمر میں وہ پیرس چلی گئیں اور آرٹ کی پڑھائی جاری رکھی، پہلے تو وہ اکیڈمی ڈی لا گرینڈ شومیر میں اور بعد میں ایکولندیس بیوکس آرٹس میں پڑھتی رہیں۔اور بہت کم عمری میں کامیاب ہوئیں۔ 1933 میں "ینگ گرلز "کے نام سے بنائی پینٹنگ کو پیرس سیلون میں گولڈ میڈل ملا  جو ایک بہت مشہور شو تھا۔ اس میں ان کی بہن اندرا نے یورپین کپڑے پہن رکھے تھے اور اپنے ادھ ننگے دوست ڈینس پروٹاکس کے سامنے پورے اعتماد سے بیٹھی تھیں اور جن کا چہرا اندیراہ کے بالوں سے صاف دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ ایک خاتون بہت پر اعتماد اور دوسری بہت ہچکچاہٹ کے ساتھ ڈھکی چھپی تھی۔ اس پینٹنگ میں شیر گل کی شخصیت کے دو پہلو نظر آتے ہیں۔ اور ان کا یہ انداز پیرس کی پارٹیوں میں ان کے ملنے والوں کو بخوبی پتہ تھا کہ وہ بہت ملنسار تھیں اور کبھی  کبھاربلکل الگ تھلگ بھرپور انداز میں اپنی پینٹنگ بنانے میں مگن رہتی تھیں۔ اپنے دوست احباب، یا رشتے داروں کی تصاویر کے علاوہ وہ خود کی اشکال بھی بناتیں  جو ان کی خود کی شخصیت کی  عکاس ہوتیں  جیسا کہ ان کے ایک سوانح نگار یشودھر کی ان کی  زندگی پر کتاب  "امریتہ شیر گل' ایک زندگی'  سے ظاہر ہوتا ہے۔ یہ تصاویر ان کو ایک گم سم، دو مختلف ممالک کی ثقافتوں کے بیچ بٹی ہوئی شخصیت کے طور پر ظاہر کرتی تھیں۔  Self Portrait as Tahitian** ایک فرانسیسی امپریشنسٹ پال گاگن کا تاثر دیتی ہے جو گہرے رنگت کی تاہیتی خواتین کی پینٹنگ کرتے تھے۔ * *ان کی اپنی بھوری رنگت والی تصویر بھی گاگن کے سٹائل  میں موجود ہے جس میں وہ چہرے پر اداسی لیے نظر آتی ہیں۔ شیر گل اپنی جنس کے بارے میں پر تجسس تھیں ۔ وہ نسوانی ہم جنسیت کی طرف راغب تھیں۔ ڈالمیہ نے لکھا  "اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ خواتین کو ایک آزاد اور مضبوط کردار کی حامل سمجھتی تھیں جو کسی بھی قسم کی پابندیوں کی بیڑیوں سے مکمل طور پر آزاد ہوںں۔  " ان کا میری لوسی شیسنی کے ساتھ ایک مضبوط رشتہ قائم ہو گیا تھااور کچھ آرٹ کے تنقید نگار جن میں ان کا بھانجہ آرٹسٹ ویوان سندرم  جنہون نے ان کی بایو گرافی بھی لکھی  یہ سمجھتے تھے کہ ان کی پینٹنگ " دو خواتین "  ان دونوں کی آپسی قربت کو ظاہر کرتی تھی۔  ایک دفعہ ان کی والدہ نے ان کے رشتے کی نوعیت جاننے کے لیے ان سے سوال  بھی کیا  جس کا ذکر  کتاب "ہندوستان میں  ہم جنس پرستی " 2000  میں موجود ہے جو روتھ وانیتا اور سلیم کدوائی نے لکھی۔ شیر گل نے  1934 میں ماں کے نام لکھے خط میں ایسے تعلقات کی تردید کی ۔ یہ خط ہنگری زبان سے ترجمہ کیا گیا ہے اور ونیتا اور کدوا ئی کی کتاب میں موجود ہے۔ اگرچہ وہ مردوں کے ساتھ تعلقات کے نقصانات بیان کرتی تھیں  لیکن چیسنی کے بارے میں ان کا کہنا تھا: " ہم نے ایک دوسرے کے ساتھ جنسی تعلقات نہیں رکھے۔" اور یہ بھی کہا کہ :" اگر انہیں کبھی موقع ملاا تو وہ ایک خاتون کے ساتھ ایسا رشتہ قائم کریں گی۔ " ان کا مرد حضرات کے ساتھ بھی تعلق تھا ، اور اپنے والدین سے آذادی حاصل کرنے کا ایک ذریعہ بھی تھا۔ 1938 میں  انہوں نے اپنے کزن ویکٹر ایگن سے شادی کی اور بتایا کہ وہ حاملہ ہیں اور انہوں نے حمل ختم کرنے کی تیاری کی۔ پیرس میں اپنے کام کے سراہے جانے کے باوجود انہیں ادھورا محسوس ہوتا تھا۔ انہوں نے لکھا کہ " ان پر ہندوستان جانے کی چاہت نے بسیرا کر لیا ہے اورایک انجانا احساس انہیں گھیرے ہوئے ہے کہ ان کی مصوری کی منزل ہندوستان میں ہے۔ " 1935 میں وہ واپس ہندوستان آئیں اور پورے ملک میں سفر کے دوران انہیں اپنے لوگوں سے مل کر بہت ساری دعائیں ملیں ۔ ان کی فیملی کے برطانوی راج کے ساتھ گہرے  تعلقات تھے لیکن ان کی تمام ترہمدردیاں ہندوستانی نیشنل کانگرس کے ساتھ تھیں جو متوسط ہندوستانیون کے حقوق کے لئے لڑ رہے تھے اور جنہیں ہندوستان کی برطانیہ سے آزادی درکار تھی۔  انہوں نے اپنے ٹیکنیکل انداز کو اس دوران تفصیلا بیان کیا کہ کیسے وہ بنیادی طور پر ہندوستانی ہیں۔  انہوں  نے لکھا کہ "تب مجھے اپنے مشن کا احساس ہوا: یعنی ہندووں کی زندگی
دکھانا اور خاص طور پر  غریب لوگوں کی ان لوگوں کی بے مثال قربانیوں اور صبر کو سامنے لانا ان کے جوشیلے ، غصیلے بھورے جسموں کی عکاسی کرنا، ۔" 1939 میں شیر گل اور ایگن سارائے میں بس گئے جو ہندوستان کے ڈسٹرک گورک پور کا ایک گاؤں ہے۔ وہ وہاں رہنے کے دوران بہت پریشان رہیں۔ کچھ وقت بعد ایگن کے ساتھ مل کر انہوں نے لاہور جانے کا تہیہ کیا جو ہندستان کا بڑھتا ہوا ثقافتی مرکز تھا اور اب وہ پاکستان کا حصہ ہے۔ کچھ دن بعد  ان کے پہلے  اکیلے شو میں جو لاہور میں ہوا وہ بیمار ہو گئیں۔  وہ 5 دسنمبر 1941 کو انتقال  کر گئیں ۔
اور اس کی وجہ ان کا دوسرا ناکام حمل ختم کرنے کا نا کام سلسلہ تھا اور یہ بات ڈائیلمہ نے اپنی  امریتہ کی سوانح نگاری میں لکھی۔ وہ 28 سال کی تھیں جب انہیں وسع پیمانے پر کامیابی ملی  ۔  شیر گل کی وراثت  موجودہ  دور میں بڑھ گئی۔ یونیسکو ایک امریکہ کی  ثقافتی آرگنائیزیشن ہے جنہوں نے 2013 میں امریتہ شیر گل کا عالمی دن یعنی ان کی 100 ویں سالگرہ منائی۔ "میں نے کچھ بہت اچھی مصوری کی ہے"، انہوں نے اپنی والدہ کو خط میں  کہا جو اکتوبر 1931 میں لکھا گیا تھا اور اس وقت وہ صرف 18 سال کی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ سب کہتے ہیں میں نے بہت ذیادہ بہتر کام کیا ہے خاص طور پر اس تنقید نگار نے بھی کہا جس کی رائے میرے لئے سب سے ذیادہ اہمیت کی حامل ہے یعنی میں  خود

source : https://mobile.nytimes.com/2018/06/20/obituaries/amrita-shergil-dead.html

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *